ڈنر سے پہلے

نظم

 یسریٰ وصال

yusra visal

میز پر
رات کی پلیٹ رکھی ہے
اور بارش کا پیالہ
اور ہم دونوں
ایک برقی چاند کی لَو میں
آمنے سامنے بیٹھے
ایک دوسرے کو پی رہے ہیں!!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گُلِ سرخ / یسریٰ وصال

اے گلِ سرخ بتا!
رات خوابوں میں کہاں مہکا تُو
کس کے پہلو میں تری آگ جلی
کس کے ہونٹوں پہ ترا لمس کھلا
کس کی آنکھوں میں ترے رنگ گھلے
کس کے ہاتھوں نے تجھے چھو کے تمازت پائی،
زندہ رہنے کی حرارت پائی
کس کے چہرے پہ تری سرخی ء انوار ابھری
کس کے سینے میں تری جوت جگی،
ترے اسرار کی پوشیدہ حکایت، کوئی آیت اتری

اے گلِ سرخ بتا!
میرے خوابوں میں تو ہرشب ہے فقط تُو ہی تُو
تیرے خوابوں میں گزر میرا ہُوا ہے کہ نہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *