جے آئی ٹی نے حسین نواز سے کیا سلوک کیا؟ تفصیلات آگئیں

Hussain nawaz

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے حکم پرپاناماکیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسین نوازکو30مئی کودوبارہ طلب کرلیاہے جبکہ وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزاد ی کوبھی سوالنامہ فراہم کردیاگیاہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے جب جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کےلئے آئے تواس وقت جے آئی ٹی کے ممبران نہیں آئے تھے جس پرحسین نوازکوانتظارکرناپڑاجبکہ جے آئی ٹی ممبران کاحسین نوازکی پیشی کے 45منٹ بعدتک ممبرزکی آمدکاسلسلہ جاری رہا۔پیشی پرحسین نوازنے پوچھے گئے سوالوں کے تفصیلی جوابات طلب کئے گئے ہیں جبکہ حسین نواز جب جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئےتو انہوں نے اپنے اعتراضات دہرائے اورجے آئی ٹی کے سامنے گلہ کیاکہ مجھے کوئی سوالنامہ نہیں دیاگیا۔جس کےبعدجے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کی جانب سے بھیجاگیاسوالنامہ ان کو فراہم کردیا۔ ۔پانامہ کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے قبل میـڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے ان کے کسی بھی کاروبار میں شمولیت ، ملکیت اور عہدوں سے متعلق تفصیلات سمیت انہیں پیش ہونے کا نوٹس دیا۔جس کیلئے 24گھنـٹے کا وقت دیا گیا ہے۔ میں اپنے وکیل کے ہمراہ پانامہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے آیا ہوں اور اگر وکیل کے ہمراہ مجھے پانامہ جے آئی ٹی کے سامنے بیان ریکارڈ نہ کروانے دیا گیا تو میں باہر آکر میـڈیا میں اپنا موقف دوں گا۔ اس موقع پر حسین نواز کا کہنا تھا کہ انہیں پانامہ جے آئی ٹی کی جانب سے کوئی سوالنامہ موصول نہیں ہوا۔ حسین نواز کا کہنا تھا کہ تمام ریکارڈ کے ہمراہ پانامہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے صرف 24گھنـٹے کا وقت دیا گیا ہے۔حسین نواز کے جوڈیشل اکیڈمی پہنچنے پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ واضح رہے کہ حسین نواز کی جانب سے دو دن قبل پانامہ جے آئی ٹی کے دو ممبران پر سیاسی وابستگیوں کا الزام لگایا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ پانامہ جے آئی ٹی کے ایک ممبر نے حدیبیہ پیپرملز کیس میں دوران تفتیش انہیں دھمکایا تھا۔ حسین نواز نے اس حوالے سے جے آئی ٹی کے دو ممبران کے خلاف ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی جمع کروا رکھی ہے جس کی سماعت 29مئی کو سپریم کورٹ کا 3رکنی بنچ کرے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *