ہجرت(تیسرا حصہ)

Image result for pakistan 14 august 1947
 یہ پاکستان ہے پنجاب ہے، لاہور ہے پشاور ہے، یہ وہ دھرتی ہے جس نے سب کو جایا، سب کے کسی تفریق کے بغیر بڑا کیا اور بڑے ہونے پر بیٹوں نے ہی تفریق کی ، تفریق کی دھرتی کی، تفریق کی تہذیب کی، تفریق کی اقدار کی ، تفریق کی اخلاص، انسانیت محبت فکر سب کچھ کی تفریق کی علاوہ نفرت کے ، نفرت نے تو پر دے دیے تھے جن پر سوار ہو کر ہر سپوت اندھیروں کے بادلوں کو بھی پیچھے چھوڑ جانے کی دھن میں تھا، سب یہی چاہتے تھے کہ بس زمین کو کاٹ کر اپنا نام لکھ دیں اور کمزور کو اس میں گاڑ دیں، افسوس اس بات کا نہیں کہ دھرتی بانٹی گئی، وہ بٹنی تھی تو امن اور احتیاط سے بھی بانٹی جا سکتی تھی، اپنی مرضی کے مطابق وطن چنا جا سکتا تھا، سب معاملات سکون سے طے پا سکتے تھے ، سب کو آزاد ملک آزاد فضا میسر آ سکتی تھی لیکن نفرت نے اس قدر اندھا کر دیا تھا کہ صدیوں سے ایک ساتھ رہنے والے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلنے والے ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کو آتے تھے، ایک دوسرے کی عزت تک لوٹنا عزت اونچی کرنے کے مترادف تھا ، اور یہ حال صرف ایک طرف ہوتا تو ایک طبقے کو ظالم اور غلط قرار دے کر لکھنے والوں قسمت اور دھرتی کو سکون مل بھی جاتا لیکن یہ حالات ایک طرف نہ تھے ، یہ حالات دونوں طرف تھے اور بالکل ایک جیسے تھے ، ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمانوں پہ ظلم ڈھائے گئے تو یہ نہیں تھا کہ پاکستان سے ہجرت کر کے جانے والے ہندوؤں کو بھیگتی آنکھوں ، آنسوؤں اور افسردگی کے ساتھ رخصت کیا گیا ہو یا پھر پھولوں کے ہار پہنا کر اور ڈھول بجا کے اور خوشی خوشی رخصت کیا گیا ہو ، دونوں طرف صرف نفرت تھی نہ عقل تھی نہ دل تھے نہ دماغ نہ احساس نہ محبت نہ قدر نہ انسانیت, کچھ بھی نہ تھا سوا نفرت کے ، پاکستان سے ہجرت کر کے جانے والے ہندوؤں کے ساتھ بھی وہی ہوا جو وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ ہوتا آیا لاہور سے کچھ خاندان ہجرت نہ چاہتے تھے ان کا کہنا تھا ہم پاکستان میں ہی رہیں گے بے شک ہم ہندو ہیں لیکن ہمیں یہیں رہنا ہے یہ دھرتی سب کی ماں دھرتی ہے اور ہم اب بھی امن کے ساتھ اکٹھے رہ سکتے ہیں یہ بالکل ویسے ہی تھا جیسے ہندوستان سے کچھ مسلمان ہجرت نہیں کرنا چاہتے تھے وہ بھی کہتے تھے کہ ہم ہندوستان میں ہی رہ سکتے ہیں، لیکن گھر نہ چھوڑنے پر دوسرے طبقے کو سخت غصہ تھا غصہ کس بات کا تھا کہ یہ گھر چھوڑیں گے تو ہی ہمیں یہ گھر مل سکیں گے ، یہ احساس ہی ختم ہو گیا تھا کہ کل تک ہم ایک دوسرے کی جان مال کی حفاظت کرتے رہے ، جس گھر سے پتہ چلا کہ یہاں ہندو رہ رہے ہیں انہیں زبردستی ہجرت پہ مجبور کیا جاتا اور اگر وہ ہجرت نہ بھی کرتے تو ان کے گھر کو جلا دیا جاتا اور صرف گھر نہیں اس میں موجود بچے جوان عورتیں بزرگ سب ساتھ میں ہی جل جاتے ، یہ انسانیت تھی یہ جذبہ حب الوطنی تھا . مجھے علم ہے یہ مرے بہت سے پاکستان سے محبت کرنے والے اور مسلمان بھی پڑھیں گے ، میں مسلمان ہوں اور اکثر لکھنے والوں کی طرح کیا میں بھی تصویر کا ایک رخ دکھاتی ؟ مجھے میرے بابا نے میری ماں نے مری دھرتی نے مرے احساس نے سچ بولنا سکھایا ہے تو میں کیسے ان حقائق پہ پردہ ڈال دیتی جو واقعتاً ہوئے. ایک طبقہ یہ سوچے گا کہ مجھے مسلمان ہو کر صرف مسلمانوں کے حق میں ہی ثبوت ڈھونڈنے چاہئیں مجھے صرف مسلمان ہو کر مسلمانوں کی نمائندگی کرنی چاہیے، لیکن میں مسلمان ہوں مجھے اسلام اور حضرت محمد ص نے عدل سکھایا ہے، کیا حضرت محمد ص نے حقیقت کو چھپا کر صرف ایک رخ دکھانے کی تعلیم دی ؟ ہرگز نہیں کیا انہوں نے اقلیتوں کے ساتھ غیر منصفانہ طریق اختیار کرنے کی تعلیم دی ؟ ہرگز نہیں ، کیا میں اپنے گروہ کی برتری ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بول دوں کہ صرف ہندوؤں نے مسلمانوں پر ظلم کیے اور مسلمانوں نے ہندوؤں کو پر امن طریقے سے اور محبت کے پھول پیش کر کے ہندوستان رخصت کیا ؟ ہر گز نہیں مسلمانوں نے بھی ویسے ہی ظلم ڈھائے کیونکہ اس وقت کوئی ہندو تھا نہ مسلمان اس وقت صرف نفرت سوار تھی اور انتقام کی آگ نے سب کو اپنے اندر لپیٹ رکھا تھا ، اب آپ بتائیے کیا میں تصویر کاایک رخ پیش کر کے اپنے اندر کے ضمیر پہ بد دیانتی کے پتھر ڈال کر خآموش ہو جاؤں ؟ کیا آپ کا ضمیر یہ کہتا ہے مجھے ایسا کرنا چاہیے ؟ ہرگز نہیں نا ؟ تو آئیے دوسرا رخ بھی دیکھتے ہیں کہ یہاں سے جانے والے ہندوؤں کے ساتھ کیا ہوا ؟یہ لاہور کا محلہ ہے، ایک گھر جہاں سے کچھ ہندو واپس جانا نہ چاہتے تھے لیکن ان کے گھر کو زبردستی واپس بھیجا گیا اور مجبور کر کے ہجرت پہ مائل کیا گیا، گھر چھوڑ کر وہ اپنے پرانے گاؤں گئے جہاں ان کے آباؤ اجداد رہتے تھے انہیں یہ امید تھی شاید انہیں وہاں امان مل جائے وہاں پہنچنے پر ان کو تسلی ہوئی کہ گاؤں والوں نے کہا ہم آپ کی حفاظت کریں گے ہم سب اکٹھے پلے ہیں اور اس گاؤں کو بھی چاہے کوئی آگ لگا دے ہم آپ کو اپنے ساتھ ہی رکھیں گے، ایک اطمینان کی گھڑی آئی لیکن گاؤں کے سردار کو جلد ہی اوپر سے حکم آیا کہ اگر تم لوگوں نے امان دی تو پورے گاؤں پہ حملہ کر دیا جائے گا ، سردار نہ مانا ، گاؤں والے پر امن تھے ، پرعزم تھے لیکن موت آنے پر سانسیں بھی ساتھ چھوڑ جاتی ہیں ، اللہ اکبر کی صدا گونجتی ہے ، ہائے اللہ اکبر کی صدا گونجتی ہے ، اللہ اکبر کا مطلب ہے اللہ ہی سب سے بڑا ہے اور وہ ہی زندگی موت زر زمین سب کا مالک ہے لیکن یہ اللہ اکبر کی صدا لگانے والے اپنے رب کے محمد ص کے احکامات کے ہی خلاف ہو گئے تھے ، وہ خود کو رب سے بڑا ثابت کرنا چاہتے تھے ، زندگی موت دینے والا رب ہے لیکن اس وقت وہ زندگی موت کا فیصلہ کر رہے تھے اس وقت وہ زر زمین چھین رہے تھے جس کا مالک رب ہے ، کتنی بد نصیب فضا ہو گی جس نے یہ سب دیکھا ہو گا کتنا بد بخت وہ سورج ہو گا جس کے اجالے تلے یہ خون ہوا ہو گا ، رحمت اللعالمین کے امتی محمد ص جو شفقت اور رحمت کا سراپا تھے اس کا نام لینے والے خون کا کھیل کھیل رہے تھے ، کتنی افسردہ ہو گی انسانیت جس کے دامن کا داغا گیا، اللہ اکبر کی صدا گونجتی ہے ، ہندو خاندان کے سارے افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ، خون بہا دیا جاتا ہے، ذلیل کر کے قتل کیا جاتا ہے اور اس گھر کے لوگوں کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے جنہوں نے پناہ دی ، زندہ رکھے جاتے ہیں تو صرف جانور ، یہ زمین انسانوں پہ تنگ تھی، جانور تو جانور تھے، انسان اپنی ہی نسل انسان کے خون کا پیاسا تھا ، اسے جانوروں پہ ترس آ سکتا تھا اسے اپنے ہی خون اپنے جیسے انسانوں پہ ترس نہیں آ سکتا تھا اور یہ سب تاریخ کی آنکھیں خون کے آنسو روتے ہوئے دیکھ رہی تھیں پشاور سے ٹرین جاتی ہے جس میں پختون ہندو ہوتے ہیں، ہر ہر اسٹیشن پر روک روک کر ہندوؤں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا، خون بہتا رہا، عصتیں لٹتی رہیں, جوان قتل ہوتے رہے, بچے ذبح ہوتے رہے، بیٹیاں اٹھائی جاتی رہیں مائیں بے آبرو ہوتی رہیں ، بزرگ ذلیل کر کر کے مارے جاتے رہے ، کوئی ایسا خاندان نہ تھا جو سلامت ہو ، ہر طرف نفرت خؤن انتقام اور تفریق تھی جس نے سب کو اپنے اندر جھلسا کے رکھ دیا تھا ہندو قافلے جب گزر رہے تھے تو چاروں طرف سے خطرے کی تلواریں ان کے سروں پر ہوتی تھیں، کبھی کسی بھی طرف سے خون کی ہولی کھیلی جا سکتی تھی کسی بھی طرف سے حملہ آور آتے، اللہ اکبر کی صدا گونجتی اور اللہ کے نام لیوا اس کے انسانوں کا خؤن بہا کے لوٹ مار کر کے نکل جاتے ، دکھ تو یہ ہے کہ احساس رہا ہی نہ تھا، وہی مسلمان جو خود لٹ مر کے ہندوستان سے کسی طرح پاکستان پہنچ گئے تھے اب وہی بدلے کی آگ میں جلتے ہوئے ہندو قافلوں پہ حملہ آوروں کے ساتھ مل کر جھپٹ پڑتے، وہ کیوں نہ سوچتے جس طرح اس طرف ہماری بہنوں کو لوٹا گیا ہمارے بچے قتل کیے گئے ہماری مائیں ماری گئیں جو ہم پہ گزری وہی ان پہ بھی گزر رہی ہو گی ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے لیکن وہ بس بدلے اور انتقامی نفرت کی زد میں اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کا مکمل بدلہ دوسروں سے لے لینا چاہتے تھے سوچ مفلوج تھی اور احساس جذبات سے عاری تھی، فقط نفرت تھی بے حد و بے حساب نفرت یہ بارڑر ہے ، راوی کا پل ہے، جہاں پہ انگریز فوجی تعینات تھے، انگریز فوجی افسر ہر آدھے گھنٹے کے لیے پل کی طرف ایک طرف سے داخلی دروازہ کھولتا جس سے مسلمان قافلے ہندوستان سے پاکستان میں داخل ہوتے اور آدھے گھنٹے بعد اسے روک کر دوسری طرف کے دروازے کو کھولنے کا حکم دیتا اور ہندو قافلے پاکستان سے ہندوستان کی سرحد میں داخل ہوتے، جونہی وقت ہوتا دروازہ بند کر دیا جاتا اور یہ نہ دیکھا جاتا کہ آدھے خاندان کے لوگ نکل گئے اور آدھے پیچھےرہ گئے تو پیچھے رہنے والوں کو آگے نہ گزرنے دیا جاتا اور آگے والے رک نہ سکتے تھے اور اس طرح اگر کوئی خاندان اکٹھے بارڈر تک پہنچ بھی جاتے تو ایک دوسرے سے بچھڑ جاتے ، وقت ختم ہونے والا تھا، انگریز فوجی آوازیں دے رہا تھا ہری اپ ہری اپ، خارجی دروازے سے ماں باپ نے بیٹے کو جلدی سے باہر کیا اور خود گزرنے لگے لیکن انگریز فوجی نے آگے دروازہ بند کر دیا ، بیٹا ہندوستان میں داخل ہو چکا تھا اور ماں باپ پاکستان کی حد میں رہ گئے، پیچھے والا قافلہ آگے نہ جا سکتا تھا اور آگے نکل جانے والا رک نہ سکتا تھا کیونکہ پیچھے سے لوگ آرہے تھے معصوم بچہ ماں باپ سے جدا ہو گا تو کسی پہ کچھ نہ گزری ہو گی ؟ کسی آنکھ نے آنسو نہ بہائے ہوں گے ؟ کوئی رویا تک نہ ہو گا ؟ لیکن دھرتی.... دھرتی تو روئی ہو گی، وہ بچہ اور اسی طرح کے ہزاروں بچے جو بچھڑ گئے ماں باپ سے اپنوں سے محبتوں سے وہ ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو گئے جو کبھی نہ اپنوں سے مل سکے نہ اپنے ان سے ، یہ قربانیاں یاد ہی کون رکھے گا اور کیوں رکھے گا کیونکہ سب کی اپنی دنیا اپنا گھر اپنی مستی ہے ، کوئی ایسا خاندان نہ تھا جو نہ لٹا ہوا ، راستے میں بیٹیاں کوئی لے گئے تو بیٹے قتل ہو گئے ، بچے سرحد پر بچھڑ گئے اور بزرگ اور لٹے پٹے خاندان اپنی آزادی اور ملک کی حسرت لیے آزاد ملک میں داخل ہوئے. (جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *