ہرزہ سرائی ہے یا ناشکری

khalid mehmood rasool

گھر سے بھاگنے کے بعد سمجھ نہ آیا کہ اب کہاں جاؤں۔ بارہ چودہ سال کی عمر اور جیب میں معمول سی رقم، سوچ بچار کے بعد خیال آیا کہ رشتے کے ایک ماموں بمبئی میں رہتے تھے۔ سوچا اس مشکل میں انہی کے پاس چلتے ہیں۔ مراد آباد سے دلّی زیادہ دور نہیں، یہی کوئی ایک سو میل کے لگ بھگ۔ دلّی پہنچ کر بمبئی کی ٹرین میں بیٹھ گیا۔ ٹکٹ خریدنے کے پیسے نہ تھے۔ ٹکٹ چیکر آیا تو جھوٹ موٹ کی کہانی گھڑ کر جان چھڑائی۔ یہ تقسیم سے قبل کا زمانہ تھا۔ دلّی سے گاڑی نکلی تو دھیرے دھیرے اوسان بحال ہونے شروع ہوئے۔ اب بھوک بھی چمک اٹھی اور پیاس بھی۔ اگلے اسٹیشن پر گاڑی رکی تو ہندو پانی مسلم پانی کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ میں نے کھڑکی سے مونہہ باہر نکال کر مسلم پانی والے ہاکر کو آواز دی۔۔۔ مسلم پانی ! خاتون اینکر نے چونک کر پوچھا۔ ’ جی، ان دنوں تو یہ ایک معمول کی بات تھی۔ ہندو اپنے الگ برتن میں پانی پیتے اور مسلمان الگ اپنے برتن میں پانی پیتے۔ اسی طرح ہندو چائے الگ اور مسلم چائے الگ ملا کرتی تھی ‘۔ اپنے بچپن کی یہ کہانی سنانے والے عظیم کہانی کار اور سب رنگ ڈائجسٹ کے بانی و مدیر عادل شکیل زادہ نے حیران ہونے والی اینکرکو وضاحت سے بتایا۔
تقسیم ہند کے نتیجے میں کروڑوں لوگ ہجرت پر مجبور ہوئے۔ دس لاکھ سے زائد اس سفر میں جان گنوا بیٹھے او ر ہزاروں پاک دامن عورتیں عصمت دری کے عذاب کا شکار ہوئیں ۔ اس زمانے کا ادب پڑھیں یا متاثرین کی کہانیاں سنیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ صدیوں ایک ہی علاقے میں ساتھ ساتھ رہنے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کیوں ہو گئے تھے؟ ماہ و سال کا میزانیہ جوں جوں وزنی ہو تا جا رہا ہے آزادی سے قبل کے حالات اور تقسیم کے واقعات کی یاد قدرے دھندلی ہوتی گئی۔ اکہتر میں ملک دو لخت ہونے کا صدمہ اتنا کاری تھا کہ تقسیم کی خونریزیاں پیچھے رہ گئیں اور ملک کے دو لخت ہونے کا حادثہ ذہنوں پر نقش ہو گیا۔ یہ الگ بات کہ وہ سانحہ بھی اب چند حساس لوگوں کو ہی ٹھیک سے یاد ہے اور ہر سال انہیں مضطرب کر جاتا ہے۔
شیخ سعدی سے منسوب ایک حکایت کچھ یوں ہے کہ ایک کشتی دریا میں رواں ہوئی تو اس میں سوار ایک مسافر کا زندگی میں کشتی کا یہ پہلا سفر تھا۔ آس پاس حدِ نظر ٹھاٹھیں مارتا دریا اور اسکی شوریدہ لہریں دیکھ کر وہ گھبرا گیا۔ بے ساختہ شور مچانے لگا کہ کشتیڈڈوبی کہ ڈوبی۔ لوگوں نے بہتیرہ سمجھانے بجھانے کی کوشش کی لیکن بے سود۔ ایسے میں ایک کڑیل نوجوان خاموشی سے اٹھا اور اس شخص کو اٹھا کر کشتی سے باہر پٹخ دیا۔ وہ شخص تیرنا جانتا نہ تھا، اب لگا غوطے کھانے۔ ایسے میں ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے کشتی والوں کو واسطے دینے لگا کہ اسے بچا لیں۔ جب وہ ڈوبنے کے قریب تھا تو اسی نوجوان نے اسے گھسیٹ کر کشتی میں واپس سوار کر لیا۔ اپنے آپ کو کشتی میں واپس پا کر وہ چپکے سے ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گیا۔ مسافروں نے اسے خاموش پا کر اسے پانی میں پھینکنے اور واپس بٹھانے والے نوجوان سے ماجرا پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ اس شخص کو کشتی میں بیٹھنے کی عافیت کا اندازہ ہی نہ تھا۔ دریا میں غوطے کھانے کے بعد اب اسے اندازہ ہو گیا ہے کہ وہ کشتی میں کس قدر عافیت میں تھا۔
گذشتہ کافی عرصے سے ہم اکثر اپنے تئیں کسی نہ کسی تاریخ دان یا انٹلکچوئل سے پاکستان کی اساس، اس کی تحریک، اس کے جواز اوراسکی تکمیل کے مراحل کے بارے میں بے سروپا باتیں سنتے آئے ہیں۔ کسی کو یہ تاریخی الہام بے چین رکھتا ہے کہ متحدہ ہندوستان میں ان کے ترقی کے مواقع زیادہ تھے۔ کوئی ملک میں ہونے والی کرپشن اور بعض سنگین مسائل کے پیشِ نظر یہ فیصلہ سنانے کے لیے بے تاب کہ ملک کی تقسیم کا فیصلہ ہی غلط تھا یا جلد بازی کا نتیجہ تھا۔ ایسے کئی لوگوں نے اپنے خیال کو صیح جتلانے کی کوشش میں تاریخ کے کئی حقائق کو بری طرح مسخ کیا ہے۔ کبھی قا ئد اعظم کی ذات اور سیاسی بصیرت پر انگشت نمائی کی یا پھر سرے سے تحریک پاکستان کے بھرپور اور کٹھن سفر کے نتیجے میں بننے والے ملک کو سراسر انگریزوں کی عنایت کا کرشمہ بتانے کے لیے تاریخ کو تروڑ مروڑ کر ایسے حوالوں کا سہارا لیا جو کمزور اور ناقص ثابت تھے۔ بار بار کی ہرزہ سرائی اور حقائق کی صداقت سامنے آنے کے باوجود کچھ وقت کے بعد یہ چند سر پھرے پھر سے اسی ڈگر پر اتر آتے ہیں۔
ملک بننے کے ستّر سال بعد اصولاٌ ملک کی اساس اور اس کی تحریک کے بارے میں تاریخی یکسوئی ہونی چاہیے لیکن کچھ داستان طراز روش بدلنے پر آمادہ نہیں۔ 23 کو یومِ پاکستان منایا گیا۔ یکم اپریل کو ایک معاصر میں ایک مضمون چھپا جس میں تاریخ کے چند بے بنیاد حوالوں اور ناقص روایتوں کو بنیاد بنا کر قوم کو آگاہ کیا گیا کہ 23 مارچ 1940 کو منظور ہونے والی قرارداد اصل میں اس وقت کے برطانوی وائسرائے کی مہربانی تھی جس نے اس وقت کے اپنے ایک سینئیر آفیسر سر ظفر اللہ کی ڈیوٹی لگائی کہ اس قرارداد کا ڈرافٹ لکھیں، جسے وائسرائے نے برطانوی حکومت سے منظور کروا کر قائد اعظم کو تھما دیا اور انہوں نے ہو بہو یہ قرار داد لاہور کے سیشن میں منظور کرا دی۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔ اس قوم کو آج تک اپنے اصل محسن کا علم ہی نہ ہوسکا۔ تاریخ تروڑ مروڑ کر پیش کی جائے تو محب وطن پڑھے لکھے لوگوں پر فرض عائد ہو تا ہے کہ ایسی تاریخی تحریف کا علمی اور محققانہ جواب دیں۔
گذشتہ ہفتے ہمارے دوست بریگیدئر فاروق حمید نے مجلسِ قائداعظم کے اہتمام ایک سیمینار میں شرکت کے لئے ہمیں مدعو کیا۔ ڈاکٹر سجاد حیدر کی میزبانی میں اس سیمینارکا اہتمام بریگیڈئر حامد سعید نے کیا۔ تحریک پاکستان کے نامور مورخ ڈاکٹر صفدر نے تفصیل سے قرار دادِ لاہور جو بعد میں قراردادِ پاکستان کے طور پر مشہور ہوئی، اس کے ڈرافٹ کئے جانے سے لیکر پاس کرائے جانے کے مراحل پر اظہار خیال کیا۔ علیحدہ ملک کے بنیادی خیال پر مبنی ایک قرارداد اس اجلاس سے دو سال قبل مسلم لیگ سندھ نے پہلی بار پاس کی ۔ علامہ اقبال کی قائد اعظم سے خط و کتابت ، صوبوں میں کانگرسی حکومتوں کے متعصبانہ فیصلوں اور سیاسی محرکات نے قائد اعظم اور مسلم لیگ کو ایک علیحدہ وطن کے سیاسی ہدف کی نشاندہی کر دی تھی۔ اس پس منظر میں لاہور میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے1940 کے سالانہ اجلاس کے لئے قرارداد کی تیاری کا کام ایک ورکنگ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔ کمیٹی نے اپنے ایک رکن سکندر حیات جو متحدہ پنجاب کے اس وقت کے پریمئیرتھے کو بنیادی ٖڈرافٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ ورکنگ کمیٹی میں ڈرافٹ پیش ہوا تو اس میں تفصیلی بحث کے بعد پندرہ ترامیم کی گئیں، ان میں ایک ترمیم قائد اعظم نے بھی تجویز کی۔ منظور کیا جانے والا ڈرافٹ ابتدائی ڈرافٹ سے اس قدر مختلف ہو گیا کہ بعد ازاں سکند حیات نے اسمبلی فلور پر کہا کہ منظور کیا جانے والا ڈرافٹ ابتدائی ڈرافٹ سے بالکل مختلف تھا۔ اس قرار داد کا ابتدائی ڈرافٹ اور ترامیم کا مکمل ریکارڈ کراچی یونیورسٹی میں محفوظ ہے۔ سر ظفر اللہ نے زندگی بھر ایسا کوئی دعویٰ نہ کیا بلکہ جب ان سے ایک انگریزی اخبار نے 1981 میں ایک انٹرویو میں پوچھا تو انہوں نے اس دعوے سے مکمل لاعلمی اور لاتعلقی ظاہر کی ۔
اس محفل میں معروف قانون دان ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ساری توانائیاں اسے ایک فلاحی اور صیح جمہوری ملک بنانے میں صرف کی جائیں۔ اس دوران ہمیں بھارت کے اپنے چند سفر بھی یاد آئے کہ کس طرح ہم نے بیشترمسلمانوں کو سہما اور خوف زدہ پایا، ملازمتوں کے دروازے تقریباٌ بند، معاشی امکانات انتہائی محدود۔ حالیہ سالوں میں بی جے پی کی حکومت کے آتے ہی گاؤ کشی کے نام پر کئی مسلمان ہجوم کے ہاتھوں تشدد سے ہلاک ہو گئے۔ بعد ازاں ان پر لگے الزامات جھوٹے نکلے لیکن مرنے والے جان سے جا چکے تھے۔ پاکستان میں حاصل آسودگی کس قدر بڑی نعمت ہے ، یہ کوئی ان سے پوچھے جنہوں نے اپنی ہوش میں ہندو پانی اور مسلم پانی کی تقسیم کی خلیج دیکھی یاپھر یو پی کے ان مسلمانوں سے کوئی پوچھے جہاں یوگی ادتیہ ناتھ نے آتے ہی پہلے تمام مذبح خانے بند کئے اور پھر تمام مسلم تہواروں کی چھٹیاں منسوخ کیں۔ آزادی کی عافیت حاصل ہوتے ہوئے ناشکری کرنا آسان ہے لیکن آزادی کی کی عافیت میں سکون سے رہنے کا کم از کم شکرانہ یہ ہے کہ اسکے معماروں کا اصل کریڈٹ کسی اور کو دینے کی ہرزہ سرائی سے باز رہا اور رکھا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *