مائنڈ سیٹ

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

20ستمبر2008ء کو میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں ایک خود کش حملہ آور نے بارود سے بھرا ہوا ٹرک دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں 54افراد ہلاک اور 266زخمی ہوئے۔اس حملے کے قریباً ایک ہفتے بعد کسی ڈنر پر میری ملاقات ایک ڈاکٹر سے ہوئی ‘ یوں تو ڈاکٹر صاحب ماہر امراض سینہ تھے مگر بین الاقوامی سیاست میں بھی منہ مارنے کا شوق تھا‘ اس واقعے پر ڈاکٹر صاحب کا تبصرہ تھا کہ دراصل یہ حملہ ان امریکیوں پر کیاگیا تھا جو اس ہوٹل میں قیام پذیرتھے اور وہاں سے ڈرون آپریٹ کرتے تھے ‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بہت اچھا ہوا یہ امریکی اس حملے میں مر گئے ‘ تاہم جو دیگر بے گناہ پاکستانی جاں بحق ہوئے ان کے متعلق ڈاکٹر صاحب زیادہ فکر مند نہیں تھے کیوں اگر وہ بے گناہ تھے تو ڈاکٹر صاحب کے مطابق وہ سیدھے جنت میں جائینگے۔(واضح رہے کہ ڈاکٹر صاحب یورپ میں مقیم ہیں )!
3مارچ2009ء کو لاہور میں لبرٹی مارکیٹ کے گول چکر پر سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کیا گیا ‘ اس حملے میں چھ پولیس والو ں سمیت آٹھ افراد جاں بحق جبکہ سری لنکن ٹیم کے چھ کھلاڑی زخمی ہوئے ۔اس واقعے کے چند روز بعدکسی کام کے سلسلے میں ایک نیم سرکاری ادارے کے فنانس منیجر سے ملاقات ہوئی ‘ گپ شپ کے بعد سری لنکن ٹیم پر حملے کا موضوع چھڑ گیا ‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ اس منیجر کا کہنا تھا کہ یہ حملہ بھارت نے کروایا ہے تاکہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بند ہو جائے اور ہماری کرکٹ ختم ہو جائے ‘ موصوف کا اس بات پر پختہ ایمان تھا کہ ملک میں دہشت گردی کی تمام کارروائیاں را کرواتی ہے ‘ جو لوگ ان کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ‘ ذمہ داری قبول کرنے کی من گھڑت خبریں’’بکائو‘‘ میڈیا جان بوجھ کر چلاتا ہے۔
اپریل 2009ء میں سوات میں ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ایک لڑکی کو سر عام سڑک پر لٹا کر بھرے مجمع میں کوڑے مارے گئے‘ اس ویڈیو کلپ نے ملک بھر میں ہیجان برپا کر دیا ۔ چند روز بعد میری ملاقات ایک اخبار کے مدیر سے ہوئی جو کئی برس سے ایک ہی کرسی پر بیٹھے بیٹھے سینئر ہو گئے تھے ‘ سوات ویڈیو کے بارے میں پہلے تو انہوںنے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جعلی لگتی ہے ‘ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ دراصل یہ ویڈیو جاری کرنا ایک سازش ہے تاکہ سوات میں فوجی آپریشن کی راہ ہموار کی جا سکے‘ اس قسم کی ویڈیوز عموما ً مغرب زدہ این جی اوز خود بنواتی ہیں تاکہ اسلام کو بدنام کیا جا سکے ‘ لہٰذا ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے اور یوں اندھا دھند مغرب کی این جی اوز کے دبائو میں آ کر سوات میں آپریشن نہیں کرنا چاہئے۔یہی تبصرہ انہوںنے ایک ٹی وی چینل کو ’’بیپر‘‘ دیتے ہوئے بھی فرمایا۔
یکم جولائی 2010ء کو داتا دربار میں دو خود کش بم دھماکے ہوئے جن میں کم ازکم 42افراد جاں بحق ہوئے ‘ اس دھماکے نے ملک کی المناک تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ کر دیا۔چند دن بعد کسی ڈنر پر ایک ریٹائرڈ بریگیڈئیر سے ملاقات ہوئی ‘ ہم سب کی طرح بریگیڈئر صاحب بھی ملک کے حالات پر بہت فکر مند تھے ‘ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں درباروں ‘ مزاروں اور بازاروں میں دھماکوں کی جو نئی لہر آئی ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ان میں وہ گروپ ملوث نہیں جو بظاہر ان کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ‘ دراصل یہ سی آئی اے کی تکنیک ہے جس کے تحت پاکستان کا بازو مروڑ کر اسے مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ افغا ن سرحد کے قریب دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائیوں میں تیزی لائے تاکہ سرحد کے دوسری جانب نیٹو اور ایساف کی فورسز محفوظ رہ سکیں۔بریگیڈئر صاحب آئے روز دفاعی تجزیہ نگار کے طور پر چھوٹے موٹے چینلز پربرا جمان نظر آتے ہیں۔
9اکتوبر2012ء کو ملالہ یوسفزئی کو اس وقت گولی مار ی گئی جب وہ وین میں دیگر بچیوں کے ساتھ اسکول جارہی تھی ‘ ملالہ اس حملے میں زندگی اور موت کی کشمکش کے بعد معجزانہ طور پر بچ گئی تاہم طالبان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ دوبارہ ملالہ کو ماریں گے۔ملالہ پر حملے کے بعد میری ملاقات ایک مولانا سے ہوئی ‘ انہوںنے ملالہ کو ایک ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی تنظیمیں اکثر ایسے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں تاکہ ان کٹھ پتلیوں کے ذریعے اپنے عالمی ایجنڈے کی تکمیل کر سکیں‘ ان کا یہ بھی فرمانا تھا کہ دراصل ملالہ پر حملہ سی آئی اے کی سازش ہے تاکہ اس کی آڑ میں شمالی وزیرستان آپریشن کی راہ ہموار کی جا سکے۔ (دوسرے الفاظ میں ملالہ کو مارنے والوں نے اس لئے اُس پر حملہ کیا تاکہ ان کے خلاف شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا جا سکے )!
15دسمبر2012ء کو پشاور ائیر پورٹ پر حملہ ہوا ‘ اس حملے میں چار شہری جاں بحق جبکہ 30سے زائد مرد‘ عورتیں اور بچے زخمی ہوئے ۔کئی گھنٹوں کی لڑائی کے نتیجے میںدس حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کے بعد ہوائی اڈے کو خالی کروا لیا گیا۔اگلے روز میری ملاقات دبئی میں مقیم ایک سافٹ وئیر انجینئر سے ہوئی ‘ پشاور حملے پر موصوف کا تبصرہ تھا کہ حملہ آوروں کی لاشوں پر ٹیٹو کے نشانات سے بالآخر یہ ثابت ہو گیا کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی میں بلیک واٹر ملوث ہے ‘ دراصل یہ ساری گیم پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش ہے تاکہ ہمارے نیوکلیئر ہتھیاروں پر قبضہ کیا جا سکے‘ چونکہ ہم واحد مسلم ملک ہیں جس کے پاس ایٹم بم ہے اس لئے مغربی طاقتوں کو قبول نہیں۔ (گویا ہم نے نیو کلیئر ہتھیار پشاور کے ہوائی اڈے میں چھپا رکھے ہیں )!
2نومبر 2014ء کو واہگہ بارڈر پر ایک خودکش حملہ آور نے دھماکے سے خود کو اڑا لیا جس کے نتیجے میں60افراد جاں بحق اور 100سے زائد زخمی ہوئے ۔اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کے ایک پروفیسر سے گپ شپ کا موقع ملا ‘پروفیسر صاحب کو یقین تھا کہ حملہ آور سرحد کے اس پار سے آیا تھا ‘ یہ دھماکہ دراصل مودی سرکار کی طرف سے پیغام تھا کہ پاکستان کو cut to sizeکیا جائے گا ‘ اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ‘ ذمہ داری قبول کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ’’ہمارا اصل دشمن بھارت ہے !‘‘۔7جنوری2015کو صدر پاکستان نے آئین میں اکیسویں ترمیم کے بل پر دستخط کئے جس کے بعد یہ ترمیم آئین کا حصہ بن گئی‘ ترمیم کے نتیجے میں مذہب اور عقیدے کے نام پر بندوق اٹھانے والوں اور ریاست کے خلاف جنگ کرنے والوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائینگے۔پاکستان کی تمام جماعتوں نے بادل نخواستہ ہی سہی ‘ اس ترمیم کی حمایت میں ووٹ ڈالے ماسوائے دو مذہبی جماعتوں کے۔ان کے عمائدین کا کہنا ہے کہ مذہب اور عقیدے کا لفظ ترمیم میں شامل کرکے مغربی ایجنڈے پر عمل کیا گیا ہے اور اس کا مقصد دنیا میں اسلام کو بدنام کرنا ہے ۔گویا مذہب کے نام پر بچوں کا قتل عام کرنے والوں کے خلاف اگر آئین میں لکھ دیا جاتا ہے کہ ایسے اشخاص یا گروہ کے خلاف خصوصی عدالت میں کارروائی ہوگی تو یہ اقدام مذہب کی بدنامی کا باعث ہے !
2002ء میں شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور 2014ء میں اسکول کے بچوں کی شہادت کے درمیان 12برسوں کا نہیں بلکہ ایک ذہنیت(mind set) کا فاصلہ ہے ‘ اگر ہمیں یہ جنگ جیتنی ہے تو اس ذہنیت کو تبدیل کرنا ہوگا جو دہشت گردی کو اس ملک میں جواز فراہم کرتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *