زرداری کی سیاست اور حکومت پر دباؤ

ausaf-sheikh

میں پہلے بھی اپنے کالموں میں ذکرکر چکاہوں اور قوم بھی دیکھ رہی ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیرمین سابق صدر پاکستان آصف زرداری سیاست میں پوری طرح متحرک ہو چکے ہیں۔اپنے دور حکومت کے خاتمہ کے بعد کچھ عرصہ تک وہ کچھ متحرک نظر آئے پھر بیرون ملک چلے گئے اور اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو آگے کر دیا۔عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت جس میں عوام کی توقعات پوری نہ ہو سکیں اور نہ ہی مسائل حل کیے جا سکے جس کا نتیجہ 2013 کے انتخابات میں مرکزی سطح پر بری شکست کی صورت میں سامنے آیا، سندھ کے علاوہ باقی تین صوبوں میں پی پی بالکل ہی نظر نہیں آئی بالخصوص پنجاب جو کہ سندھ کے بعد پی پی کا دوسرا بڑا گڑھ تھا میں بھی پارٹی کا صفایا ہو گیا اور بعد ازاں پنجاب میں چند ضمنی انتخابات میں پی پی امیدواروں کے حاصل کردہ مایوس کن ووٹوں سے پی پی کے تیزی سے گرتے ہوئے گراف کی نشاندہی کے بعد آصف زرداری کی قیادت پی پی وٹرز کے لیے ناقابل قبول ہو گی اور بلاول بھٹو پارٹی کے گرتے ہوئے گراف، ووٹروں اور کارکنوں کی ناراضگی اور دوری جیسے مسائل سے نمٹ سکتے ہیں چونکہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے بیٹے ہیں، بلاول کو آگے کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے بیٹے کی حیثیت سے ناراض پارٹی کارکن اور ووٹرز دوبارہ پارٹی کی طرف آئیں گے،بلاول بھٹو نے سندھ کے علاوہ پنجاب کے دورے بھی کیے۔ لاہور میں بلاول ہاؤس کو پنجاب میں اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کا اعلان کیا۔
بلاول کی قیادت سامنے آنے سے گو وہ مقاصدتو پورے نہیں ہوسکے جو آصف زرداری کا اصل ٹارگٹ تھے لیکن اتنا ضرور ہوا کہ بلاول پارٹی کے نام کو زندہ رکھنے میں کامیاب ہو گئے اور کچھ حد تک پرانے کارکن پھر پی پی کے لیے نرم گوشہ محسوس کرنے لگے، گو بلاول کامیاب نہیں ہوئے لیکن آْصف زرداری کے لیے گراونڈتیار ہو رہی تھی۔سیاست دانوں کے ذہن میں بھی ایک سے زیادہ حل ہوتے ہیںآصف زرداری نے کھل کر خود کھیلنے کا فیصلہ کیا اور متحرک ہو گئے، انہوں نے سندھ میں اپنے پاؤں مزید مضبوط کرنے کے لیے سب سے پہلے سندھ کے وزیراعلیٰ کو تبدیل کیا،کراچی میں ایم کیو ایم کے ٹکڑے ہونے کا بھرپورفائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اندرون سندھ بھی بعض اہم شخصیات کو پارٹی میں شامل کرنے کے لیے تگ و دو شروع کر دی اور اس مقصد میں وہ کامیاب رہے ہیں اس کے بعد انہوں نے پنجاب کا رخ کیا،حکومت کے خلاف سخت بیانات دینا شروع کر دئیے اور لاہور میں بیٹھ کر دوبارہ پارٹی کا گڑھ بنانے کا دعویٰ کر دیا،پنجاب میں بھی بعض اہم شخصیات سے رابطے بڑھاتے اور انہیں پی پی میں لانے میں کامیاب ہوئے اور یہ مہم جاری ہے۔
آصف زرداری حکومت اور نواز شریف کے خلاف عمران خان کی جہدوجہد، پاناماکیس میں نواز شریف فیملی کی بدنامی کا پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔ بلاول اور خود اپنے طور پر پنجاب میں متحرک ہونے کے باوجود وہ ووٹرز تک رسائی حاصل نہیں کر سکے تو انہوں نے پنجاب کی اہم شخصیات کو پارٹی میں لانے کے لیے تگ ودو شروع کر دی، پاناما کیس کا فیصلہ جیسا بھی آئے لیکن نواز شریف اور مسلم لیگ ن بھی پنجاب میں ووٹوں کی تعدادبرقرار نہیں رکھ سکیں گے جس کا فائدہ تحریک انصاف کے حصہ میں جانے کا امکان ہے۔آصف زرداری کا ہدف گذشہ انتخابات کی نسبت مزید 20 سے 25 نشستیں حاصل کرنا ہے۔اس موقع پر جبکہ پاناماکیس نے نواز شریف کو پریشان کیا ہے آصف زرداری گرم لوہے پر چوٹ لگانے کے لیے پنجاب میں متحرک ہو گئے۔
آصف زرداری بھی جانتے ہیں کہ ووٹوں کے ذریعے پنجاب میں قومی اسمبلی کی 20/25نشستیں حاصل کرنا ممکن نہیں لہذا وہ اس موقع پر پنجاب میں بیٹھ کر نواز شریف پر اپنا دباؤ بڑھا رہے ہیں ۔ان کے بیانات ووٹوں کو قائل کرنے کے لیے نہیں بلکہ نواز شریف کو دباؤ میں لا کر ان سے پنجاب سے قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرنا ہے، اپنے دباؤ کو مزیدبڑھانے کے لیے آصف زرداری نے مسلم لیگ ق کو اتحاد کی دعوت بھی دے دی۔جس پر ق لیگ نے مثبت جواب نہیں دیا۔
نظر بھی آتا ہے کہ گذشتہ انتخابات میں بھی نواز شریف سے خفیہ معاہدے میں جتنی نشستیں طے ہوئیں، پیپلز پارٹی کو اس سے کم دی گئیں ، اب آصف زرداری ہر صورت میں آنے والے انتخابات میں پارٹی کی نشستوں کی تعداد 55 سے اوپر لے جانا چاہتے ہیں برتری مسلم لیگ ن کو ہی حاصل ہونے کا امکان ہے یہ بھی پاناماکیس کے فیصلے سے مشروط ہے، اس صورت حال میں آصف زرداری اپنے پروگرام پر مکمل عمل پیرا ہیں اور اپنی مطلوبہ نشستوں کے بل بوتے پر کسی بھی پارٹی کے ساتھ مل کر ہر صورت میں وفاقی حکومت میں آنا چاہتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں پاناماکیس کے فیصلے کے بعد ڈان لیکس کا معاملہ بھی سر اٹھائے گا اس صورت حال میں کچھ نئے اتحاد بننے کے واضع امکانات بھی ہیں۔سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہے کہ پاناماکیس کا فیصلہ کیا آتاہے۔ بہر حال آنے والے انتخابات میں اتحاد بن کر بھی انتخابات کے بعد کسی ایک پارٹی یا اتحاد کا حکومت بنانا ممکن نظر نہیں آرہا ، اوریہی وہ سب صورت حال ہے جس کا آصف زرداری بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *