رسین(نظم)

 ( رسین کا مطلب کامیاب عورت)

suc

میں کمی ذات ہوں ؟

کیا کہا مجھ میں ہی خامیاں رہ گئیں ؟

پھر کہو کیا کہا ؟

میرے اندر خرابی ہے

میں اک ادھورے زمانے کی تخلیق ہوں ؟

کیا گنہگار بھی اب مجھے کہہ رہے؟

میرے سادھو ! ادھر آ تمہیں آج میں اس کمی ذات کا پورا قصہ سناؤں

اے زمانے کی سرحد پہ بیٹھے ہوئے لال خیمے کہ اندر رواجوں کے پیرو

گنہگار بھی اب کہ میں ہی ہوئی ؟

تیرے جیسے زمانوں کی تخلیق

میری تمنا کے معصوم پردے سے ہونے پہ موقوف ہے

میرے پاؤں کی مٹی سے برتن بنا کر کئی مندروں کے کئی دیوتا

اپنے پاپوں کو دھونے کی حجت میں پیتے رہے

میرے چہرے کی جھریوں سے کتنی ہی دنیاؤں کے نقشے بنتے رہے

اور بگڑتے رہے

کتنے روشن ستارے مری مانگ سے

منتیں مانگنے کی غرض سے ہمیشہ تڑپتے رہے

دیکھ میرے بطن سے کئی تیرے جیسے خدا

اور ترے بھی خدا کے خدا کے خدا پیدا ہو کر

مجھے ہی مری خامیوں کی کئی داستانیں سناتے رہے

یہ مرا ظرف ہے

کہ میں سن کر تمہارے خیالوں سے آگے کی دنیائیں تخلیق کرنے میں مصروف ہوں

میں کئی آسمانوں کی بھی آسماں میں

وجودالفروزانِ گل, گل مِنَا میں علیمہ فریزانِ فاتن بیاں ن

اجلہ راحمہ قاہرہ زوفشاں میں رسینِ جہاں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *