ویسٹ منسٹر حملہ

Photo-Irfan-Hussain-sb-2
ویسٹ منسٹر بکنگھم پیلس کے بعد برطانوی تاریخ اور روایات کی دوسری بڑی علامت ہے۔ جب کبھی میں اس میں داخل ہوا، مجھے اس کی بلند چھتوں اور سیاسی عمل کے تسلسل کا مرکز ہونے کے احساس نے بہت متاثر کیا۔ میں نے اس عمارت کی حفاظت پر مامور غیر معمولی سکیورٹی بھی دیکھی ہے۔ یہاں داخل ہونے والوں کے دعوت ناموں اور ان کے پاس موجود اشیا کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے؛ لیکن گزشتہ ہفتے کا وہ ایک غیر معمولی دن تھا جب برطانوی سلطنت کے دل پر ایک جنونی شخص نے حملہ کر دیا۔ اس حملے کے سامنے سکیورٹی کی مختلف تہیں ناکام ہو گئیں؛ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا مزید سکیورٹی اقدامات خالد مسعود کو اپنی کار بیریئر سے ٹکرانے اور ایک پولیس اہل کار کو چاقو سے ہلاک کرنے سے روک سکتے تھے؟ اُس کے حملے کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد قریبی ویسٹ منسٹر پل پر تھے جہاں قاتل حملہ آور کی کار نے اُنہیں کچل کر رکھ دیا۔ ایک مرتبہ پھر، مصروف سڑکوں پر ایسے حملوں کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جا سکتے۔
جب بھی ایسے دہشت گردی کے واقعے کی بریکنگ نیوز آتی ہے، ہماری پہلی دعا یہ ہوتی ہے کہ اس میں کوئی مسلمان ملوث نہ ہو اور جب کنفرم ہو جائے کہ ایسا ہی ہے تو ہم یہ امید لگا لیتے ہیں کہ کاش وہ پاکستانی نہ ہو؛ تاہم یہ حقیقت کہ ویسٹ منسٹر حملے کا قصوروار ایک برطانوی تھا برطانیہ میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں کو بہت کم تسکین دیتی ہے۔ اس کا رد عمل بہت تیزی کے ساتھ سامنے آیا تھا۔ حجاب پہنے ہوئے ایک بدقسمت نوجوان عورت کی تصویر، جو حملے کے چند منٹ بعد برج کراس کر تے ہوئے موبائل پر مصروف تھی، فورا ہی ویب سائٹس پر وائرل ہو گئی۔ میڈیا نے اس کا موازنہ کنزرویٹو رہنما ٹوبیاس ایل ووڈ سے کیا جو حملے کے متاثرین کی مدد کر رہی تھی۔
یہ حقیقت ہے کہ بہت سے افراد پوری کمیونٹی اور ایک عقیدے کو اس طرح بھیانک خوف قرار دیے جانے پر نالاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لندن ٹرانسپورٹ پر ہونے والے 7/7 حملوں کے بعد سے برطانیہ میں دہشت گردی کے باعث صرف ایک ہلاکت ہوئی، جبکہ بہت سے منصوبے وقت سے پہلے ہی بے نقاب کر دیے گئے۔ 9/11 کے بعد سے برطانیہ نے اپنے قوانین اور سکیورٹی فورسز کو خطرات سے نمٹنے کے لیے بہت مضبوط کیا ہے۔ پولیس اہلکار بعض اوقات اس میں غلطی سے معصوم شہریوں کو بھی گرفتار کر لیتے ہیں، لیکن چونکہ اُنہیں ایسی فعالیت کے لیے عوام کی حمایت حاصل ہے، اس لیے شہری بھی اس کڑی نگرانی اور کسی بھی پوچھ گچھ کے لیے روکنے کا برا نہیں مناتے۔
ایک ایسے پرسکون ملک میں جہاں بیس لاکھ کے قریب مسلمان آباد ہوں، اُن میں سے کچھ کے سماج دشمن نظریات اپنانے کی سوچ ہولناک آسیب بن کر معاشرے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے؛ چنانچہ جب مسلمان اپنی مذہبی شناختوں کو ظاہر کرتے ہیں تو اُنہیں ممکنہ خود کش بمبار سمجھا جاتا ہے۔ بہت کم برطانوی اپنی حکومت کی
افغانستان، عراق، شام اور لیبیا کی پالیسیوں کو مقامی طور پر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوںسے جوڑتے ہیں۔ اُن کے لیے برطانوی شہریت لے کر اس کے فوائد سے لطف اندوز ہونے والے مسلمانوں کے اسی ملک پر حملے مناسب نہیں۔ ملک میں عمومی تاثر یہ ہے کہ سینکڑوں مسلمان نوجوان، جو داعش کی صفوں میں شامل ہوکر لڑنے کے لیے شام گئے تھے، وہ غدار ہیں۔
جہاں تک داعش کا تعلق ہے تو وہ دنیا میں ہونے والے کسی بھی انفرادی حملے کا اعتراف کرکے خوشی محسوس کرتی ہے۔ چونکہ اُسے موصل میں شکست کا سامنا ہے، اور رقہ بھی اس کے کنٹرول سے نکل رہا ہے، اس لئے اپنے حمامیوں کو حوصلہ دینے اور اپنی اہمیت اور فعالیت کا اظہار کرنے کے لیے ایسی چھوٹی چھوٹی ''کامیابیوں‘‘ کی اشد ضرورت ہے۔ اگرچہ برطانیہ کے مربوط سکیورٹی اقدامات کی وجہ سے یہاں بڑے پیمانے پر منظم حملے کرنا ممکن نہیں رہ گیا، لیکن ایک شخص کی کارروائی، جس کے لیے کسی مواصلات اور گروہی منصوبہ بندی کی ضرورت نہ تھی، کو روکنا مشکل امر ہے؛ تاہم اس بات کی تحقیقات ضرور ہوں گی کہ خالد مسعود کس طرح برطانوی سکیورٹی ریڈار سے بچ گیا؟ اُس کا دو عشروں پر محیط، طویل مجرمانہ ریکارڈ تھا، اور اُسے دو مرتبہ پرتشدد جرائم کی پاداش میں سز ا بھی ہوئی تھی، لیکن پولیس کا موقف یہ ہے کہ اُس کے جنگجوئوں کے ساتھ روابط کے کوئی ثبوت نہ تھے، اور نہ ہی وہ کسی قسم کی انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تھا۔
دوسری طرف ہر مشتبہ شخص پر نظر رکھنا بھی مشکل ہے۔ اس کے لیے درکار وسائل اور سرگرمی کسی بھی ایجنسی کی کمر توڑ دے گی۔ اس حالیہ واقعے نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا کی طرف سے انتہا پسندی پھیلانے کی طرف توجہ مبذول کرا دی ہے۔ برطانوی حکومت کا مطالبہ رہا ہے کہ سوشل میڈیا کی سروسز فراہم کرنے والے آن لائن ٹریفک پر زیادہ نظر رکھیں۔ حالیہ حملے کے بعد اس مطالبے میں مزید شدت آئے گی۔ اس طرح برطانوی حکومت بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی انتہا پسندی کا تدارک کرنے کے لیے کوشاں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اس کوشش میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔
ہم نے دیکھا تھا کہ گزشتہ سال نائس، فرانس میں تیونس کے ایک انتہا پسند نے ہجوم پر ٹرک چڑھا دیا تھا، تو شاید خالد مسعود بھی اسی مثال سے متاثر ہوا ہو گا۔ ویسٹ منسٹر حملے کے دو دن بعد بلجیم کے ایک شہر، Antwerp میں ایک جنونی کو عین وقت پر روک لیا گیا جب وہ پیدل چلنے والوں کو اپنی کار سے کچلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یقینا ایسے حملوں کا تدارک کرنا مشکل ہے۔ تو کیا کار حملے دہشت گردی کا ایک نیا باب ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *