یورپی یونین کے حلیف ممالک میں سی آئی اے کے خفیہ ایجنٹ کیوں کام کر رہے ہیں؟

anniemachon اینی میکن، برطانوی خفیہ ایجنسی، ایم آئی فائیوکی سابق انٹیلی جینس آفیسرہیں۔ انہوں نے 1996میں ایجنسی کے غلط کاموں پر احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔اب وہ ایک مصنفہ، انسانی حقوق کی علمبردار اور اطلاعات تک رسائی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خلاف نفاذِ قانون سے متعلق ایک ادارے کی ڈائریکٹر ہیں۔
انہوں نے حال ہی میں رشین ٹی وی کو ایک انٹرویو دیا ہے جس میں ان سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ ’’یورپی یونین کے حلیف ممالک میں سی آئی اے کے خفیہ ایجنٹ کیوں کام کر رہے ہیں؟‘‘ تو انہوں نے کہا، ’’بہت ممکن ہے کہ وہاں کالے قانون کے تحت نئی بھیانک امریکی جیلیں بنائی جا رہی ہوں جن میں مزید بے گناہوں کو مبحوس رکھنا مقصود ہو۔یا پھرشاید وہ یورپی کارپوریشنوں میں گھسنا چاہتے ہوں۔ جیسا کہ ہم آپریشن سینٹر ایگل کے دوران برطانیہ کی سکیورٹی و انٹیلی جینس ایجنسی، گورنمنٹ کمیونی کیشنز ہیڈ کوارٹرز اور امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ایجنٹوں کو مختلف کارپوریشنوں میں جگہ بناتے دیکھ ہی چکے ہیں۔ہمیں اصل حقیقت قطعاً معلوم نہیں۔لیکن میں سمجھتی ہوں کہ یہاں کچھ سنجیدہ سوالات ایسے ہیں کہ جن کا پوچھا جانا ضروری ہے۔تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ آخر امریکہ کے خفیہ ایجنٹ یورپی ممالک میں کیوں گھس رہے ہیں؟‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *