OBORچینی ورلڈ آرڈر کا آغاز۔۔۔

hussain-javed-afroz

جی ہاں اب چین انگڑائی لے چکا ہے۔ عالمی منظر نامے میں بالا آخر چین نے ایک لمبی جست لگا ہی لی جس کی کافی عرصے سے امید کی جارہی تھی ۔رواں ماہ14 اور15 مئی کو بیجنگ میں ہونے والے ابور منصوبے کو دنیا کے سامنے آشکار کیا جا چکا ہے ۔اس منصوبے نے بین الاقوامی تعلقات کو ایک نیا رنگ دیا ہے ۔ابور یعنی ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ بلاشبہ عالمی سطع پر ایک کایا پلٹ منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے عالمی سیاست پر دورس اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ سویت یونین کے انہدام کے بعد سے دنیا میں امریکہ کی بطور سپر پاور حیثیت مسلمہ ہوچکی تھی اور دنیا میں توازن طاقت کا پہیہ خصوصاٰ نائن الیون کے بعد خاصا متاثر ہوچکا تھا ۔لیکن اب دنیا ایک بار پھر ملٹی پولر مظہر کی جانب گامزن ہو چکی ہے ۔ روس اور چین اہم ترین عالمی کھلاڑی بن کر ابھرے ہیں ۔یوں یونی پولر کا تصور اب دھندلاتا ہوانظر آتا ہے ۔آج دنیا باہمی تعاون اور باہمی ا نحصار کی جانب مائل ہو رہی ہے ۔اورپرانی رقابتیں ،رفاقتوں میں بدل رہی ہیں ۔اب خطہ جیو پالیٹکس کے مدار سے جیو اکنامک مدار میں داخل ہونے کے مراحل طے کر رہا ہے ۔ایسے میں چین کی جانب سے پیش کردہ ابور منصوبہ عالمی سیاست کے منظر نامے میں گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا استحصال کے بجائے ترقی کے چینی نعرے سے متاثر ہو کر اس کی جانب دیکھ رہی ہے ۔چین کے اس ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کو چینی ورلڈ آرڈر بھی قرار دیا جارہا ہے جس میں ترقی میں شراکت داری کے اصول کو کلیدی حیثیت حاصل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ شی جن پنگ کا یہ وژن ساری دنیا کو اپیل کر رہا ہے ۔ ۔ مہلک ہتھیاروں اور بموں کی ماں کے بجائے عالمی تجارت ،معیشت اور سیاست کا ادغام چین کی نئی پالیسی اوبور کا کلیدی نقطہ ہے ۔اردگان کے مطابق یہ حقیقی عالمگیریت کی جانب قدم ہے ۔29حکومتوں اور سر براہان مملکت سمیت 40سے زائد ممالک کے ترجمانوں اور کئی اہم عالمی کمپنیوں کے نما ئندوں کو ون بیلٹ ون روڈ فورم کے تحت اپنی قیادت میں اکھٹا کر کے چین نے بھر پور طریقے سے ثا بت کر دیا ہے کہ ابھرتے ہوئے نئے معاشی اور عالمی نظام میں چین کا کردار فیصلہ کن ہو گا۔

Image result for one belt one road

مجموعی طور پر68ممالک ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا حصہ ہیں۔جن کا عالمی جی ڈی پی میں حصہ40فیصد ہے۔چین ان 68ممالک میں لگ بھگ 150ارب ڈالرز کی سرما یہ کاری بھی کر رہا ہے۔ شمار کے مطابق1 کھرب ڈالرز پہلے ہی ون بیلٹ ون روڈ پرخرچ کئے جا چکے ہیں۔اوبور پلان کے تحت دو راستوں سے تجارت کو فروغ دیا جائے گا ۔ایک راستہ قدیم شاہراہ ریشم کی بنیاد پر ہے جو چین سے نکلتا ہوا وسط ایشیاء اور مشرق وسطیٰ سے گزر کر یورپ پہنچے گا ۔جبکہ دوسرا راستہ چین کو سمندر سے جنوب مشرقی ایشیاء اور مشرقی افریقہ سے ملائے گا ۔علاقائی روابط کے تحت چین کینیا کے ساحلی شہر ممباسا کو نیروبی سے ملانے کیلئے 472km ریلوے نیٹ ورک تعمیر کر رہا ہے ۔جو اسے کئی ممالک سے ملا دے گا ۔اس کے علاوہ چین کا ایگزم بنک افریقہ کے کئی ممالک میں ریلوے نیٹ ورک کے لئے بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔چین کی 900 ارب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاریوں میں پاکستان اور سری لنکا میں بندر گاہوں سے لے کر مشرقی افریقہ میں تیر ٹرینوں اور وسط ایشیاء سے گزرنے والی گیس پائپ لائنوں ،سنکیانگ سے گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ تک 54 ارب ڈالر کی لاگت کا زمینی راستہ ،1ارب ڈالر کی لاگت سے کولمبو میں ایک پورٹ سٹی کی تعمیر ،سنکیانگ سے سنگا پور تک 3000 کلومیٹر طویل بلٹ بٹرین بنانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔مزید براں اب اس منصوبے میں نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے حوالے سے بھی منصوبے شامل ہیں۔ جبکہ مشرقی چین سے ایران اور وہاں سے برطانیہ تک ٹرین کے ذریعے بھی روابط قائم ہونے جارہے ہیں۔ یوں 6 معاشی کوریڈور پر مشتمل چینی عظیم الشان اوبور پلان کے تحت تین برا اعظم کے 65 ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ آن ملیں گے اور معاشی ثمرات سے مستفید ہوں گے ۔ یاد رہے ان ممالک کا جی ڈی پی عالمی جی ڈی پی کا ایک تہائی بنتاہے ۔ نیز میری ٹائم روڈ سے چین اپنے جنوبی ساحلوں سے مشرقی بعید،جنوبی ایشیاء مشرقی وسطیٰ ،بحیرہ روم ،مشرقی افریقہ ،تک تجارتی سرگرمیوں کو بڑھاوا دے گا۔ اس طرح بحر ہند اور خلیج فارس سے بحیرہ روم تک تجارتی و کاروباری سرگرمیاں جڑ پکڑ لیں گی ۔ جہاں تک پاکستان کے ساتھ سی پیک منصوبے کا تعلق ہے تو نواز شریف کے حالیہ دورہ چین کے دوران حویلیاں ڈرائی پورٹ،کراچی تک پشاور ریل کے ڈبل ٹریک ،بھاشا ڈیم کی تعمیر، گوادر اےئر پورٹ اور گوادر ایسٹ بے چھ رویہ روڈ کے حوالے سے اتفاق رائے کر لیا گیا ہے ۔ یوں پاکستان میں سی پیک کے حوالے سے اب سرمایہ کاری کا حجم 56 ارب ڈالر ہو گیا ہے ۔یوں اب پاکستان بین العلاقائی سرمایہ کاری تجارت کا مرکز بنے گا۔بلاشبہ یہ پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی و معاشی تعاون اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے ۔وزیر اعظم نواز شریف کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اب علاقائی تنازعات کو خیر آباد کہہ کر جیو اکنامک دور میں جست لگانے کا وقت آ گیا ہے ۔ہمیں علاقائی کشیدگی کے بجائے معاشی تعاون ،اور تجارتی ساجھے داری کو فوقیت دینا ہوگی ۔سی پیک منصوبہ سرحدوں کا پابند نہیں ہے ۔بدقسمتی سے بھارت نے جس طرح سے اوبور سمٹ میں شرکت سے گریز کیا اور چین کی دعوت ٹھکرائی اسے قابل افسوس ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔بھارت کو گلگت بلتستان کے علاقے سے اس منصوبے کو منسلک کرنے سے تکلیف پہنچی ہے کیونکہ وہ اسے منتازعہ علاقہ گردانتا ہے ۔جبکہ دوسری طرف اسے لگتا ہے کہ اس منصوبے سے اس میں شریک ہونے والے ممالک پر قرضوں کا شدید بوجھ پڑے گا۔حالانکہ چین اورپاکستان کے ساتھ بھارت کے دیرینہ تنازعات اپنی جگہ لیکن یہ اوبور پلان، بھارت کی اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعاون کی نئی راہیں کھوج سکتا ہے ۔لیکن افسوس کہ ساؤتھ بلاک کے بقراط مودی کو تصویر کا افسردہ رخ ہی دکھا رہے ہیں۔چین کے مدبر صدر شی جن پنگ کے مطابق پرانی مخاصمتوں کو ختم کرنے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ہم پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر ایک بڑے خاندان کی بنیاد رکھنے جارہے ہیں۔اور گھسی پٹی جغرافیائی سیاسی بالادستی کے بجائے معیشت و تجارت پر مبنی ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے ۔روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے مطابق دنیا کا مستقبل اس منصوبے سے وابستہ ہے ۔ترکی کے صدر طیب اردگان نے درست کہا کہ اوبور پلان عالمگیریت کی نئی شکل ہے جو دہشتگردی کے عفریت کو قابو کرنے میں بھی مرکزی کردار ادا کرے گا ۔یہ درست ہے کہ چین کے سامنے اس منصوبے کے حوالے سے کئی ہمالیائی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ جن میں جنوبی بحیرہ چین کے پانیوں میں کشیدگی ،بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات ،سی پیک کو بھارت اور افغان ایجنسیوں کے حوالے سے لاحق خطرات شامل ہیں۔ ،لیکن شی جن پنگ کی فہم و فراست اور واضح نصب العین اور پاکستان کے ساتھ سی پیک کو ہر حال میں مکمل کرنے کے عزم کو داد دیجئے جس کی بدولت جدید ریاستی نظام اور بین الاقوامی تعلقات میں پائی جانے والی پیچیدگیوں کو تعاون ،امن و آشتی بدلنے میں اہم کردار ادا کرنے کے عمل کا آغازہو چکا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *