راہ حق سے ردالفساد تک کیا کھویا کیا پایا؟

asghar khan askari

آپر یشن کا نام سنتے ہی انسان پر خوف تاری ہو جا تا ہے۔مضبو ط سے مضبو ط اور طاقت ور سے طاقت ور انسان بھی آپریشن تھیٹر جاتے ہو ئے ڈرتا ہے۔آپریشن کے بعد جب اس کو باہر نکالتا ہے تو وہ بالکل لا غر اور ایک بے بس انسان ہو تا ہے جس کو دوسروں کی مدد کی ضرورت ہو تی ہے۔ان کی یہ کمزوری کئی روز تک بر قرار رہتی ہے۔ بعض تو ایسے ہو تے ہیں کہ کئی مہینو ں تک چارپائی سے نہیں اٹھ سکتے۔وہ مر یض خوش قسمت ہی ہوتا ہے کہ جس کا آپریشن کامیاب ہو جائے،اس کے بر عکس وہ مریض جس کا آپریشن ناکام ہو جائے اور ڈاکٹر مشورہ دیں کہ ایک اور آپریشن بھی کر نا پڑے گا۔پھر وہ مر یض جس کے آپریشن پہ آپریشن کر نے پڑے وہ نہ صرف خود زند گی سے تنگ آجا تے ہیں بلکہ گھروں والوں کے لئے بھی ایک مستقل درد سر بن جا تے ہیں۔میں نے کئی ایسے آپریشن زدہ مر یضوں کو موت کی دعائیں کر تے ہو ئے دیکھا ہے۔جو کہتے ہیں کہ مجھ پر جو گز ر رہی گزرنے دو لیکن میری وجہ سے گھر اور خاندان والوں پر جو بیت رہی ہے وہ نا قا بل بر داشت ہے،مالی ،جسمانی اور زہنی ہر طرح کی اذیت سے وہ گز ر رہے ہو تے ہیں۔پا کستان میں بھی دہشت گر دی اور دہشت گر دوں کے نا سور کو ختم کر نے کے لئے فوج نے آپریشنوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ایک جا ئزہ لیتے ہیں کہ ان آپریشنز سے دہشت گر دی ختم ہو رہی ہے یا آپریشنزپہ آپریشن ہو رہے ہیں۔کئی ایسا تو نہیں کہ ان آپریشنز سے نہ صرف گھر والے بلکہ مر یض بھی نجات چا ہتا ہے۔2007 ء میں پر ویز مشرف ملک کے صدر تھے ۔ان کی با دشاہی کے آخری ایام تھے۔صدر مملکت کے ساتھ ساتھ وہ چیف آف آرمی سٹاف بھی تھے۔اکتوبر 2007 ء میں انھوں نے سوات کے مختلف علا قوں میں فوجی آپریشن ’’راہ حق‘‘ شروع کر دی۔یہ آپریشن انھوں نے سوات اور ملحقہ علا قوں سے دہشت گر دی اور دہشت گر دوں کے خاتمے کے لئے شروع کیا تھا۔مگر افسوس کہ مر یض شفایاب نہ ہو سکا۔پورے ملا کنڈ ڈویژن سے نہ دہشت گر دی ختم ہو ئی اور نہ ہی دہشت گر د۔پر ویز مشرف صدارت اور فوج کی سربراہی دونوں عہد وں سے سبکدوش ہو گئے۔ان کی جگہ آصف علی زرداری ملک کے سربراہ بن گئے،جبکہ فوج کی قیادت جنرل اشفاق پر ویز کیا نی کے حوالے کیا گیا۔دہشت گر دی اور دہشت گر د دونوں مریض جنرل مشرف کے آپریشنز کے بعد بھی پو ری طر ح صحت یا ب نہیں ہو ئے تھے۔وادی میں ان خوف بڑ رہاتھا۔ وہ علاقوں پر قا بض ہو رہے تھے۔اس لئے مئی 2009ء میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پر ویز کیا نی اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایک مر تبہ پھر فوجی آپریشن ’’راہ راست‘‘ شروع کر دی۔سا تھ ہی جنو بی وزیر ستان میں فوجی آپر یشن ’’راہ نجات‘‘ بھی جاری تھا۔جنرل اشفاق پر ویز کیا نی کی عہد ملا زمت تک یہ فوجی آپر یشنز کا میا بی کے ساتھ جار ی رہے۔وہ ہفتے میں کئی بار مختلف علا قوں کا دورہ کر تے تھے۔ جوانوں سے مخا طب ہو تے۔ان کے حوصلے کاداد دیتے تھے۔قوم کو خوش خبر سنا یا کر تے تھے کہ دہشت گر دی ختم جبکہ دہشت گر دوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری اسلام آباد کے ایوان صدر میں سے قوم کو روز خوش خبری دیا کر تے تھے کہ ان کی حکومت نے دہشت گر دی اور دہشت گر دوں کا صفا یا کر دیا ہے۔اب ملک میں امن ہی امن ہو گا۔آصف علی زرداری آئینی مدت مکمل کر کے چلے گئے،مگر دہشت گر دی ختم نہیں ہو ئی۔دہشت گر د بھی ٹوٹی ہو ئی کمر کے ساتھ اور طاقت ور ہو تے گئے۔ان کے منصب پر اب ممنون حسین مکیں ایوان صدر بنیں۔جنرل اشفاق پر ویز کیا نی کی جگہ فوج کی قیادت جنرل راحیل شریف کی ہا تھوں میں تھی۔وہ جنرل کیا نی کی خوش خبریوں سے مطمئن نہیں تھے ۔ اس لئے عہدہ سنبھالنے کے بعد انھوں نے جون 2014 ء میں ’’ضرب عضب ‘‘ کے نام سے شمالی وزیر ستان میں ایک نئے آپریشن کی شروعات کی۔اس آپریشن کا فوجی تر جمان اور سیاسی رہنما سوشل میڈیا پر بہت پر چار کر تے رہے۔جنرل راحیل شریف خود بھی ایک متحرک جنرل کی طر ح روز اگلے مو رچوں پر جا کر جو انوں کے حو صلے بڑ ھا تے رہے۔صدرمملکت ممنون حسین، وزیر اعظم نو از شریف اور وفاقی وزیرداخلہ روز قوم کو اطمنان دلا یا کر تے تھے کہ یہ آخری جنگ ہے دہشت گر دی اور دہشت گر دوں کے خلاف ۔مگر افسوس کہ ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔جنرل راحیل شریف ریٹا ئرڈ ہو گئے ۔ اب فوج کی قیادت جنرل قمر جا وید با جو ہ کی سپرد تھی۔لا ہو ر میں دھماکہ ہوا۔اس کے بعد سندھ میں سہیون شریف کو نشانہ بنایاگیا۔پشاور اور مہمند ایجنسی میں بھی دھماکے ہو ئے۔چند دنوں کی خا مو شی کے بعد فوجی تر جمان نے اعلان کیا کہ دہشت گر دی اور دہشت گردوں کے خا تمے کے لئے فوجی آپریشن ’’ردالفساد‘‘ شروع کر دیا گیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ہم ملک سے دہشت گردی اور دہشت گر دوں کے خا تمے کے لئے ہر ڈھائی ،تین سال بعد ایک نئے نام سے فوجی آپریشن کیوں شروع کر تے ہیں؟کیا آپریشن ’’راہ حق‘‘ ناکام ہو گیا تھا کہ جنرل کیا نی کو ’’راہ راست ‘‘ اور ’’راہ نجات‘‘ کر نے پڑے؟ اگر ’’راہ حق‘‘ کا میاب تھا تو پھر ان دونوں اپریشنز کی کیا ضرورت تھی؟چلے اس کو چھوڑ دیں ۔ کیا ’’راہ راست ‘‘ اور ’’راہ نجات ‘‘ناکام ہو گئے تھے کہ راحیل شریف کو ’’ضرب عضب ‘‘ کی ضرورت پڑی؟اگر وہ دونوں آپریشنز کا میاب تھے تو پھر ’’ضرب عضب ‘‘ کیوں شروع کی گئی؟ ضرب عضب کا بہت چرچا تھا۔ اگر ضرب عضب کامیاب تھی تو پھر’’ردالفساد‘‘ کیوں شروع کی گئی؟ملک میں جاری فوجی آپریشنز کی تا ریخ بتا رہی ہے کہ وفاقی حکومت اور فوج دونوں سے کہیں پر غلطی ہو رہی ہے۔اس لئے کہ گزشتہ ایک عشرے سے ملک میں ہر سیاسی حکمران فوج کے ساتھ مل کر دہشت گر دی اور دہشت گر وں کے خلاف مختلف نا موں سے فوجی آپر یشنز کر رہی ہے ، لیکن منز ل کا ابھی تک کو ئی نام و نشان تک نہیں۔وفاقی حکومت اور فوج کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ سر جو ڑ کر بیٹھ جا ئیں اور اس سوال پر غور کریں کہ ان کو ہر کا میاب آپریشن کے بعد دوسرا نا کام آپریشن کیوں کر نا پڑ رہا ہے؟ وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کو چا ہئے کہ اس سوال پر بھی غور کریں کہ چار بڑے اپریشنز کے بعد ان کا مریض ’’مملکت پا کستان ‘‘ صحت یا ب کیو ں نہیں ہو رہا ہے؟اگر ان سوالوں پر غور نہیں کیا گیا تو پھرنو ازشریف اور جنرل قمر جا وید باجوہ کے ’’ردالفساد‘‘ کے بعد ایک اور آپریشن کے لئے اس ریا ست کو ابھی سے تیار ہو نا چا ہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *