قندیل بلوچ کی زندگی پر فلم ، کیوں؟

فاطمہ مجید

قندیل بلوچ کی بائیو پک فلم نے انہیں ایک بار پھر ہمارے درمیان لا کھڑا کیا ہے۔ بے چینی اور بے تابی نے ہمیں ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کی کہانی ہی اتنی زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ اس نے ایک بار پھرعوام کو نئے مباحثے میں مشغول کر لیا ہے۔ یہ بحث بہت معمولی ہے اور لوگ اس بات پر گفتگو کررہے ہیں کہ آیا یہ کہانی بیان کی جانی چاہیے یا نہیں اور زیادہ تر لوگ کس چیز کے حمایتی ہیں یہ جاننے بلکل بھی مشکل نہیں ہے۔ اس پراجیکٹ پر بہت سے سوالات ذہنوں میں اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ کل میں نے ایکسپریس ٹی وی پر پاپ کارن نامی شو کا ایک حصہ دیکھا۔ اس شو میں بھی یہ بحث جاری تھی کہ کیا اس بائیو پک کے ذریعے قندیل کی موت کے ایشو کو اجاگر کیا جا رہا ہے یا یہ صرف عید پر پیسے کمانے کا ایک بہانہ ہے۔ یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اس کہانی کو کیسے ٹریٹ کیا جائے گا؟ کیا ان کو سلیبریٹ کیا جانا چاہیے، ان کو مظلوم دکھایا جانا چاہیے یا ان کی کہانی کو ایک سبق کے طور پر بیان کیا جانا چاہیے؟ اس سب کا جواب تو وقت کے ساتھ ہی پتا چلے گا لیکن بنیادی سوال اب بھی یہی ہے جو ان کی زندگی کے دوران اٹھایا گیا تھا ۔ کیا وہ اتنی توجہ کی حقدار ہیں؟ کیا ان کی کہانی بیان کی جانی چاہیے؟

لوگ تنقید کر رہے ہیں کہ ملک میں اتنے زیادہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ہوتے ہیں لیکن قندیل کے مقابلے میں کسی اور واقعہ کو میڈیا پر اتنی اہمیت کیوں نہ ملی؟ جنگی جرم کی طرح غیرت کے نام پر قتل، موسمیاتی تبدیلی، اور اس طرح کے دوسرے مسائل اب ہمارے لیے ایک غیر اہم معاملات بن چکے ہیں۔ ہمارے سوچ سمجھ کے احساسات غیرت کے نام پر قتل جیسے جرم کے اثرات سے مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں۔ یہ ان بیماریوں میں سے ایک ہے جن کی ہم مذمت تو کرتے ہیں لیکن ہمارے الفاظ میں کوئی خلوص نہیں ہوتا۔ ہم اپنے ملک میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والوں کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں اور جو جانتے ہیں وہ بھی صرف نیوز، کرائم شو اور ڈاکومنٹری کے ذریعے جانتے ہیں۔ ہر مظلوم کی شناخت کو خاندان کی خیر خواہی اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث مخفی رکھا جاتا ہے۔ لیکن اس بار مظلوم ایک ایسی خاتون تھی جو عوام میں اپنی پہچان رکھتی تھی اور بہت شہرت کی حامل تھی۔

قندیل کے قتل سے ایک ایسے مباحثے کا آغاز ہوا جس میں ہم میں سے کوئی بھی پڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس واقعہ سے بہت سے سوالات پیدا ہوئے جو اس سے قبل ہماری نظروں سے اوجھل تھے۔ کیا عزت کے نام پر ہمیں کسی کو قتل کرنے کا حق حاصل ہے؟

مظلوم کی تکلیف اور درد کو محسوس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان لوگوں کی کہانیوں سے واقف ہوں۔ہمیں چاہیے کہ ہم انہیں انسان کی حیثیت سے دیکھیں اور ان کی خوبیوں اور خامیوں کا مشاہدہ انہیں اپنے جیسا انسان سمجھ کر کریں۔ وہ صرف خیالات اور تصورات تک محدود نہیں ہونی چاہییں۔ ہمیں ان کی زندگی کے تجربات کو دیکھنا چاہیے اور محسوس کرنا چاہیے کہ وہ کس صورتحال کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے جو اس بائیو پک کو اہمیت کا حامل بناتی ہے۔

ڈاکومنٹری کے مقابلے میں بائیو پک میں کہیں زیادہ فن کی آزادی میسر ہوتی ہے۔اس زریعے سے لو گ ایسی کہانیاں بیان کر سکتے ہیں جنہیں معاشرہ کارپٹ کے نیچے چھپانے کی تگ و دو میں رہتا ہے۔ چونکہ بائیو پک بنانا ایک اہم آرٹ فارم ہے اس لیے پیغام ایک بڑے سکیل پر پیش کیا جا سکتا ہے اور لوگ ایسی کہانی پر اپنے نظریات پیش کرتے ہیں۔ اس سے ناظرین کو موقع ملتا ہے کہ وہ قندیل کو ایک انسان کے طور پر دیکھ سکیں اور یہ محسوس کر سکیں کہ مین سٹریم میڈیا کیسے ایک ہی پہلو کو نمایاں کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

ایک اور اہم چیز یہ ہے کہ اس پراجیکٹ کا اہم کردار صبا قمر نبھا رہی ہیں۔اس طرح کا پراجیکٹ لینا بہت ہمت کی بات ہوتی ہے خاص طور پر جب کردار معاشرہ میں متنازعہ سمجھا جاتا ہو۔ اس پر معاشرے کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا سکتا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب بھارت میں ان کی بالی وڈ فلم ریلیز ہونے والی ہے۔ میں اس جرات پر انہیں مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔ ان کی انسٹا گرام پوسٹ میں صبا قمر نے قندیل بلوچ کی ان الفاظ میں تعریف کی۔

ان کے پاس اتنی ہمت تھی کہ وہ دوغلےلوگوں کا پول کھول سکیں۔

فلم کی پرومو پکچر کو بہت دھیان سے ٹائٹل کیا گیا ہے جس میں لکھا ہے: ہم نہ تو قندیل کی عظمت بیان کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی انہیں قابل رحم ظاہر کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والی ایک مظلوم خاتون تھیں۔ قندیل کے کیریر پر عوام کے بیچ پائے جانے والے متنازعہ نظریات کو دیکھتے ہوئے اس پیغام میں الفاظ کا چناو قابل فہم ہے ۔ فوکس صرف بنیادی انسانی حقوق پر ہونا چاہیے نہ کہ متنازعہ امور پر۔

ظاہری طور پر عمیرہ احمد اس پراجیکٹ کو سپروائز کر رہی ہیں اور اگر یہ سچ ہے تو یہ پراجیکٹ کے لیے ایک بہت فائدہ مند چیز ہے۔احمد کے لیے یہ عام طرح کے پراجیکٹس سے ایک بریک کی حیثیت رکھتی ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے ، یہ فلم بہت زیادہ دلچسپ ہو گی۔

ہم امید کرتے ہیں کہ یہ بائیو پک قتل غیرت کے واقعات کو انسانی شکل دینے میں کامیاب ہو جائے گی۔

http://blogs.tribune.com.pk/story/49573/why-qandeel-balochs-biopic-is-important-for-todays-pakistan/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *