فلسفہ ، تصوف اور مذہب کا مشترکہ ایڈونچر!

naeem-baloch1

یہ سوالات کسی نہ کسی حوالے سے ہر انسان کی دلچسپی کا موضوع رہے ہیں کہ یہ کائنات کہاں سے آئی ؟ اُس کا خالق کون ہے؟ کوئی ہے بھی یا نہیں؟ موت کیا ہے؟ یہ زندگی کا خاتمہ ہے یا اس کے بعد کوئی نئی زندگی شروع ہوگی؟ یہ حقیقت کو جاننے کے بنیادی سوالات ہیں ۔ ان کا انسان کوپوری علمی تاریخ میں تین طریقوں سے جواب ملا ہے۔
ایک طریقہ وہ تھا جو فلسفیوں نے اختیار کیا۔ اُن کا خیال تھا کہ وہ عقل کے ذریعے سے یہ گتھی سلجھالیں گے اور انسان کو ان سوالوں کا ایک واضح جواب دے دیں گے ۔ معلوم تاریخ میں اس کا سب سے معروف جواب قبل از مسیح میں ارسطو ، سقراط ، افلاطون جیسے بڑے فلسفیوں نے دیا ۔ ان کے بعد ایک پوری تاریخ ہے ، جس میں فلسفیوں نے یہ کوشش کی کہ عقل کے ذریعے سے یہ گتھی سلجھا لی جائے۔اس کی سب سے دلچسپ تاریخ Will Durant کی سٹوری آف فلاسفی میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ زیادہ جدید اسلوب میں قدرے زیادہ گہرائی سے جاننا چاہیں تو رچرڈ ٹرناس کی The Passion of Western Mind دیکھ سکتے ہیں ۔ان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان سوالات کے جواب کی تلاش میں بہت سے افکار وخیالات وجود میں آ گئے ہیں۔ اس کو فلسفہ کا نام دیاجاتا ہے۔ یہ ایک طریقہ ہے جو انسان نے خالص اپنی عقل سے بغیر کسی مافوق الفطرت ذریعہ سے اختیار کیا۔ اس کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ فلسفے کی تاریخ اصلاً یونان سے شروع ہوئی ، مسلمانوں کے ہاں سے ہوتی ہوئی مغرب میں آ کر پایۂ تکمیل کو پہنچی ہے، جہاں سائنس کے ہاتھوں فلسفہ ہتھیار ڈال چکا ہے اور کوئی فلسفی اپنی یا کسی دوسرے فلسفی کے خیالات کو مذکورہ سوالات کے حتمی جواب قرار دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔
ایک دوسرا طریقہ اُن لوگوں نے یہ اختیار کیا جن کے مطابق انسان کی شخصیت کے دوحصے ہیں ، ایک اس کا ظاہری وجود اور دوسرا باطنی وجود ۔ انھوں نے باطنی وجود کو اصل قرار دیا اور یہ خیال کیا کہ اگر ہم اس باطن تک رسائی حاصل کر لیں تو اس کے ذر یعے سے حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں ۔ باطن تک رسائی حاصل کرکے، اپنے اندر سے راستہ نکالنا ہے ۔ اس کو اصطلاح میں وہ سیر باطن کہتے ہیں ۔ یعنی آپ نے مختلف چلوں ، ریاضتوں اور روحانی تپسیا کے ذریعے سے ایک راستہ دیکھا اور رختِ سفر باندھا ، اور اپنے باطن یا نفس یاذات ، اسے کچھ بھی کہہ لیں، کے اندر چلے گئے اور باہر کی دنیا سے بالکل لا تعلق ہو گئے ۔ اس کے لیے انہوں نے بہت سی مشقیں ، ریاضتیں اور مراقبے ایجاد کیے۔ اس کو صوفی مذہب کہا جاتا ہے ، یعنی Mistical Religion ۔ فلسفے سے برعکس اس میں وہ یقین سے کہتے ہیں کہ ہم نے حقیقت کو پا لیا ہے۔ ہمارا حقیقت سے براہ راست تعلق پیدا ہو گیا ہے۔ ہم اب جو بات چاہتے ہیں خدا سے پوچھ لیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر صوفی مذاہب ہندوستان میں پروان چڑھے ہیں۔اس کا سب سے بڑا ظہور بدھ مت کی صورت میں ہوا ۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ مت نروان کی علامت بن گیا اور گوتم بدھ ہمیں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے باطن کی سیر کرکے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے ۔ اس حوالے سے ڈاکٹرعبدالقادر لون کی کتاب’’ مطالعہ تصوف‘‘ بہت اعلیٰ کتاب ہے ۔
ان سوالوں کا تیسرا جواب الہامی مذاہب میں ملتا ہے۔وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ انسانوں کا انتخاب کیا اور اُن کو پیغمبر بنایا اور اُن کے ذریعے سے انسان کو ان حقائق کے بارے میں باخبر کیا۔ عام طور پر ان کو تین مذاہب میں تقسیم کیا جاتا ہے یعنی یہودیت، نصرانیت اور اسلام ۔ لیکن اصل میں یہ ایک ہی دین ہے ۔ آدم علیہ السلام سے لے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک ہی دین دیا گیا ہے۔اس میں کامل یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ دعویٰ بیان کیا جاتا ہے کہ حقیقت تک پہنچنے کا یہی طریقہ صحیح ہے۔ یوں یہ تین طریقے ہیں۔ ایک فلسفے نے اختیار کیا ، دوسرا صوفیانہ مذاہب نے اور تیسرا خود خدا نے۔ اسی لیے پیغمبروں کی تعلیم میں ان سوالوں کے جواب کی اللہ تعالی کی طرف سے صرف خبر دی جاتی ہے ،حقیقت کی تلاش کے لیے کوئی مشق ، کوئی ریاضت ،کوئی چلّہ نہیں ہوتا ۔آپ قرآن میں پڑھیے ، سیدنا موسی علیہ السلام اپنے بیوی اور بچوں کو لے کر جارہے ہیں ، تاریک رات ہے ، سرد رات میں یک بیک درخت کو دیکھتے ہیں اور اُن کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کو پیغمبری کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ اور پھر وہ اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچاتے ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی پیغمبر کسی کھوج، کسی کشف ، کسی ریاضت کے ذریعے سے ان سوالوں کا جواب نہیں ڈھونڈتا ، بس اسے اللہ تعالیٰ اپنے علم کی بنیاد پر منتخب کرتے ہیں ۔ یوں ان تمام پیغمبروں کا کوئی الگ الگ مذہب نہیں تھا ، یہ ایک ہی دین ہے۔ جس طرح سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہت سے فرقے بن گئے ، اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی بہت سے فرقے بن گئے تھے۔ یہودیت ، نصرانیت اصل میں اسلام کے فرقے ہیں۔کچھ پہلے بن گئے کچھ بعد میں بن رہے ہیں ۔ اصل دین ایک ہی ہے یعنی اسلام ۔
ہمارے ہاں ایسے بہت سے بزرگ پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے صوفیانہ مذاہب اور اسلام کو ملانے کی کوشش کی ہے۔ بہت سے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے فلسفے کو اور اسلام کو ملانے کی کوشش کی ۔ جنہوں نے فلسفے اور اسلام کو ملانے کی کوشش کی ہے ، اُن کو متکلمین کہا جاتا ہے اور جنہوں نے صوفیانہ طریقہ کار اور اسلام کو ملانے کی کوشش کی ہے اُن کو متصوفین یعنی صوفیا کہا جاتا ہے۔
یوں واضح رہنا چاہیے کہ فلسفہ ، تصوف اور الہامی مذہب بالکل الگ الگ ہیں ، ان کو ملانے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ ایک مریض یبک وقت ایلوپیتھک ، ہومیوپیتھک اور یونانی حکمت کو اختیار کرکے شفا پانا چاہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *