میں ۔ ۔ رسین جہاں

raseen
وہ کونسا لمحہ تھا جس وقت جنس کی تفریق طاقت کی بنا پر ہوئی ؟ عورت کو کمزور کہا گیا اور مرد کو طاقت ور، عورت کم عقل اور مرد دانش و حکمت کا منبع، عورت بے کار اور ضرورت کا نام اور مرد کار آمد، عورت ادھوری ذات اور مرد مکمل،  اس لمحے کی طرف واپس چل کر تو دیکھیں کہ ماجرا کیا تھا وہ کیا حالات تھے وہ کیا ضروریات تھیں جن کی وجہ سے عورت کو ہار کا سامنا ہوا, کیا ایسا کوئی ذہنی و جسمانی طاقت کا مقابلہ ہوا جس میں عورت کو کمزور ثابت کیا گیا اور مرد کو طاقت ور،  اس لمحے میں واپس چلنے کو تو صرف میں کہہ رہی ہوں، نہ ہی مرد طبقہ یہ بات سہہ سکے گا اور نہ ہی اور دنیا کی پستی اور ظلم سہتی ہوئی خواتین حوصلہ کر سکیں گی تو مجھے اکیلے جانا ہو گا کیا ؟
عورت کیا ہے ؟ خدا نے اس دنیا جہان کو پیدا کیا اور پھر اس نے جان بھری ان سب میں جنہیں وہ جاندار بنانا چاہتا تھا، ان میں سے پھر تخلیق کی صفت مادہ میں رکھی گئی،کوئی بھی جاندار ہو جب تک مادہ نہ ہو اولاد پیدا نہیں ہو سکتی اور نسل آگے نہیں بڑھ سکتی،  آدم کے بعد حوا پیدا ہوئیں تو نسلِ آدمی آگے بڑھی، وہ رب ہی سب کا خالق ہے اور اس نے ہی پھر تخلیق کرنے کا حصہ عورت کے حق میں ڈالا،  وہ اپنے اندر اپنے جسم اپنی روح سے اپنی اولاد کو جنم دیتی ہے،  اپنے جسم کے حصوں سے اولاد کا جسم جنم دیتی ہے اور اپنی روح کی پاکیزگی سے معصوم بچوں کو فطرت کے رنگ میں پیدا کرتی ہے،عورت تخلیق کرتی ہے ان سب کو جو پھر بڑے ہو کر اسی عورت پہ انگلیاں اٹھاتے ہیں
عورت کمزور ہے ؟ یہ وہی عورت ہے جس نے جنم دیا و ر پھر وہی مرد جس نے عورت کے بطن سے جنم لیا وہی بڑا ہو کر خود کو طاقت کا منبع سمجھتا ہے اور عورت کو کمزور اور کم عقل کہتا ہے،  اس وقت وہ کیا تھا جب وہ اپنی سانس تک عورت کے پیٹ میں لیتا تھا، یہ سب وہ کیوں بھول جاتے ہیں,  اور عورت وہ بھولی جنس ہے جو احسان جتانا جانتی ہی نہیں بعد میں خود پہ کسی جانے والی باتیں تو سن لییتی ہے لیکن ایک لفظ تک اسے کچھ نہیں کہتا کیونکہ اس کے خلوص اور محبت میں کمی نہیں آتی
عورتوں کا عالمی دن انہیں اپنی رائے کے اظہار,  اپنے حقوق کی آواز اور اپنے مقام کے احترام کے حصول کی تربیت دینے کے لیے منایا جاتا ہے،  کتنی عورتیں ہیں اس دنیا میں جنہیں ہر روز کتنے ہی ظلم سہنے پڑتے ہیں , افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پوری دنیا میں عورتوں کی 90 فیصد آبادی کو تو پتہ ہی نہیں ہو گا کہ عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے بس وہ تو اپنی ذات ہیں گم اپنی اولاد اپنی ذمہ داریوں اپنے گھر کی فکر میں لگی رہتی ہیں انہیں اس بات کا علم ہی نہیں کہ وہ کیا ہین اور انہیں اپنے مقام کے لیے لڑنا اور آواز اٹھانا چاہیے لیکن وہ اپنے گھر کی محبت میں ہر روز قربانی دیتے ہوئے گزارتی جاتی ہیں
ایک گاؤں کی عورت جسے باقی ماڈرن دنیا کی خبر ہی نہیں اور اصل میں دنیا کی خواتین کا عالمی دن ان عورتوں کے لیے ہی منایا جانا چاہیے جو زندگی کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہیں، صبح ہوتی ہے تو ایک عورت اٹھتی ہے منہ دھوئے بغیر پانی بھرنے نکل جاتی ہے جب واپس آتی ہے تو سورج نکل چکا ہوتا ہے واپس آتے ہی اپنے بچوں اور گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کرتی ہے پھر جانوروں کو چارا ڈالنا پھر گھر کے کام صفائی برتن دوپہر کا کھانا پھر دوپہر کے وقت جانورون کا کام پھر شام ہو جاتی ہے اور شام کے کام کر کے رات تک مصروف رہتی ہے اور اگلی صبح سے وہی معمول،  یہ حالت ہوتی ہے ایک عورت کی، اس عورت کو انسان کون سمجھتا ہے،  تھر اور وہ علاقے جہاں پانی نہیں عورتیں دس دس کلومیٹر پیدل چل کے پانی بھرنے جاتی ہیں،  ان سب کا خیال کس نے کرنا ہے،  ہم اکیسویں صدی اور سائنس کی صدی مین رہ کر بھی انسانی زندگی کو بنیادی ضروریات نہیں فراہم کر سکے تو ہماری ترقی پہ لعنت
ہم عورتیں ،کب تک ظلم سہتی رہیں گی ؟ ہمیں آواز اٹھانا ہو گی اور ہمیں اپنے حق کے لیے خود بولنا بھی ہو گا اور خود قدم بھی بڑھانے ہوں گے،  اس دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیِں جو کمزور کو اس کا حق ایمانداری سے پہنچا دے،  عورت کمزوری کا نام نہیں تخلیق کا نام ہے اور جو ان مردوں کو تخلیق کر سکتی ہے وہ ان سے اپنا مقام اور مرتبہ بھی واپس حاصل کر سکتی ہے اور ہمیں اس وقت تک وہ مقام واپس نہیں مل سکتا جب تک ہم اپنا حق مانگنا نہیں سکیھیں گی
یومِ خواتین پر مری نظم جو عورت کی ذات پر ہے
رسین
(رسین:  کامیاب عورت)
         نظم رَسِین
میں کمی ذات ہوں ؟
کیا کہا مجھ میں ہی خامیاں رہ گئیں ؟
پھر کہو کیا کہا  میرے اندر خرابی ہے میں اک ادھورے زمانے کی تخلیق ہوں ؟
کیا گنہگار بھی اب مجھے کہہ رہے؟
میرے سادھو ادھر آ تمہیں آج میں اس کمی ذات کا پورا قصہ سناؤں
اے زمانے کی سرحد پہ بیٹھے ہوئے لال خیمے کہ اندر رواجوں کے پیرو گنہگار بھی اب کہ میں ہی ہوئی ؟
تیرے جیسے زمانوں کی تخلیق میری تمنا کے معصوم پردے سے ہونے پہ موقوف ہے
میرے پاؤں کی مٹی سے برتن بنا کر کئی مندروں کے کئی دیوتا اپنے پاپوں کو دھونے کی حجت میں پیتے رہے
میرے چہرے کی جھریوں سے کتنی ہی دنیاؤں کے نقشے بنتے رہے اور بگڑتے رہے
 کتنے روشن ستارے مری مانگ سے  منتیں مانگنے کی غرض سے ہمیشہ تڑپتے رہے
دیکھ میرے بطن سے کئی تیرے جیسے خدا اور ترے بھی خدا کے خدا کے خدا پیدا ہو کر مجھے ہی مری خامیوں کی کئی داستانیں سناتے رہے
یہ مرا ظرف ہے کہ میں سن کر تمہارے خیالوں سے آگے کی دنیائیں تخلیق کرنے میں مصروف ہوں
میں کئی آسمانوں کی بھی آسماں
میں وجودالفروزانِ گل، گل مِنَا
میں علیمہ فریزانِ فاتن بیاں
ناجلہ راحمہ قاہرہ زوفشاں
 میں رسینِ جہاں.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *