گلزار اور رات پشمینے کی

مستنصر حسین تارڑMHT

ان دنوں ایک ہندوستانی فلم کا بہت چرچا ہو رہا ہے، میں اس کا نام درج کرنے سے گریز کروں گا کہ اس کی تشہیر مقصود نہیں بلکہ جس موضوع پر یہ بنائی گئی ہے اُس کی اہمیت اجاگر کرنا چاہوں گا۔ اسے ’’اکبر‘‘ کا فرضی نام دے لیجیے۔۔۔ یہ فلم مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، اُن کے قتل عام اور ہندوستانی فوج کی سفاکانہ کارروائیوں پر مشتمل ہے اور اس کے ہدایت کار، پروڈیوسر اور بیشتر اداکار ہندو ہیں۔۔۔ یہ اکبر نامی ایک کشمیری نوجوان کی کہانی ہے جو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تعلیم حاصل کر کے وطن واپس آتا ہے۔۔۔ اس کا بڑا بھائی ایک نامور ڈاکٹر ہے جس کے لیے ایک مریض کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، وہ محض ایک انسان ہوتا ہے چنانچہ وہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں کچھ تخصیص نہیں کرتا بلکہ اس کے بیشتر مریض ہندو پنڈت وغیرہ ہیں جو اس کی بے حد تعظیم کرتے ہیں۔۔۔ اسے سیاست وغیرہ سے بھی کوئی سرو کار نہیں، اس کے پاس جن موت کے قریب ہوتے زخمیوں کو لایا جاتا ہے وہ اُن کا علاج کرتا ہے اور اُن میں وہ مجاہد بھی شامل ہوتے ہیں جو ہندوستانی فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے زخمی ہو کر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں اور ڈاکٹر اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ وہ شاید ایک جرم کا ارتکاب کر رہا ہے کہ یہ لوگ ریاست کے باغی ہیں لیکن وہ ان کا علاج کرنے سے انکار نہیں کرتا کہ وہ اس کے ہم مذہب ہیں اور ایک ابتلا میں ہیں۔ چنانچہ اس ’’جرم‘‘ کی پاداش میں اس کے خوبصورت کشمیری گھر کو راکٹ پھینک کر جلا دیا جاتا ہے۔۔۔ اور ڈاکٹر کو غائب کر دیا جاتا ہے۔۔۔ اس کی بیوی کا کردار تبو نے کیسی درد انگیزی سے ادا کیا ہے اس کا بیان ممکن نہیں۔۔۔ چنانچہ جب اکبر وطن واپس آتا ہے تو اس کا گھر۔۔۔ ڈاکٹر نے اسے ایک بیٹے کی مانند پالا ہے اور اُس کی بیوی جب وہ چھوٹا تھا تو اسے ساتھ سلا کر لوریاں سنایا کرتی تھی۔۔۔ اس کا گھر ایک کھنڈر بن چکا ہے۔ اسے اپنی منہ بولی ماں اور بھابھی تو مل جاتی ہے لیکن وہ اُس سے بدگمان ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو اپنے بڑے بھائی کی تلاش کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ اس کی تصویریں لوگوں کو دکھاتا ہے، ہندوستانی فوج کے افسروں کے سامنے کرتا ہے کہ یہ میرا بڑا بھائی ہے، کیا آپ اسے جانتے ہیں، یہ وہ زمانہ ہے جب جہلم کے پانیوں میں فوج کی جانب سے ڈبوئی گئی مجاہدین اور کشمیریوں کی لاشیں ڈوبتی ابھرتی ہیں تو وہ دریائے جہلم کے پانیوں کو بھی کھنگالتا ہے۔ اُن لوگوں سے رجوع کرتا ہے جو لمبے بانسوں کے ذریعے دریا کے پانیوں کو ٹٹولتے ہیں، اُن میں سے لاشیں برآمد کرتے ہیں اور بالآخر ایک برف آلود قبرستان ہے جہاں اُس کی قبر کا کتبہ دریافت ہو جاتا ہے۔۔۔ کہانی آگے بڑھتی ہے لیکن طوالت کے خدشے کے باعث میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یہ فلم ایک ایسے ہدایت کار نے بنائی ہے جو اپنا مرکزی خیال شیکسپیئر کے کسی ڈرامے سے اخذ کرتا ہے اور اُسے ہندوستانی روپ رنگ میں ڈھال دیتا ہے۔ اُس کی بہت مشہور فلم ’’اوم کارہ‘‘ بھی ہے اور فلم ’’اکبر‘‘ شیکسپیئر کے ڈرامے ’’ہیملٹ‘‘ سے اخذ کی گئی ہے اور کشمیری ہیملٹ کا کردار شاہدکپور نے نہایت مؤثر انداز میں ادا کیا ہے۔۔۔ اس فلم میں قبرستان کا ایک برف پوش منظر ہے جس میں کشمیری مسلمان اگرچہ زندہ ہیں مگر قبروں میں لیٹے ہوئے ہیں۔ فلم کے گیت گلزار صاحب کے لکھے ہوئے ہیں اور ایسے گیت صرف گلزار ہی لکھ سکتے تھے کہ اُن کا آبائی وطن دنیا کا وہ قصبہ ہے جو دریائے جہلم کے قریب ہے، وہی جہلم جو کشمیر سے آتا ہے۔۔۔ مجھے فخر ہے کہ گلزار صاحب میرے دوست ہیں، انہوں نے میرے افسانے ’’بابا بگلوس‘‘ سے متاثر ہو کر دو نظمیں لکھیں جو ان کے شعری مجموعے ’’رات پشیمنے کی‘‘ میں شامل ہیں اور انہوں نے میری 75 ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی مبارک کا پیغام بھجوایا۔۔۔
اس سے پیشتر ہندوستانی ہندو ہدایت کاروں نے احمد آباد کے مودی مسلم کش فسادات کے بارے میں فلمیں بنائیں، مسلمانوں کے قتل عام کی عکاسی کی اور اُن سینکڑوں ہلاک کیے جانے والے مسلمانوں کے خون کی ترجمانی کرتے ہوئے ہندو بنیاد پرستوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ بہت سے لوگوں کو شاہ رخ خان اور منیشہ کوئرالہ کی فلم ’’دل سے‘‘ یاد ہو گی جو ہندوستان کے خلاف بغاوت کرنے والے قبیلوں کے بارے میں تھی اور اُس میں نہ صرف ہندوستانی فوج کے مظالم دکھائے گئے بلکہ مقامی عورتوں کی ان کے ہاتھوں آبرو ریزی کی جھلکیاں بھی عکس کر گئیں۔ یہ وہ ہدایت کار تھے جن کا ضمیر اُنہیں کچوکے دیتا تھا کہ نہ صرف حکومت بلکہ ہندوستانی فوج آزادی کی تحریکوں کو بیدردی سے کچل رہی ہے تو ہم چپ نہیں رہ سکتے، ہمیں احتجاج کرنا ہے اور اس کے باوجود ان فلموں کے بنانے والوں کو نہ تو غدار کہا گیا اور نہ ہی اُن پر لعن طعن کی برسات ہوئی کہ وہ اپنا جمہوری حق استعمال کر رہے تھے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایسی فلمیں جو ریاست کے جبر اور تشدد کو نمایاں کرتی ہیں دراصل ریاست کو مستحکم کرتی ہیں، محکوم اور ستم رسیدہ لوگ جب انہیں دیکھتے ہیں تو اُنہیں ایک طمانیت حاصل ہوتی ہے کہ ہم پر جو ظلم ہوئے یا ہو رہے ہیں کم از کم اُن کی عکاسی ہو رہی ہے۔۔۔ ہم گمنام نہیں مرتے جاتے، ہمارا تذکرہ ہو رہا ہے اور یوں اُن کی بھڑاس نکلتی ہے اور اُن کے اندر ریاست کے خلاف جو نفرت اور غصہ کھولتا ہے اُس میں کچھ کمی آتی ہے کہ ہم گمنام نہیں مرتے، ہماری جدوجہد کا چرچا ہو رہا ہے، اُن کا طیش کسی حد تک مدھم پڑ جاتا ہے۔۔۔ اور یوں ریاست کی گرفت مزید مضبوط ہو جاتی ہے، وہ ایک سراب میں مبتلا ہو کر اپنی جدوجہد میں دھیمے پڑ جاتے ہیں۔
کیا کبھی ایسا ہو گا کہ جو کچھ مشرقی پاکستان میں ہوا اور بہت کچھ ہوا یا پھر جو کچھ ان زمانوں میں بلوچستان میں ہو رہا ہے ہمارے ہاں کوئی ہدایت کار اُن مظالم کی عکاسی کرے اور یہ تو کبھی نہ ہو گا کہ ہم وہ شتر مرغ ہو چکے ہیں جو ریت میں سر دفن کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ سب اچھا ہے، سب اچھا ہے، ہم میں سے اگر کوئی شخص یہ جرأت کر بھی لے تو کیسے میڈیا اور اخبار اُس پر پل پڑیں گے۔ کم از کم الزام غداری کا لگے گا، محب الوطنی کے خلاف وہ شمار ہو گا۔
پاکستان کے قیام کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر پی ٹی وی نے تحریک پاکستان اور پاکستان کی تاریخ کے بارے میں ڈراموں کے ایک سلسلے کا آغاز کیا چونکہ اُن دنوں ایک ڈرامہ نگار کے طور پر کچھ اہمیت رکھتا تھا چنانچہ مجھ سے بھی رابطہ کیا گیا۔
میں نے لاہور کے سول سیکرٹریٹ کی عمارت پر یونین جیک کو نوچ کر اُس پر مسلم لیگ کا پرچم لہرانے والی بہادر لڑکیوں کے بارے میں ’’پرچم‘‘ نام کا ڈرامہ تحریر کیا اور ’’جلیاں والا باغ‘‘ کے قتل عام کے حوالے سے ایک طویل دورانئے کا کھیل لکھا جو بے حد مقبول ہوا لیکن جب میں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بارے میں ایک ڈارمہ تحریر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور یہ یقین دلایا کہ اُس میں صرف رنج اور اداسی کا اظہار ہو گا کہ ہمارے ملک کا ایک حصہ ہم سے کٹ گیا تو ٹیلی ویژن ہیڈ کوارٹر کی جانب سے انکار ہو گیا۔ پاکستان کی تاریخ مشرقی پاکستان کے بچھڑ جانے کے تذکرے کے بغیر کیسے مکمل ہو سکتی ہے یہ میری سمجھ میں نہ آیا، ایسی فلمیں اور ڈرامے جو ریاست کے جبر اور تشدد کو نمایاں کرتے ہیں دراصل ریاست کو مستحکم کرتے ہیں، میری سمجھ میں تو صرف یہ آتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *