پنجاب یونیورسٹی میں جاری کشمکش

Ata ullah wadood

چند دن قبل پنجاب یونیورسٹی جو کہ پنجاب کی سب سے بڑی درس گاہ ہے اس میں چند پشتون طلباء کلچر ل ڈے منا رہے تھے تو ایک خاص تنظیم کے وابستگان نے اس فعل کو ’’غیر اسلامی‘‘ قرار دیتے ہوئے نہ صرف یہ کہ پروگرام بند کرانے کی کوشش کی بلکہ جب دیکھا کہ ان کی ایک نہیں چلی تو ایک ’’ڈنڈا بردار‘‘ جتھا کلچر ڈے منانے والے طلباء پر ٹوٹ پڑا اور شدید تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے تقریب کو درہم برہم کر دیا ، کل دوبارہ افسوس ناک اطلاع پنجاب یونیورسٹی سے ہی موصول ہوئی کہ پشتون طلباء اور ’’ایک تنظیم ‘‘ کے درمیان کشمکش سارا دن عروج پر رہی جس کے باعث انتظامیہ کو صورتحال کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کو بلانا پڑ گیا یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر کس نے ایک تنظیم کو اس بات کی اجاز ت دی ہے کہ وہ قانون ہاتھ میں لے اور طاقت کے زور پہ دوسرے طلباء کو کسی بھی کام سے منع کرے؟ میرے خیال سے اس کام کی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ کے سپرد ہے لیکن بد قسمتی سے انتظامیہ خواب غفلت کا لحاف اوڑھے سو رہی ہے اور طلباء آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں ابھی کچھ عرصہ قبل ہی پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس سے دو شدت پسند گرفتار کئے گئے تھے ،آخر کیا وجہ ہے کہ تواتر سے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور پھر بھی انتظامیہ کی طرف سے ان کے سد باب کی خاطر خواہ کوشش نہیں کی جارہی ، کچھ عرصہ قبل کسی کام کے حوالے سے پنجاب یونیورسٹی جانا ہوا تو وہا ں کا ماحول دیکھ کر عجیب سی کوفت محسوس ہوئی گھٹا گھٹا سا ماحول تھا ٹک شاپ کا رخ کیا جا کر اپنی پسند کے مشروب کا آرڈر دیا تو پتہ لگا کہ ایک خاص تنظیم نے اس کمپنی کی مصنوعات کو بین کیا ہوا ہے انتہائی حیرت ہوئی کیا کسی بھی تنظیم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ٹک شاپ میں بھی دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کریں ؟ پھر بعض طلباء سے جب اس حوالے سے بات کی تو انہوں نے مزید چشم کشاء انکشافات کئے کہ اگر کوئی طالب علم اپنی بہن کے ساتھ بھی ٹک شاپ پر آئے تو ایک جتھا (بد معاشوں کے ٹولے کو تنظیم کہنا بھی شائد مناسب نہ ہو )آکر لڑکے کی پٹائی لگا دیتا ہے حضور اتنی پست اور تنگ ذہنی اگر یونیورسٹی میں ہی سکھائی جائے اور نہ صرف یہ کہ خود اس پست سوچ کا شکار ہوں بلکہ دوسروں پر بھی وہ سوچ مسلط کی جاتی ہو تو میرے خیال سے ہمیں زیادہ غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ابھی تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں مکمل کامیابی کیوں نہیں ملی اور شائد اس کے لئے کسی بیانئے کی بھی ضرورت نہیں ۔
یہاں ایک اور بات کی بھی وضاحت کر دوں کہ جناب والا اپنے خیالات کے پرچار سے کسی کو روکنے کا میں سخت ترین مخالف ہوں اور میری رائے کے مطابق ہر کسی کو مکمل اختیار ہو نا چاہئے کہ وہ اپنے خیالات اور اعتقادات کا پرچار کر سکے لیکن کسی دوسرے پر انھیں مسلط کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے اور لاء اینڈ آرڈر کو نافذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اگر آپ کو کسی تقریب سے اختلاف ہے یا کسی مشروب کے حوالے سے آپ کے ذہن میں خدشات پائے جاتے ہیں تو دوسروں کو اس سے محفوظ کرنے کے لئے آپ انتظامیہ کو مطلع کریں کیونکہ آپ کا کام اور ذمہ داری ایک اچھے شہری اور طالب علم ہونے کی حیثیت سے اتنی ہی ہے ، لیکن اگر آپ قانون ہاتھ میں لے کر دوسروں پر اپنے نظریات لاگو کرنے کی کوشش کریں گے تو میرے نزدیک یہ شرپسندی ہی ہے ، انتہائی ادب اور احترام سے میری جناب سراج الحق سے بھی استدعا ہے کہ وہ اپنا ذاتی اور جماعتی اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایسے بگڑے ہوئے ذہنوں کو سمجھائیں اور انھیں معاشرے کا مفید وجود بنانے کی کوشش فرمائیں کیونکہ اگر آج یہ دوسروں کی محض اپنے کولیگز کے ساتھ بیٹھنے پر پٹائی کریں گے تو ہو سکتا ہے کل کلاں جب آپ بھی کسی مخلوط محفل میں بیٹھے ہوں تو کوئی اور نا ہنجار آپ کی طرف بھی اپنے ہاتھ بڑھانے کی ناپاک جسارت کرے بظاہر بعض صاحبان کو یہ باتیں معمولی لگتی ہیں اور ایک صاحب یہ کہتے ہوئے بھی پائے گئے کہ اس معاملے کو متنازعہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے طلباء کا آپس میں جھگڑا ہو ہی جاتا ہے ؂! جناب والا اگر آج آپ ان بگڑے ہوئے اذہان کو سدھارنے کی بجائے عذر لنگ ہی تراشتے رہے تو کس طرح سے ان نوجوانوں کو قانون پسند شہری بنائیں گے اور کس طرح سے آپ انھیں باور کرائیں گے کہ پر امن معاشرے کے قیام کے لئے قانون کا احترام از حد ضروری ہے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *