حکمرانی

محمد طاہرM tahir

افسوس سات دہائیں بیتی ہیں، دُہائیاں اور نالے بے اثر رہے۔ ہر دن ہماری قومی زندگی میں ماندگی لایا۔ اور اب ایک شاندار قوم امکانات کی لہلہلاتی سرزمین پر مایوسی کی تصویر بننے جارہی ہے، تاریخ کا لقمہ اورعبرت کا سامان بھی۔مایوسی مدلل ہوگئی اور خوش گمانی تو جیسے پانی پر بنائی ہوئی کوئی تصویر ہو۔جیسے کوئی دلدل جو قدم ہی نہ رکھنے دے، یہاں تک کہ اپنے شکار کو نگل لے۔اب خوش گمانی بونے کا مطلب فریب کو ثمر بار کرنا ہے۔ شریف برادران اور اُن کی حکومت ،زرداری اور اُن کی حکمران جنتا جیسی بنتی جارہی ہے۔ہماری اُمیدوں کا سورج ان آسمانوں پر نہیں اُگے گا، البتہ غروب ضرور ہو جائے گا۔کوئی سبق نہیں سیکھا، ان حکمرانوں نے کوئی بھی سبق نہیں سیکھا۔وقت کا بے رحم صرّاف کھرے اور کھوٹے کو تولنے لگا۔یہ پورے نہ اُتریں گے۔بس اردو محاورے کی طرح رہیں گے:تھوتھا چنا باجے گھنا!!!
بنیادی بات کیا ہے؟ مسئلہ پیٹرول کے بحران کا نہیں۔ بجلی کے باعث گھروں میں گُل ہوتے چراغوں کا نہیں۔ گیس کی کمی سے بجھتے چولہوں کا بھی نہیں۔ افراطِ زر سے قومیں کسی نہ کسی طرح نمٹ ہی لیتی ہے۔ نقضِ امن کا مسئلہ پاکستان سے زیادہ خطرناک دیگر ممالک میں رہا اوربآلاخر حل بھی ہوا۔عسرت کی بدترین شکلوں میں بھی قومیں زندگی کا سامان کر ہی لیتی ہیں۔ بدعنوانیوں کا سرطان کتنے ہی ملکوں کو چاٹتا رہا مگر پھر اس سرطان کو اُن ملکوں نے اپنے اپنے نظامِ جراحت سے کاٹ پھینکا۔ ناخواندگی سے کتنے ہی
ملک درماندہ رہے، پھر وہ علم کے موتی رولنے لگے۔بیمار قومیں صحت مند ہو گئیں۔ بے آبرو نسلیں تاریخ کے دوام میں مفتخر اُبھریں۔نیچ ،عالی نسب ہوگئے۔ پست ،بالا ہوگئے۔ جنگوں میں دائم جھولتے ملکوں نے بھی امن کے راستے تلاش کر لئے۔ بموں کی بارش سے تباہ ہونے والے شہر دنیا میں پھر آباد ہوگئے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی اپنے ملبوں سے پھر اُٹھ گئے۔ مگر ایک ہم ہیں ، کہ بدلتے ہی نہیں۔جوں کے توں اور جیسے کے تیسے ہیں۔ہر روز جھوٹی اُمیدوں کو بوتے ہیں اور ہر روز مایوسی کی فصل اُگاتے ہیں۔ کیا ہے؟ آخر ہمارا مرض کیا ہے؟
ہماری جھوٹی اُمیدیں ہی ہمارا اصل مرض ہے۔ ہم ایک نحوست سے نکل کر دوسری نحوست میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایک حکومت سے نکل کر دوسری حکومت اور ایک جماعت سے نکل کر دوسری جماعت کے چنگل میں چلے جاتے ہیں۔ ایک فوجی ڈکٹیٹر کے بعد دوسرے ڈکٹیٹر کے عشق میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ ایک حقیقی اور ٹھوس حکومت کی طرف ہماری کوئی پیش قدمی ہی نہیں ۔ ہم لمحاتی حیات کے قیدی ہیں ۔ ہمارا کوئی مستقبل ہی نہیں۔ ہم یومیہ اُجرت پر کام کرنے والوں کی طرح حیات کرتے ہیں۔ عسکری، جمہوری اور تمام سیاسی حل ہمارے لئے ایک ہی جیسے بن کر رہ گئے ہیں۔حقِ حکمرانی کے لئے تمدنی و عسکری مباحث ہو یا جمہوری ثقافت میں انتخابی سیاست کے ذریعے جماعتی و غیر جماعتی حکومتیں ہو ، سب کے سب ہمارے لئے ایک دوسرے کے مقابل یکساں ہو کر رہ گئی ہیں۔ گستاخی معاف پچھلے تین عشروں کی سیاست میں پاکستان کے فعال طبقات کے لئے سب سے بڑی مایوسی میاں نوازشریف اور اُن کی حکومت لانے والی ہے۔ جس نے طرزِ حکومت کے حوالے سے جمہوری اذہان کا سیاست پر ایک ایمان پیدا کیا اور اب وہ اپنے بدترین طرزِ حکومت سے جمہوری سیاست کے لئے قومی شعور کو داؤ پر لگا بیٹھی ہے۔ پیٹرول کاحالیہ بحران دراصل اس کاایک معمولی اظہار ہے۔
میاں نوازشریف کی حکومت نے ہر اعتبار سے اپنی نااہلی کو ثابت کر دیا ہے۔ پیٹرول کا بحران کسی نہ کسی طرح اگلے چند دنوں میں حل ہو ہی جائے گا۔ جس طرح کہ پچھلے دنوں میں تحریک انصاف کے دھرنے سے پیدا ہونے والا بحران بھی حل ہو ہی گیا۔ مگر جس طرح وہ بحران حکومت کی کسی کامیاب حکمتِ عملی سے حل نہ ہوا تھا۔ اِسی طرح یہ بحران بھی اپنے فطری دورانئے کو پورا کرنے کے بعد خود بخود دم توڑ جائے گا۔ ایک فعال حکومت کے ذریعے قومی زندگی کے مسائل حل کرنے کی اُمید کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ نواز حکومت اس اعتبار سے بدترین ثابت ہوئی ہے کہ وہ حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والے کسی بھی بحران کا نہ تو ادراک کر سکی ہے اور نہ ہی اُس کا کوئی حل خود سے پیش کر سکی ہے۔ یہ وقت کے بہاؤ میں اپنے انتداب (مینڈیٹ) کے نام پر صرف ومحض برقرار ہے۔ مگر آخرِ شب ہچکیاں لیتے دیئے کی مانند اپنی زندگی کا کوئی اعتبار بھی نہیں رکھتی۔
پیٹرول بحران کا تعلق کسی دوسری جماعت یا کسی حزبِ اختلاف کے عمل دخل سے نہیں تھا۔ یہ براہِ راست یا بالواسطہ چار وزارتوں سے کوئی نہ کوئی تعلق رکھتا ہے۔ مگر اصل اور بنیادی طور پر یہ بحران دراصل نوازشریف کے اسلوبِ حکمرانی کا پیدا کردہ ہے۔ جس نے فیصلہ سازی کے عمل کو ابھی تک شخصی رکھا ہے اور اُسے ادارہ جاتی بنانے کے لئے سرے سے کوئی قدم ہی نہیں اُٹھایا۔ نوازشریف یوں تو حقِ حکمرانی کے لئے جمہوریت اور عوامی نمائندگی کی بہت بڑی صلیب اپنے کاندھوں پر اُٹھائے پھرتے ہیں۔ مگر اس کے کسی بھی تقاضے کو پورا کرنا تو درکنار اُس کو سمجھنے کی اہلیت کا بھی اب تک مظاہرہ نہیں کر سکے۔ جمہوریت کے تقاضے کسی فوجی ڈکٹیٹر کی طرح کسی منتخب حکمران کو چن لینے سے پورے نہیں ہو جاتے۔یہ دراصل فیصلہ سازی کے غیر شخصی اور ادارہ جاتی رجحان کو منظم کرنے کا نام ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایک جمہوری طور پر منتخب حکمران ایک فوجی ڈکٹیٹر کی طرح ہی ہوتا ہے۔ اُس کے تمام فیصلے کسی فوجی ڈکٹیٹر کی طرح شخصی اور اُس کی ذات کے گرد مرتکز ہوتے ہیں۔ ایسی جمہوریت جو کسی فوجی آمر کی طرح شخصی حکمرانی پر انحصار رکھتی ہے آمریت سے کہیں زیادہ خطرناک نتائج کی حامل ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہ اس لئے بھی خطرناک ہے کہ یہاں پر جماعتیں مکمل طور پر خاندانوں کی تحویل میں ہیں ۔ اور جمہوریت کے نام پر خاندانی آمریت کے اس تسلط میں خطرناک طور پر ہمیں اقربا پروری اور دوست نوازی کا مکروہ ترین مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ پاکستان میں آمریت سے نجات کی صورتیں پیدا ہوجاتی ہیں مگر خاندانی آمریتوں سے مکمل نجات کی کوئی شکل ابھی تک پیدا نہیں ہوسکی ہے ۔ بدقسمتی سے ہم اپنے بہترین نظام حکومت کے بدترین تجربات سے گزرتے ہوئے اس کی سنگینیوں کے احساس سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں۔اگر انسانی سماج نے اپنے تجرباتی فہم سے تمدنی طرزِ حکومت کو ایک بہتر نظمِ اجتماعی کے طور پر دریافت کر لیا ہے تو اِسے ٹھیک اُس کے تمام تقاضوں کے ساتھ نافذ العمل ہونا چاہئے۔ہم جمہوریت کے نام پر آخر کب تک زرداری اور شریف برادران کے ناموں پر تقسیم درتقسیم کے شکار رہیں گے۔ پیٹرول کے حالیہ بحران نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ہمیں ایک بہتر نظام حکومت کے لئے غیر شخصی اور ادارہ جاتی حکمرانی کی طرف بڑھنا چاہئے۔ جس میں فیصلہ سازی کا عمل کسی فردِ واحد کے ارادوں کا قیدی نہ ہو۔ بلکہ یہ مکمل طور پر آزاد اور اُصولی ہو۔ جو قانون کے محاسبے سے بے پرواہ نہ ہو اور جزا سزا کے نظام سے جڑا ہو۔ طرزِ حکومت کے نام بدلنے سے چہرۂ حکومت تبدیل نہیں ہو جاتا۔ پاکستان میں آمریت اور جمہوریت کے درمیان شخصی اقتدار کی یکسانیت نے کوئی معمولی فرق بھی باقی نہیں رہنے دیا۔ پیٹرول کا حالیہ بحران حل ہو بھی گیا تو کیا ہوگا؟ ایک نیا بحران نئے سرے سے پھر جنم لے لیگا۔ بحران کی ماں کو جب تک نہیں مارا جائے گا بحران پیدا ہوتے رہیں گے۔ اور یہ بلاامتیازِ جمہوریت و آمریت دراصل شخصی حکمرانی کاایک مسلسل رجحان ہے جو فیصلہ سازی کے عمل کو ایک ادارہ جاتی نظم میں ڈھلنے ہی نہیں دیتا۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں ایک شخص کے فیصلوں کے انتظار میں لوگ پیٹرول کے ایسے بحران میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس میں اسپتال جانے والے مریض پیٹرول پمپس پر پیٹرول کے انتظار میں مر جاتے ہیں۔ جو بچے روزانہ رکشوں میں اسکول پہنچتے ہیں ، وہی بچے اُن ہی رکشوں کو دھکیل کر پیٹرول پمپس پر پہنچاتے نظر آتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس لئے ہیں کہ ایک شخص کی وجہ سے بیشتر وزارتوں کا نظام خود سے کام ہی نہیں کر پاتا۔ ہر فیصلہ مابدولت کے اشارۂ ابرو کا منتظر رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک مسئلہ بن جاتا ہے اور پھر وہی مسئلہ ایک اژدھا بن کر لوگوں کو نگلنے لگتا ہے۔ تب تک، ہاں تب تک مابدولت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔۔پھر وہ ایک روز فیصلہ صادر کرتے ہیں کہ ’’بحران نااہلی کا ثبوت ہے، ذمہ دار سزا کے لئے تیار رہیں۔‘‘ ذمہ دار ، کون ذمہ دار؟ سزا ، کس کو سزا؟ مابدولت کے پاس کوئی بھی باضمیر شخص نہیں جو اُن کے کانوں میں سرگوشی کر یں کہ حضور یہ سب کچھ آپ کے طرزِ حکومت کا شاخسانہ ہے!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *