پاکستان کے تاریخی لمحات کے چشم دید گواہ، معروف سفارتکار جمشید مارکر سے گفتگو

سید جعفر احمد

جمشید مارکر کے ساتھ بیٹھ کر ان سے بات کرنا ایک بہت ہی خوشگوار تجربہ ہے۔ وہ پاکستان کی تاریخ، ڈپلومیس، سیاست دانوں کی چالوں، ملک کی موسیقی، کلچر، کرکٹ اور ہر دوسرے شعبہ کے بارے میں معلومات سے اپنے سامعین کو مستفید کرتےہیں۔ ۹۴ سال کی عمر میں بھی ان کی یادداشت بہت اچھی ہے اور وہیل چئیر تک محدود ہونے کے باوجود وہ بہت سہولت کے ساتھ گفتگو کر سکتے ہیں۔ مارکر بہت سے ممالک میں پاکستان کے سفارت کار کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے پاس دنیا کے مختلف ممالک کے دارالحکومت میں موجودگی کے دوران حاصل کی گئی بہت سی معلومات اور یادوں کا ذخیرہ ہے۔ وہ پاکستان کے بہت سے تاریخی لمحات کے چشم دید گواہ ہیں اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو بھی انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ مارکر کو کرکٹ سے بھی بہت لگاو تھا۔ وہ عمر قریشی کے ساتھ پاکستان کرکٹ کے آغاز میں بہت اچھے کمنٹیٹر رہ چکے ہیں۔ ان دونوں کے بیچ بہت اچھی کیمسٹری تھی جس کی وجہ سے پاکستان میں کرکٹ بہت مقبول ہوئی۔ مارکر جن کا تعلق ایک پارسی بزنس خاندان سے تھا کو موسیقی اور آرٹس سے بہت پیار تھا۔

Jamsheed Marker at his home in Karachi | Malika Abbas, White Star

سید جعفر احمد: پچھلے کچھ سالوں میں بہت سی کتابیں ایسی آئی ہیں جن میں پاکستان کو ایک ناکام ہوتی ہوئی ریاست قرار دیا گیا ہے۔ آپ اتنی دیر پاکستان میں رہ کر کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہو گا؟

مارکر: تخلیق پاکستان کےو قت کچھ شکوک تھے کہ یہ ریاست اپنے پاوں پر کھڑی بھی ہو پائے گی یا نہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار نئی دہلی میں کچھ ہندو، مسلمان اور یورپی لوگ بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ یہ جولائی ۱۹۴۷ کی بات ہے۔ وہ اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ پاکستان کتنے عرصہ تک قائم رہے گا، چھ ماہ یا چھ سال؟ ایک شخص بولا کہ یہ لوگ صرف تین ماہ میں بھیک مانگتے ہوئے ہمارے پاس آ کر کہیں گے کہ ہمیں ساتھ رکھ لو۔ اس طرح کا رویہ بہت سے لوگوں کی طرف سے دیکھنے کو ملتا تھا۔ اس وقت ہمارے پاس کچھ نہیں تھا۔

یہ قائد اعظم کی ہمت اور حوصلہ تھا کہ انہوں نے اس ملک کو اپنے پاوں پر کھڑا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اپنے پاوں پر کھڑے ہوں گے۔ لیاقت علی خان کے پاس کمان تھی لیکن وہ اپنے اقتدار کو ایک مثالی طریقے سے چلا رہے تھے۔ دہلی سے میں کراچی آ گیا۔ راستے میں مجھے بہت سے مہاجرین کیمپ دکھائی دیے۔ سب سے سب لوگ خون میں نہائے ہوئے تھے۔ ان کے پاس کچھ ٹوٹے پھوٹے سوٹ کیس تھے لیکن وہ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ صورت حال کسی طرح بھی حوصلہ افزا نہیں تھی۔ بچے رو رہے تھے اور مائیں چلا رہی تھیں۔ لیکن ان لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا۔ ان سب کو امید تھی کہ پاکستان اپنے پاوں پر کھڑا ہو گا۔

احمد: قائد اعظم کی موت کے بعد اس جذبہ کی کیا صورتحال تھی؟

مارکر: ہمارے پاس لیاقت علی خان تھے جو پاکستان کی خدمت کے جذبہ سے سرشار تھے۔ انہوں نے پاکستان کے لیے ناقابل فراموش کام کیے۔ انہوں نے ہزاروں ایکڑ زمیں بھارت میں چھوڑ دی ۔ ان کا دہلی میں موجود گھر بہت اچھی لوکیشن پر واقع تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ پاکستان کے لیے کیا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی اور پاکستان کے لیے قربانی کی نئی مثال قائم کی۔ ان کے آخری الفاظ یہ تھے: اللہ پاکستان کو محفوظ رکھے۔

احمد: آپ لیاقت علی خان کو کیسے جانتے تھے؟

مارکر: کراچی ایک چھوٹا سا شہر تھا اور تقریبا ہر شخص ایک دوسرے کو جانتا تھا۔ ہماری بیگم راعنا لیاقت علی خان اور ان کے خاوند سے دوستی ہو گئی۔ لوگ ہمارا سب کچھ برباد کرنا چاہتے تھے ۔ ایک دن سارے خوش آمد کرنے والے لوگ لیاقت علی خان کے پاس آئے اور کہا: آپ کو ملٹری سیکرٹری کے طور پر ایک انگریز کو بھرتی کرنا چاہیے۔ آپ ان برطانوی اے ڈی سی میں سے کسی کو منتخب کر لیں۔ انہیں لگتا تھا کہ انگریزوں کے بغیر ہم ریاستی امور کو نہیں سنبھال پائیں گے۔ لیاقت علی نے کہا؛ میں پرائم منسٹر ہوں، ان معاملات کا فیصلہ میں خود کروں گا۔ مجھے کسی قسم کا تعاون نہیں چاہیے۔ اگر میں انگریز کو بھرتی کرتا ہوں تو ا سکا مطلب ہو گا کہ میں یہی پاکستان کے لیے بہتر سمجھتا ہوں۔ مجھے یہ وردیوں میں ملبوس گورے زیادہ ہوشیار نہیں لگتے۔

احمد: قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے دور میں بیورو کریسی نے ریاست کی طاقت پر کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا دیا۔ ایسا کیوں ہوا؟

مارکر: لیاقت علی خان کے پاس پورا اختیار تھا لیکن وہ اپنی اتھارٹی ایک مثالی طریقے سے استعمال کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک نظام کے تحت ہمیں کام کرنا ہوگا۔ اگر ان جیسے ۲ یا ۳ آدمی اور موجود ہوتے تو پاکستان بہت بہتر ہو جاتا۔ ہمارے قائدین پاکستان کو اپنے لیے ایک موقع سمجھتے تھے نہ کہ ملک کے عوام کے لیے ۔

احمد: آپ کی سرکاری عہدیداروں کے ساتھ پہلی ملاقات کب ہوئی؟

مارکر: یہ 40 کی دہائی کے اواخر کے ساتھ تھے۔ میں نیول سلیکشن بورڈ میں تھا اور بھارتی حکومت کے تحت کام کر رہاتھا۔ مرارجی دیسائی اس وقت ہوم منسٹر تھے۔ وہ پورباندر کے علاقے میں ہمارے کام کا معائنہ کرنے آئے۔ ہمارا دفتر ایک پرانے شیواجی فورٹ میں تھا۔ میری طرح دیسائی بھی گجراتی زبان بولتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے آزادی کے بارے میں پوچھا۔ تب ہمارے سلیکشن بورڈ میں ہندو، سکھ اور مسلمان شامل تھے ۔ میں نے اپیل کی کہ ہمارے بورڈ کو جوں کا توں رہنے دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ معاملات میں بہت زیادہ جانبداری آ چکی ہے۔

Jamsheed Marker (L) with Zulfiqar Ali Bhutto (R) | Courtesy Jamsheed Marker

میں نے پوچھا جب ہم سب لوگ چاہتے ہیں تو کیوں ایسا نہیں ہو سکتا؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی بہتر اور زیادہ عقلمند سیاستدان ڈھونڈنا ہو گا۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ان کے لیے کام کروں۔ انہوں نے کہا: تمہارا کیا پلان ہے ؟ میں نے کہا میں واپس کوئٹہ جانا چاہتا ہوں ۔ اس وقت میرا خاندان اور بزنس کوئٹہ میں تھا۔ تین نسلوں سے میرا خانداان کوئٹہ میں تھا۔ میرے آبا و اجداد انگریزوں کے ساتھ وہاں ٹھیکیداروں کی حیثیت سے گئے تھے۔ انہوں نے کہا: کوئٹہ پاکستان بننے والا ہے۔ میں نے کہا کہ جی ہاں کوئٹہ پاکستان بنے گا اور میں وہاں جاوں گا۔ یہی میرا ارادہ ہے۔

ہمارا کراچی کے علاقے کیماڑی میں شپنگ اینڈ کیمیکلز کا بزنس تھا۔ 1952 تک میں خود ڈرائیو کر کے کراچی سے کوئٹہ جاتا ااور اس دوران کبھی مجھے سکیورٹی کے مسائل کا سامنا نہیں کیا۔ ہم رات 10 بجے نکلتے ، رات سکھر میں گزارتے اور وہاں سے سبی اور پھر کوئٹہ پہنچتے۔ پورا سفر رات کا کرتے کیونکہ دن میں بہت گرمی ہوتی تھی۔ ہم کسی چیز سے نہیں گھبراتے تھے۔ اگر کوئی حادثہ ہو جاتا تو 10 منٹ میں 20 ڈرائیور مدد کےلیے پہنچ جاتے۔ بہت مختلف ماحول تھا۔ اس وقت رشوت خوری کا کوئی رواج نہیں تھا۔ کوئی رشوت کے بارے میں سوچتا بھی نہیں تھا۔

احمد۔ تقسیم کے وقت آپ مزید کن رہنماوں سے رابطہ میں تھے؟

مارکر: آئی آئی چندریگر، فضل الرحمان، خواجہ ناظم الدین کے ساتھ میرا رابطہ تھا۔ یہ سب بہت ہی مخلص لوگ تھے۔

احمد: کہا جاتا ہے کہ ناظم الدین نے لیاقت علی خان کی زندگی کے دوران کبھی بھی گورنر کے فرائض انجام نہیں دئیے۔

مارکر: یہ سب لوگ ایک ٹیم کی طرح کام کرتے تھے۔ ملک کر مسائل کا حل تلاش کرتے تھے۔ ناظم الدین زیادہ اہم آدمی نہیں سمجھے جاتے تھے لیکن وہ بہت شرمیلے اور ایماندار شخص تھے۔ اس وقت کوئی رشوت لیتا نہ اس بارے میں سوچتا۔ جیسا کہ میں نے بتایا، لیاقت علی خان نے تمام اعزازات اور جائیدادیں ترک کر دیں۔ بہت سے ہندو اپنی جائیداد یہاں چھوڑ گئے تھے اور بھارت سے بھی مسلمان اپنی جائیدادیں چھوڑ کر آئے تھے۔ خالی کی گئی جائیدادوں کے بارے میں ایک قانون بنایا گیا تھا۔ حکومت نے نمائندے تعینات کر کے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ چھوڑی ہوئی جائیدادیں ان لوگوں کو دی جائیں جن کے پاس کچھ نہیں ہے۔

احمد: الزامات سننے میں آئے ہیں کہ جھوٹے دعوے کر کے جائیدادیں ہتھیائی گئی تھیں۔ وہیں سے کرپشن شروع ہوئی تھی۔ کیا یہ سچ ہے؟

مارکر: جی ہاں، یہ کرپشن اسی دور میں شروع ہوئی تھی اور لیاقت علی خان نے اس کے خاتمہ کی انتہائی کوشش کی تھی۔ ہہم ان کے گھر لنچ کے لیے جا کر میٹنگ کرتے۔ وہ بہت باقاعدگی کے عادی تھے۔ ہر چیز شیڈول کے مطابق ہوتی تھی۔ ایک بجے لنچ بریک ہوتی تھی۔ ایک بار ہم پہنچ گئے اور وہ آدھا گھنٹہ لیٹ ہو گئے۔ رعنا لیاقت علی خان کو اس بات پر ناراضگی تھی۔ جب وہ آئے تو رعنا نے کہا کہ کتنی شرم کی بات ہے کہ ہمارے مہمانوں کو انتظار کرنا پڑا۔ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ لیاقت علی خان بہت پرسکون طبیعت کے مالک تھے لیکن وہ پہلا دن تھا جب میں نے ان کو غصہ میں دیکھا۔ انہوں نے کہا: تم نہیں جانتی میرے ساتھ کیا ہوا۔ یہ بیوروکریٹ ہمارا بیڑہ غرق کر دیں گے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہا کہ پراپرٹی ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری ان کے پاس ایک فائل لے کر آئے اور لیاقت علی خان کے نام زمین الاٹ کرنے کی فائل پر دستخط کا مطالبہ کیا۔ جب انہوں نے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا جائے تو جواب ملا کہ یہ آپ کا حق ہے۔ یہ تو اس سے کہیں زیادہ کم ہے جتنی آپ کو ملنی چاہیے۔ لیاقت علی خان نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو سامنے بہت سے ٹینٹ تھے جن میں مہاجرین بسے ہوئے تھے۔ انہوں نے فائل سیکرٹری سے لے کر باہر پھینکی اور کہا کہ پہلے ان لوگوں کو سیٹل کرو پھر یہ فائل میرے پاس لے کر آنا۔

Marker with former UN Secretary General Kofi Annan | Courtesy Jamsheed Marker

احمد:نان الائنڈ پالیسی کے مقابلے میں پاکستان کا مغربی بلاک جائن کرنے کا فیصلہ کس حد تک ٹھیک تھا جب محمد علی بوگرا پاکستان کے وزیر اعظم تھے ؟

مارکر: ہر کوئی یہ سوال پوچھتا ہے۔ اس وقت امریکہ سے دوستی ہمارے قومی مفاد میں تھی۔ دنیا بھر کے ممالک امریکہ کی طرف جھکاو دکھا رہے تھے کیونکہ امریکہ ہی سب سےزیادہ دولت مند ملک تھا۔ ایسا کرنے میں ہم نے بھارت سے سبقت لے لی اور یہ بہت اچھی ڈپلومیسی تھی۔ بھارت کو اس چیز سے بہت اشتعال تھا کہ ہم امریکہ کے ساتھی بن گئے ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔

احمد: آپ کو نہیں لگا کہ نان الائنڈ پالیسی پاکستان کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی تھی؟

مارکر: اس وقت کے حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کریں تو ایسا نہیں تھا۔ بھارت کی طرف سے بہت دباو تھا اور صرف اسی طریقے سے پاکستان بھارت کے سامنے کھڑا رہ سکتا تھا۔

احمد: بھارت کی طرف سے خطرہ حقیقی تھا یا ہم اسے حد سے زیادہ اہمیت دی گئی تھی؟

مارکر: خطرہ حقیقی تھا۔ بھارت نے واضح بتایا تھا کہ وہ پاکستان کو توڑ کر رہے گا ۔ پاکستان کو تباہ کرنے کی ہر طرح سے کوشش کی جا رہی تھی۔ اگر کرشنا مینن پنڈت نہرو کو منانے میں کامیاب ہو جاتا یا چین بھارت کو نہ دبا لیتا تو بھارت حملہ کر سکتا تھا ۔ قائد اعظم کی وجہ سے کوئی بھی ہندو انجینئر، سول سرونٹ یا سیاستدان پاکستان کے ساتھ شامل نہیں ہوا۔ اگرچہ مشرقی پاکستان میں بہت سے ہندو آباد تھے لیکن ہم انہیں پاکستانی تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اس دوران مشرقی اور مغربی پاکستان کے بیچ اختلافات بڑھنے شروع ہوئے تھے۔ دو چیزیں ایسی واقع ہوئیں جو بہت اہم تھیں۔ پہلی یہ کہ جناح نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا تھا۔ یہ بہت بڑی غلطی تھی۔ انہوں نے کچھ اور بھی بڑی غلطیاں کی ہیں۔ اسی غلطی کیوجہ سے استحکام پاکستان کے لیے کیا گیا سارا کام مٹی میں مل گیا۔ پھر فاطمہ جناح نے بھی ایسی ہی غلطی کی۔ مشرقی پاکستان کے لوگ پہلے ہی بہت حساس تھے اور مغربی پاکستان کو لوگ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

ایک بار ہم کرکٹ میچ دیکھنے ڈھاکہ گئے تھے۔ میں نے دوستوں کو کہا کہ پاکستانی کرکٹ کے لیے پاکستانیوں کے جذبہ کا مشاہدہ کریں۔ بہت سے بنگالی پاکستان کی سپورٹ کر رہے تھے ۔ اس چیز نے مجھے بہت حیران کیا۔ لیکن ہماری ٹیم میں ایک بھی بنگالی نہیں تھا۔ جب ہمارے لوگوں نے کہا کہ 'بنگالی کرکٹ نہیں کھیل سکتے' تو یہ ایک کمیونزم کی بہت بڑی مثال قائم ہو گئی تھی۔ کیا آپ نے کوئی ایسا ملک دیکھا ہے جہاں اقلیت اکثریت پر حاوی ہو؟

Marker (far-left) and his wife (far-right) pose with Ronald and Nancy Reagan | Courtesy Jamsheed Marker

احمد: اگر کرکٹ ٹیم میں بھی کالونیئل مائنڈ سیٹ موجود تھا تو کیا یہ مائنڈ سیٹ سیاست اور ریاستی معاملات میں نہیں پایا جاتا تھا؟

مارکر: جی ہاں، ہم بنگالیوں سے نفرت کرتے تھے اور ان کو حقیر سمجھتے تھے۔ بہت ہی تکلیف دہ صورتحال تھی۔ وہاں آبادی کا مسئلہ تھا۔ اقلیت اکثریت کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں تھی۔ ہم نے کبھی بنگالیوں کو دل سے قبول ہی نہیں کیا۔

احمد: ریاستی عمل میں آرمی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

مارکر: مغربی پاکستان کے لوگ اس چیز کے خود ذمہ دار تھے۔ انہوں نے اس ٹائیگر کو خود بڑا کیا اور اب ہم نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ آزادی سے قبل مسلم آرمی افسرڈھونڈنا بہت مشکل تھا۔ سینیر افسران انگریز یا ہندو تھے۔ یہ رسم آزادی کے بعد ختم ہو گئی۔

احمد: آپ پاکستان کی طرف سے بہت سے ممالک میں سفارت کاری کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں اور اتنے زیادہ ممالک کے سفارتکار آج تک کوئی اور پاکستانی نہیں بن پایا۔ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔

مارکر: جب بھی کوئی حکومت بدلتی تھی تو میں استعفی دے دیتا تھامیں فارین سروس میں نہیں تھا اس لیے میں نے کبھی خود اوپر جا کر سفارتکار کا عہدہ مانگنے کی کوشش نہیں کی۔

احمد: ۱۹۶۵ میں پاکستان کا جھکاو چین کی طرف ہو گیا اور امریکہ پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگا؟

مارکر: جی ہاں، اور امریکہ ہمارے اوپر دھونس جمانے لگا تھا۔ وہ ہمیں مجبور کرنے لگا کہ بھارت ایک اچھا ملک ہے ا سلیے ہمیں بھارت سے اچھے تعلقات رکھنے چاہیے۔

احمد: پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات کا اصل آرکیٹیکٹ کون تھا؟

مارکر: اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حسین شہید سہروردی تھے۔ بعد میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ماو کیپ پہن کر کردار ادا کیا۔

احمد: لیکن سہراوردی تو صرف ۱۳ ماہ تک پاکستان کے وزیر اعظم رہ سکے تھے؟

مارکر: چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں یہ بات اہم ہے کہ یہ تبدیل نہیں ہوئے بلکہ ان کو زیادہ اہمیت دی گئی جب ذوالفقار علی بھٹو وزیر خارجہ بنے۔ اس سے دنیا میں کافی ہلچل پیدا ہوئی اور بھارت نے بھی بہت واویلا کیا۔ بھارت میں کہا گیا کہ پاکستان مغرب کے سامنے غلامی کی روش اختیار کیے ہوئے ہے۔

احمد: آپ کا سہروردی کے اس فیصلے کے بارے میں کیا کہنا ہے جب ناوہں نے نہر سیوز کے معاملے میں مصر کے مقابلے میں مغرب کا ساتھ دیا؟

مارکر: انہوں نے کہا تھا کہ عرب زیرو پلس زیرو پلس زیرو ہیں اور ان کی بات صحیح تھی۔ عرب مکمل طور پر بے فائدہ ممالک تھے۔

احمد: کیا اس سے دنیا میں لوگوں کو اشتعال نہیں محسوس ہوا؟ اس وقت قومیت پسندی کا احساس تو عروج پر تھا؟

Marker with his wife | Courtesy Jamsheed Marker

مارکر: جی ہاں اس سے دنیا کو ہم پر غصہ تھا اور بھارت نے اس چیز کا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مغرب کی طرف ایک غلامانہ ذہنیت رکھتا ہے۔

احمد: 1969 میں بھٹو نے دی متھ آف انڈیپینڈینس لکھی جس میں انہوں نے بتا یا کہ ہم امریکہ سے دوستی میں حد سے آگے گزرے لیکن امریکہ نے متوقع رویہ اختیار نہیں کیا۔ ان کا تجزیہ کس حد تک ٹھیک ہے؟

مارکر: بھٹو کی پاکستان کے لیے خارجہ پالیسی بھٹو کے لیے بہت اچھی تھی۔ اگر گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں پاکستان کی کوئی پروا نہیں تھی۔ اگرچہ وہ پرو چائنا پالیسی میں مشغول تھے لیکن ان کا مقصد ذاتی مقبولیت حاصل کرنا تھا۔ انہیں وہ مقبولیت مل گئی اور چین نے بھی یہی کہا کہ یہ ہمارا آدمی بن سکتا ہے۔

احمد: لیکن بھٹو اکیلے حکمران تو نہیں تھے۔ وہ تین سال سے بھی کم عرصہ تک وزیر خارجہ رہے۔ میرا مطلب ہے کہ ایوب خان بھی تو تھے۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ بھی تھی اور یہ دونوں ادارے وزارت خارجہ سے زیادہ طاقتور تھے؟

مارکر: بھٹو ان دونوں کی بھر پور حمایت کرتے تھے کیونکہ بھٹو کو معلوم تھا کہ پاکستان کی طاقت جنرل ہیڈ کوارٹر میں ہی موجود ہے۔

احمد: اب ہم مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بات کرتے ہیں۔ آپ کے مطابق اس واقعہ کا ذمہ دار کون تھا؟

مارکر: یہ بتانا بہت آسان ہے۔ تین لوگ اس چیز کے ذمہ دار تھے۔یحیی خان، بھٹو اور شیخ مجیب الرحمان۔ ہر شخص اپنے لحاظ سے کردار ادا کر رہا تھا۔ اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔

احمد: مجیب سہراوردی کی جماعت میں تھے۔ وہ پاکستان توڑنے میں کیسے ملوث ہوئے؟

مارکر: کیونکہ انہوں نے بنگالیوں کو علیحدگی کے لیے تیار کر لیا تھا۔ جب مجیب اور سہراوردی کے بیچ ایک خوفناک بحث ہوئی میں وہیں موجود تھا۔ مجیب نے سہراوردی پر حملہ کرتے ہوئے پوچھا کہ انہوں نے کیوں 1955 میں الیکٹورل پیرٹی کو قبول کیا؟ انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کے پاس اکثریت ہے اور انہیں کے ہاتھ میں اقتدار ہونا چاہیے۔ انہوں نے بار بار 1940 کی قرارد اد کا حوالہ دیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت انہوں نے کیسے مل بیٹھ کر فیصلہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس طریقے سے بات بن سکتی تھی ۔ مسائل پیش آ سکتے تھے لیکن اتنا خون تو نہ بہتا۔

احمد: پارلیمنٹ میں اکثریت کی وجہ سے مجیب الرحمان پورے پاکستان کے وزیر اعظم بن سکتے تھے۔

مارکر: مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ممکن تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ انہیں بدنام کیا جا رہا تھا تا کہ وہ وزیر اعظم نہ بن سکیں۔ اگرچہ ان کا وزیراعظم بننا پاکستان کے لیے اتنا بُرا تجربہ نہ ہوتا لیکن ان کے بارے میں جو شور ڈالا جا رہا تھا وہ ٹھیک نہیں تھا۔

احمد: آپ کو لگتا ہے کہ ملک کا اقتدار ان کو دینا ایک غلط فیصلہ ہو سکتا تھا؟

مارکر: جب تک اس کا بلوچوں کے ساتھ اتحاد تھا ، پاکستان قائم رہ سکتا تھا۔ بلوچستان اور بنگال کے بیچ اتحاد پاکستان کو بچا سکتا تھا۔ لیکن یحیی خان طاقت اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے اور انہیں بھٹو کی بھی حمایت حاصل تھی۔ بھٹوکا ماننا تھا کہ بنگالیوں کو اقتدار دینے سے ملک کی سول ملٹری ارینجمنٹ خراب ہو جائے گی۔ انہیں معلوم تھا کہ صرف اسی طریقے سے وہ ملک کے حکمران بن سکتے تھے۔

احمد: آپ بھٹو دور کو کیسے دیکھتے ہیں؟

مارکر: تین واقعات نے پاکستان کی تاریخ بدل دی۔ پہلا واقعہ ایوب خان کا مارش لا تھا جو بہت پر امن تھا۔ لوگ خوش تھے۔ دوسرا واقعہ وہ تھا جب بھٹو نے پاکستانیوں کی سوچ بدل دی۔ نیو یارک کے ایک ٹیکسی ڈرائیور نے ایک بار مجھے بتایا: جناب انہوں نے ہمیں بولنے کی آزادی دلائی۔ تیسرا واقعہ ضیا الحق کا مارشل لا تھا۔ وہ دھیمے مزاج کے محب وطن پاکستانی تھے۔ ضیاء نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا لیکن اس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بھی بنایا۔ اگر وہ اور ائیر مارشل نور خان نہ ہوتے تو پاکستان ایٹمی ملک نہ بن سکتا۔

احمد: کیا بھٹو ایٹمی پروگرام کے خالق نہیں تھے؟

مارکر: یہ ان کے ساتھیوں کا دعوی تھا۔ وہ اپنے آپ کو پاکستان چائنا دوستی کا بھی خالق قرار دیتے تھے۔ دونوں معاملات پاکستان کو مضبوط کرنے کا باعث بنے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے چین سے پہلے بھی اچھے تعلقات تھے اور بعد میں ایٹمی پروگرام بھی ضیاالحق کا تھا۔

احمد: واپس اپنے پہلے سوال کی طرف چلتا ہوں۔ پاکستان کا مستقبل آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

مارکر: ہمارے سیاسی رہنماوں نے عوام کو نیچے گرا دیا ہے۔ جب تک یہ نظام چلتا رہے گا ہم نیچے کی طرف گرتے جائیں گے۔ ایک اور افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ بھارت کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات ہونے چاہییں۔ لیکن انڈیا ایسا نہیں چاہتا۔ ہمیں یہ حریفانہ پن ختم کر کے ذرائع کو ضائع کرنے کی روش ترک کرنی چاہیے۔

احمد: لوگ اکثر قائم اعظم کی 1947 کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک جمہوری اور سیکولر ملک بنانا چاہتے تھے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمارا ریاستی بیانیہ یہی ہونا چاہیے؟

مارکر: آپ اکیسویں صدی میں 12 ویں صدی جیسے خیالات کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ضیا الحق کے دور میں بینکرز کانفرنس میں میں نے ایک جرمن کو پوچھا کہ کانفرنس کیسی جا رہی ہے۔ اس نے کہا بہت بری حالت ہے۔ میں نے کہا کہ ایسا کیا ہے؟ اس نے کہا کہ 20ویں صدی میں ہم 14 ویں صدی کے بینکنگ کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔ اس میں مجھے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا اور نہ ہی اس میں ہماری کوئی دلچسپی ہے۔ اگر آپ اس طریقے پر چلنا چاہتے ہیں تو اللہ ہی آپ کا محافظ ہو۔

احمد: اگر ضیاالحق نے مذہبی بنیاد پرستی کی بنیاد رکھی تو پھر آپ انہیں اچھے کاموں کا کریڈٹ کیوں دیتے ہیں؟

مارکر: ایک چیز جس کا میں انہیں کریڈٹ دیتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ ایٹمی طاقت کے حصول کے لیے امریکہ کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ پاکستان تب تک امریکیوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے افغانستان کی طرح فرنٹ لائن ریاست بن کر رہنا چاہتا تھا۔ یہ ضیا الحق کی بہادری تھی یا پھر امریکیوں نے خود اس چیز کو نظر انداز کرنا مناسب سمجھا لیکن ہم کسی بھی طرح نیو کلیر پلانٹ مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔یہ ضیاالحق کا حوصلہ اور عزم تھا کہ امریکی انہیں جو بھی کہیں وہ پلانٹ پر کام جاری رکھیں گے۔ امریکہ اس کام کے لیےہمیں قتل تو نہیں کر سکتا تھا۔

احمد: ایک بیانیہ وہ بھی ہے جو قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر سے اخذ کیا جاتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ ایک اور بیانیہ ہے جس کے خالق صدر ضیا الحق ہیں جس کے مطابق پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے تھا۔ آپ کے خیال میں ہمارا مستقبل کونسے بیانیے کے ساتھ جڑا ہے؟

مارکر: میرے خیال میں یہ پاکستان کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ ہمیں اس طرح کے بنیاد پرست مائنڈ سیٹ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اب اگر ہم جہمہوریت کے نقطہ نظر سے بات کریں تو یہ قبول کرنا ہو گا کہ ہمیں ایک طاقت اس چیز پر آمادہ کر رہی ہے۔ اگر ہم اس چیز کو مسترد کرتے ہیں تو یہ بھی ایک تنازعہ بن جائے گا۔ ہم عوام کو غلط ڈگر پر چلا رہے ہیں۔ ہمیں ان کو سیکولر حصے کی طرف لے جانا چاہیے۔

احمد: اپنے کرکٹ کمنٹیٹر کے دنوں کو آپ کیسے یاد کرتے ہیں جب آپ عمر قریشی کے ساتھ کام کرتے تھے؟

مارکر: وہ میرے بہت اچھے دوست تھے۔ انہوں نے نہ صرف کرکٹ پاکستان میں لائی بلکہ اسے ساوتھ ایشیا میں بھی پھیلایا۔ یہ ہماری فطری طور پر پسندیدہ گیم نہیں تھی اور ہمارے کلچر سے بھی میل نہیں کھاتی تھی۔ یہ بہت مہنگا کھیل ہے۔

احمد: اگر میں آپ کو تین بہترین پاکستانی کرکٹرز کا پوچھوں تو آپ کیا کہیں گے؟

مارکر: آج کل میں کرکٹ نہیں دیکھتا۔ میرے پسندیدہ کھلاڑی عبد الحفیظ کاردار، فضل محمدو اور امتیار احمد تھے۔ لٹل ماسٹر حنیف محمد بھی میرے پسندیدہ کھلاڑیوں میں سے تھے۔ میں اس کھیل کے بدلتے ہوئے انداز سے بہت مایوس ہوں۔ کرکٹ کے آغاز کے دنوں میں کھلاڑی سفید لباس پہن کر گراونڈ میں جاتے نہکہ مسخروں کی طرح رنگ برنگے لباس میں۔

احمد: کرکٹ ایک کھیل ہی نہیں بلکہ اس کا تعلق اقدار سے بھی ہے۔ آپ اقدار کے حوالے سے کیسے دیکھتے ہیں؟

مارکر: اقدار تو بدلتی رہتی ہیں کیونکہ کرکٹ حال میں اپنی آپ کو سسٹین کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اب دیکھیے انگلینڈ میں کاونٹی کرکٹر کیسے بدل چکی ہے۔ کسی کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ کسی نے ڈینی کائے سے پوچھا جو امریکی مزاحیہ ایکٹر ہیں، کہ وہ لارڈز میں جب میچ دیکھنے گئے تو ان کا تجربہ کیسا رہا۔ انہوں نے کہا: میں نے کرکٹ دیکھی اور میں جانتا ہوں کہ یہ سچ نہیں ہے۔

http://herald.dawn.com/news/1153709/indians-were-furious-we-had-managed-to-secure-the-americans-first-jamsheed-marker

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *