کیا پی ٹی آئی سیاسی نقصان کے لیے تیار ہے؟

رضا حبیب راجا

raza-habib-raja

جس طرح کوئی شخص سیاسیات میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتا ہو، میں بھی پاکستان کی سیاست کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کا جذبہ رکھتا ہوں۔اگرچہ میری ریسرچ کا تعلق جنڈر، مذہبی اقلیت اور کرنٹ افئیرز سے ہے لیکن میری سول ملٹری ریلیشن شپ پر توجہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان سول ملٹری تعلقات کے توازن کو برقرار رکھے بغیر مکمل سیاسی ادارے نہیں بنا سکتا۔ سول ملٹری عدم توازن کی موجودگی میں سیاسی پختگی اور سیاسی قیادت کی طرف سے استقلال کی ضرورت ہے۔ محض فو ج پر الزام لگا دینا کسی بھی طرح ایک صحیح قدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان کے معاملے میں سول ملٹری تنازعات کی ایک بہت بڑی تاریخ ہے جس کا آغاز آزادی کے پہلے عشرے سے شروع ہوتا ہے۔

یہ تنازعاتی تاریخ ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات پر فوج اور سیاسی قیادت کے بیچ اختلافات کے نتیجے میں شروع ہوئی جس کی وجہ سیاسی قیادت کی کمزوری اور ناپختگی تھی۔ 1977 میں بھٹو کی پھانسی کے بعد زیادہ تر عرصہ براہ راست یا بلواسطہ فوج کی سربراہی میں گزرا اور یہ سلسلہ 2008 تک جاری رہا۔ 2008 سے سول ملٹری بیلنس بہتر رہا اگرچہ اس دوران بھی فوج کا پلڑا بھاری نظر آیا۔ 2008 آٹھ کے بعد البتہ فوجی قیادت نے کسی حد تک پروفیشنلزم کا مظاہرہ کیا ہے اور جنرل کیانی اور راحیل شریف دونوں نے کشش کے نظر انداز کرتے ہوئے حکومتوں کو اقتدار سے محروم کرنے کا راستہ نہ اپنانے کو ترجیح دی۔ بتدریج، سول ملٹری عدم توازن کا خاتمہ ہوتا نظر آ رہا ہے اگرچ آج کل بھی بہت سے معاملات سے صورتحال بگڑتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک برا واقعہ ڈان لیکس کا تھا۔ اس سوال کے قطع نظر کہ اس لیک کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا، اس واقعہ نے حکومت اور ملٹری کے بیچ تعلقات میں سرد مہری پیدا کی۔

معاملہ اتنا آگے نہ بڑھتا اگر الیکٹرانک میڈیا کے کچھ اینکرز اور تحریک انصاف منفی کردار ادا نہ کرتی۔ پچھلے 7 ماہ میں پی ٹی آئی اور کچھ ٹی وی اینکرز نے بار بار اس معاملے کو اچھا کر حکومت اور فوج کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ چونکہ پی ٹی آئی جانتی ہے کہ وہ 2018 کے الیکشن نہیں جیت پائے گی، اس لیے ڈان لیکس اور پانامہ کیس کو اس جماعت نے اپنا آخری سہارا سمجھ لیا اور انہی دو ایشوز پر سیاسی کھیل جاری رکھا۔ پی ٹی آئی نے نہ صرف آرمی کو مداخلت کی براہ راست دعوت دی بلکہ حکومت کو ہٹانے کےلیے عدالتی نظام سے بھی مدد لی۔

عدالتی کاوروائی کے دوران پی ٹی آئی قیادت یہ امپریشن دکھانے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ فیصلہ ان کی حمایت میں ہی آئے گا۔ اپریل 20 کو پانامہ فیصلہ آنے کے بعد جب معلوم ہوا کہ یہ پی ٹی آئی کے موقف کی حمایت میں نہیں آیا تھا، پارٹی نے اپنا فوکس ڈان لیکس کی طرف کر لیا۔ اس بار فوج کی طرف سے ایک ٹویٹ نے اہم کردار ادا کیا۔ حکومت کی طرف سے ڈان لیکس تحقیقات کے بارے میں جاری ایک نوٹیفیکیشن پر آئی ایس پی آر نے یوں رد عمل ظاہر کیا:

ڈان لیکس کے بارے میں جاری کیا گیا نوٹیفیکیشن انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق مکمل نہیں ہے۔ اس لیے یہ نوٹیفیکیشن مسترد کیا جاتا ہے۔ اس ٹویٹ سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ سول ملٹری تنازعات بڑھ رہے ہیں اور پی ٹی آئی اور اس جماعت کی قیادت نے کچھ اینکرز کے ساتھ معاملے کو مزید بگاڑنا شروع کر دیا اور اس مقصد کے لیے دلیرانہ بیانات دیے۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے کوئی بھی نفرت کر سکتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ وزیر اعظم منتخب پارلیمنٹرین ہیں اور وہ پاکستان کے تمام عوام کے نمائندہ ہیں۔

آرمی کے ٹویٹ پر جشن منانا اور متنازعہ بیانات دینا غیر عقلی اور خطرناک معاملہ تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی بھی اس معاملے میں کود پڑے۔ پی ٹی آئی کی توقعات یہ تھیں کہ سویلین اور آرمی قیادت کے بیچ معاملہ بگڑے اور حکومت کو چلتا کیا جائے۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ موجودہ چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ نے سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے سویلین حکومت کے خلاف معاملہ بگاڑنے سے احتراز کیا ہے۔ تمام سمجھدار عوام اور سیاسی طبقات میں اس فیصلے کو ویلکم کیا گیا ہے کہ فوج اور سویلین حکومت کے بیچ کوئی بڑا معاملہ نہیں ہوا اور صورتحال بہتر ہو گئی۔

"حقیقت یہ ہے کہ ڈان ایشو کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں۔ انا کا مسئلہ بنا لینا ملک کے لیے اچھا نہیں ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ عقل سے کام لیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔" مرتضی علی شاہ۔

یہ حقیقت ہے کہ معاملے کا اسطرح پر سکون طریقے سے حل ہو جانا پی ٹی آئی کے لیے قابل قبول نہ تھا اور یہ ان کے رد عمل سے ظاہر ہو رہا ہے۔ ان کے پارٹی لیڈرز نے متنازعہ بیانات بھی جاری کرنا شروع کر دیے ہیں اور سوشل میڈیا ٹرالز بھی سر عام یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ یہ معاملہ کسی ڈیل کے نتیجہ میں حل کیا گیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے ملٹری کو گالیاں دینا شروع کر رکھا ہے اور فوج کو بکاو قرار دے دیا ہے۔

عجیب چیز یہ ہے کہ پاکستان ملٹری کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ فوجی قیادت نے ایک خطرناک صورتحال کو امن سے ٹھیک کر لیا۔ کچھ ایسے ٹویٹس بھی ہیں جن میں جنرل باجوہ اور میجر جنرل غفور کے خاندان کے بارے میں بھی ناجائز باتیں کی گئیں۔ یہ پاگل پن بہت پریشان کن ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی اور اس کے فالورز کا واحد مقصد حکومت پر قبضہ کرنا ہے اور اس مقصد کےلیے ہو صحیح اقدامات کو بھی متنازعہ بنانے سے گریز نہیں کریں گے۔

میرے خیال میں اس وقت پی ٹی آئی کو اہم معاملات پر توجہ دینی چاہیے تا کہ اگلے الیکشن کے لیے صحیح تیاری کی جا سکے۔ان کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ کے پی کے میں انہوں نے کیا ترقیاتی کام کیے اور موجودہ مرکزی حکومت کی خامیاں کیا رہیں۔ اگر وہ اصل معاملات کو سیاسی طور پر سامنے لائیں گے تو ان کو فتح مل سکتی ہے۔ البتہ ہر بار شاٹ کٹ کا سہارا لینا نہ صرف ملک کے لیے مسائل پیدا کرے گا بلکہ پی ٹی آئی کو سیاسی نقصان بھی اٹھانا پڑے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *