میڈیا کا دستر خوان

’’اخبارات کے مالک اور پبلشرز امیر لوگ ہوتے ہیں اور تمام امیر لوگ ایک ہی کلب سے تعلق رکھتے ہیں۔ یقیناًمطبوعہ صحافت میں بہت مشکل اور جان توڑ مقابلہ ہے اور اخبار چلانے والوں کوسرکولیشن بڑھانے کے لیے نت نئی کہانیوں اور اچھوتی خبروں کی تلاش رہتی ہے۔ یہ خبریں اس حد ہو سکتی ہیں جہاں تک یہ اخبار کے مالک کی ساکھ ، حیثیت اور شہرت کو نقصان نہ پہنچائیں ، اور اگر کسی خبر سے مالک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو تو اس پر ’’مٹی پاؤ‘‘ کا اصول لاگوہوتا ہے۔‘‘
یہ پیراگراف کسی اقوالِ زریں کی کتاب سے نہیں، بلکہ فکشن سے ہے ، لیکن اس سے یہ زریں حقیقت ظاہرہوتی ہے کہ فکشن میں بھی سچائی ہو سکتی ہے ، بلکہ اس میں سچائی کا پہلو محاوروں سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ یہ پیرا گراف کو ریمنڈ چندلر کی کتاب سے لیا گیا ہے۔ ریمنڈ چندلر جدید جاسوسی کہانیاں لکھنے والوں میں مستند مقام رکھتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں ایک جاسوسی کردار فلپ مارلو نمودار ہوتا ہے۔ عام طور پراس کی کہانیوں کا موضوع بیسویں صدی میں لاس اینجلس میں ہونے والے جرائم اور دولت ہے۔ اس دنیا میں دولت اور جرائم کے درمیان بال برابر فرق ہے ۔ اس لیے وہاں ضرورت سے زیادہ زبان کھولنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ مارلو کو بہت زیادہ باتیں کرنے کی عادت ہے۔ جس وقت کی کہانیوں میں وہ موجود ہے اس وقت اخبارات بادشاہ گر ہوتے تھے۔ وہ دولت مندوں کو سیاسی اثرورسوخ استعمال کرنا اور اپنی تشہیر کرنا سکھا کر مزید دولت مند بنا دیتے۔
تیس کی دھائی میں ایک برطانوی وزیرِ اعظم نے اخبارات کو ’طوائف ‘‘قرار دیا تھا کیونکہ بقول ان کے ...’’اخبارات بغیر ذمہ داری اٹھائے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہیں‘‘...تاہم اس طعنے کی زد میں سیاست دان بھی آتے ہیں کیونکہ صحافی وزرائے اعظم کے ساتھ ویسا ہی رویہ اپنا سکتے ہیں جس کا طعنہ اس مذکورہ برطانوی وزیرِ اعظم نے دیا تھا لیکن یہ وزرائے اعظم ہیں جو ان کو اپنی خواب گاہ میں آنے کا موقع دیتے ہیں، صحافی وہاں زبردستی نہیں گھس سکتے ہیں۔ اس استعاراتی گفتگو کا جومرضی مطلب نکال لیں، ایک بات طے ہے کہ یہ میڈیا ہی ہے جو دولت کی دیوی کو اربابِ سیاست کے تعاقب میں لگا دیتا ہے۔ ہر جمہوریت میں ایک مخصوص گروہ کا ناجائز تعلق بہت سے ممنوعہ امکانات سے قائم ہوتاہے، اور اس میں کوئی اچپنے کی بات نہیں ہے۔
تبدیلی ہر صنعت کے لیے مضر ثابت ہوتی ہے ، چناچہ اخبارات بھی اس سے مبرّا نہیں ہیں۔ بہت سے دولت مند اخبار مالکان اپنے اخبارات کی بدولت غریب ہورہے ہیں۔ دورِ حاضر میں اس کی سب سے بڑی مثال مایہ ناز اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ ‘‘ کی فروخت ہے۔ اس کے مالکان، گراہم فیملی، نے اسے ایمزون کے مالک جیف بزوز کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں، جیسا کے بہت سے لوگ ماتم کناں دکھائی دیتے ہیں، کہ ’’خبر ‘‘ پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ غلط، خبر ابھی بھی ’’بزنس ‘‘ میں ہے ، یہ اخبار ہے جس کی مارکیٹ سرد ہو گئی ہے۔ بزوز نے جب اخبار خریدا ہے تو اس نے اسے چلانے کے لیے یقیناًاضافی سرمایہ بھی محفوظ رکھا ہوا ہے اور پھر وہ ایک ایسا شخص ہے جس نے معمولی حیثیت سے شروعات کرکے دولت کمائی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس نے دولت ’’معلومات ‘‘ کے بزنس سے ہی کمائی ہے۔ ہو سکتا ہے وقت کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اخبارات کی موجودہ ہیت تبدیل ہوجائے لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ یہ معلومات پہنچانے کا ایک ذریعہ ہیں اور انسانوں کو معلومات کی ضرورت رہے گی۔
مطبوعہ صحافت کو ایک ایسی کار قرار دیا جاسکتا ہے جس کے دوڈرائیور ہوں۔ اخبار مالکان پبلشر کاکردار ادا کرتے ہوئے صحافت کے میدان کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس کے ایڈیٹرز خود کو آزادسمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلارہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی اخبار کی ایڈیٹوریل ٹیم میں واقعی کوئی ایسی طاقتور شخصیت موجود ہو جو ہر دباؤ سے آزاد ہو لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ۔ ایڈیٹوریل ٹیم کے فیصلے اشتراکی اصولوں کے مطابق ہوتے ہیں... گویا سب شریک ، مگر کوئی بھی بااختیار نہیں۔
واشنگٹن پوسٹ اُس وقت میڈیا کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب بن گیا جب اس کے رپورٹرز نے واٹر گیٹ اسکینڈل کو فاش کیا اور ایسا کرتے ہوئے رچرڈ نکسن ، جس نے عوام سے بھاری مینڈیٹ لیا ہوا تھا، کو منہ کے بل گرا دیا۔ تاہم یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اگرچہ انوسٹی گیشن تو رپورٹرز نے کی تھی لیکن اس کا فیصلہ کیتھرائن گراہم اور ایڈیٹر بن بریڈلے نے ہی کیا تھا۔ اس کا نیا مالک بزوز ایک عقلمند شخص ہے۔ اس نے اس کا مینجنگ ایڈیٹر بوب ووڈ وارڈ، جس نے واٹر گیٹ اسکینڈل کے حوالے سے بہت شہرت پائی تھی، کو مقرر کیا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ صحافت میں کامیابی کا راز ساکھ میں ہے اور یہ ساکھ ہے جو کسی اخبار کو سٹال ویلو عطا کرتی ہے ورنہ اس میں تلی ہوئی مچھلی یا چپس ہی لپیٹ کر فروخت کیے جاتے ہیں۔ صحافیوں کی ساکھ اُنہیں پبلشرز کے لیے ناگزیر بناتی ہے ۔ اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پبلشر ز بھی صحافیوں کے لیے ناگزیر ہیں؟ یقیناًہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ صحافی حضرا ت سب کچھ جانتے ہوں لیکن وہ کاروبار چلانے کے طریقوں سے ناواقف ہوتے ہیں(اس کی مثال پاکستانی میڈیا میں بھی دیکھی جاسکتی ہے جہاں کچھ صحافی کسی اخبار سے الگ ہو کر اپنا اخبار نکال لیتے ہیں اور بری طرح ناکام ہوتے ہیں) ۔ بات یہ ہے کہ دیگر صنعتوں کی طرح اخبارچلانا بھی صنعت ہے۔ جسM J Akbar طرح ایک نئے اخبار، جیسا کہ ’’زی نیوز ‘‘نے منافع کمانا ہے، اسی طرح پرانے اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا ‘‘ نے بھی منافع کمانا ہے کیونکہ کسی بھی صنعت کو چلانے کی سب سے غرض وغایت یہی ہوتی ہے۔ اخبار مالکان چاہتے ہیں کہ صحافی اس بات کا ادراک کریں کہ ایک اخبار اُس وقت تک حکومت کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکے گا جب تک اس کے پاس وسائل نہ ہوں۔ چناچہ جب وہ ایسی کہانیاں نکالتے ہیں جو اخبار کے مالکان کے مفاد کو نقصان پہنچائیں تو انہیںیہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ ساکھ اور سرمائے درمیان نازک رشتے کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ جومیڈیا ھاؤس کیش اور ساکھ کے درمیان بیلنس کا خیال نہیں رکھ پاتے، وہ ناکام ہو جاتے ہیں۔ بھارتی میڈیا میں اس اصول کو فراموش کرتے ہوئے ناکامی سے ہمکنار ہونے والے اخبارات کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے۔ اس فہرست میں بڑے بڑے نام بھی شامل ہورہے ہیں لیکن وہ ’’شیئرز اور اختیارکی منتقلی ‘‘کے پردے کی آڑ لے رہے ہیں۔ ہمیں ان کے انجام کی آخری وقت تک خبر نہیں ہوتی، جیسا کہ واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ ہوا۔
تاہم ایک بات طے ہے کہ موجودہ مالکان زندہ رہیں یا نہ رہیں، میڈیا زندہ رہے گا۔ چاہے میڈیا انڈیا کا ہو یا امریکہ کا یا دنیا کے کسی اور ملک کا۔ معلومات کوئی شاہراہ پر بکھری ہوئی گر د نہیں کہ ہر کو ئی سمیٹ لے۔ اس کا حصول ایک فن ہے اور صحافی حضرات بہرحال فن کار ہیں۔ یعنی خبر اور خبروں کا کھوج لگانے والوں کی اہمیت باقی رہے گا، مسلۂ مالکان کا ہے ۔ مشکل یہ ہے کہ بہت امیر افراد، اپنے اور اپنے اخبار کے مفاد کے درمیان توازن پیدا کرنا نہیں جانتے، اخبار نہیں چلا سکتے ہیں۔ ایک اچھا اخبار مالک وہ ہے جو اس مرغی کو دانہ ڈالتا رہے جو سونے کا انڈا دیتی ہے، اُسے ذبع کرنے کی کوشش نہ کرے۔ میڈیا کے دستر خوان پر کوئی کھانا بھی آخری کھانا نہیں ہوتا ہے... گہرا جملہ ہے، ذرا غور کیجیے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *