کیا ایوب دور میں پاکستان عظیم ریاست تھا؟

زید ظفر

پچھلے ہفتے اپنے جلسہ میں عمران خان نے اپنے کارکنان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کا وہ دور یا د دلایا جب پاکستان ایک با عزت ملک قرار دیا جاتا تھا۔ خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کے کارکنان اسوقت بہت چھوٹے تھے اس لیے شاید ہی انہیں اس دور کے بارے میں کچھ یاد ہو لیکن ایک وقت تھا جب امریکہ کا صدر پاکستانی صدر کو خود خوش آمدید کرنے ائیر پورٹ تک آیا تھا۔ انہوں نے بڑے فخر کے ساتھ جملہ دہرایا کہ ایسا بھی وقت ہوتا تھا۔ عمران خان یہ کہانی اکثر بیان کر کے یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کی حالت کس قدر ابتر ہو چکی ہے اور ملک کی موجودہ قیادت کس قدر نا اہل ہے۔

July 1961 - Dinner in honor of the Kennedys, given by Mohammad Ayub Khan, President of Pakistan, at the Mayflower Hotel.

ان کا اشارہ ایوب خان کے 1961 کے دورہ امریکہ کی طرف تھا جب فیلڈ مارشل نے کینیڈی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات بنا رکھے تھے ۔ ہم سب نے اس دور کی تصاویر دیکھی ہیں۔ ایوب خان نے کاک ٹیل پارٹی، شاہی محلوں میں کھانے کی تقریبات، سموکنگ جیکٹس کا استعمال، جودھ پور میں صدر کینیڈی کی بیوی کے ساتھ گھڑ سواری اور صدر ایف کینیڈی کے ساتھ مختلف جگہوں میں اچھا وقت گزارا جس سے ایوب خان نے بہت تعریفیں سمیٹیں۔

یہ صرف عمران خان ہی نہیں ہے جو پچھلے کئی سال سے ہماری اخلاقی گراوٹ کا رونا رو رہے ہیں ۔ ایک بار مبشر لقمان نے ایک پورا شو کیا جس میں انہوں نے ایوب اور نواز شریف کے دورہ امریکہ کا تفصیلی موازنہ کیا جس میں انہوں نے موجودہ وزیر اعظم کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ایک ٹریفک سارجنٹ جیسا معمولی شخص قرار دیا۔

پروٹوکول سے تنگ اینکرز جن میں مبشر لقمان جیسے لوگ شامل ہیں کو جاننا چاہیے کہ خارجہ امور کے اہلکاروں کے دوروں کے پانچ مختلف درجے ہوتے ہیں۔ ایک ریاستی دورہ جیسا کہ ایوب خان نے امریکہ کا دورہ کیا تھا اسے سب سے بڑا درجہ حاصل ہوتا ہے اور یہ دورہ صرف ریاست کا سربراہ کر سکتا ہے۔ ایک آفیشل ورکنگ وزٹ جو نواز شریف نے کیا ہے یہ ایک معمولی نوعیت کا ہے۔ 70 سال میں پاکستان نے صرف تین بار ریاستی دورہ کیا ہے جن میں سے دو بار ایوب خان اور ایک بار ضیاء الحق نے کیا تھا جو دونوں فوجی ڈکٹیٹر تھے۔ کچھ لوگ شاید یہ خیال کریں یہ امریکہ کے بارے میں اتنا ہی اہمیت رکھتا ہے جتنا یہ ہمارے لیے اہمیت کا حامل ہے۔

Ayub Khan playfully ‘slapping’ US President Lyndon B. Johnson

قوم کو باعزت اورا آزاد بنانے کا خیال جس کے ذریعہ ملک دنیا میں اپنا مقام خود پیدا کر پائے بہت پر کشش نظر آتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کا سچ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم عمران خان اور مبشر لقمان کی امریکہ پاکستان پالیسی کی گہرائی کو سمجھنے سے قاصر ہیں لیکن ہمیں شک ہے کہ وہ اس معاملے کو گہرائی میں جا کر دیکھنے کی خواہش ہی نہیں رکھتے۔ امریکہ کا اتنا سخت ناقد ہوتے ہوئے بھی عمران خان کو اس حقیقت کا ادرایک نہیں ہے کہ ایشیا میں اس دور میں پاکستان کی کیا حالت تھی جس کی وہ ہمیشہ تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔

جب اس بر اعظم کا باقی حصہ کالونیلزم کی زنجیروں سے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش میں تھا اسوقت ایوب خان واشنگٹن کیمپ میں گھس گئے اور امریکیوں کو خوش کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ انہیں خوف تھا کہ منتخب حکموت پاکستان کو نان الائنڈ خارجہ پالیسی کی طرف نہ دھکیل دے۔ ایوب نے پہلی کابینہ میٹنگ میں بات کرتے ہوئے کہا تھا جہاں تک آپ کا سوال ہے، اس ملک کے لیے صرف ایک سفارت خانہ اہمیت رکھتا ہے اور وہ ہے امریکی سفارت خانہ۔

شاید خان صاحب کو یہ معلوم نہیں ہے کہ سی آئی اے کو پہلا ائیر بیس پاکستانی حکومت نے مشرف دور میں نہیں بلکہ ایوب دور میں دیا گیا تھا۔لیکن یہ سب ٹھیک ہے کیونکہ وہ لوگ ایوب کو ائیر پورٹ پر خوش آمدید کرنے آئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ اینٹی امریکہ ہونے کا دعوی کرنے والے ایوب خان کے اقدامات کوکیسے درست قرار دے دیتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی کائنات میں حقیقت کسی چیز کا نام ہی نہیں ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اقتدار کی لالچ ہر طرف پھیل رہا ہے ۔ عمران خان کا بیانیہ نہ تو لبرل ہے اور نہ ہی قدامت پسند۔ بلکہ اسے ری ایکشن کی سیاست کا نام دیا جاتا ہے۔

رد عمل کے بیانیہ کے حامی لوگوں کے خیالات پر مبنی مضامین کے ایک مجموعہ جس کا عنوان ہے : The shipwrecked Mind: On Plitical Reaction میں مشور مؤرخ مارک لیلا نے militancy of his nostalgia کے اصلی ری ایکشنری مارک کے طور پر شناخت کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ری ایکشنری لوگ قدامت پسند نہیں ہیں۔ وہ انقلابی شخصیات کی طرح ریڈیکل ہیں ۔ ان کی کہانی ایک اچھی ریاست کے قیام سے شروع ہوتی ہے جہاں لوگ امن اور اتحاد کے ساتھ رہ رہے ہوں اور انہیں اپنی حیثیت کا اندازہ ہو۔ پھر عجیب و غریب نظریات اس اتحاد اور مطابقت کو چیلنج کرنے لگتے ہیں اور طاقتور طبقہ کی گرفت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ جہاں کچھ لوگ وقت کو ہاتھوں سے نکلتے دیکھتے ہیں اور دوسرے لوگ جنت کے ملبہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے بہتا دیکھتے ہیں۔

President John F. Kennedy and First Lady Jacqueline Kennedy with President of Pakistan, Muhammad Ayub Khan, at Hammersmith Farm

ایک قومی کہانی کے طور پر یہ بیانیہ بہت سے پاکستانیوں کو بہت پر کشش نظر آتا ہے اور اس کی جڑیں اسلام سے قبل بہت سی تہذیبوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔انقلابی طبقہ کی طرف سے ایک اچھے دور کی توقع کی جا رہی ہے جب کہ ری ایکشنری عوام یہ خیال کر تے ہیںکہ اچھا دور گزر چکا ہے اور اسے لوٹانا بہت ضروری ہے۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو قدامت پسند نظر آتا ہے نہ کہ ترقی پسند۔ ٹرمپ کی طرح عمران خان کا پیغام یہ ہے کہ صرف وہ پاکستان کو ایک بار پھر عظیم بنا سکتے ہیں لیکن ایسا کرنے کے لیے انہیں چاہیے کہ ہمیں یاد دلائیں کہ ہم پہلے کب عظیم تھے جو وہ ہمیں دوبارہ سے عظیم بنانا چاہتے ہیں۔

جیسا کہ ایک دوست نے کچھ دن پہلے کہا : عمران خان کو کون یاد لائے کہ کبھی ہم بھی خوبصورت تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *