صد سالہ اجتماع میں شرکت اور تاثرات

ج

مولانا محمد فیاض خان سواتی

جامعہ نصرۃ العلوم سے اساتذہ کرام اور طلباء عظام کا دو بسوں پر مشتمل ایک بھر پور قافلہ جمعیت علماء اسلام کے صد سالہ تاسیسی اجتماع 7 تا 9 اپریل سن 2017 ع میں شرکت کے لئے جمعرات کی نصف شب کو برادرم مولانا محمد ریاض خان سواتی سلمہ اللہ تعالٰی ناظم جامعہ نصرۃ العلوم کی زیر قیادت اضاخیل ضلع نوشہرہ صوبہ خیبر پختونخوا کے لئے روانہ ہوا ، احقر اگلے دن جامع مسجد نور میں جمعہ پڑھا کر عصر کے بعد برخورداران حافظ مولوی محمد حذیفہ خان سواتی اور حافظ قاری محمد خزیمہ خان سواتی سلمھما الرحمٰن کے ساتھ اس اجتماع میں شرکت کے لئے عازم سفر ہوا ، ابھی تھوڑا سا سفر ہی طے کیا تھا کہ برادرم ریاض کا فون آگیا کہ یہاں بہت ہی زیادہ رش ہے جس کی وجہ سے وضو پیشاب وغیرہ کی بے حد پریشانی ہے اس لئے آپ راستہ میں ہی کہیں رات گزار کر صبح آجائیں تو بہتر ہے وگرنہ بہت پریشانی ہوگی ، بات ٹھیک تھی اس لئے میں نے حذیفہ سے کہا کہ اسلام آباد میں حافظ محمد اقبال صاحب سے رابطہ قائم کریں چنانچہ ان سے رابطہ ہو گیا ، حافظ صاحب موصوف جامعہ نصرۃ العلوم میں سن 1978 ع کے لگ بھگ تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں اور بہت سے مواقع پر انہوں نے اپنے ہاں آنے کی پر زور دعوت دے رکھی تھی ، ان سے بالمشافہہ ملاقات کو بھی تقریباً بتیس سال کا طویل عرصہ بیت گیا تھا ، آج کل وہ اسلام آباد کی میڈیا ٹاؤن میں رہائش پذیر ہیں اور میڈیا ہی کے شعبہ سے منسلک ہیں ، روزنامہ انصاف کے ایڈیٹر ہیں جبکہ ایک میگزین "خلیج" کے نام سے بھی شائع کرتے ہیں ، ان کے گھر کا راستہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کافی دور سے ہمارے استقبال کے لئے مشقت اٹھانا پڑی ، اللہ انہیں خوش رکھے اور جزائے خیر عنایت فرمائے کہ انہوں نے ہمارے انکار کے باوجود بھی پر تکلف کھانے کا اہتمام فرمایا ، رات انکے ہاں ہی قیام رہا ، اس دوران بہت سی پرانی یادیں بھی تازہ ہوئیں اور علی الصبح ناشتہ سے فراغت کے بعد ان سے اجازت لے کر ہم اگلی منزل کی طرف رواں دواں ہوئے ، گاڑی کی ڈرائیونگ کا فریضہ بھی احقر خود ہی انجام دے رہا تھا ، صبح صبح رش نہ ہونے کی وجہ موٹر وے سے بڑی آسانی کے ساتھ ہم  نوشہرہ پہنچ گئے ، جامعہ کے کیمپ میں پہنچے تو نئے ساتھی کافی پریشان نظر آ رہے تھے ، جبکہ اس قسم کے بڑے اجتماعات میں شرکت کرنے والے پرانے ساتھی مطمئن تھے ، ہر ایک کی زبان سے یہی جملہ سننے کو ملا کہ "الحمد للہ اجتماع کامیاب" ہے ، اس پر میرے جیسے کارکن کو جتنی خوشی ہوسکتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے البتہ توقع اور انتظامات سے بہت ہی زیادہ مجمع اکٹھا ہو جانے کی بناء پر نظم و نسق میں کچھ خلل پیدا ہو جانا ایک فطرتی عمل تھا ، جس سے نئے لوگ زیادہ متاثر ہوئے تاہم پرانے لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ ایسے بڑے اجتماعات میں ایسے واقعات رونما ہوتے ہی رہتے ہیں ، مخالف ذہن رکھنے والے افراد ہمیشہ ایسے ہی مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ ان کو کوئی نہ کوئی اعتراض کا بہانہ ہاتھ آجائے اور وہ اس کے ذریعہ مدارس ، علماء اور دینی جماعتوں کے خلاف اپنے دل کا غبار ہلکا کرسکیں اور یہ کام کافی دنوں تک کے لئے ان کے دل کو تسکین پہنچانے کے لئے موجود ہے ، افسوس کہ سو میں سے اٹھانوے پرسنٹ خوبیوں کو نظر انداز کر جانے والے صرف دو پرسنٹ خرابیوں پر نظریں جمائے بعض مفکرین اور دانشور خوامخواہ اپنے آپ کو ہلکان کئے رکھتے ہیں ، ایسی ذہنیت کے حاملین حقیقت میں بالغ نظر نہیں ہوتے اس لئے ان کے لئے صرف اور صرف دعائے خیر ہی کرنی چاہئے ، بہر حال اجتماع میں ملکی اور غیر ملکی علماء اور مفکرین کے علاوہ تقریباً پاکستان کی تمام ہی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی بھر پور نمائندگی ہوئی ، سب ہی نے جمعیت علماء اسلام ، اس کی طویل ترین ہمہ جہت خدمات اور اس کے اکابرین کی بے مثال قربانیوں کا برملا اظہار فرمایا ، اس لحاظ سے اجتماع کو اپنے منشور اور منصوبہ کے مطابق ایک کامیاب ترین اور حوصلہ افزاء قرار دیا جا سکتا ہے ، بہت سے اہل علم اور مفکرین کے بیانات پنڈال میں بیٹھ کر سنے ، پھر دوسرے دن کی دوسری نشست کے لئے احقر اور برادرم ریاض کو اسٹیج کے لئے کارڈز جاری کر دیئے گئے چنانچہ اس نشست کے بیانات اسٹیج پر ہی بیٹھ کر سنے ، اور بہت سے اکابرین امت اور زعماء ملت کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع میسر آیا ، معاً ماضی کا وہ منظر بھی دماغ کی سکرین پر گردش کرنے لگا جب ہمارے شیخین کریمین رح کو سن 1980 ع میں منعقدہ  دار العلوم دیوبند انڈیا کے صد سالہ اجتماع کی ایک نشست میں اسٹیج پر بٹھایا گیا تھا ، اور اسے وہ بڑے فخریہ انداز میں ہمیں بتایا کرتے تھے ، ہمارے لئے بھی یہ ایک بہت بڑے اعزاز کی بات تھی جو زندگی کی ایک اہم  ترین یاد گار رہے گی ، عالم اسباب میں قانون قدرت کے تجربات اور مشاہدہ کے لحاظ سے میرا تجزیہ اور تاثر یہ ہے کہ اس اجتماع کے اتحاد امت اور قومی وحدت کی صورت میں عالم اسلام اور ملک پاکستان کے لئے ایک انقلابی اور دور رس نتائج برآمد ہوں گے اور پھر جو لوگ اس اجتماع میں شریک ہوئے ہیں ، ایک صدی کے بعد جب یہ اجتماع دوبارہ منعقد ہوگا تو ان میں سے کوئ ایک بھی موجود نہیں ہو گا ، اگر کوئی موجود ہوا بھی تو وہ ایک سو برس سے زائد کی طویل العمری میں شرکت کی پوزیشن میں نہ ہوگا ، اس لئے اس میں شرکت پر خدا کا جتنا بھی شکریہ اداء کیا جائے کم ہے ، میرا ارادہ تو یہی تھا کہ تین دن تک پنڈال میں ہی رہوں گا لیکن اپنی معذوری اور حالات کی بناء پر ایسا ممکن نہ ہوسکا ، احقر کا چند برس پہلے پتہ کا ایک میجر آپریشن ہو چکا ہے اس لئے وضو طہارت کی بڑی پیچیدگی ہے ، لہٰذا بادل نخواستہ اپنی اس مجبوری کیوجہ سے اسی روز واپسی کا ارادہ کیا ، پشاور میں ایک دو ضروری کاموں سے فراغت کے بعد رات کو واپسی کا سفر شروع ہوا ، تھوڑی دیر دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں بھی رکنا ہوا ، وہاں اسباق جاری تھے ، مجاہد ملت شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق رح کی قبر پر تھوڑی دیر رکنے اور دعا کرنے کے بعد وہاں سے واپسی ہوئی ، ٹیکسلا میں ہمارے جامعہ کے ایک فاضل اور احقر کے شاگرد مولانا حافظ سعید الرحمٰن  نے فون پر واپسی میں اپنے ہاں رکنے کے لئے پر زور اصرار کیا ، احقر نے دو مقاصد کے لئے ان سے وعدہ کر لیا ، ایک یہ کہ دو ہی دن قبل ان کے بائیس سالہ نوجوان بھائی حبیب الرحمن کا انتقال ہو گیا تھا ، اس کی تعزیت اور دعا کے لئے اور دوسرا یہ کہ صد سالہ اجتماع میں شرکت کرنے والے ہمارے جامعہ کے تمام قافلہ کو انہوں نے جمعہ کے دن  صبح ٹیکسلا پہنچنے پر ایک پر تکلف ناشتہ کا اہتمام فرمایا تھا ، اس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ، مولٰی کریم ان کے بھائی کو جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے اور قافلہ کی پر خلوص خدمت پر ان کے جان ، مال ، اولاد اور عزت و آبرو میں برکتیں نصیب فرمائے۔ وہاں سے روانگی کے بعد جب سفر کا اختتام ہوا تو نہ صرف جسم تھکاوٹ سے چور چور تھا بلکہ جب ہم جامعہ نصرۃ العلوم میں داخل ہوئے تو اذان فجر شروع ہو چکی تھی ، اللہ تعالٰی میرے سمیت اس اجتماع میں کسی بھی حوالہ سے شریک ہر ہر آدمی کی کوششوں اور کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے اور اس اجتماع کے مفید دینی ، قومی ، ملی اور سیاسی فوائد و ثمرات سے تمام اہل اسلام اور جملہ اہل وطن کو مستفید اور بہرہ ور فرمائے ، آمین یا رب العالمین۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *