ہجرت (آخری حصہ) 

hig

آزادی مل چکی تھی،  دھرتی پاکستان اور ہندوستان میں بٹ چکی تھی، قربانیاں رنگ لا چکی تھیں،  لٹے پٹے قافلے اب اپنے اپنے آزاد وطن میں پہنچ چکے تھے، مہاجرین خواب لیے ہوئے نئے ملک میں پہنچ چکے تھے اور پر امید تھے کہ اب نیا ملک اپنا ہو گا،  وہ ملک ہو گا جو آزاد ہو گا جس میں ہمیں مکمل آزادی ہو گی. جہاں کوئی ہمارا حق چھیننے والا نہ ہو گا کوئی ہمیں بے وجہ زد و کوب کرنے والا نہ ہو گا جہاں ہماری جان کو کوئی خطرہ نہ ہو گا جہاں ہمارا مال محفوظ ہو گا جہاں ہمارے بچے قتل نہ ہوں گے جہاں ہماری بیٹیوں کی عصمتیں محفوظ ہوں گی مائیں بے آبرو نہ ہوں گی کمزور کو طاقتور سے خطرہ نہ ہو گا، انصاف ہو گا قانون کا بول بالا ہو گا سرمایہ کی ایماندارانہ تقسیم ہو گی کوئی امیر غریب نہ ہو گا سب بھائی ہوں گے اور ایک جنت نما آزاد ملک ہو گا جسے اندرونی و بیرونی طور پر کوئی خطرہ نہ ہو گا اور یہ خواب دونوں طرف کے مہاجرین کے تھے ہندو اور مسلمان دونوں -
آزادی حاصل کس سے کی گئی تھی ؟ انگریز سے ؟ مغربی طاقتوں سے ؟ لیکن وہ تو پہلے سے زیادہ پاکستان اور ہندوستان کے معاملات سنبھال رہے ہیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ تم دونوں ملکوں نے صرف ایک دوسرے سے آزادی حاصل کی ہے،  صرف اپنے اس اتفاق سے آزادی حاصل کی ہے جو تم دونوں قوموں میں تھا،  وہ طاقتور جسے شکست دینا نا ممکن تھا  ، سکندرِ اعظم جو سب قوموں کو شکست دیتا ہوا یہاں پہنچا تو اسی قوم کے ہاتھوں مرا،  وہی قوم حصوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا خون بہا رہی ہے،  انگریز نے دونوں کو الگ کر دیا اور نہ صرف تقسیم کیا ایک دوسرے کے خلاف بھی کر دیا،  ایک وقت تھا جب آدھی سے زیادہ دنیا پر مسلمان راج کرتے تھے اسی طرح ہندو ،  اگر ان دونوں قوموں کو ساتھ رہنے دیا جاتا تو کیا ان کا اتحاد پوری مغربی دنیا کے لیے خطرہ نہ تھا ؟ سو یہ بہترین حل تھا کہ دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف کروا دیا گیا،  اگر یہ ایک دوسرے سے نہیں لڑیں گے تو ان کا اسلحہ کون خریدے گا ؟ ان کے میزائل جنگی جہاز سب کچھ اور یہ اپنے لوگوں کو خوراک اور صحت کی سہولیات تک نہیں دے سکتے لیکن اسلحے کی جنگ میں ہر وقت ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑ جانا چاہتے ہیں -
دونوں ملک آزاد ہو گئے تو ان کا انجام کیا ہوا،  کیا دونوں طرف کی عوام خوش ہے ؟ کیا گاندھی یہی چاہتے تھے کہ ہندو ایک شدت پسندی کی لہر میں آ کر اپنی من مانی کرتے ہوئے جب چاہیں ہندوستان میں بچے مسلمانوں کے جب چاہیں دھمکیاں دیتے رہیں کہ ابھی ہندوؤں کا ملک چھوڑ دو،  پاکستانیوں کے آنے پہ پابندی لگا دیں، ہر وقت مسلمانوں کی ٹوہ میں رہیں ، دوسری طرف قائدِ اعظم محمد علی جناح کیا چاہتے تھے کہ پاکستان کا ہر ایک آدمی اپنی مرضی کا فرقہ اور ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر اپنا ایمان الگ کر لے،  جس کا جو جی چاہے وہ اسی طریقے سے دوسروں کے ایمان کو پرکھے،  جس کا جی چاہے دوسرے پہ کافر کا فتویٰ لگا کر اسے قتل کر کے جنت کا مالک بن جائے جس کا جی چاہے اقلیتوں کے گھر جلا کے راکھ کر دے کہ یہ گھر یہ وطن مسلمانوں کا ہے یہاں اقلیتوں کو رہنے کا حق نہیں،  جو جیسے چاہے سیاست کرے،  اور آزاد ملک کے آزاد باشندے دور بیٹھ کر صرف تماشا دیکھیں کوئی اگر آواز اٹھائے تو اس کی آواز بند کروا دی جائے یا اس کا تماشا بنایا جائے، یہ ہماری قسمت ٹھہری -
تو کیا خواب پورے ہوئے ؟ آپ نہیں جانتے کہ خواب پورے ہوئے یا نہیں ؟ میں نے خود سے سوال کیا اور آپ بھی خود سے سوال کیجیے کہ واقعی خواب پورے ہوئے ؟ وہ قربانیاں انگلستان سری لنکا آسٹریا یا امریکہ کے لوگوں نے آ کر نہیں دی تھیں وہ ہمارے اپنے آباؤ اجداد نے دی تھیں،  ہم ان کی اولاد میں سے ہیں  کتنے ہی لوگ ایسے اب بھی زندہ ہیں جو ہجرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے اور لٹ چکے کسی کا بھائی بچھڑا تو کسی کی بہن لٹی کسی کی ماں مری تو کسی کا باپ  کیا وہ اب انہیں بھول چکے ؟ وطن مل گیا اور ان خوابوں کا کیا ہوا جو دیکھے گئے ؟ وہ خواب بھی قربانیاں دینے والوں نے پورے نہیں کرنے تھے وہ میں نے کرنے تھے آپ نے کرنے تھے اس نسل نے کرنے تھے جسے تیارشدہ آزاد وطن ملا جس نے آزادی کے لیے خاندان نہیں لٹوایا جس کی غیرت کا جنازہ آزادی کے لیے نہیں نکلا جس نے خون بہتا ہوا نہیں دیکھا ، ہم سب بے بس ہیں ؟ ہر گز نہیں یہ سب ممکن تھا -
 لوگ کہتے ہیں کہ انقلاب آئے گا   میں پوچھتی ہوں کیسا انقلاب چاہیے تمہیں ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے باشندوں سے میں مخاطب ہو کر کہتی ہوں کہ جاؤ جا کر ان قبروں پہ سر پھوڑو جو تمہارے آباؤ اجداد کی ہیں جنہوں نے قربانیاں دے کر اس ملک کو پایا ان خیالات پہ جاں وارو جو سوچے گئے اس خون کو منہ پہ ملو جو معصوموں کا بہا،  جاؤ ہمیشہ کے لیے ان پردوں میں جا بیٹھو جو تمہاری ماؤں بہنوں کے سر سے چھینے گئے ؟ تم وہ لوگ ہو جنہیں دنیا کا سب سے بڑے انقلاب کے بعد آزادی ملی اور تم اس کی حفاظت کر پائے ؟ کونسا انقلاب چاہتے ہو تم ؟ انقلاب مکئی کا بھٹا نہیں جو جب چاہا بھون لیا،  انقلاب رب کی مرضی سے آتا ہے اور اپنی مکمل کیفیت اور حالات کے ساتھ آتا ہے، انقلاب ان لوگوں کے لیے آتا ہے جو اپنے اندر وہ قوت وہ جذبہ رکھتے ہوں جو اس وقت کے لوگوں میں تھا اس وقت کی عورتیں بھی مر مٹنے سے نہیں کتراتی تھیں اور آج کے مرد بھی دبک کر بیٹھتے ہیں تو تم کون ہو جو انقلاب اور آزادی کی امید لگائے بیٹھے ہو ؟ آزادی ایک بار پھر حاصل کرنی ہے،  اندرونی قید سے آزادی،  بیرونی مداخلت سے آزادی، فرقہ بازی سے آزادی ، تخریب کاری سے آزادی،  منافقت اور غیر منصفانہ سیاست سے آزادی،  کرپٹ عدلیہ سے آزادی،  اس سب سے آزادی جس نے تمہیں ٹوٹنے پہ مجبور کیا اور یقین مانو تم عظیم قوم ہو اگر تم جان لو !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *