کرب

محمد طاہرM tahir

الفاظ کے کوئی معانی ہی نہیں، اقدام کی کوئی اخلاقیات نہیں،ہم کیاہوگئے؟ ہم کیا ہوگئے؟ سوال ہی سوال ہیں، مگر جواب کوئی نہیں۔ ہر ایک کو اپنے دامن کی فکر ہے، کہیں موجودہ ماحول میں انتہا پسندی کا الزام نہ لگ جائے۔ حقیقت کی تلاش الزامات کی بوچھاڑ کا ذریعہ نہ بن جائے۔ مسجدیں جلادو، مدرسے گرادو، فلاں کو مار دو،فلاں کو پھانسی چڑھادو۔۔۔یہ کیا کلام ہے،یہ کیسا کلام ہے؟ یہ کون بول رہا ہے، یہ کون کون بول رہا ہے؟؟چار ارب برسوں کی ارضی تاریخ کی طویل ترین راتوں میں سے ایک رات کل تمام ہوئی ،جسے افغانستان میں شبِ یلدا کہتے ہیں۔ مگر کیا پاکستان میں بھی؟ جی نہیں یہاں سیاہ شب ابھی تک طاری ہے، طویل تر ، دراز تر اور محیط تریہ رات نہ جانے کب تک طاری رہے؟
اندیشہ ہے کہ سانحہ پشاور کا کبھی نہ ختم ہونے والا غم رائیگاں نہ چلا جائے۔ قاتلوں کے خلاف قاتل اتحاد کر رہے ہیں اور مظلوموں کو گروہ دیکھ کر دھتکارنے کا عمل جاری ہے۔ ایک بار پھر ثابت ہوا، ذرائع ابلاغ غارت گرِتہذیب ہیں۔ اس کی دانائی بھی معیوب ہے۔ذرائع ابلاغ کا جادوکشش سے شروع ہوتا ہے اورطاقت و سرمایہ کے دو منتر وں سے پر وان چڑھتا ہے۔ سچ کہاں ہے؟ سچ کہاں ہے؟ سانحہ پشاور سے جس قومی یکجہتی کی اُمید پیدا ہوئی تھی،وہ اب ماند پڑنے لگی۔ اتنی جلدی ، افسوس اتنی جلدی یہ ہونے لگا۔ اس کا پہلا سبب تو یہ ہے کہ فیصلہ کن قوتیں ریاست اور سماج کے باہمی تعلق کو سمجھنے سے ہی قاصر ہیں۔ پھر حکومت اور طاقت ور اشرافیہ کا معاشرتی شعور بے حد ناقص ہے۔وہ جذباتی ماحول کے گھوڑے پر اپنے اہداف کی سواری کررہے ہیں۔طاقت کے مراکز پر گرفت اور فیصلہ سازی کی باگ کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کا جنون ہمارے قومی فیصلوں کی بنیادی تحریک ہے۔ ہم باز نہیں آتے، ابھی بھی ہم باز نہیں آرہے۔اس کا پہلا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اپنے کھیل کے ’’اتحادی‘‘ ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ چنانچہ ہر دور کے طاقت ور اپنے اتحادیوں کے ’’سوخون‘‘ معاف کردیتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کراچی میں 1983 سے بہنے والا مسلسل خون مسلسل نظر انداز کیوں ہوتا ہے؟ایک محتاط اندازے کے مطابق کراچی میں جاری مسلسل دہشت گردی پچھلی تین دہائیوں میں تیس ہزار افراد کو نگل چکی ہیں۔ کوئی اس کا پُرسان حال کیوں نہیں؟ اقتدار کے کھیل میں اتحادیوں کی ضرورت کا حریصانہ احساس ہمیں جرائم اور دہشت گردی کو پالنے پوسنے پر مجبور رکھتا ہے۔ بعض حالات میں تو یہ مجبوری بھی نہیں، پسندیدہ عمل بن جاتا ہے۔اسی روش نے بلوچستان کا دامن بھی تار تار کردیا ۔ یہی ذہن ہماری قومی حکمتِ عملی کا محور ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اچھے اور بُرے طالبان کی تمیز ختم کرنے کی بات کی ہے۔ دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کے ساتھ اِسے بلاامتیاز ختم کر نے کی بات اب بھی نہیں کی۔ دہشت گردی کے ذمہ دار خواہ کسی بھی نوع کے طالبان ہو یا کسی بھی قسم کے سیاسی گروہ اُ س کی بیخ کنی ریاست اور حکومت کی ترجیحِ اول ہونی چاہئے۔ مگر اس بار بھی ایسا نہیں ہوا۔
سانحہ پشاور پر ریاست اور طاقت کے دیگر مراکز کو کیسے بروئے کار آنا چاہئے تھا؟کسی بھی جذباتیت کا شکار ہونے کے بجائے اس پر غور ازبس ضروری تھا۔کیا قومی سطح کا ردِعمل ایسا ہی ہونا چاہئے تھا جواب تک ہم نے ظاہر کیا۔ دہشت گردی کے ناسور سے بچنے کے لئے غصہ اور غضب ناکی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔یہ دشمن کے کام کو آسان کریگی اور ہماری مشکلات بڑھائے گی۔ نوگیارہ کے بعد امریکا نے ایسے ہی فیصلے کئے اور اب وہ اس کی قیمت بھگت رہا ہے۔ چین اُس سے بڑی معیشت میں تبدیل ہو گیا اور روس نے اُسے دوبارہ آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہے۔ دنیا ایک بار پھر گھوم کر طاقت کے پرانے مداروں کا چکر لگانا شروع کررہی ہے۔طاقت کو ایک حل کے طور پر اختیار کرنے کا یہ ذہن پوری دنیا میں ناکام ہو رہا ہے اور اُس کے نتیجے میں بدترین دہشت گردی فروغ پا رہی ہے۔ معروف صحافی جان پلگر نے پچھلے دنوں وکی لیکس کے بانی اور سچائی کی تلاش کی عالمی جستجو رکھنے والوں کے ہیرو جولین اسانج سے ملاقات کی تو اُس نے پہلا انکشاف ہی یہ کیا کہ دنیا کو ایٹمی جنگ کے خطرے کے ساتھ ایک عالمی جنگ کا خطرہ ہے۔ یہ خطرہ طاقت سے دنیا کے مسائل حل کرنے کی عالمی روش نے پروان چڑھایا ہے۔ بدقسمتی سے اس پہلو پر کسی بھی نوع کے غوروفکر کی دعوت کو’’ لبرل انتہا پسند‘‘حمایت و مخالفت کے فتووں سے دیکھتے ہیں۔اور اُن کے یہ فتوے ’’ملاؤں‘‘ کے فتووں سے زیادہ سخت گیر ہوتے ہیں۔ درحقیقت یہ عالمی مسائل میں ’’طاقت‘‘ کے مسلسل استعمال سے بننے والی دنیا کے موجودہ مسائل پر نئے سرے سے غورو فکرکی ایک عالمی دعوت ہے۔ جس کے تحت پرانے مسائل کے لئے نئے طریقے سے ایک ’’اُصولی‘‘ حل کی بنیاد تلاش کرنا ہے۔یہ حل جذباتیت نہیں ایک مستقل جذبے کی ضرورت کو اُبھارتا ہے۔ اورخود کو دہشت گردوں کے مسلط کردہ ماحول سے نکالتا ہے۔بدقسمتی سے دہشت گرد ،ریاستوں کے غیر منصفانہ اقدامات کے بعد طاقت کے استعمال سے پیدا ہوئے اور اب ریاستیں پوری کی پوری اُن کے ہاتھوں اور طریقوں کی یرغمال بنتی جارہی ہیں۔امریکا میں اس پر غور شروع ہو گیا اور کتابوں کی کتابیں لکھی جانے لگی ہیں کہ امریکا نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا یا طالبان نے امریکا کو مکمل یرغما ل بنالیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی قوت دنیا کے سب سے کمزور ملک کو شکست دینے کے لئے اپنی ہی سرزمین پر بتدریج کیا سے کیا بن گئی ہے؟اب امریکا اُس سے نکلنے کے لئے جتن کر رہا ہے ۔ عالمی ماہرین متفق ہیں کہ یہ کام افغانستان پر حملے کے فیصلے سے زیادہ مشکل ہے ۔اور اُس کے نتائج افغانستان سے ملنے والے نتائج سے زیادہ مایوس کن ہیں۔یہ بات ابھی بہت عجیب لگے گی ،کچھ عناصر کے لئے شاید ناپسندیدہ بھی ہو مگر درحقیقت دہشت گردوں کی نئی اغوا شدہ ریاست کا نام پاکستان ہے۔
سانحہ پشاور کا غم بہت بڑا ہے۔ مگر وہ غم کوئی معنی نہیں رکھتا، جس کی تھاہ میں درد کی کوئی تحریک نہ ہو۔ اگر یہ درد تحریک افزا ہے، تو ریاست پاکستان کے لئے ایک نعمت بھی بن سکتا ہے۔ افسوس ہمارے قومی رویوں کی تشکیل جذباتیت اور ضد سے کی جانے لگی ہے۔ریاستیں اس طرح بروئے کار نہیں آتیں۔ اُسے غم سینچنا پڑتا ہے اور اُسے اپنی قومی تعمیر کی بنیاد بنانا ہوتا ہے۔کتنی جلدی یہاں پر اعتدال پسند مذہبی جماعتوں کو بھی نشانے پر دھر لیا گیا ہے۔پُرانی عداوتوں کو نکالنے کا اِسے موقع بنا دیا گیا ہے۔سانحہ پشاور غم واندوہ اور امن وترقی کی تحریک بننا چاہئے، اِسے داؤپیچ کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے،اِسے طاقت کے مراکز کی پُرانی لڑائی کے کھیل میں بدلنا نہیں چاہئے۔اِسے من وتُو کی بحث سے آلودہ نہیں ہونا چاہئے۔یہ ایک خطرناک عمل ہے ، جو ہمیں رفتہ رفتہ سانحہ پشاور کے ذمہ داروں جیسا بنا دے گا۔اور ریاست کی دیگر قوتوں کو بھی طاقت کے منحوس گرداب میں ڈال کر اُنہیں بھی اپنی بقا کے لئے ’’ضارب‘‘ کا روپ اختیار کرنے پر مجبور کردے گا۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ریاست ایسی ہو جو اپنے حریف بڑھا کر خوش ہوتی ہو، جیسے کہ ہم ہیں۔ سانحہ پشاور میں ڈوبنے والے ہمارے روشن بچوں کی آوازیں اُبھرتی ہیں کہ ہماری شبِ یلدا کب ختم ہوگی!!!!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *