میں نارمل ہونا چاہتا ہوں

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

 میں نارمل ہونا چاہتاہوں !
میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ پشاور میں معصوم بچوں کو گولیوں سے بھون کر ان کی لاشوں کے ٹکڑے کئے گئے ، میں وہ لمحہ بھول جانا چاہتا ہوں جب آخری مرتبہ مائوں نے اپنےبیٹوں کو پیار کیا ہوگا ، میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ ان بچوں کی مائوں نے اپنے جگرگوشوں کی میّتیں دیکھ کر کیسے بین کیا ہوگا ، میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ باپ نے جب اپنے چاند جیسے بیٹے کے جسم کی بوٹیاں تابوت میں دیکھی ہوں گی تو اس کے دل پر کیا بیتی ہوگی، میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ ان بچوں کے والدین جب اپنے ہیرو کے کمرے میں بکھری اس کی کتابیں کاپیاں دیکھتے ہوں گے تو خود کو کیسے سنبھالتے ہوں گے ، میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ بہن جب اپنے شہید بھائی کی تصویریں گھر میں آویزاں دیکھے گی تو اس کے آنسوئوں کی جھڑی کیسے رکے گی، میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ جس دن لوگوں کے بچے دوبارہ اسکول جانے کے لئے یونیفارم پہن کر تیار ہوں گے اس روز ان شہیدوں کی مائیں اپنے کس بچے کا ماتھا چوم کر اسکول بھیجیں گی، میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ سفاکی اور دہشت کی یہ خبر پہلی د فعہ جب ان بچوں کے ماں باپ نے سنی ہوگی تو کیسے گڑگڑا کر ربّ سے اپنی جان کے بدلے اپنی اولاد کی جان بخشوانے کی دعا کی ہوگی، میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ آج کے بعد جب ان شہید بچوں کی مائیں دوسرے بچوں کو اپنی مائوں کی گود میں سر رکھ کر سوتا دیکھیں گی تو انہیں سانس کیسے آئے گا، میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ جب ان بچوں کے جوتے ،کپڑے ،کاپیاں اور کتابیں ان کی میت کے ساتھ والدین کے حوالے کئے گئے ہوں گے توان کے دماغ نے اس حقیقت کو کیسے قبول کیا ہوگاکہ ان کے ہنستے مسکراتے بیٹے کی سانسیں کبھی واپس نہیں آ سکیں گی، میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ جب ان شہزادوں کے جنازے اٹھائے گئے ہو ں گے، جب ان کے پھول جیسے جسمو ں کو ’’باڈی‘‘ کہا گیا ہوگا،جب انہیں کفن میں لپیٹا گیا ہوگا، جب ان کی قبروں پر مٹی ڈالی گئی ہوگی، جب ان کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ہوگی ،جب ان کے قلوں کا اعلان کیا گیا ہوگا،جب ان کی مائوں کو پرسا دیا گیا ہوگا ، جب ان کے باپوں کو دلاسا دینے کی کوشش کی گئی ہوگی… اس قیامت کی گھڑی میں ان کے ماں باپ ،بہن بھائی، عزیز رشتہ دار اور دوستوں کے دلوں پر کیسے چھریاں چلی ہوں گی، میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ ہر روز صبح اٹھ کر جب ماںکو یاد آیا کرے گا کہ اس کالعل ا ب اس دنیا میں نہیں رہا تو کیسے اس کا کلیجہ پھٹے گا، میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ یہ مائیں اپنی زندگیاں اب کیسے گزاریں گی، ان ہیرے جیسے بچوں کے باپ تمام عمر خود کو کیسے سنبھالیں گے ،میںاسپتال کا وہ منظر بھی بھول جانا چاہتا ہوں جہاں ان بچوں کی لاشوں کو قطار میں رکھ کر اس بات کا انتظار کیا ہوگا کہ کب ان کے پیارے اپنے بچے کو ’’شناخت‘‘ کے بعد تدفین کے لئے لے جاتے ہیں ،میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ جب ان روشن آنکھوں والے بچوں کی بند آنکھیں مائوں نے دیکھی ہوگی تو کیسے اپنے چاند کا چہرا ہاتھوں میں لے کر ماتم کیا ہوگا، میں اس ماں کا غم بھی بھلا دینا چاہتا ہوں جو اپنے بیٹے کا چہرہ اس لئے نہیں دیکھ سکی کہ وہ پہچانے جانے کے قابل ہی نہیں رہا تھا، میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ اس ملک میں کبھی 132بچوں کا قتل عام ہوا تھا کیونکہ میں نارمل ہونا چاہتا ہوں!
میں چاہتا ہوں کہ زندگی اپنی ڈگر پر واپس آ جائے، آج کل دھوم دھام سے ہونے والی شادیوں کا میں لطف اٹھائوں، دلفریب موسیقی سنوں تو اس میں ا ن بچوں کی دلخراش چیخوں کی آوازگڈ مڈ نہ ہو جائے،سنیما ہال میں جا کر نئی فلمیں دیکھوں تو پردہ سیمیںپر ان بچوں کی شکلیں مجھے ’’ہانٹ‘‘ نہ کریں ،لوگ کسی اسکول کے آگے سے گذریں تویہ سوچ ان کے دماغ میں نہ آئے کہ خدا نخواستہ اس اسکول میں بچوں کا قتل عام ہو رہا ہے، اپنے بچوں کو پیار کرتے وقت لوگ یہ یاد نہ کریں کہ جن بچوں کے جسموں کے پرخچے اسکول میں اڑائے گئے ان کی مائیں اب ساری عمر فقط اپنے بچے کی تصویر سینے سے لگائے گزاریںگی!میں ان لیڈران کی طرح نارمل ہونا چاہتا ہوں جنہوں نے اس دلخراش واقعے کے روز ٹی وی کے سامنے ایک دوسرے سے مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا اور نوک جھوک فرمائی، میں ان بیوروکریٹس کی طرح نارمل ہونا چاہتا ہوں جو دہشت گردی سے متعلق قائم ایک درجن سے زائد کمیٹیوں کا حصہ بن کر فائلوں پر نوٹ لکھیں گے ،میں ان دانشوروں کی طرح نارمل ہونا چاہتا ہوں جن کے نزدیک اسکول کے بچوں کے قتل سے زیادہ یہ بات اہم ہے کہ مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کرنا اسلام کے مطابق ہے یا نہیں ، میں اس وزیر اعلیٰ کی طرح نارمل ہونا چاتا ہوں جس نے اسکول کے بچوں کے قتل کے بعد نارمل اندازسے مرنے والوں کے لواحقین کے لئے معاوضے کا اعلان کیا اور نام لئے بغیر دہشت گردوں کی مذمت کرکے بری الذمہ ہو گیا ،میں ان تجزیہ نگاروںکی طرح نارمل ہونا چاہتا ہوں جن کے نزدیک فوجی جوانوں کی اس جنگ میں قربانیوں کو سلام پیش کرنے سے زیادہ سپہ سالار کی خوشامد ضروری ہے !میں نارمل ہونا چاہتا ہوںکیونکہ مجھے احساس ہے کہ جلد یا بدیر بیشتر لوگوں اور حکومت کی طرح مجھے بھی نارمل ہونا پڑے گا ، یہ انسانی نفسیات ہے کہ بڑے سے بڑا المیہ بھی انسان کو نارمل ہونے سے نہیں روک سکتا ،تاہم اگر میں نارمل ہو بھی جائوں تو میری دعا ہے کم از کم حکومت نارمل نہ ہو!
سائوتھ ایشین ٹیررازم پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق پشاور حملے سے پہلے، 2003سے 2014کے درمیان پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 19,152شہری اور 5,839سیکورٹی اداروں کے اہلکار مارے گئے ،یہ قیمتی جانیں تو اب واپس نہیں آ سکیں گی مگر کیا ہی اچھا ہو اگر حکومت دہشت گردی کے واقعات سے متاثر ہونے والے افراد کو ایک خاندان کا نام دے ،ہر وہ شخص، قطع نظر اس کا تعلق کسی بھی مذہب ، فرقے یا گروہ سے ہو ،اگر وہ یا اس کے گھر کا کوئی فرد دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے تو وہ اس ایک خاندان کا حصہ بن جائے جس کے ساتھ نہ صرف پوری حکومت بلکہ قوم کھڑی ہو ،ہم ان افراد کو نئے سرے سے اپنی زندگیاں شروع کرنے اور انہیں اس ذہنی اذیت سے نکالنے کے لئے وہ مدد اور تعاون فراہم کریںجو انہیں درکارہو۔ یتیم بچے، بیوائیں،بم دھماکوں میں زخمی او ر اپاہج ہونے والے افراد ،بچوں کے غمزدہ والدین ،ان سب میں کسی کو مالی معاونت درکار ہوگی کسی کو قانونی مدد اور کوئی صرف یہ چاہے گا کہ اسے یہ احساس دلادیا جائے کہ قیامت کی اس گھڑی میں ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے ،اور کسی کی ضرورت فقط اتنی ہوگی کہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اس trauma سے باہر نکال لے جس کی وجہ سے اس کی زندگی جہنم بن چکی ہے۔ فی الوقت مجھے ایسا کوئی نجی یا سرکاری ادارہ دکھائی نہیں دیتا جو ایک مربوط طریقے سے یہ کام کر رہا ہو ، اگر ہم نارمل ہونا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے ’’خاندان‘‘ کو بھی نارمل زندگی میں واپس لانے کی کوشش کریں ٗ کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *