امریکہ کا اخلاقی دیوالیہ پن

عرفان حسینIrfan Hussain

جب امریکی سینٹ نے حال ہی میں سی آئی اے کی طرف سے قیدیوں ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کی رپورٹ ظاہر کی تو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بیرونی ممالک میں کام کرنے والے امریکی مشنز کو کسی بھی ممکنہ ردِ عمل سے خبردار رہنے کی وراننگ جاری کردی۔ بہرحال، کچھ مشتعل انداز میں لکھے جانے والے اخباری اداریوں کو چھوڑ کرمجموعی طور پر عالمی ردِ عمل خاموشی کے سوا کچھ نہ تھا۔
مجھے شک ہے کہ سی آئی اے کے روح فرسا تشدد پر اس قدر محتاط عالمی ردِ عمل کی وجہ دیگر اقوام کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم پر بے اعتنائی اور بے حسی برتنے کی پالیسی ہے۔ پاکستان سے لے کر پولینڈ تک، ہر جگہ خفیہ ادارے امریکی سی آئی اے کی کارروائیوں سے اغماض برتتے ہیں۔ حکومتیں جان بوجھ کر نظرانداز کرتی ہیں کہ امریکی ایجنٹ اُن کے ہاں پائے جانے والے خفیہ عقوبت خانوں میں مشتبہ افراد پر وحشیانہ تشدد کرتے ہیں۔ مصر، مراکش اور اردن وغیرہ بہت فخر سے امریکی اور برطانوی ایجنٹس کو اپنے قیدیوں تک رسائی دیتے ہیں اوران کے سامنے قیدیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھے جنہوں نے بعد میں برطانوی عدالتوں میں اپنے اوپر کیے جانے والے تشدد کے ثبوت پیش کیے۔ اُنھو ں نے ثبوت کے ساتھ بتایا کہ ان پر کیے جانے والے تشدد کے وقت MI6 کے افسران وہاں موجود تھے۔ اکثر کیسز میں، برطانوی حکومت نے بہتر سمجھا کہ ان معاملات کا عدالت کو فیصلہ کرنے دیا جائے،تاہم اُس نے نہ تواپنا دفاع کیا اور نہ ہی جرم کا اعتراف کیا۔
حقیقت، جس سے ہم ہمیشہ نظریں چراتے ہیں، یہ ہے کہ دنیاکے ہمارے حصے میں اس قدر تشدد ہے کہ اب اس کے ذکر کو کوئی غیر معمولی چونکا دینے والا واقعہ نہیں سمجھا جاتا ۔ کئی صدیوں سے پولیس کی طر ف سے مشتبہ افراد پر تشدد کرتے ہوئے تفتیش کرنا ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔ برصغیر میں آج بھی پولیس کی ’’چھترول ‘‘ معاشرے کا اہم حصہ ہے۔ گزشتہ صدی کے آغاز سے، مہذب معاشرے بتدریج انسانیت سوز سلوک کی بجائے جدید تفتیشی طریقے اپنارہے ہیں۔ مجرموں پر تشدد سے اقبالِ جرم کی بجائے سائنسی طریقے سے جرم کی تفتیش کی جاتی ہے اور عدالت میں ثبو ت پیش کیے جاتے ہیں۔ 1987 میں تشدد کے خلاف ہونے والا یواین کنونشن پولیس تشدد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کرتا ہے جو اس کے مرتکب پائے جائیں۔ امریکہ نے بھی زیادہ تر ریاستوں کی طرح اس قانون کی توثیق کی ہوئی ہے، تاہم مجھے شک ہے کہ صدراوباما میں اتنی جرات نہیں کہ وہ امریکی دفاعی اسٹبلشمنٹ اور سی آئی اے سے باز پرس کرسکیں۔
اگرچہ امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے روایتی طور پر سخت گیر تفتیشی طریقے استعمال کرتے رہے ہیں لیکن حالیہ رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے بعد تشددکی نئی اور کہیں زیادہ تکلیف دہ اشکال سامنے آئی ہیں۔ القاعدہ کے نئے حملوں کا خوف محسوس کرتے ہوئے سیاست دانوں، جیسا کہ صدربش، ڈک چینی اور رمز فیلڈ نے سی آئی کے افسران پر زور دیا کہ وہ دنیا کے اس خطے سے اٹھائے جانے والے مشکوک افراد سے افغانستان کی بٹ گرام جیل میں معلومات اگلوائیں یا اُنہیں گانتاناموبے میں منتقل کریں۔ چنانچہ سینٹ کی رپورٹ میں انتہا ئی روح فرسا تشدد کے طریقے استعمال کرنے کا بیان درج ہے۔سی آئی اے کے ایجنٹوں اور دیگر فوجیوں نے قیدیوں پر اس طرح کا تشدد اس لیے بہت آسانی سے روا رکھا کیونکہ ان کا (قیدیوں کا) تعلق دوسرے مذہب اور مختلف نسل سے تھا۔ اُن کے نزدیک وہ قیدی ایسے ’’قابل نفرت دشمن ‘‘ تھے جو امریکہ کے وجود کو خطرے میں ڈالنا چاہتے تھے ،چنانچہ ان پر بے پناہ اذیت ڈھاتے ہوئے اُنہیں کسی اخلاقی دباؤ کا ہرگز سامنا نہیں تھا۔ یقیناًوہ امریکی یا مغربی باشندوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرسکتے تھے۔اس سے پہلے ابو غریب کی دھشت ناک کہانیاں بھی ایک مثال بن کر سامنے آچکی ہیں۔ نقاب پوش عراقی قیدیوں کی تصویریں جبکہ ان پر وحشیانہ تشدد کیا جارہا تھا، یاداشت کا حصہ ہیں۔ اگرچہ اس تصاویر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد عالمی سطح پر احتجاجی صدائیں بلند ہوئیں لیکن صرف چند ایک نچلے درجے کے افسران کے خلاف برائے نام کارروائی ہی دکھائی دی، جبکہ یہ پالیسی وضع کرنے والو ں کی طرف کسی نے انگشت نمائی تک نہ کی۔
چونکہ سینٹ کی رپورٹ افشا ہونے کے بعد زیادہ غم وغصے کا اظہار نہیں دکھائی دیا، اس لیے دنیا کے آمر حکمرانوں کو بھی شہ ملے گی کہ وہ ابھی ایسا کرسکتے ہیں۔ جب شمالی کوریا میں ہونے والے تشدد کی رپورٹ سکیورٹی کونسل کے سامنے رکھی گئی تو Kim Jong-Il حکومت نے اُوباما انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ اُنہیں خود اپنے طور طریقے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ دراصل اخلاقی بلندی حاصل کرنا بہت مشکل لیکن اسے کھونا بہت آسان ہے۔کئی سالوں سے امریکہ انسانی حقوق کا چمپئن ہونے کا دعویدار رہا اور باقی دنیا کو اپنے ہاں پائی جانے والی انسانی حقوق کی زریں روایات کی پیروی کرنے کی ہدایت کرتارہا، تاہم فرگوسن میں ایک سفید فام پولیس مین کے ہاتھوں ایک سیاہ فام نوجوان کے قتل کے بعد سے یہ امریکہ ہے جس کا نسلی تعصب سے بدنما چہرہ دنیا کے سامنے ہے۔ اب اس کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بھی منظرِ عام پر آرہی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی حقوق کے حوالے سے امریکہ کا شمالی کوریا سے موازنہ کرنا احمقانہ بات دکھائی دیتی ہے کیونکہ تین نسلوں سے اسےKim خاندان نے باقی دنیا سے الگ کرکے ایک بہت بڑے جیل خانے میں تبدیل کررکھا ہے۔ مجھے حال ہی میں ایک انعام یافتہ ڈاکو منٹری فلم ’’Camp 14‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں شمالی کوریا کے اذیت خانے سے فرار ہونے والے ایک قیدی کا انٹرویو شامل تھا... وہ قیدی اس عقوبت خانے میں ہی پیدا ہوا تھا، لیکن پھر وہ اور دو محافظ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ فلم اس عقوبت خانے میں قیدیوں پر روزانہ ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان بیان کرتی ہے۔ اکثر قیدی تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوجاتے ہیں حالانکہ ان سے معمولی جرائم سرزد ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک دوست، جو وہان ایک ایڈ ایجنسی کا مشیر بن کر گیا تھا، بتاتا ہے کہ وہاں عام افراد کی زندگی غربت اور فاقہ کشی کا شکار ہے۔ نوجوان Kim Jong-Il کی ظالمانہ فطرت کی نشاندہی اس فلم میں ہوتی ہے۔ اس فلم کو بنانے والے سٹوڈیوپر سائبر حملہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ اُن تمام تھیٹرز کو بھی حملوں کی دھمکی دی گئی جو اس فلم کو دکھانے کا رسک لینے کے لیے تیار تھے۔
تاہم اس تشدد کے اس خونی کھیل میں صرف امریکہ اور شمالی کوریا ہی نہیں، برطانیہ کے ہاتھ بھی رنگین ہیں۔ سب کو علم ہے کہ MI6 امریکی خفیہ ایجنسی سے معاونت کرتی ہے اور تشدد کے اس کھیل میں شریک ہے۔ اس کے باوجودکچھ احتجاجی آوازوں کے علاوہ، برطانیہ میں سکوت رہا ۔ سینٹ کی رپورٹ کا شاید سب سے اہم حصہ وہ تھا جس میں بیان کیا گیا کہ تمام تر تشدد کے باوجود کوئی اہم معلومات حاصل نہیں کی جاسکیں۔ اس کے باوجود ماہرینِ نفسیات نے تشدد کے طریقے تجویز کیے اور وکلا نے ان کا دفاع کیا۔ اس کے علاوہ یہ بات سمجھنے کے لیے زیادہ دانا ہونے کی ضرورت نہیں شدید تشدد کرتے ہوئے آپ کسی کچھ بھی منوا سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *