ملک بھر میں گرمی کی شدید لوڈشیڈنگ، شارٹ فال 6600 سے تجاوز!

شارٹ فال کے باعث بڑے شہروں میں کم اور دیہی علاقوں میں زیادہ لوڈ شیڈنگ کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے: فوٹو: فائل

لاہور -گرمی کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں بجلی بحران شدت اختیار کرگیا ہے اور بجلی کی پیداواراور طلب کے درمیان فرق 6 ہزار 600 میگا واٹ تک جاپہنچا ہے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے بھی تجاوزکرگیا ہے۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ رواں برس موسم گرما میں عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کم رہے گا لیکن اس کے برعکس موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی ریکارڈ توڑ لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بجلی کی پیداوار13 ہزارمیگاواٹ جب کہ طلب 19ہزار600 میگاواٹ ہے۔ تربیلا اورمنگلا ڈیم میں پانی کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے بجلی کے کئی پیداواری یونٹ بند پڑے ہیں اوراسی وجہ سے بجلی کا شارٹ فال بڑھ رہا ہے۔

سندھ اورجنوبی پنجاب اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور اس سب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ بھی ان ہی علاقوں میں کی جارہی ہے۔ شہروں میں 14 جب کہ دیہی علاقوں میں 18 گھنٹے تک بجلی نہ ہونے سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ لاہور سمیت وسطی پنجاب کے شہری علاقوں میں 10 جب کہ دیہی علاقوں میں 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔  پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں بھی دس سے چودہ گھنٹے بجلی بند رہتی ہے، بلوچستان میں بھی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بڑھ گئی ہے۔

حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ پرعوام شدید غم و غصے میں مبتلا ہیں اور کئی شہروں میں لوگ بجلی کے سڑکوں پر آئے ہیں۔

واضح رہے کہ 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے بجلی بحران کے خاتمے کے وعدہ کی بنیاد پر ووٹ حاصل کئے تھے، موجودہ حکومت اب بھی دعویٰ کررہی ہے کہ 2018 تک ملک سے بجلی کا بحران ختم ہوجائے گا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *