کہیں سے سورج نکل پڑے

رؤف طاہرrauf

محترمہ آمنہ مسعود جنجوعہ اور میاں افتخار حسین، دونوں کے دکھوں کی نوعیت مختلف ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے دونوں (انگریزی محاورے کے مطابق) ایک ہی صفحے پر تھے۔ دونوں نے ’’غم جاناں‘‘ کو جہاں بھر کا غم بنا لیا اور یوں اِن کا دُکھ ، اِن کا غم، یاس و نااُمیدی کی بجائے عظیم تر کاز کیلئے توانائی، حوصلے اور جذبے کا باعث بن گیا۔ جناب ایس ایم ظفر اور ہماری بھابھی محترمہ مہناز رفیع کی ہیومن رائٹس آف پاکستان، ہیومن رائٹس کے لئے نمایاں خدمات پر ہر سال چار، پانچ شخصیات کے لئے ایوارڈ کا اعلان کرتی ہے جن کا انتخاب ایوارڈز کمیٹی کرتی ہے۔ کوئی دو درجن شخصیات پر مشتمل اس کمیٹی میں ریٹائرڈ جج اور ممتاز قانون دان بھی ہیں اور معروف و محترم ارباب علم و دانش بھی۔ کمیٹی نے 34 ویں سالانہ ایوارڈز کے لئے جن شخصیات کا انتخاب کیا، ان میں میاں افتخار حسین بھی تھے اور محترمہ آمنہ مسعود جنجوعہ بھی۔
آمنہ مسعود جنجوعہ لاپتہ افراد(مسنگ پرسنز) کی بازیابی کے لئے جدوجہد کے باعث اس ایوارڈ کی مستحق قرار پائی تھیں۔ اس جدوجہد میں انہیں جن کٹھن مراحل کا سامنا کرنا پڑا، یہ وہی جانتی ہیں۔ یہ برسوں پہلے کی بات ہے، جنرل مشرف کے دورکی بات، جنہیں صدر بش (جونیئر) نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنا ’’نان نیٹوالائی‘‘ قرار دیا تھا۔ تب کتنے ہی لوگ لاپتہ ہوئے۔ کسی کو اس کے دفتر سے اُٹھا لیا گیا، کوئی راستے میں اچک لیا گیا، کسی کے دروازے پر رات گئے دستک ہوئی، اس نے دروازہ کھولا اور تب سے یہ دروازہ کھلا ہوا ہے کہ جانے والا جانے کس لمحے لوٹ آئے۔ ان میں سے بعض امریکہ کے حوالے کر دیئے گئے اور ڈکٹیٹر کے اپنے اعتراف کے مطابق اس کے عوض امریکہ سے ’’ملینز آف ڈالر‘‘ وصول کئے گئے۔ (آٹو بائیوگرافی ’’اِن دی لائن آف فائر‘‘ کا پہلا ایڈیشن ۔ بعد کی اشاعتوں میںاس بات کو حذف کر دیا گیا)۔ اِن میں سے کوئی بگرام(افغانستان) کی اذیت گاہ میں پایا گیا، کسی کی خبر گوانتاناموبے سے آئی۔ بہت سے وہ تھے، جن کا کوئی اتا پتہ نہ تھا۔ انہیں زمین کھاگئی ، یا آسمان نگل گیا۔ پُراسرار طور پر لاپتہ ہوجانے والے اِن افراد کے لواحقین کی نظریں، ان کی ماؤں، بہنوں، بیویوں، بیٹیوں اور بیٹوں کے کان اپنے اپنے گھر کے بیرونی دروازے پر لگے رہتے۔ کسی بھی آہٹ پر، ہوا کے کسی بھی جھونکے پر وہ چونک جاتے کہ ’’انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا‘‘۔اِن میں آمنہ کے شوہر انجینئر مسعود جنجوعہ بھی تھے۔ آمنہ اِن کی تلاش میں نکلی، اس نے ایک ایک دروازہ کھٹکھٹایا۔ پھر ایک دِن یہ راز کھلا کہ وہ تنہا اس المیے سے دوچار نہیں، اس دہشتِ بے اماں میں اور بھی ہیں، جو اپنے پیاروں کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔ اس نے اِن سب سے رابطے کی ٹھانی اور انہیں ایک تنظیم میں پرو لیا۔
یہ دسمبر 2006 کے اواخر کی سرد ترین سہ پہر تھی ۔ وہ ان سب کے ساتھ راولپنڈی کی ایک شاہراہ پر پہنچ گئی۔ تب کچھ آزاد ٹی وی چینلز بھی وجود میں آچکے تھے۔ اِن چینلز کی اسکرین پر اور اگلے روز کے اخبارات میں ایک تصویر کتنے ہی ناظرین اور قارئین کو تڑپاگئی۔ ایک نوعمر لڑکا پولیس کے چھ، سات شیر جوانوں کی زد میں ہے، ٹراؤزر اس کے پاؤں میں پڑا ہے، ایک سپاہی اس کی برہنہ ٹانگوں پر لاٹھی مار رہا ہے اور وہ اپنے کمزور و ناتواں ہاتھوں سے سپاہی کا لٹھ بردار، طاقتور ہاتھ روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا گریبان ایک اور شیر جوان کے ہاتھ میں ہے۔ کچھ اور تصویریں بھی تھیں۔ پلے کارڈ اُٹھائے ہوئے ایک بچی کی نگاہوں میں عجیب سے کیفیت ہے حسرت اور تلاش۔۔۔ اس کے پلے کارڈ پر لکھا تھا، uncle, let my baba come back
یہ ایک خاتون ہے۔ سر کو اسکارف سے ڈھانپے اور پورے جسم کو شال میں لپیٹے یہ خاتون، لیڈیز پولیس کی گرفت میں ہے۔ خاموش ہونٹوں کے ساتھ، اس کی آنکھوں میں، اس کے چہرے پر دُکھ ، محرومی ، اُمید اور عزم کی ملی جلی کیفیات ہیں۔
ہم کو دیکھو ہم انہیں کھو کر بھی اب تک زندہ ہیں
کیسے کیسے حادثے دُنیا میں سہہ جاتے ہیں لوگ
تب افتخار محمد چوہدری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے، انہوں نے ٹی وی اسکرینوں پراور اخبارات کے صفحات میں یہ مناظر دیکھے تو سوموٹو نوٹس لئے بغیر نہ رہے۔ کہا جاتا ہے، اسٹیل ملز کی فروخت پر ان کے حکمِ امتناعی کے بعد ، یہ دوسرا مسئلہ تھا جس پر وہ صدر مشرف کے لئے ناقابلِ برداشت بننا شروع ہوئے۔آمنہ مسعود جنجوعہ اور ان کے شریک ِ غم رفقاء کی جدوجہد اور سپریم کورٹ کی ازخود کارروائی کے نتیجے میں کئی لاپتہ افراد بازیاب ہوگئے لیکن بہت سے اب بھی لاپتہ ہیں۔ ان میں انجینئر مسعود جنجوعہ بھی ہیں۔ اسٹیج سے آمنہ کا نام پکارا گیا تو ہال میں تالیوں کی گونج تھی، بہت سے لوگ ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے تھے۔ آمنہ مسعود کا کہنا تھا، ٹیررازم کے خلاف جنگ میں ہم سب ایک صفحے پر ہیں۔ 21ویں ترمیم اور اس کے نتیجے میں بننے والی فوجی عدالتوں کے حوالے سے آمنہ کا خیال تھا کہ اب لاپتہ افراد کا سلسلہ تھم جائے گا۔ ان کا مؤقف تھا، دہشت گردوں ، ان کے سرپرستوں اور مددگاروں کو سزاضرور ملنی چاہئے۔ ان کا مطالبہ صرف یہ رہا ہے کہ کسی نے جرم کیا ہے تو اسے لاپتہ کرنے کی بجائے، عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔ وہ مجرم ہے تو سزا پائے، بے گناہ ہے تو رہا کردیا جائے۔
میاں افتخار حسین، خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں وزیر اطلاعات تھے۔ اے این پی دہشت گردوں کا خصوصی ہدف تھی۔ اس کے کتنے ہی وابستگان دہشت گردوں کا نشانہ بنے لیکن اے این پی کی قیادت اور کارکن دہشت گردی کے خلاف محاذ پر پہاڑ کی مانند ڈٹے رہے۔جناب افتخار حسین کا جواں سال بیٹا دہشت گردی کا نشانہ بن گیا، وہ افتخار حسین کی اکلوتی اولاد ہی نہیں، اپنے دادا کا اکلوتا پوتا بھی تھے کہ افتخار حسین کے دیگر بھائی اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔ افتخار حسین کے لئے یہ صدمہ بے پناہ تھا۔ خود وہ بھی ہِٹ لسٹ پر تھے لیکن ہَٹ کے پکے افتخار حسین کے قدم ڈگمگائے، نہ دہشت گردوں کے خلاف ان کی زبان میں لکنت آئی۔اے این پی کے سینئر منسٹر بشیر بلور بھی اس جنگ میں کام آگئے۔ ایوارڈ کی وصولی کے بعد جناب افتخار حسین کا کہنا تھا، ہمیں دہشت گردی کی اس جنگ کو کامیابی کے ساتھ انجام تک پہنچانا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے جن واقعات کا سامنا ہوا، کوئی اور ملک ہوتاتو ختم ہوچکا ہوتا۔ پاکستانی قوم جن صدمات سے گزری یہ اسی کا حوصلہ تھا، کوئی اور قوم ہوتی تو کب کی ڈھیر ہوچکی ہوتی۔ 16دسمبر کے سانحۂ پشاور کے حوالے سے انہوں نے پرنسپل طاہرہ قاضی کا بطورِ خاص ذکر کیا، جو اپنی جان بچا سکتی تھیں لیکن اپنے اسکول کے بچوں کو بچانے کیلئے ڈھال بن گئیں اور اسی میں جاں سے گزر گئیں اور قارئین! آخر میں امجد اسلام امجد کی نظم کا ایک ٹکڑا جس کے ایک ایک مصرعہ پر اُنہوں نے بے پناہ داد پائی۔
یہ رات اپنے سیاہ پنجوں کو جس قدر بھی دراز کرلے
میں تیرگی کا غبار بن کر نہیں جیوں گا
کرن ہوکتنی نحیف لیکن کرن ہے پھر بھی
یہ ترجماں ہے کہ روشنی کا وجود زندہ ہے
اور جب تک یہ روشنی کا وجود زندہ ہے
رات اپنے سیاہ پنجوں کو جس قدر بھی دراز کرلے
کہیں سے سورج نکل پڑے گا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *