’’شاہ بلوط، برگد اور مجید امجد‘‘

مستنصر حسین تارڑMHT

 

یہ جو گزر چکا دسمبر ہے بس یہی دن تھے، کرسمس کی چھٹیاں ہو چکی تھیں اور میں ساؤتھ اینڈ آن سی کے ساحلی قصبے میں نہیں جانتا تھا کہ آخر میں تنہائی اور یکسانیت کے یہ دن کیسے کاٹوں تو میں نے اپنا رُک لیک کاندھے پر بوجھ کیا اور کرسمس منانے کے لئے اپنے تئیں سوئٹزرلینڈ کے غیربرفانی قصبے زرماٹ تک جانے کا قصد کیا اور ظاہر ہے میں اپنے پلے سے سفر کے اخراجات کہاں ادا کرتا، ہچ ہائکنگ یا لفٹوں کے ذریعے وہاں پہنچنے کا ارادہ کیا۔ میں کنٹر بری کے شہر تک تو آسانی سے پہنچ گیااور مجھے کچھ خواہش نہ تھی کہ میں آرچ بشپ آف کنٹر بری کی انگوٹھیوں کو بوسہ دوں کہ ایک زمانے میں انگلستان کے بادشاہ یہاں کے آرچ بشپ کی مرضی کے بغیرسلطنت کے امور نہیں چلا سکتے تھے اور وہ جو ’’کلیسا میں قتل ‘‘ کا قصہ ہے۔ جب ایک بادشاہ ہنری نے اپنے عزیزاز جان عیاش دوست ’’بیکٹ‘‘ کو آرچ بشپ آف کنٹربری مقرر کردیا تھا اور پھر اسے قتل کروادیا تھا تو وہ بھی اس شہر کی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ بہرحال کنٹربری نے مجھ سے کچھ اچھا سلوک نہ کیا میں لفٹ کے انتظار میں سڑک کے کنارے ایک مدت کھڑا رہا اور میری ٹانگیں اکڑ گئیں لیکن میرے ساتھ ایک اور المیہ ہوگیا، فٹ پاتھ پر چلتا، جو بھی شخص میرے قریب آتا، مجھے غیرملکی پہچان کر ایک ہی سوال کرتا’’کیا آپ نے ہمارا ڈیڑھ سو برس قدیم شاہ بلوط کا درخت دیکھا ہے۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ وہ واقعی ڈیڑھ سو برس پرانا ہے۔ ہمیں اپنے کیتھڈرل پر اتنا فخر نہیں جتنا ہم اس شاہ بلوط پر نازاں ہیں، یہاں سے قریب ہی ہے۔‘‘
ایک بوڑھی اماں جان لاٹھی ٹیکتی آتی ہیں، ایک سکول کا بچہ، ایک مخمور نوجوان، ایک لڑکی اٹھلاتی مور کی چال چلتی اور سبھی کا ایک ہی سوال ہے، کیا آپ نے ہمارا ڈیڑھ سو برس پرانا شاہ بلوط کا درخت دیکھا ہے۔
ازاں بعد یہ ایک الگ داستان ہے بالآخر لنڈن کے ایک ہیئرڈریسر یعنی نائی نے ۔۔۔ اگرچہ گورے نائی نے جو اپنی تین عدد نائب نائنوں کے ہمراہ ایک فوکس ویگن میں سوار مجھے بھی کار میں ٹھونس لیا اور ایک جزیزے میں لے گیا جو گھونگھوں یا سیپوں کا جزیرہ کہلاتا تھا اور میں نے اس نائی اور تین نائنوں کے ساتھ ایک ساحلی چوبی جھونپڑے میں ایک شب بسر کی لیکن۔۔۔ وہ شاہ بلوط کا درخت میرے حواس پر سوار ہوگیا کہ یہ لوگ اپنے ایک قدیم درخت سے اس قدر الفت رکھتے ہیں، تب آتش جوان تھا اور جب یہ آتش سرد ہو رہی تھی تو ان زمانوں میں پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے ’’مارننگ شو‘‘ کے میزبان کے طور پر لاہور سے اسلام آباد تک کا آنا اور جانا بھی ہوتا رہتا تھا جو تقریباً آٹھ برس تک چلتا رہا۔ تب روات کے نواح میں پرانی سڑک کو ایک شاہراہ میں بدلا جا رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ پرانی جی ٹی روڈ کے کنارے جو قدیم برگد کھڑے تھے ان میں سے کچھ شاہراہ کو چوڑا کرنے کی خاطر مشینوں کی زد میں آکر زمین بوس ہو چکے ہیں، سینکڑوں برس قدیم برگد کے شجر، کنٹر بری شہر کے شاہ بلوط سے بھی بڑھ کر قدیم درخت کاٹے جا رہے ہیں اور مجھے محسوس ہوا کہ جیسے ہر برگد تلے ایک مہاتما بدھ گیان دھیان میں تھا اور اس کپل وستو کے شہزادے کو بھی بے دخل کردیا گیا ہے کہ جاؤ کہیں اور جا کر دھونی رماؤ، یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔
آپ کے علم میں ہوگا کہ ماہر نفسیات کسی شخص کی ذات کا کھوج لگانے کے لئے اس کے سامنے کچھ تصویریں رکھتے ہیں یا کوئی لفظ یا نام لیتے ہیں کہ فوری طور پر اس تصویر، نام یا لفظ کے حوالے سے آپ کے ذہن میں جو کچھ آتا ہے اسے بیان کر دیجئے تو اسی نفسیاتی منطق کے حوالے سے اگر آپ ایک ہندو سے کہیں کہ ’’بانسری‘‘ تو وہ فوراً کرشن کا نام لے گا۔۔۔ اگر ’’آگ‘‘ کا نام لیں گے تو ایک آتش پرست کے ذہن میں بلخ کے آتش کدے آئیں گے۔ صرف ’’دیوار‘‘ کہیں گے تو یہودی کے لئے ایک ہی دیوار گریہ ہے۔ ’’صلیب‘‘ پکاریں گے تو اس پر مصلوب عیسیٰ ہی کا نقش ہوگا۔۔۔ اور اگر وہ ماہر نفسیات ’’غار‘‘ کہے گا تو ہمارے لئے وہ صرف حرا کی غار ہوگی۔۔۔ رنگوں کا ذکر چھیڑے گا اور ’’سبزرنگ‘‘ کے نام لے گا تو ہمارے دل کے نہاں خانوں میں صرف سبز گنبد ہی تو جلوہ گر ہوگا۔۔۔تو اسی طور جہاں کہیں برگد کا کوئی بھی قدیم گھنا شجر ہوگا تو اس کے سائے میں بھلا مہاتما بدھ کے سوا اور کون ہوسکتا ہے۔
چنانچہ جس روز میں نے برگدزمیں بوس دیکھے اس سے اگلی سویر میں نے صبح کی نشریات کا آغاز ہی ان ابھی تک قائم برگدوں کے لئے آہ و زاری اور درخواستوں سے کیا اور اگلے کئی سویریں میں نے ان کے تذکرے کے لئے وقف کردیں۔ میرا گمان ہے کہ آج اگر روات کے قریب کچھ برگد اب بھی موجود ہیں تو کسی حد تک ان کی موجودگی میری آہ و زاری کی مرہون منت بھی ہے۔ اگر آپ کبھی روات سے گزریں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں شاہراہ ذرا بل کھاتی ہے تاکہ اس کے راستے میں آتے وہ شجر قائم رہیں۔۔۔ مہاتما بدھ بے دخل نہیں ہوئے۔
’’توسیع شہر‘‘ ہے اور مجید امجد ہے۔
’بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر، بانکے پہرے دار
گھنے، سہانے، چھاؤں چھڑکتے، بُور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار
جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم
گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار
کٹتے ہیکل، جھڑتے پنجر، چھٹتے برگ و بار
سہمی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار
آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اِک میری سوچ، مہکتی ڈال
مجھ پر بھی اب کاری ضرب اِک، اے آدم کی آل!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *