طلاق۔۔۔۔ایک بربادی کا عمل

انیسہ رضوانی

anisa rizwani

ہم سب جب دنیا میں آتے ہیں تو ہر لحاظ سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں۔ ہمیں زندگی کے تلخ حقائق کا اندازہ نہیں ہوتا۔ ہمیں تکلیف، غم اور کسی بھی دوسری چیز کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا۔ ہماری دنیا ہمارے والدین ہوتے ہیں ۔ اگر والدین کے بیچ علیحدگی ہو جائے تو بچوں کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔

میں آج بھی سمجھ نہیں پائی۔میرے والدین کی طلاق کو 16سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس عرصہ میں ایسے بہت سے سوال اٹھے جو اب تک میرے ذہن میں ہیں لیکن میرے پاس ان کا کوئی جواب نہیں ہے۔ جب طلاق ہوئی تو میں 8 سال کی تھی۔ میں ابھی بچی تھی لیکن مجھے ایک بڑے اور تجربہ کار شخص کی طرح بڑے فیصلے کرنے پر مجبور کیا گیا۔

اس وقت میرا بھائی صرف ۴ سال کا تھا اور اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ مجھ سے فیصلے کرنے کی توقع کی جا رہی تھی، ایسے فیصلے جو بچوں سے کبھی نہیں مانگے جاتے۔ میں نے ماں کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ میں ماں سے زیادہ مانوس تھی ۔ میرا بھائی والد کے ساتھ چلا گیا کیونکہ والد نے اسے اپنے ساتھ جانے پر راضی کر لیا۔

ایک لمبے عرصے تک میں بے گھر رہی اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ کس گھر کو اپنا گھر سمجھوں۔ مجھے عدالت کے چکر یاد ہیں۔ ان سب چیزوں کو یاد کر کے مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ وقت میرے لیے اور میرے والدین کے لیے کتنا خوفناک تھا۔

آج بھی جب میری ماں اور بھائی کی تکالیف کے بارے میں سوچتی ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ انہوں نے اتنی تکالیف اٹھائی ہیں کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ ان کے لیے ملنا بھی ناممکن ہو گیا تھا ۔ کسی بھی ماں کو بچے سے جدا کر دینا ایک چھوٹی بات نہیں ہے۔

مجھے آج بھی اپنے بھائی کا چہرہ یاد ہے جب وہ اپنی ماں کی یاد میں روتا تھا۔ اس کا چہرہ پیلا پڑ جاتا تھا، آنکھیں آنسو سے بھر جاتی تھیں اور میں اسے صرف تسلی دے پاتی تھی لیکن تسلی دینے کے لیے اسے میری ضرورت نہیں تھی۔بار بار عدالت کے چکر لگانے کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ بھائی دن کے لیے ہمارے ساتھ اور 15 دن والد کے ساتھ رہ سکتا ہے ۔ میری ماں نے اس کے بر عکس فیصلہ کیا تا کہ بھائی کو پاگل ہونے سے بچایا جا سکے۔ ماں کو معلوم تھا کہ بھائی کےلیے ادھر سے ادھر منتقل ہونا آسان کام نہیں ہو گا اس لیے انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر بھائی کے بھلے کے لیے اس کے حق میں فیصلہ کیا۔

بنیادی طور پر میں سوچتی تھی کہ والدین کی طلاق نے مجھے ایک مضبوط انسان بنا دیا ہے۔ میں نے اس ب چیزوں کے بارے میں سوچا جو مجھے اس واقعہ کی وجہ سے سیکھنی پڑیں ، کہ معاملے کو کیسے سمجھ بوجھ کر حل کرنا چاہیے، کیسے زیادہ عقلمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کیسے اپنا خیال رکھنا چاہیے۔

کسی نہ کسی طرح مجھے یہ احساس ہو چکا ہے کہ اس سے مجھے صرف طاقت ہی نہیں ملی۔ اس واقعہ نے بہت سی چیزوں کے بارے میں میرے خیالات بدل دیے اور سب سے بری چیز جو مجھے ملی وہ ایک خوف ہے۔ مجھے ایک خوف ہر وقت ستاتا ہے ۔ یہ ایک ایسا خوف ہے جو مجھے ہر وقت کسی انہونی کے واقع ہونے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ خوف اس معصومیت کو کھو دینے کا ہے جو میں اس دنیا میں آتے وقت اپنے ساتھ لائی تھی۔

میں جانتی ہوں کہ مجھے بہت جلدی میں بڑا ہونا پڑا اور میرا بچپن مجھ سے چھین لیا گیا۔ آج بھی میں اپنے بھائی کے ساتھ رہنے کے خواب دیکھتی ہوں، بلکل اسی طرح جیسے میں ماں باپ کی طلاق سے پہلے رہتی تھی۔مجھے آج بھی احساس ہوتا ہے کہ میں اپنی کامیابی اپنے والد کے ساتھ شئیر کروں، میں آج بھی خواہش رکھتی ہوں کہ میرا ایک گھرانہ ہو اور میرے ماں باپ اور بھائی میرے آس پاس موجود ہوں۔ میں آج بھی اپنی ماں کو خوش دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ وہ ایک اچھی زندگی کی حقدار ہیں۔

کسی ٹوٹے ہوئے خاندان سے تعلق ہونا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ یہ آپ کے لیے جسمانی سے زیادہ ذہنی تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ ایسے خاندان کا بچہ حقیقت کا سامنا کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو زیادہ تر دبی رہتی ہیں لیکن اچانک ایسی شکل میں سامنے آتی ہیں کہ آپ نے سوچا بھی نہ ہو۔

بہت سے لوگ ایسے ہیں جو جلد بازی میں شادی کر لیتے ہیں اور یہ فیصلہ کرنے سے قبل اپنے مستقبل اور بچوں کی منصوبہ بندی کو اہمیت نہیں دیتے۔ اگر صرف میاں بیوی ہوں اور وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ حالات کا سامنا کر سکیں۔ مسئلہ تب بنتا ہے جب بچے ان کے درمیان آ جائیں۔ بہت سے معاملات میں میاں بیوی سماجی اور خاندانی دباو کی وجہ سے بچے پیدا کرتے ہیں اور وہ ذہنی ، جسمانی اور مالی طور پر بچوں کی دیکھ بھال کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ٹوٹے ہوئے گھروں کے بچے بڑے ہو کر اپنی ٹوٹی ہوئی روح کو اٹھائے پھرتے ہیں ۔ وہ بہت جلد ہمت ہار جاتے ہیں اور نا امید ہو جاتے ہیں۔ بچوں کے لیے سب سے اہم چیز امید ہوتی ہے۔ اگر بچے امید کا دامن نہ چھوڑیں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ میری بات کا یقین کیجیے کہ میں یہ چھوٹی بات نہیں کر رہی۔ بچے پیدا کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری کی بات ہے۔ یہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے۔ ایک اولاد کی اچھی تربیت کرنا اور بچوں کو مستحکم بنانا ہمارے معاشرے کی بہت بڑی ضرورت ہے۔

سب سے مشکل فیصلہ جو مجھے کرنا پڑا وہ یہ تھا کہ ماں اور باپ میں سے کس کا انتخاب کروں کیونکہ اس کا مطلب ہی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا ہے۔ہمیشہ انسان کو ضمیر کی آواز پریشان کرتی ہے۔ کچھ عرصہ کے لیے یہ آواز دب تو سکتی ہے لیکن مر نہیں سکتی۔ یہ اس وقت ابھر آتی ہے جب آپ کو اس کا خیال تک نہیں ہوتا۔

بچے چاہتے ہوئے یا فطری طور پر اپنے والدین کی پیروی کرتے ہیں چاہے انہیں کچھ بھی سمجھا دیا جائے، ایک دن وہ اپنے والدین کے نقش قدم پر چل کر وہی غلطیاں کر ہی بیٹھتے ہیں جو ان کے والدین نے کی ہوتی ہیں۔

میں یہ نہیں کہتی کہ ایک ٹوٹے ہوئے گھر کا ہر بچہ بڑا ہو کر نفسیاتی مریض ہی بنتا ہے لیکن زیادہ تر بچوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ زیادہ احتیاط سے کام لیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *