مرابصرہ ،مرا بغداد مولا!

Ashraf qجولائی کو یوں تو کئی بچے پیدا ہوئے ہوں گے، لیکن برطانوی شہزادہ ولیم اور اس کی بیوی کیتھرین کے ہاں جو بچہ پیدا ہوا، اس کی بات ہی کوئی اور ہے۔شہزادہ جارج الیگزینڈر لوئی اور برطانوی تخت و تاج کا تیسرے نمبر کا وارث، سینٹ میری ہسپتال لندن کے ایک خصوصی حصے میں پیدا ہوا، جس کا ایک رات کا کرایہ پانچ ہزار برطانوی پونڈ ہے۔اس مخصوص ”وِنگ“ میں پرائیویٹ سویٹ فراہم کئے جاتے ہیں، جن کے آرام دہ ماحول میں کوئی خلل ڈالنے کی جرات نہیں کر سکتا۔جیب اجازت دے تو اس ونگ میں پُرتعیش کمرے بھی ہیں، جن میں سیٹلائٹ ٹی وی پر دنیا بھر کے چیدہ چیدہ چینل دیکھے جا سکتے ہیں۔ریڈیو کے علاوہ بسترکے سرہانے ٹیلی فون اور فریج بھی موجود ہے۔کمرے کے مکین اور اس سے ملنے کے لئے آنے والوں کو انٹرنیٹ کی رسائی بھی حاصل ہے۔ہر صبح تازہ اخبار بھی کمرے کے اندر پہنچا دیا جاتا ہے۔حوائج ضروریہ کے لئے پرتکلف لوازمات موجود ہیں۔وائین(انگوری شراب) سے شوق کرنا چاہیں یا نومولود کا جام صحت تجویز کر چاہیں، خوشی میں شیمپین کے کاگ اُڑانا اور جھاگ اُچھالنا چاہیں تو اس کا انتظام بھی ہو سکتا ہے۔پیدائش کے عمل میں کوئی پیچیدگی واقع ہو تو اعلیٰ ترین سپیشلسٹ، گویا آواز لگانے کے منظر بیٹھے ہیں۔

شہزادہ لوئی کی پیدائش کی خوشی میں بکنگھم پیلس میں سکاٹ گارڈز کے بینڈ نے خوشی کی دھنیں بجائیں۔لندن کے ٹریفالگر سکوائر کے فوارے چھ دن تک نیلی روشنی کے ساتھ ٹھنڈی ہوائیں برساتے رہے۔ملکہ کے خصوصی گھڑ سوار دستے کے توپ خانہ اور توپ خانہ عام کی ایک اعلیٰ اعزازات کی حامل کمپنی نے نومولود شہزادے کو اکتالیس توپوں کی سلامی دی اور اپنی صدیوں کی روایت اور گزشتہ عشرے میں برقرار رہنے والے معمول کے برعکس اس بار اس گولہ باری سے کسی کی جان نہیں گئی۔شہزادہ ولیم ،کیتھرین، ملکہ عالیہ اور شاہی خانوادے نے اس خوشی کے موقع پر اپنے اپنے انداز میں مسرت و شادمانی کا اظہار کیا۔عین اس وقت 22جولائی کو فلوجہ، عراق میں ایک بچہ ہمام پیدا ہوا۔فلوجہ جو لندن سے میلوں کی دوری پر نہیں کائناتوں کی دوری پر محسوس ہوتا ہے۔زہریلے ہتھیاروں کے زہریلے دھوئیں، یورینیم،تابکاری، سفید فاسفورس کے مہلک اثرات اور دیگر کئی قسم کے ناقابل شناخت زہروں سے آلودہ فلوجہ میں پیدا ہونے والا بچہ ہمام دل کی ناقابل علاج پیدائشی بیماری کے ساتھ اس دنیا میں وارد ہوا۔فلوجہ میں پہلی بار 1991ءمیں خوفناک بمباری کی گئی۔اس کے بعد 2004ءمیں پھر اس شہر پر امریکہ نے غیرقانونی اور سخت مہلک ہتھیاروں سے بمباری کی ۔اس بچے ہمام کے پیدائشی نقائص میں سے ایک Omphalocaleہے،جس کا مطلب ہے۔اس بچے کے بعض اندرونی اعضاءاس کی ناف کے قرب و جوار کو پھاڑ کر باہر نکلے ہوئے ہیں۔اس کی دوسری بیماری Polydactylہے،جس میں ہاتھوں پاﺅں میں متعدد انگلیاں ہوتی ہیں۔اس بچے کو دیکھنا دل گردے کا کام ہے۔

برطانوی وزارت دفاع میں استعمال شدہ (Depleted)یورینیم (DU) کے سلسلے میں نگرانی کرنے والی کمیٹی میں شامل ڈاکٹر کرس بسبی (Dr. Chris Busby)نے فلوجہ کے بارے میں گہری تحقیق کی ہے۔ڈاکٹر کرس السٹر یونیورسٹی کے بائیو میڈیکل سائنس کے وزیٹنگ پروفیسر بھی ہیں۔پیدائشی نقائص والے عجیب الخلقت بچوں کے بارے میں تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے والدین کے بالوں میں باون قسم کے زہریلے مادے موجود پائے گئے ہیں۔ڈاکٹر کرس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماہرین کی ایک ٹیم کے ساتھ یہاں کی مٹی، دریائی پانی اور پینے کے پانی کا جدید ترین ٹیکنالوجی سے معائنہ کیا تو اس میں تابکار یورینیم کی بھاری مقدار پائی گئی۔

استعمال شدہ یورینیم وہ ہوتا ہے جو یورینیم کو افزود (enrich)کرکے ایٹمی ہتھیار بنانے کے عمل میں ذیلی پیداوار کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔اس میں افزودہ یورینیم کی نسبت تابکاری کم ہوتی ہے،لیکن یہ کم تابکاری بھی ساٹھ فیصد تک ہوسکتی ہے۔اس استعمال شدہ یورینیم کو غیر ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال کیا جارہا ہے۔بم کے گولے اور گولیاں بنانے میں اسے استعمال میں لایا جاتا ہے۔1991ءمیں فلوجہ پر ہونے والی بمباری میں امریکہ اور برطانیہ نے ایسا ہی گولہ بارود استعمال کیا۔اس کے بعدکے عشرے میں پھر فلوجہ پر بمباری کی گئی اور 2003ءمیں ہونے والی بمباری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں جو گولہ بارود استعمال ہوا، وہ استعمال شدہ یورینیم کانہیں تھا، بلکہ یہ کسی قدر افزودہ یورینیم تھا، جو ایٹم بم جیسے اثرات کا حامل ہوتا ہے۔اس سے فلوجہ کی فضائیں تابکاری سے بھر گئیں۔ڈاکٹر کرس کی تحقیق کا نتیجہ یہ کہتا ہے کہ مٹی پانی اور لوگوں کے بالوں میں پایا جانے والا یہی نیم افزودہ یورینیم ہے،جس سے طرح طرح کی پیچیدہ بیماریاںپیدا ہورہی ہیں اور پیدائشی نقائص کے حامل عجیب الخلقت بچے پیدا ہورہے ہیں۔فلوجہ پر ہونے والی بمباری کی مثال جنگ عظیم دوم میں جرمنی کے علاقے ڈریسڈن پر ہونے والی بمباری سے دی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر کرس کو پورا یقین ہے کہ پیدائشی نقائص والے عجیب الخلقت بچوں کی پیدائش اور وبا کی طرح پھیلنے والا کینسر اسی تابکاری کا نتیجہ ہیں۔داکٹر کرس کے مطابق یورینیم انسانی بالوں سے رستا ہے اور بالوں کی افزائش ایک تسلیم شدہ فارمولے کے تحت ایک سینٹی میٹر ماہوار کے حساب سے ہوتی ہے جس سے یہ تعین ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو یورینیم سے کب پالا پڑا تھا۔بالوں کے اس حساب کے مطابق تابکاری سے متاثر ہونے کا سال 2005ءبنتا ہے اور یہ یورینیم قدرتی طور پر پایا جانے والا یورینیم ہرگز نہیں ہے، بلکہ انسانی کوششوں سے افزودہ کیا ہوا یورینیم ہے۔ڈاکٹر کرس کے مطابق انہیں امریکی پیٹنٹ ہتھیار اور ایسے وار ہیڈز ملے ،جن میں یورینیم ان کی قوت بڑھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔تھرموبورک بم عام ہوا کی آکسیجن لے کر دور تک آگ بھڑکاتا ہے اور زبردست فضائی تموّجپیدا کرتا ہے۔ڈاکٹر کرس کی ٹیم نے 2006ءمیں لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد تحقیق کی تھی اور وہاں سے بموں سے پیدا ہونے والے گڑھوں میں سے افزودہ یورینیم کے ثبوت ملے تھے۔حالانکہ عالمی قوانین کے مطابق ایسے ہتھیاروں کا استعمال خلاف قانون ہے۔

ڈاکٹر کرس کا کہنا ہے کہ انہیں لبنان کے علاوہ غزہ میں بھی لوگوں کی کاروں کے ٹائروں اور فلٹرز سے افزودہ یورینیم کے ثبوت ملے تھے۔افغانستان اور بلقان میں بھی ان ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت پائے گئے ہیں اور خدا جانے انہیں اور کہاں کہاں استعمال کیا گیا ہوگا۔طبی ماہرین کے مطابق یہ مواد سخت خطرناک ہے اور انسانی جین کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔اب تک اس کے سبب کینسر، پیدائشی نقائص،خواتین میں اسقاط حمل اور مرد و خواتین میں بانجھ پن پیدا ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ مستقبل میں مزید نقصانات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ خیال ہے کہ لیبیا میں بھی ایسے ہتھیار استعمال کئے گئے تھے اور وزیرستان میں بھی ان ہتھیاروں کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ڈاکٹر کرس اور ملک ہمدان آریانی کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق فلوجہ میں پیدائش کے فوراً بعد مر جانے والے بچوں کی شرح بہت زیادہ ،یعنی اسی فیصد ہے، جبکہ اردن میں یہ شرح محض سترہ فی ہزار ہے۔معروف برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے گزشتہ برس فلوجہ کے جنرل ہسپتال کا دورہ کیا تھا۔وہ اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”فلوجہ کے جنرل ہسپتال کی بالائی منزل کے ایک کمرے کی دیوار پر ایک تصویر ابھرتی ہے۔(فسک پروجیکٹر پر فلم دیکھنے کی بات کررہا ہے) اور ہسپتال کے ایڈمنسٹریشن آفیسر نظم شکر الحدیدی کا یہ کمرہ ایک ڈراﺅنا منظر پیش کرنے لگا۔تصویر میں ایک بچہ دکھائی دیتا ہے، جس کا یہ بڑا سا خوفناک اور بگڑا ہوا منہ ہے۔ایک بچے کی ریڑھ کی ہڈی میں خرابی ہے اور اس کی پسلیاں اس کے جسم سے باہر نکلی ہوئی ہیں۔ایک بچہ خوفناک کہانیوں کے یک چشم بھوت کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ایک چھوٹا سا بچہ جس کا دایاں بازو آدھا تھا نہ اس کی ٹانگیں تھیں نہ تولیدی اعضاءایک مرا ہوا بچہ جس کی صرف ایک ٹانگ اور اس کا سر اس کے سارے جسم سے چار گنا بڑا تھا“۔

علاج نسواں کی ایک خصوصی برطانوی ڈاکٹر نے ان کے پیٹ میں بچوں کے پیدائشی نقائص کا پتہ چلانے کے لئے خود ہی جیسے تیسے کرکے نواسی ہزار پونڈز جمع کئے۔وہ سوال کرتی ہے کہ عراقی محکمہ صحت فلوجہ کے ان پیدائشی نقائص کی کثرت کو جانچنے کے لئے کوئی تعاون کیوں نہیں کرتا۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی تحقیق سے ان مہربانوں کے چہرے بے نقاب ہوتے ہیں، جنہوں نے یہ خطرناک اور غیر قانونی ہتھیار استعمال کئے اور عراقی حکمران انہی مہربانوں کی مہربانی سے تو اقتدار پر مسلط ہیں اور اسی اقتدار و اختیار کی بدولت دن رات ”مال“ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔مہربان ان کے مال بنانے سے تعرض نہیں کرتے تو وہ مہربانوں کی پریشانی کا سامان کیوں پیدا کریں؟

ڈاکٹر سندس نسائف کا کہنا ہے کہ نجف میں بھی یہ حال ہے کہ کسی ہسپتال میں چلے جائیں، وہاں عام نزلہ زکام بخار سے کہیں زیادہ کینسر کے کیسز دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن حکومت کا دباﺅ ہے کہ اس کا زیادہ چرچا نہ کیا جائے۔شاید اس لئے کہ اس سے اتحادی فوجوں کو شرم ساری ہو گی اور شاید یہ بھی کہ کوئی ہرجانے کا دعویٰ بھی کرسکتا ہے۔بصرہ میں 2005ءکے بعد پیدائشی نقائص میں سترہ گنا اضافہ ہوا ہے۔فلوجہ میں تو ہر دوسرا بچہ کسی خطرناک پیدائشی نقص کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع اور اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق امریکہ اور برطانیہ دونوں نے مل کر صرف دوماہ میں بُکتر بند گاڑیوں کو چھیدنے والے گیارہ سو سے بائیس سو ٹن گولے برسائے جو استعمال شدہ یورینیم سے تیار کردہ تھے۔یہ مارچ اپریل 2002ءکی بات ہورہی ہے۔یہ تو استعمال شدہ یورینیم کے استعمال کی تصدیق کی جارہی ہے۔افزودہ یورینیم کے استعمال کا اعتراف کون کرے گا؟1991ءمیں خود برطانوی ایٹمی توانائی ایجنسی نے وارننگ دی تھی کہ اگر پچاس ٹن تک استعمال شدہ یورینیم کے ہتھیاروں سے بمباری کی گئی تو اس کے باقی رہ جانے والے غبار سے 2000ءکے اواخرتک کینسر سے پانچ لاکھ اموات ہوں گی۔اس وقت اس ایجنسی کو نہ تو بعد میں برسائے جانے والے بموں کی تعداد و مقدار کا کوئی اندازہ تھا نہ یہ معلوم تھا کہ یہاں افزودہ یورینیم کے ہتھیار بھی استعمال ہوں گے عراقی وزارت صحت ہی نہیں عالمی ادارہ صحت WTOبھی ان ہولناک بیماریوں کے بارے میں حقائق کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔اس سلسلے میں ایک رپورٹ 2012ءتک آنا تھی جواب تک نہیں آئی۔اقوام متحدہ کے سابق اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل، ہانس وان سپونک کا خیال ہے کہ WTOبھی دباﺅ میں آ گیا ہے،کیونکہ امریکہ نے WTOکو جنوبی علاقوں کا سروے نہ کرنے کے لئے کہا تھا۔

2003ءمیں عراق سے اولین گرفتار ہونے والوں میں بغداد یونیورسٹی کی ڈین اور ماحولیات کی عالمی شہرت یافتہ بیالوجسٹ ڈاکٹر ہدا عماش بھی شامل تھیں، کیونکہ ان کا نام امریکہ کو انتہائی مطلوب Most Wantedلوگوں میں شامل تھا۔ڈاکٹر ہدا نے امریکہ کی میزوری یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا تھا اور انہوں نے استعمال شدہ یورینیم کے سلسلے میں بہت گہری تحقیق کی تھی۔ 1991ءکی بمباری کے بارے میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ یہ عالمی معاہدوں اور قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اس نام نہاد استعمال شدہ یورینیم (DU) کے بارے میں انہوں نے سائنسی ثبوت جمع کئے تھے ۔2002-3ءمیں ان کی تصنیف ”عراق محاصرے میں“ بہت مقبول ہوئی تھی،جس میں انہوں نے ان ہولناک ہتھیاروں کے استعمال پر دنیا کو توجہ دلائی تھی۔انہوں نے لکھا تھا کہ 1991ءمیں خلیج کی جنگ ختم ہوگئی، لیکن اس سے وابستہ تباہی کا عمل جاری ہے اور جانے کب تک جاری رہے گا۔کسی کو اس کا احساس نہیں کہ سارا عراق تابکاری کے مہلک اثرات کی زد میں ہے۔2003ءمیں جب انہیں گرفتار کیا گیا تو امریکہ کے کارپوریٹ میڈیا نے انہیں ”ڈاکٹر انتھراکس“ کا نام دے کر ان کی تضحیک کی اور ان کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی۔انہیں نومبر2009ءمیں رہائی ملی۔

رابرٹ فسک نے اپنے مضمون میں فلوجہ کے ناقص الاعضاءبچوں کی تصاویر چھاپیں اور لکھا کہ ”یہ تصاویر اتنی خوفناک ہیں کہ انہیں چھاپنا نہیں چاہیے تھا، لیکن ان بچوں کے والدین اپنا دکھ دنیا تک ہپنچانا چاہتے تھے۔یہ تصاویر زیادہ سے زیادہ پھیلنا چاہئیں، شائد اس کے نتیجے میں ان ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی لگ سکے۔اگر یہ ہتھیار پھر کبھی استعمال ہوئے تو عراق کی بدنصیبی کی کہانی پھر دہرائی جائے گی۔یہ تصویریں اس صدی کے ہیروشیما اور ناگاساکی کی ہیں جو مستقبل کی نسلوں پر بوجھ بنی رہیں گی“۔

شہزادہ لوئی کی ماں کا کہنا ہے کہ لوئی کی پیدائش ایک مسرت زا اور جذباتی طریقہ تھا۔ذرا عام اور اس جیسے دوسرے عراقی بچوں کی ماﺅں کا تصور کیجئے ، ان کے لئے ان ناقص الاعضاءبچوں کی پیدائش کیسا واقعہ رہا ہوگا۔ستم ظریفی دیکھئے نومولود شہزادے کے والد اور چچا فوج سے منسلک ہیں اور برطانیہ اور برطانوی فوج امریکہ اور امریکی فوج کے حلیف ہیں جو ان جنگی جرائم کے مجرم ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *