بجٹ

khalid irshad sofi

غالباً یہ سوچ کر کہ روزے کی حالت میں عوام بجٹ کا بوجھ اور شدت برداشت نہیں کر پائیں گے‘ حکومت نے اعداد و شمار کے اس گورکھ دھندے کا اعلان رمضان المبارک سے دو روز پہلے کر دیا‘ یہ الگ بات کہ روزہ نہ ہونے کے باوجود بجٹ تقریر سن کر عوام غش پر غش کھائے جا رہے تھے۔ ایک زمانہ تھا کہ بجٹ کی جمع تقسیم کا اعلان صاف اور واضح الفاظ میں کیا جاتا تھا‘ ایک عام آدمی بھی جنہیں سمجھ‘ پرکھ اور بوجھ سکتا تھا‘ لیکن اب بجٹ کو ایک ایسی بھول بھلیاں بنا دیا گیا ہے کہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا‘ حتیٰ کہ اپوزیشن کی بھی۔ اس کے باوجود وہ بجٹ بحث کے دوران حکومتی طے کردہ اہداف‘ منصوبوں اور اقتصادی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنائے گی اور پھر ایک روز یہ بجٹ خاموشی سے منظور بھی کر اور کرا لیا جائے گا۔ ماضی میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا نہ ہونے کی کوئی خوش خبری نہیں ہے۔

Image result for budgetبجٹ سمجھ میں نہ آنے کے باوجود عوام کے غش پر غش کھانے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے لئے بجٹ کبھی کوئی خوش خبری نہیں لایا۔ بجٹ جو بھی اور جو حکومت بھی پیش کرے‘ عام آدمی پر یہ حقیقت اب راسخ ہو چکی ہے کہ مالی‘ حتیٰ کہ عام سال بھی ختم ہوتے ہوتے کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں کچھ اور بڑھ جائیں گی اور جونہی حکومت عادت سے مجبور ہو کر پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھائے گی‘ کرایوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی خود بخود اضافہ ہو جائے گا۔تنخواہوں یا پنشن میں اگر دس فیصد اضافہ کیا جائے گا تو مہنگائی بیس تیس فیصد بڑھ جائے گی؛ چنانچہ اپنے کپڑے خریدے جا سکیں گے یا پھر بچوں کے اور اگر یہ ممکن نہ ہوا تو خود کشی بلکہ اجتماعی خود کشی کا آپشن تو حکومت نے کھلا رکھا ہوا ہے۔ اس میں گھبرانے والی کوئی بات نہیں۔ خود کشی کا مقدمہ اس صورت میں قائم ہوتا ہے‘ جب یہ ناکام ہو جائے۔ کامیابی کی صورت میں کوئی کچھ نہیں کہتا۔ حتیٰ کہ خود کشی کا باعث بننے والے عوامل کے بارے میں بھی کوئی کچھ دریافت نہیں کرے گااور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ وہ زمانے لد گئے جب حکمران دجلہ کے کنارے ایک کتے کے بھوک پیاس سے ہلاک ہونے پر پروردگارکی گرفت کے خوف سے کانپ جایا کرتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہوتا۔ چاہے جتنے بھی لوگ انفرادی یا اجتماعی خود کشی کر لیں‘ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ وجہ سب کو سمجھ جانا چاہئے کہ حکمران اپنے بارے میں سوچیں یا پھر عوام کے بارے میں۔ اور بالفرض عوام کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوں تو ایسا اپنا پیٹ بھرنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے اور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ حکمرانوں کے پیٹ ایسے ویسے تو ہیں نہیں کہ آسانی سے بھر جائیں۔شاید قبر کی مٹی بھر دے۔ شاید!
ذرا ملاحظہ فرمائیں حکومت نے اپنے آخری سال میں عوام کو کیا دینے اور ان سے کیا لینے کا فیصلہ کیا ہے۔پان‘ سگریٹ‘ سیمنٹ ‘ سریا‘ امپورٹڈ ملبوسات‘ برقی آلات اور مشروبات مہنگے جبکہ موبائل فون‘ موبائل کال‘ چکن‘ گاڑیاں سستی کی گئی ہیں۔مطلب یہ کہ کوئی پان کھاتا ہے تو کیوں کھاتا ہے‘ اسے نہیں کھانا چاہئے۔ سگریٹ پیتا ہے تو آئندہ کے لئے توبہ تائب ہو جائے۔ کوئی اگر مکان بنانے کے بارے میں سوچ رہا ہے تو نہ سوچے‘ کسی کا دل اگر کبھی کبھار بوتل پینے کو چاہے تو اسے چاہئے کہ اپنے دل کو سمجھائے۔ (نوٹ: یہ واضح نہیں کہ سارے ’’مشروبات‘‘ مہنگے کئے گئے ہیں یا پھر صرف وہی جو کبھی کبھار غریب عیاشی سمجھ کر پی لیتے ہیں۔) برقی آلات اس لئے مہنگے کئے گئے ہیں کہ چند سال پہلے اگر کسی نے دو ٹب والی واشنگ مشین لی تھی اور امسال وہ آٹومیٹک واشنگ مشین خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تو اسے چاہئے کہ فوری طور پر یہ سلسلہ ترک کر دے اوراسی پُرانی مشین سے گزارا کرے۔ اور موبائل فون سستے کرنے اس لئے ضروری تھے کہ اعلیٰ طبقہ زیادہ سے زیادہ سمارٹ فون خرید سکے۔ موبائل فون اور چکن سستا کرنے کا فیصلہ تو اچھا ہے‘ لیکن گاڑیاں سستی کرنے والا معاملہ سمجھ میں نہیں آیا جبکہ عام آدمی تو گاڑی خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا‘ نیز یہ بھی واضح نہیں ہے کہ چکن کتنے ہفتے سستا رہے گا اور اربا ب بست و کشاد کب کوئی بہانہ کرکے اس کی قیمت بڑھا دیں۔ حکومت کے مشاہدہ میں آیا ہے کہ اس دنیا میں تازہ تازہ وارد ہونے والے بچے دودھ بہت پیتے ہیں اور دوسری اشیا بھی استعمال کرتے ہیں‘ لہٰذا بچوں کو ان افعال سے باز رکھنے کیلئے نوزائیدہ بچوں کی اشیا اور خشک دودھ پر سیلز ٹیکس ادا کر دیا گیا ہے‘ لہٰذا اب جو بچہ حکومت کو سیلز ٹیکس ادا کرے گا‘ وہی دودھ پی سکے گا‘ ورنہ چھٹی۔ ری ٹیلرز پر بھی سیلز ٹیکس لگایا گیا ہے‘ جس سے ری ٹیلرز کو تو کچھ نہیں ہو گا‘ ان سے خریداری کرنے والوں کو ہی یہ بھرت بھی بھرنا ہو گا۔ گھڑیاں اس لئے مہنگی کی گئی ہیں کہ لگژری میں آتی ہیں۔ جب پُرانے زمانوں کی طرح سورج اور سایوں اور رات کے وقت دُب اکبر‘ دُب اصغر اور ستاروں کے اسی طرح کے دوسرے جھرمٹوں کو دیکھ کر وقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے تو گھڑیوں پر پیسہ خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لوگوں کو اس قبیح فعل سے منع کرنے اور دور رکھنے کیلئے ہی گھڑیاں مہنگی کی گئی ہیں۔ مہنگی ہوں گی تو ظاہر ہے لوگ گھڑیاں کم خریدیں گے اور اس طرح قیمتی زرمبادل بچایا جا سکے گا۔ حکومت نے اپنے آخری سال کے بجٹ میں بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد ہی اضافہ کیا ہے‘ حالانکہ اس سے زیادہ اضافہ کرکے عوام کے دل جیتے اور اگلے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کی راہ ہموار کی جا سکتی تھی‘ لیکن کچھ نادیدہ و نارسا اور بے ہودہ و بدتمیز طاقتوں نے وزیر خزانہ کو ایسا کرنے سے روکے رکھا۔ جانے کیسا سحر پھونکا ہے کسی نے؟ تنخواہوں میں کم اضافے کے پیچھے بھی یہی راز ہے کہ جب لوگوں کی آمدنی کم اور مہنگائی کے بڑھنے کا گراف زیادہ رہے گا‘ تو وہ لگژری اشیا خرید کر اپنی دنیا و عاقبت خراب کرنے سے بچے رہیں گے۔تو بھائیو اور بہنو ثابت یہ ہوا کہ نیا بجٹ بھی واقعی الفاظ اور اعدادوشمار کا گورکھ دھندا ہی ہے‘ جس میں عوام کے اگر کچھ ہے تو یہ سبق کہ اگلے مالی سال کے دوران بھی وہ مہنگائی کے مزید جھٹکے برداشت کرنے کے لئے تیار رہیں۔ تو یہ ہے وہ بجٹ بریانی جو پچھلے کئی ہفتوں سے تیار کی جا رہی تھی اور جس میں عوام کیلئے ہمیشہ کی طرح ظاہر ہے کچھ نہیں ہے۔ بجٹ بریانی مجھے اس لئے یاد آئی کہ وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے بجٹ تقریر کے آدھے گھنٹے بعد میں نے ایک اہم ادارے میں کام والے اپنے دوست کا حال چال پوچھنے کیلئے اسے فون کیا تو وہ بولا : ابھی تک دفتر میں پھنسا ہوا ہوں۔ بجٹ تھا ناں۔ ان تقریر ختم ہوئی ہے تو باس نے بجٹ بریانی منگوا کر دی ہے ‘ وہی کھا رہا ہوں۔ بعد میں فون کرتا ہوں۔ اور میں سوچنے لگ گیا کہ جب ہم ایک بجٹ بریانی پر سارے غم بھول جاتے ہیں تو حکومت کو کیا پڑی ہے کہ سنجیدگی سے عوام اور ملک کی ترقی کے بارے میں سوچے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *