لات ، تھپڑ اور ٹھڈا

adnan-tariq

کبھی کبھار فرصت ہو تو کسی لاری اڈے پر میری طرح بیٹھئے اور کسی گوشے سے سواریوں کی آنیاں جانیاں دیکھئے لوگوں کا ملنا بچھڑنا ۔ کسی کا سفر پر روانہ ہونا اور کسی کا روانہ کرنا ۔ چہروں کے بدلتے تاثرات آپ کے اس تاثر کو بدل دیں گے کہ آپ یہاں فارغ بیٹھ کر جھک مار رہے ہیں میں کبھی کبھار فرصت میں یہ کیا کرتا تھا ۔ اب کبھی کبھار بھی فرصت نہیں ملتی لیکن ہائی کورٹ کسی پیشی کے دوران کسی محترم جج صاحب کی عدالت کے باہر بچھے ہوئے بنچ پر بیٹھے فرصت ہی فرصت ہوتی ہے تو میرے اندر وہی جبلت پھر عود آتی ہے ۔ ہائی کورٹ بیٹھے ہوئے بھی مجھے انسانوں کی بجائے یوں لگتا ہے گویا صرف تاثرات ہی چل پھر رہے ہیں۔

جہاں تک میری بات ہے تو میرا چہرہ تو ہائی کورٹ میں جج صاحب کی عدالت کے کمرے کے باہر ایک کتبہ پڑھ کر ہر قسم کے تاثرات سے عاری ہو جاتا ہے جہاں میرے جیسے پولیس والوں کے لئے عدالت کے کمرے کے اندر بیٹھنا شجر ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے ۔ ہم نے تو مجبوراً باہر بنچ پر ہی بیٹھنا ہے تو پھر لوگوں کے چہروں پر امڈے ہوئے تاثرات سے زیادہ کسی علم کا حصول کیا ہو سکتا ہے ۔ کچھ تاثرات بڑے پرانے اور متروک ہو چکے ہیں۔ آپ ابھی باری کے انتظار میں ابھی بیٹھے ہی ہیں تو اچانک ایک وکیل صاحب راہداری سے گذرتے ہیں۔ وکیل صاحب لمبے تڑنگے ہیں ۔ بہت تیز چلتے ہوئے گذرتے ہیں۔ ہلکی ہلکی نسیم سحر چل رہی ہے جو ان کی بڑھی ہی زلفوں کو پریشان کر رہی ہوتی ہے۔ جو "اڑی جب جب تیری زلفیں" کی مدھر دھن آپ کو یاد دلاتی ہیں لیکن ان کے بالکل پیچھے ایک گنجا گول مٹول شخص ڈھیر ساری فائلیں اٹھائے وکیل صاحب کا تعاقب کر رہا ہوتا ہے ۔ اس کے ماتھے پر تیوری چڑھی ہوتی ہے ۔ چہرے کا رنگ اڑا ہوتا ہے ۔ پریشانی کے تاثرات چہرے پر عیاں ہوتے ہیں۔

مجھے اچانک یاد آتا ہے کہ یہ "بستر بند" نما چیز تو وہی ہے جس نے مجھے وردی میں اپنی پیشی کا نمبر دیکھتے ہوئے کیسز کی لسٹ کو مجھ سے چھین کر اپنے ہاتھوں میں اس طرح دبوچ لیا تھا کہ فائلیں اب اسکے گیند نما پیٹ پر اٹکی ہوئی تھیں جن سے وہ باقی لوگوں کو پیشی لسٹ سے پرے رکھنے میں کامیاب بھی ہو رہا تھا، اس کے چہرے کے تاثرات تب سب کو چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ وہ ہائیکورٹ کا رہائشی ہے اور اگر اسے ذرا بھی چھیڑا گیا تو وہ شائد اپنی فائیلوں کے نیچے آکر ہی خود کشی کر لے اور الزام آپ پر دھر دیا جائے ۔ اب مجھے ان کے رینک کا علم ہو گیا تھا وہ وکیل صاحب کے منشی تھے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کسی کیس میں "legal proceeding" کی ابتدا بھی انہی سے ہوتی ہے اور انتہا بھی۔ یعنی نعوذباللہ یہ وکیل صاحب کے گاہکوں کے لئے اللہ میاں کے ہی جتنے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔

آپ وکیل صاحب سے پہلی ملاقات کرتے ہیں تو ان سے ابھی آپ کی فیس طے نہیں ہوئی ہوتی جب وہ پیزا کی "extra troppicing" کے طور پر آپ کو حکم صادر کرتے ہیں کہ یار میں رعائت کر لوں گا لیکن اسے فائلوں کو سیدھا کرنے کا منشیانہ فوراً دے دو۔ ورنہ تم چلے گئے تو میری ران کا گوشت لے کر بھی اپنا منشیانہ نکال لے گا۔ کیونکہ ویسے تو یہ پڑھا لکھا نہیں ہے  لیکن کہیں سے شیکسپئر کی "مرچنٹ آف وینس" کہانی سن بیٹھا ہے اور جب کیس ختم ہوتا ہے تو کسی بھی انجام خواہ وہ طربیہ ہو یا المیہ ۔ اس نے پیزے کے آخری ٹکڑے پر لگانے والے پلیٹ میں بچے کھچے ٹماٹو کیچ اپ کے پیسے بھی لے لینے ہیں ، کہیں پھانسیاں عدالت کے احاطے میں ہوتیں تو یہ لاشیں گھر پہنچانے کے لئے "ایمبولینسز"  کا بندوبست کر دیا کرتے ۔ ان کے ڈرائیوروں سے حصہ لے کر ۔

وکیل ان سے کیوں مجبور ہیں ۔ بھئی یہ جتنا قانون کی کتابوں کو زیادہ اٹھا کر راہداریوں میں پھرتے ہیں وکیل اتنے زیادہ قابل اور مقنن لگتے ہیں ۔ موکلوں کی عدالت میرٹ پر ضمانت کینسل کر دے تو انہیں ہائیکورٹ کے احاطے سے انہوں نے بھگانا ہوتا ہے اگر شومئی قسمت کوئی تھانیدار وردی میں اسے گرفتار کرنے آیا ہو تو اس کا گریبان پھاڑنا اسکی پسلی میں گھونسوں کی بوچھاڑ کرنا۔ اس کی پولیس فائلز چھین لینا ان کے فرائض میں شامل ہے ۔ وکیل تو بیچارے ایسے معاملات میں حصہ ہی نہیں لیتے کیونکہ انہیں تو کالے کوٹ کی حرمت مارتی ہے اور ویسے بھی احاطہ عدالت میں جگہ جگہ تو کیمرے لگے ہوتے ہیں۔ اصل اور خالص وکیل تو کیمرے میں دکھائی دینے والے کالے کوٹوں کو نصیحت کرتے رہتے ہیں کہ وہ لائم لائٹ میں نہ آیا کریں لیکن کیا کیا جائے وہ تو جعلی وکیل ہوتے ہیں پتا نہیں کہاں سے آ جاتے ہیں؟

وکیلوں کے سارے زرعی اور غیر شرعی معاشقوں کا بھی انہیں علم ہوتا ہے جو انہیں دین سے بھی چھپانا پڑتے ہیں اور دنیا سے بھی ۔ کبھی کوئی کیس سمجھ نہ آ رہا ہو تو وکیل صاحب کو برائٹ کرنے کا کام بھی ان کا ہوتا ہے ۔ اچھے اور مہنگے وکیلوں کے چیمبرز میں تو ویسے ہی چھوٹے فریج موجود ہیں لیکن راہداریوں میں تیز تیز پھر کر تھکے ماندے وکلا چیمبر میں آ کر برف بھی ان سے منگواتے ہیں اور دال کی پلیٹ بھی۔

ہر کیس میں عدالت میں پیش ہونا بھی اچھے وکیل کے لئے باعث شرم ہے اور ویسے بھی مصروفیت کی وجہ سے ایسا کیا نہیں جا سکتا تو عدالتی اہلکاروں سے اچھے تعلقات قائم کرنا بھی انہیں منشیوں کا خاصہ ہے وگرنہ وکلا کے ناک پر عینک تو عدالت میں جا کر ٹکتی ہے عام حالات میں تو غصہ ہی سجا ہوتا ہے ۔ اگر کیسوں میں تاریخیں وکلا کے منشی نہ لیں تو یہ تھکے ماندے وکلا تو دن میں عدالتی اہلکاروں سے چار دفعہ لڑ پڑیں ۔ کسی کی ناک پر مکہ دے ماریں یا کسی کو تھپڑ رسید کر دیں گویا منشی ان کے لئے بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کی گولی بھی ہیں۔

پرانے اور "جٹکے" وکلا کے کوٹوں کو روز جھاڑنا کونسا آسان کام ہے ۔ ایک دو کلو مٹی تو جھاڑنے والے کو پھانکنا ہی پڑتی ہے اور اس کے علاوہ خطرہ جان یہ بھی ہوتا ہے  کہ ہڑپہ یا موئنجوڈارو کے خفیہ خزانوں  سے نکلے ان کوٹوں سے کب کیا نکل آئے ۔ وکیل صاحب اپنے کوٹ کی جیب میں رقم نہیں رہنے دیتے اور حشرات الارض میں سے کوئی رہا بھی رہے تو کیا حرج ہے۔

اس پر طرہ یہ کہ آپ زلفوں کو  لہراتے پھریں اور وہ "سست ربڑی" گیند کی طرح آپ کے پیچھے پیچھے لڑھکتے پھریں۔ آپ کو اگر عادت ہو کہ منشی کے سامنے رقم گنیں تو ہو سکتا ہے نوٹوں کی طرف شست باندھ کر دیکھنے سے بیچارہ بھینگا ہی ہو جائے اور آپ اسے انصاف کے سمبل کے طور پر پیش کرتے رہیں کہ وہ دنیا کو ایک آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

ویسے تو تھانیداروں کے منشی جن سے وہ ضمنیاں لکھواتے تھے اور پٹواریوں کے منشی جو پٹواریوں کا سارا کام صفیں بچھا کر پرائیوٹ چوباروں پر کرتے ہیں اب بھی طاقتور ہیں لیکن اب "تھپڑ ، لات اور ٹھڈا" مارنے کی صلاحیت صرف وکیل صاحب کے منشی کے پاس ہی رہ گئی ہے ۔ کیونکہ دوسرے ادارے کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔ فوری انصاف کا حصول تو اب صرف انہی منشیوں ۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔۔ سوری زبان پھسل گئی ۔ صرف انہی وکیلوں کے پاس ہی رہ گیا ہے ۔ اور ہمارے معاشرے میں فوری انصاف حاصل کرنے کا واحد ذریعہ تھپڑ ، لات اور ٹھڈا نہیں تو اور کیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *