کرپشن ہمارے اپنے اندر ہے

بے نظیر جتوئی

Pakistan1

2010 میں ایک شخص جس کا نام بوازوزئی تھا جو ایک نوجوان پھل فروخت کرنے والا شخص تھا نے بھرے مجمعے میں اپنے آپ کو آگ لگا دی۔ ان کے ایسا کرنے کی بنیادی وجہ ان کی بے یار و مدد گار حالت تھی۔ اس سے عوام میں اشتعال پیدا ہوا اور انہوں نے اپنے ساتھی کی موت کا بدلہ لینے اور اپنے ملک کی آزادی بحال کرنے کی ٹھان لی۔ بوزازئی کی موت تیونیزیا کا ٹپنگ پوائنٹ بن گئی۔ اس سے پورے معاشرے کا ضمیر جاگ گیا اور ایسی تحریک پیدا ہوئی جسے یاسمین ریوولیوشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس تحریک کے نتیجہ میں بین علی سے 24 سالہ اقتدار چھین لیا گیا۔ ایس انقلاب سے عرب سپرنگ کا آغاز ہوا۔

اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوا گا کہ اکبر جو تیسرا مغل حکمران تھا 1542 میں راج گدی پر تختہ نشین ہوا۔ پہلے چند سال وہ دوسرے حکمرانوں کی طرح ہی کام کرتا تھا۔ لیکن بیمار پڑنے کے بعد جب وہ صحتیاب ہوئے تو انہوں نے اپنے اقتدار کا طریقہ کار بدل دیا۔ 1578 سے 1605 تک کے دور حکمرانی کو انہوں نے تاریخ میں اپنے اقتدار کے طور طریقے کو عقلی بنیادوں پر بدل دیا۔ ایک مؤرخ ابراہم ایرالی نے اپنی کتاب 'Reason, not Tradition' میں لکھا کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ اکبر کا خیال تھا کہ ملک کی سیاسی اور سماجی اقدر اور قانونی اور ثقافتی رسومات پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔

اکبر نے ایک ایسا عبادت خانہ قائم کیا جس میں مختلف مذاہب کے علما مذاکرات اور بات چیت کےلیے جمع ہوتے تھے۔ اکبر ایک مسلمان لیڈر تھا جو سیکولر ریاست کے قیام کی کوشش میں تھا۔ اقتدار اور عوام کے ذریعے معاشروں کی تبدیلی کے تاریخ میں بہت سے واقعات موجود ہیں۔ بہت سے بادشاہوں اور حکمرانوں سے عوام نے اپنی طاقت کے بل پر جمہوریت حاصل کی۔ شمالی آئرلینڈ میں نسلی، سیاسی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مختلف طبقوں نے مل بیٹھ کر ایسے طریقے تلاش کیے جن میں وہ پر امن زندگی گزار سکتے تھے۔ قانونی اور انتطامی عدم مساوات سے عوام کی تحاریک اور انقلابات نے ایک آزاد ملک جنوبی افریقہ قائم کیا۔

ان تمام معاشروں کو کسی ایک واقعہ کی وجہ سے موقع ملا کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق تبدیلی لا سکیں۔ اہم واقعات ان کے لیے ٹپنگ پوائنٹ ثابت ہوئے۔ عوام اجتماعی اقدار، سیاسی طریقہ کار ، سماجی سیٹ اپ وغیرہ کے بارے میں سوال پوچھنے کےلیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ کیا ہم اس معاملے میں اپنی ہمت کھو چکے ہیں؟ کیا ہم اپنے طور طریقے بدلتے ہیں؟ کیا ہم عدل اور انصاف کے تقاضا کےلیے محنت کرتے ہیں؟ کیا ہم امن کی تلاش میں نکلتے ہیں؟ کیا پاکستان میں کوئی ٹپنگ پوائنٹ ہے؟ ذوالفقار علی بھٹو جو ایک منتخب وزیر اعظم تھے کو ایک جعلی ٹرائل کے بعد پھانسی دے دی گئی لیکن ا س واقعہ کو برداشت کر گئے۔ ان کی بیٹی کو دہشت گرد حملے میں قتل کر دیا گیا ۔ ان کے قتل سے بھی ہمارے اوپر کوئی اثر نہیں پڑا۔ سلمان تاثیر کو دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا لیکن ان کو لگنے والی گولیاں ہمیں جگا نہیں پائیں۔

خواتین اور مرد ایکٹوسٹ حضرات کے قتل کے واقعات، عزت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات، ناانصافیوں اور مشکلات کا شکار کسانوں کے حالات، 20 ملین بچوں کا سکول کی تعلیم سے محروم رہنا، ملالہ پر حملہ، آرمی پبلک سکول پر حملہ، بڑھتی ہوئی غربت، پڑوسیوں کے بچے کے لاپتہ ہوجانے کا واقعہ، یہ سب چیزیں ہمیں ابھارنے میں ناکام رہی ہیں۔ کوئی بھی چیز نہ تو ہمیں ہلا سکی، اور نہ ہم اشتعال انگیز ہو کر تبدیلی کے لیے اٹھ سکے۔ ہم اپنے مقصد پر سوال نہیں اٹھا رہے نہ ہی ہم اپنی ناکامیوں، اگلے مقاصد ، نئے راستے اور مستقبل کے بار ے میں کوئی سوالات اٹھا رہے ہیں۔

اور تب ایسا ہو گیا۔ مشال خان کو یونیورسٹی کے ہاسٹل کے کمرے سے گھسیٹا گیااور باہر لا کر اس پر گولیاں چلانے کے بعد جسمانی تشدد کیا گیا۔ لوگوں نے اس کی ویڈیو بنائی۔ اس کے جسم کی اس وقت تک بے حرمتی کی گئی جب تک اس کا جسم پوری طرح ایک بے جان چیز نہ بن کر رہ گیا ہو۔ ایک تعلیمی ادارے کے اندر جہاں نئے آئیڈیاز جنم لیتے ہیں، ان کو چیلنج کیا جاتا ہے اور ان کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے وہی ادارہ اس موقع پر سب سے خطرناک جگہ کا روپ اختیار کر گیا۔ اگر ایسا یونیورسٹی میں ہو سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کم ہوتا ہوا خلا اب بلکل ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ اس خلا کو نفرت، خوف اور برائی نے پوری طرح بھر دیا ہے۔ اب خاموشی نیا طریقہ کار بن چکا ہے۔ اب خیالات اور نظریات جان کے لیے خطرے کا باعث بننے لگے ہیں۔ اختلاف بہت خطرناک ہو چکا ہے۔ مزاحمت بے فائدہ بن چکی ہے اور کسی کی تصدیق نہ کرنا گناہ کہلاتا ہے۔ ہم نے معاملات کو کس قدر برائی کے راستے پر ڈال دیا ہے اس کی اندوہناک مثال مشال خان کا قتل ہے۔

سیاسی طور پر ہم نے ایوب خان اور ضیا الحق کے خلاف تحریک میں کچھ امید دیکھی لیکن ان مہمات کو سماجی اور ثقافتی اقدار کو آگے لے جانے میں بری طرح ناکامی ہوئی۔ خلا خوفناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ جن معاشروں میں انصاف کو اہمیت حاصل ہوتی ہے ان معاشروں کے لوگ دوسروں کی مدد اور خیال کا احساس اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ خاص طور پر انہیں ایسے لوگوں کی فکر ہوتی ہے جو بہت کمزوری اور تکلیف میں ہوں اور جنہیں مارجنلائز کیا جاتا ہو اور ظلم کا شکار بنایا جاتا ہو۔ قانون کی حکمرانی کا بنیاد انصاف ہے۔ جان رالز جو ایک مشہور اخلاقی ار سیاسی فلاسفر ہیں انصاف کو عدل سے تشبیہ دیتے ہیں۔ لیکن عدل ہمیں اس سے آگے جا کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ عدل کرنے والے لوگ ہجوم کی طرف سے کیے گئے انصاف کو رد کرتے ہیں اور عدالتی نظام کے ذریعے اصلی انصاف کو پروموٹ اور بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر مشال خان کی موت ہمیں تبدیلی کے دھانے تک نہیں پہنچا سکی توجہالت کے اندھیرے پھیلانے والی طاقتوں کے درمیان ہم کہاں کھڑے ہیں جیسا کہ مشال کے والد اقبال جان نے کہا کہ ہم صرف تباہی کے راستے پر گامزن ہیں۔ اس سے صرف یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ہم مشال خان کے خلاف اس تشدد کے واقعہ سے پوری طرح متفق ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں۔ چور ہمارے دلوں اور ذہنوں میں ہے۔ یہ ہمارے جاگتے خیالات اور خواب دیکھتے ہوئے اذہان میں پوشیدہ ہے۔ کرپشن ہماری زندگی کا اہم جز بن گئی ہے۔ ظلم کو چیلنج نہ کرنا اس لیے ہمیں آسان لگتا ہے کہ اپنے اندر سے ہم یا تو اس پر یقین رکھتے ہیں یا ہم سختی سے اس کی مخالفت نہیں کرنا چاہتے۔ یہاں بیچ میں کوئی اور چیز موجود نہیں ہے۔

ہمارا غصہ کہاں گیا۔ سیاسی رہنماوں نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرنے میں بہت دیر کر دی کیونکہ انہیں نظریاتی دشمنوں کا خوف تھا۔ واقعہ کو ہیڈ لائن میں جگہ ملی لیکن آہستہ آہستہ واقعہ کی خبر کو نچلے صفحات کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ ممبر کی طاقت کو کوئی چیلنج نہیں کر رہا۔ سینیٹ نے توہین مذہب کے قانون پر نظر ثانی کی تجویز دی ہے لیکن پاپولسٹ مائنڈ سیٹ کو کون اپیل کرے گا کہ وہ اپنے مائنڈ سیٹ پر نظر ثانی کریں؟ اس پر صرف غصہ اور اشتعال کا اظہار کر دینا کافی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ایک یاد کو جوڑنا ضروری ہے۔ پاکستان بہت زیادہ مزاحمت کرنے والا اور خطر ناک حد تک چیزوں کو فراموش کرنے والا ملک ہے۔

ہم لوگ اپنے دائیں بائیں اور سامنے والے لوگوں کو الزام دیتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارا سوشل اور سیاسی کرپشن ہمارے اندر پائی جاتی ہے۔ ہم اخلاقی طور پر کرپٹ ہیں اور اس چیز کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ غالب نے کہا تھا:

عمر بھر یہی بھول کرتا رہا، دھول چہرے پہ تھی اور آئینہ صاف کرتا رہا۔

https://tribune.com.pk/story/1390404/pakistan-tipping-point/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *