میں کسی کی بہنوں کو گالی نہیں دینا چاہتا، مگر...

مغلظات اور دشنام طرازی کے حوالے سے میری کوئی خاص تحقیق نہیں ہے۔ گالیوں کی لغت اپنی کم مائیگیafshan masab کے احساس تلے دبی جاتی ہے۔ ایک سوال جو لڑکپن سے ذہن میں کلبلاتا رہا وہ یہ کہ آخر گالیوں میں مخالف کی والدہ، ہمشیرہ اور بیٹی ہی کو نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟

براہِ راست مغلظات ہوں، ذو معنی فقرے چست کرنے ہوں یا طنز و الزام دینے ہوں، ماں، بہن اور بیٹی کا حوالہ لازمی ہے۔ وقت کے ساتھ سمجھ کچھ یوں آئی کہ یہاں عورت ذات کو اپنی ملکیت میں رکھی کوئی چیز گردانا جاتا ہے اور اسی تعلق کے ناطے سامنے والے کی 'جائیداد' پر کیچڑ اچھال کر اُس زخمی مردانہ انا کی تسکین کا سامان کیا جاتا ہے جو مجروح ہونے کا بہانہ ہی تراشتی رہتی ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اگر گالم گلوچ اور کردار کشی کے ضمن میں کھنگالا جائے تو سلسلہ بہت دور تک جا نکلتا ہے۔ اس پر بات بعد میں کرتی ہوں، اس سے پہلے جمعرات کے روز قومی اسمبلی کی لابی سے گیٹ تک ہوئے تماشے پر نگاہ دوڑا لی جائے۔ 'پھٹیچر' اور 'ریلو کٹا' کے مفہوم سمجھاتے مختلف نیوز چینلز پر جمعرات کی سہ پہر اچانک بریکنگ نیوز آتی ہے کہ دو اراکینِ قومی اسمبلی میں تلخ کلامی ہوئی اور ایک نے دوسرے کو مُکا جڑ دیا۔

اس قصے کا پلاٹ رات تک مختلف 'ٹوئسٹ' لیتا رہا۔ خلاصہ یہ بنتا ہے کہ قومی اسمبلی میں پی ایس ایل پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ کے بیانات اور ان کے اثرات کے حوالے سے شروع ہوئی گرما گرمی لابی تک جا پہنچی، پھر مسلم لیگ ن کے جاوید لطیف اور پی ٹی آئی کے مراد سعید میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور دونوں نے اپنے اس تبادلے میں ایک دوسرے کی والدہ و ہمشیرہ یاد رکھیں۔

بیچ بچاؤ کروانے کے دوران گرم خون نے جوش مارا اور جاوید لطیف کے چہرے پر زوردار مکا مار کر مراد سعید صاحب کیمروں کے سامنے بلند آواز میں چیختے گئے "میرے لیڈر کو غدار کہتے ہو اور مودی کو اپنے گھر بلواتے ہو۔ شرم نہیں آتی۔" اب جاوید لطیف صاحب آگے بڑھے اور سادہ الفاظ پر مبنی بیان رپورٹرز کو ریکارڈ کروا دیا جس کی تفصیل آگے آئے گی۔

قائدِ حزبِ اختلاف نے بھی مذمت کی اور اسپیکرِ قومی اسمبلی کو معاملے کا جائزہ لینے کو کہا۔ بات یہاں تک رہتی تو ہم جیسے اس خوش فہمی میں جی لیتے کہ چلو ہمارے سیاسی بڑوں نے وقت کے ساتھ کچھ تدبر تو سیکھا۔ لیکن خوش فہمی اس وقت غلط فہمی میں تبدیل ہوگئی جب کچھ توقف کے بعد جاوید لطیف باقاعدہ پریس ٹاک کرنے کھڑے ہو گئے اور وہی ازلی "تہذیب" دکھائی جس کے تحت لوگ "میں کہنا نہیں چاہتا ۔ ۔ ۔ میں نہیں کہتا ۔ ۔ ۔ لوگ ایسا کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ سننے میں آیا ہے ۔ ۔ ۔ لیکن میں کہنا نہیں چاہتا" کی گردان کرتے ہوئے دوسرے شخص کی عزت تار تار کر دیا کرتے ہیں۔ بیچ چوراہے کسی کی بہنوں کے بارے میں اتنے معیوب کلمات ادا کرنے والے کو تو اپنی زخمی انا پر مرہم رکھنا ہوتا ہے نا جناب۔

ذاتی طور پر میں بلا تخصیص کسی بھی شخص کے ایمان اور حب الوطنی کو ہدف بنانے کی مخالف ہوں، لیکن انتخابی مؤقف ہماری سیاسی جماعتوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ غدار کہنا ناقابلِ برداشت ٹھہرا لیکن اس جماعت کو بھرپور حق ہے کہ وہ دوسروں کے لیے "مودی کا یار، غدار" کا نعرہ لگائے۔ کسی کے لیے بھی منشی لفظ طعنہ بنا دے، محمود خان اچکزئی کا مذاق اڑائے، مولانا فضل الرحمان، بلاول، خورشید شاہ صاحب سمیت ہر کسی کا اُلٹا نام تجویز کرے، کیوں کہ ان تمام سیاستدانوں کے حامیوں کی دِل آزاری تو ہوتی ہی نہیں نا۔

گھونسا مارنے پر بھی شاباش دی گئی۔ بلکہ یہ تک کہا گیا کہ "میں ہوتا تو پتہ نہیں کیا ہو جاتا۔ ۔ ۔" ان کی جماعت کے مرد ترجمان کل تمام دن ایک ہی جملہ کہتے رہے، "ایسی باتوں پر صرف گھونسے نہیں چلتے۔ قتل ہو جاتے ہیں لوگوں کے،" تشدد کو مسلسل توجیہات بخشی جا رہی ہیں۔ اگر اسپیکر قومی اسمبلی نے 26 جنوری کو قومی اسمبلی کے فلور پر ہوئی ہاتھا پائی پر سخت کارروائی عمل میں لائی ہوتی تو شاید تشدد کو ترغیب دینے والے دو دفعہ سوچتے۔

جاوید لطیف نے معذرت کی تو مشہور مثال والی مینگنیاں ڈال کر۔ غور کیا جائے تو اپنی ڈھٹائی پر قائم ہیں اور شرمندہ بھی نہیں۔ اِس فضولیت کا دفاع کرنے والوں نے تو کمال ہی شور مچا رکھا ہے۔ اُس سے زیادہ افسوسناک یہ ہے کہ مریم نواز شریف جو کہ سوشل میڈیا پر اپنی حکومت کے کارنامے گنوانے میں بہت سرگرم ہیں، ان کی جانب سے چار مذمتی الفاظ تک نہ آ سکے۔

حکمران جماعت کی اعلیٰ قیادت شاید ابھی تک تیل اور اس کی دھار ماپ رہی ہے، تبھی تو اتنا سناٹا ہے جو بطور عام شہری مجھ جیسی حساس بندی کو کاٹ رہا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے 'غیر جانبدار ممبران' پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو کہ ماضی کے مشاہدات کے حوالے سے ہمیں نتیجہ سمجھانے کو کافی ہے۔

حد قذف اور شریعت لاء کے دعوے صرف ٹکرز تک محدود رہیں گے یا پھر اس سلسلے میں عملی قدم اٹھا کر ایک نیا پینڈورا باکس کھولا جائے گا، یہ تو وقت بتائے گا۔

ابھی تک بہرحال جمہوریت اور جمہور کومے میں ہیں، جبکہ جو عناصر اس شرمندگی بھرے واقعے میں یہ درس دے رہے ہیں کہ عوامی نمائندے عوام کے اجتماعی رویوں کے عکاس ہوتے ہیں تو وہ شاید بھول گئے ہیں کہ قومی و صوبائی اسمبلی میں پہنچنے کے لیے مرد اور خواتین دونوں کے ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں۔

یہ صرف کسی شخص کی بہنوں کی کردار کشی نہیں بلکہ ہر اس عورت کی تذلیل ہے جس نے ان ایوانوں کو اپنا ووٹ دیا۔ اس پر کوئی سمجھوتا کیسے ممکن ہے؟

80 اور 90 کی دہائی میں اس ملک کی سیاسی جماعتوں نے جِس قسم کی کھچڑ سیاست کمائی ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ لباس کے حوالے سے بینظیر بھٹو پر ذومعنی فقرے کسنے اور بیہودہ ریمارکس پاس کرنے والے حضرت اب شب و روز اینکرز کے لیے ریٹنگ کا وسیلہ بنے ہوئے ہیں اور اب کی حکمران جماعت اُن دنوں کیا راکھ اڑاتی رہی ہے وہ بازگشت آج تک پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ایک اور صاحب کو معافی اور سفارتکاری نصیب ہو گئی۔

محترمہ بینظیر بھٹو بڑے دل کی مالک انسان تھیں۔ ان کی ذہانت اور ظرف کی بلندی کا ایک زمانہ مداح تھا اور رہے گا۔ بار بار شب خون مارنے (وہی جی، ملک و قوم کے وسیع تر مفاد وغیرہ میں) والوں کا مقابلہ کرنے اور سیاسی شعور کی بالیدگی نے اُن دو بڑی سیاسی جماعتوں کو ماضی کی تلخیاں اور غلطیاں بُھلا کر میثاقِ جمہوریت کے نام پر اکٹھا کر دیا جو کہ نظریاتی اعتبار سے دو انتہائیں سمجھی جاتی رہی ہیں اور ہم سمجھے کہ شعوری ارتقاء میں بہتری آئی ہے۔

مراد سعید اور جاوید لطیف سے پہلے پنجاب اسمبلی میں ہارون بخاری نے نگہت شیخ کو اسی طرح اپنے چیمبر میں آنے کا کہہ کر خاموش کروانے کی کوشش کی جیسے کچھ عرصہ قبل سندھ اسمبلی میں صوبائی وزیر برائے ورکس اینڈ سروسز امداد پتافی نے نصرت سحر عباسی کو کہا۔

یہ وطیرہ ہے کہ اگر کوئی عورت آواز رکھتی ہے تو اس کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دو یا پھر ایسا کوئی لفظ یا جملہ کہو جس سے عورت ہراساں ہونا محسوس بھی کر لے اور بعد میں کہہ سکو میرا مطلب وہ نہیں یہ تھا۔ جبکہ چیمبر میں بلوانے کی بات پر بیک گراؤنڈ سے یہ جملہ بھی آیا کہ "سارا دن بیٹھی عشقیہ گانے گاتی ہیں"۔

اجلاس ختم ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کی خواتین میڈیا کو باور کرواتی رہیں کہ بات کا مفہوم غلط لیا گیا۔ شام کو وزیر موصوف ٹی وی پر دعویٰ کرتے رہے کہ "اس نے بھی میری ماں بہن پر ریمارکس دیے۔ میں نے تو ردِعمل میں بولا تھا۔"

سوشل میڈیا کا دباؤ تھا یا نصرت عباسی کی جماعت کا ردِ عمل کہ پندرہ گھنٹوں بعد مذمتی ٹوئٹس بھی برآمد ہوئیں اور شوکاز نوٹس بھی جاری ہوا۔ اجرک جیسی حسین روایت اوڑھا کر معافی تلافی ہو گئی۔ اب مجھے خبر نہیں کہ وزارت کے قلمدان کا کیا ہوا کیوں کہ سندھ اسمبلی کی ویب سائٹ امداد پتافی کو چار قائمہ کمیٹیوں کا رکن بتا رہی ہے اور دو ہفتے قبل خبر تھی "صوبائی وزیر امداد پتافی کی بلاول ہاؤس آمد"۔

ہم فیاض الحسن چوہان کی غلاظت بھری ٹوئٹس کا مقابلہ عابد شیر علی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کروا لیں یا ٹاک شوز میں ان دونوں کی بدزبانی کو دیکھ لیں تو سر شرم سے جھک جاتے ہیں کہ یہ عوامی نمائندے ہیں۔

مریم نواز کی شادی کی تصاویر سے لے کر قطری خط تک پر جس طرح کی لغو گوئی کی جاتی رہی ہے کون نہیں جانتا۔ حافظ حمد اللہ کے زرخیز خیالات بھی قوم نے سُن رکھے ہیں۔ شیخ آفتاب بھی ڈاکٹر مزاری کو ایئرپورٹس پر ہونے والی 'سٹرپ سرچ' سمجھاتے پائے گئے ہیں۔ نعیم الحق صاحب پر ان کی جماعت کی خواتین نے جس قسم کے الزامات لگائے اس حوالے سے ان کی لیڈرشپ خاموش ہی رہی۔

میئر کراچی وسیم اختر کے منہ سے جھڑتے پھول کوئی نہیں بھول پایا لیکن وہاں بھی سماجی و سیاسی دباؤ کے تحت معافی نامہ آ گیا، نجی محافل میں کیا تائید ہوتی رہی وہ چھوڑیے۔ چلیے یہ تو ہوئے سیاسی جماعتوں کے کارکنان۔ شیریں مزاری صاحبہ سے لائیو شو میں کِس کی جانب سے بار بار معافی کون سے کلمات پر مانگی گئی وہ بھی یاد کر لیں اور لگے ہاتھوں عمران خان صاحب کا وہ عظیم انکشاف بھی جہاں ذو معنی انداز میں یہ بتا کر موصوف داد وصول کرتے رہے کہ انہیں علم ہے اُن پر تنقید کرنے والی خواتین رکن اسمبلی کِس طرح ان نشستوں پر پہنچیں۔ بات وہی ہے کہ نہایت تکنیکی انداز میں باریک واردات کرو تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

لیکن ان سطور تک پہنچتے مجھے یاد آیا کہ صرف مرد سیاستدان ہی نہیں خواتین بھی ایک دوسرے کی کردار کشی میں حصہ بقدرِ (سیاسی) جثہ ڈالتی رہی ہیں۔ کیا ہم ڈاکٹر فردوس اعوان اور کشمالہ طارق والے معاملے کو بھول سکتے ہیں؟ شازیہ مری اور کشمالہ طارق کے درمیان ہوئی تلخ کلامی بھی ماضی کا حصہ ہوئی، تو سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر کا لہجہ اور خواتین اراکین صوبائی اسمبلی سے بات کرنے کا انداز اکثر و بیشتر خبروں کی زینت بنا رہتا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے ایک بیہودہ بات کی تو شرمیلا فاروقی نے ڈٹ کر مریم نواز پر تہمتوں اور حقارت بھرے ذو معنی طعنوں سے مقابلہ کیا۔

آج بھی جاوید لطیف نے میری دو بہنوں کے حوالے سے گھٹیا الزامات لگائے تو پارلیمنٹ میں بیٹھی خواتین اسے اپنی صنف کی توہین سمجھتے اکٹھی نہیں ہو سکیں۔ اگرچہ یہ روایت تو انہوں نے مہناز رفیع یا ڈاکٹر شیریں مزاری کی ذات پر حملوں کے وقت بھی نہ ڈالی۔

پہلے خاموش رہ کر بعد میں سماجی و صحافتی دباؤ کے تحت مذمت جاری کرنا گھٹیا رویوں کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہے۔ مختصراً یہ کہ عوامی نمائندہ خواتین اسمبلی اراکین کو اپنی صنف کے احترام میں متحد ہونے کے لیے بھی اپنی قیادت کے حکم نامے کا انتظار ہوتا ہے۔

جلد کسی اور عورت پر کوئی اور مرد رکن اسمبلی حملہ آور ہو گا، پھر وہ بھی معذرت کرلے گا۔ پھر کسی ایوان میں مرد اراکین گتھم گتھا ہوں گے اور بعد میں "تیری بھی چپ، میری بھی چپ" فارمولا چلتا رہے گا۔

اندر کھاتے سب کو یقین ہوتا ہے کہ ان کی بد زبانی اور بے ہودگی کا 'ڈیمیج کنٹرول' معافی اور روایتی چادر ہے یا پھر کوئی نیا ایشو جو میڈیا و عوام کی توجہ ہٹا دے گا۔

جب کسی نے مثال ہی پیش نہیں کی تو سزا کا خوف کیسا، شرم یا لحاظ کِس بات کا۔ یہاں معذرت کسی اخلاقی پستی کے ادراک پر نہیں ہوا کرتی بلکہ کرسی، پوزیشن اور پارٹی امیج (نام نہاد ہی سہی) بچانے کے لیے ضروری ہو جاتی ہے۔

بشکریہ:ڈان

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *