اسامہ بن لادن کی ہلاکت کیسے ہوئی ، بیوی نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا !

1

پہلی بار اسامہ بن لادن کی بیوی نے 2 مئی کو ایبٹ آباد کمپاونڈ  پر حملے کی تفصیلات کے بارے میں زبان کھول دی۔ دی ڈیلی میل کو انٹر ویو دیتے ہوئے  اسامہ کی چوتھی اور سب سے جوان بیوی  نے اپنے خاوند کی موت کی رات پیش آنے والے واقعات سے آگاہ کیا۔ ان نے یہ انٹرویو ایڈرین لیوی او ر کیتھی سکاٹ کلارک کو ایک کتاب  'دی ایگزائل، دی فلائٹ آف اسامہ بن لادن ' کے لیے دیا۔ امل نے بتایا کہ اسامہ اپنی تین بیویوں ، ان کے چھ بچوں اور اپنے 22 سالہ بیٹے خالد کے ساتھ رہتے تھے۔

11

رات گیارہ بجے جب امل اسامہ کے ساتھ بستر پر موجود تھیں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی ۔ بجلی نہ ہونے کی وہ سے گلیاں اندھیری اور سنسان تھیں۔ اس کے باوجود امل باہر گھومتے ہوئے سائے دیکھ پا رہی تھیں۔ ہیلی کاپٹر کی آواز قریب آ رہی تھی اس وجہ سے بن لادن بھی جاگ گئے تھے۔ انہوں نے بیدار ہوتے ہی بڑبڑاتے ہوئے کہا: امریکی آ گئے۔ پھر ایک شور سا ہوا جس سے پورا گھر ہل سا گیا۔ میاں بیوی دونوں بیڈ سے
اٹھے اور بالکونی کی طرف بڑھے۔ چاند بھی نہیں نکلا تھا اس لیے سب کچھ دیکھ پانا مشکل ہو رہا تھا۔ ان کے سامنے دو امریکی ملٹری ہیلی کاپٹر اور 24 سیلز اہلکار تھے جو چپکے سے کمپاونڈ کی طرف بڑ رہے تھے۔

12

سہام اور خالد نے انہیں دوسری منزل کی بالکونی سے دیکھ لیا تھا۔ بن لادن نے اپنے بیٹے کو بلایا جو اے کے 47 لے کر اپنے والد کی طرف بڑھا۔ امل اور سیہام نے دوسرے بچوں کو چپ کروانے کی کوشش کی جو شور سے گھبرا کر اٹھ بیٹھے تھے۔
تھوڑی دیر بعد ایک دھماکہ کی آواز آئی اور دروازہ کھل گیا۔ بن لادن نے کہا کہ وہ مجھے پکڑنے آئے ہیں تمہیں نہیں ۔ تم لوگ نیچے جاو۔ لیکن بڑی بیٹیاں مریم اور سمیہ بالکونی پر چھپ گئیں۔ بن لادن، امل اور ان کا بیٹا حسین کمرے میں موجود رہے اور دعائیں مانگنے لگے۔ امل کا کہنا ہے کہ انہیں شک ہوا کہ کسی اپنے شخص نے امریکیوں کو اطلاع دی ہے۔ سیل اہلکار دروازے توڑ کا اندر داخل ہوئے۔ ایک شخص عربی بول رہا تھا۔ اسے خالد کا حلیہ بھی معلوم تھا۔ گولیاں مارنے سے قبل اس نے خالد کا نام بھی لیا۔ مریم اور سمیہ سیلز کی طرف گئیں لیکن ایک عربی بولنے والے اہلکار نے انہیں دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ جب سیلز امل کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہ بھاگتی ہوئی ان کی طرف گئیں ۔ ایک اہلکار نے ان پر گولی چلائی اور وہ بیڈ پر گر گئیں۔ اس کے بعد بن لادن کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔  تکلیف میں ڈوبی امل نے دیکھنے کی کوشش کی کہ آخر کیا ہو رہا ہے لیکن پھر آںکھیں بند کر لیں تا کہ اپنی جان بچا سکیں۔ چھوٹے حسین کو ایک سیل ممبر گھسیٹ کر لےگیا اور مریم اور سمیہ کو بھی ان کے والد کی لاش کے پاس لے جایا گیا اور نہیں شناخت کرنے کا کہا گیا۔ مریم نے بتایا کہ یہ میرے والد اسامہ بن لادن ہیں۔

download

انہوں نے دوسری بیوی خیریہ کو بھی ساتھ لیا اور انہیں میت کی شناخت کا کہا۔ عربی بولنے والے فوجی نے کہا کہ دو اشخاص، ایک بچے اور ایک خاتون نے شناخت کر دی ہے۔ اس کے بعد لادن کی میت کو کھینچ کر ہیلی کاپٹر کی طرف لے جایا گیا خالد کی میت سیڑھیوں پر پڑی رہی جب ان کی ماں نے انہیں چومنے کی کوشش کی تو انہیں روک دیا گیا۔ ٹوٹنے والے جہاز کے ملبے کو جلا دیا گیا:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *