پاکستانیو ں کے لیے دس سوالا ت !

naeem-baloch1

اگر ہم پاکستانیوں کے پاس ان سوالوں کے تسلی بخش جواب ہیں تو ہم بلا شبہ ایک روشن مستقبل کی امید رکھ سکتے ہیں ۔ سوالات یہ ہیں :
1 ۔کوئی ایسا قابل فخر قومی کارنامہ جسے پاکستانیوں کی غالب اکثریت باعث اطمینان سمجھتی ہو ۔
2 ۔کوئی ایک ایسی اخلاقی قدر ( انصاف ، ایمان داری ، رواداری ، ڈسپلن وغیرہ )جو ہمارے معاشرے میں واضح طور پر محسوس کیا جاسکتی ہو اور ہمیں عالمی برادری میں ممیز کرتی ہو۔
3 ۔اسلام کی کوئی ایک ایسی تعبیر جسے ہماری فیصلہ کن اکثریت باعث اطمینان سمجھتی ہو اور اس سے اختلاف کرنے والے اسے پرامن طور پر گوارا کرنے کو تیار ہوں ۔
4 ۔انصاف کرنے والا کوئی ادارہ جس پر بطور قوم ہمیں بے لاگ انصاف فراہم کرنے کا یقین کامل ہو ۔
5 ۔بچوں کی تعلیم و تربیت کا کوئی ایسا نظام جو اپنی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے غالب اکثریت کی پہنچ میں ہو اور اس پر ہمارا اعتماد بھی ہو۔
6 ۔پاکستان پر حکومت کرنے والے کسی ایسے رہنما کا نام جس کی کارکردگی( ماضی کا کام نہ کہ مستقبل کی توقع ) پر قوم کی غالب اکثریت متفق ہواور اس کے بارے میں یقین سے کہہ سکتی ہو کہ وہ قوم و ملک کو ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل کرا سکتے تھے یا ہیں ۔
7 ۔کیا یہ درست ہے کہ بحیثیت قوم ہم اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی میں ہماری نالائقیوں کی نسبت غیروں کی سازشیں زیادہ کار فرما رہی ہیں۔
8۔ کیا پاکستانیوں کی اکثریت کو ایسے ذرائع تک رسائی ہے جن سے وہ اپنے قومی اور ملکی حقائق کی شفاف معلومات حاصل کر سکتے ہوں ؟
9۔پاکستان کے بڑے دولت مندوں میں کوئی ایک نام جس کے بارے میں ہم یقین سے یہ کہہ سکتے ہوں کہ وہ ٹیکسوں کی پوری ادائیگی کرکے حلال ذرائع سے اس مقام پر پہنچا ہے۔
10۔اگر چہ ان میں سے اکثر سوالات کے کوئی تسلی بخش جوابات پاکستانیوں کے پاس نہیں ہیں لیکن پھر بھی ایک بہت بڑی اکثریت کیا یہ نہیں سمجھتی کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے ؟کیا اس کی وجہ جہالت ہے یا حماقت یا مذہبی ایمان سے جنم لینے والی امید ؟
ہو سکتا ہے کہ یہ سوالات مایوسی پھیلانے کاذریعہ سمجھے جائیں چنانچہ عرض ہے کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی سطح پر نہ سہی انفرادی سطح پر ہم نے بلا شبہ متعدد قابل رشک کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں عبدالستار ایدھی شاید سب سے نمایاں قرار دیے جا سکتے ہیں ۔اسی طرح کھیل اور تعلیم میں بھی کچھ نام لیے جاسکتے ہیں ، علم وحکمت میں بھی کچھ ر جال یقینی طور پر ہماراقابل رشک سرمایہ ہیں لیکن احساس صرف یہ دلانا مقصود ہے کہ تبدیلی قومی کردار سے آتی ہے ، انفرادی سے اس کا البتہ آغاز ہو سکتا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *