کشور ناہید کی واپسی بھارت کے لیے بدنامی کا باعث تھی۔

اے جی نورانیAG Norani

کشور ناہید بر صغیر کی جانی پہچانی اردو شاعرہ ہیں۔ وہ واحد پاکستانی شاعرہ تھیں جنہوں نے نئی دہلی میں ۱۷ سے ۱۹ فروری تک ہونے والے اردو فیسٹیول 'جشن ریختہ ' میں شرکت کی ۔ انہوں نے راستے سے ہی اس وقت واپسی کا راستہ لیا جب انہیں معلوم ہوا کہ انہیں ایک مہمان کے طور پر بلایا گیا ہے اور وہ پروگرام میں بذات خود شرکت کرنے کی مجاز نہیں ہیں۔ ان کو  اس فیصلے کے پیچھے جووجوہات   ریختہ فاونڈیشن کے بانی سنجیو سراف نے بتائیں ان سے بھار تی حکومت اور ان کی تنظیم کے بارے میں منفی رائے قائم ہوئی۔ یہ متضاد، بزدلانہ اور احمقانہ ہے۔

 انہوں نے لکھا: "یہ فیصلہ پاکستان اور بھارت کے بیچ تعلقات کی سرد مہری کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے کہ کسی بھی پاکستانی کو پروگرام میں شرکت کا موقع نہ دیا جائے۔ لیکن چونکہ اس تقریب کا مقصد اردو ادب کی ترویج اور آپسی تعلقات کی مضبوطی ہے اس لیے ہم نے کچھ پاکستانی مہمانوں کو تقریب میں شرکت کے لیے مدعو کیا ہے۔ "  تضاد سے بے خبر رہتے ہوئے انہوں نے مزید کہا : یہ فیسٹیول لوگوں کو قریب لانے کےلیے منعقد کیا گیا ہے اور ہم ایسا واقعہ نہیں دیکھنا چاہتے جو اس مقصد کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کر سکے ۔ اس لیے ہم نے پاکستانی مہمانوں کو مدعو کرنے کےلیے حکومت سے اجازت کی درخواست بھی نہیں کی ۔

یقینا ان کا مطلب کسی پاکستانی مہمان کی موجودگی سے پیدہ ہونے والی بدمزگی تھا  اس لیے انہیں اپنی شہرت کمانے والی نظموں کو پیش کرنے سے محروم رکھا گیا۔ یہ سمجھنا بھی مشکل ہے کہ تقریب میں پاکستانی مہمان کو مدعو کرنے کے لیے انہوں نے حکومت سے اجازت کیوں نہ مانگی۔ ظاہری وجہ تو یہ ہے کہ ایک پاکستانی مہمان کوصرف خاموشی سے شرکت کی اجازت دینے کے لیے حکومت سے اجازت لازمی ہی نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی حکومت ویزا جاری کر سکتی ہے۔ کیا اس نے آنے والے مہمان کی آمد کے بعد آرگنائزز کو ویزا جاری کرنے کا حکم دیا؟

ایک سرکاری حکم نامہ کے مطابق  جو پچھلی ۲ دھائیوں سے نافذ العمل ہے،  کسی بھی  سیاسی، نیم سیاسی، کمیونل یا مذہبی موضوعات پر   بین الاقوامی  سیمنار،ورکشاپ یا تقریب کے انعقاد کے لیے   وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ مشاعرہ ان خطرناک موضوعات میں شامل نہیں ہے۔ البتہ اگر پاکستان، بنگلہ دیش، چین، افغانستان اور سری لنکا سے مہمانوں کو بلانا مقصود ہو تو ہر انٹرنیشنل کانفرنس کےلیے وزارت داخلہ کی اجازت لینا ضروری ہے۔ مشاعرہ یا موسیقی کنسرٹ کو نہ تو کانفرنس قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سیمینار یا ورکشاپ اس لیے اوپر دیا گیا قانون  ان چیزوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ مودی حکومت پرانے حکمنامے کو ایک اضافی دلچسپی کے ساتھ استعمال کر رہی ہے۔

 سراف کے الفاظ 'ملک میں جاری صورتحال کے مطابق' ان کی خواہش سے زیادہ معاملے کو واضح کر دیتے ہیں۔ اس پورے معاملے میں جو اہم چیز وجود نہیں رکھتی وہ  ایک شہری کا کسی غیر ملکی سے ملنے کا حق ہے۔ ریاست کے پاس حق ہے کہ وہ کسی غیر ملکی کو ملک میں آنے سے روک دے۔ لیکن یہ حق بنیادی اور عالمگیر نہیں ہے۔ یہ صرف چند مخصوص حالات میں کسی اہم ضرورت کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے جس میں دفاع، سکیورٹی  کے مسائل شامل ہیں۔ اگر کسی کو ان وجوہات کے بنا روک لیا جائے تو یہ ایک غلط قانون کہلائے گا۔

انٹرنیشنل کووینینٹ آف  سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کے قانون کے آرٹیکل 19(2) میں لکھا ہے کہ آزادی اظہار رائے کے تحت ہر شخص کو دنیا بھر کے کسی بھی ملک سے زبانی، تحریری اور پرنٹ کی شکل میں علم اور معلومات حاصل کرنے کی آزادی شامل ہے۔ عدالتیں حکومت کو نیشنل سکیورٹی کے نام پر اور غیر ملکیوں کی آمد کے معاملے میں بہت ڈھیل دیتی ہیں۔ لیکن یہ ریاست کا فریضہ ہےکہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ پابندیوں یا اجازت ناموں کے بیچ کا تعلق واضح ہونا چاہیے۔

کلینڈینسٹ بمقابلہ منڈل کیس 1972  میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل رچرڈ کلینڈینسٹ کی طرف سے بیلجئیم کے ایک صحافی  اور مارکسسٹ تھیوریٹیشن ارنسٹ منڈل کو ویزا دینے سے انکار کے فیصلے کی توثیق کی۔ یہ صحافی امریکہ جا کر ایک تعلیمی کانفرنس میں شرکت کی خواہش رکھتے تھے۔ عدالت میں ججز 6 بمقابلہ 3 ممبران میں بٹ گئے۔ ڈگلس، مارشل اور برینن کو فیصلے سے اتفاق نہیں تھا۔ اکثریت نے حکومت کی درخواست اس لیے مسترد کر دی کہ منڈل کو روکنے کا فائدہ اس لیے نہیں ہو گا کہ ان کی کتابیں تو امریکہ میں موجود ہیں۔ "یہ دلیل ان تمام خصوصیات کو نظر انداز کرتی ہے جو مل بیٹھ کر کی جانے والی گفتگو، مباحثہ اور سوال و جواب کے لیے معنقدہ ملاقات میں شامل ہوں۔"

1952 میں بلوٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس نے ایک پورا رسالہ امریکہ کی ویزا پالیسی اور امریکی سکالرز اور سائنسدانوں کے دوسری دنیا کے ہم منصب لوگوں کے سااتھ نظریات کے تبادلے پر اس کے اثرات پر بحث کے لیے مختص کیا۔ اس رسالے کے ایڈیٹزجن میں البرٹ آئین سٹائین، ہنس بیتھ، مائیکل پولانی اور ریمنڈ آرون کا مشترکہ نقطہ نظر یہ تھا کہ امریکی ویزہ پالیسی امریکی سائنس اور لرننگ کو پھیلانے میں رکاوٹ بن رہی ہے اور دنیا میں امریکی تشخص کو خراب کر رہی ہے۔

جسٹس تھرگڈ مارشل نے کہا: اس چیز میں کوئی شک نہین کہ ڈاکٹر منڈل کا مختصر دورہ صرف کچھ کانفرنسز اور لیکچرز تک محدود ہے۔ علم کو پھیلانا ایک عالمی مہم ہے۔ جیسا کہ منڈل کے دعوت نامے سے ظاہر ہوتا ہے، اختلاف رکھنے والی شخصیات نے تعاون کے طریقے سیکھ لیے ہیں لیکن حکومت ایسا کرنے میں بلکل ناکام رہی ہے۔ لبرل ویزا پالیسیوں سے سول سوسائٹی کو آزادی سے تبدیلی لانے اور صلح صفائی کے ماحول کو ترویج دینے سے روکا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *