مدینے کے کسان کا ہم اہلِ رمضان پر احسان

hafiz yousuf saraj

اپنے سیاہ لبادے میں اجالے چھپا لیتی رات کافی بیت چکی تھی ۔ پنچھیوں کو اپنے بسیروں کو لوٹ کے نیند کی گمنام وادیوں میں کھوئے بھی بہت وقت گزرچکاتھا ۔وہ آدمی مگرابھی تک محنت کی دیوی کو اپنا پسینہ نذر کر رہا تھا۔وہ ایک کسان تھا اور تھکاوٹ اب اس کی نس نس میں اتر چکی تھی۔سورج کے جانے کے بعد گو تارے زمیں کو اک ذرا سی روشنی دینے کا جتن کررہے تھے مگر اس کسان ہی میں اب کچھ دم باقی نہ بچاتھا۔چنانچہ ا س نے کام روک دیا۔ شکر ہے تھکے ماندوں کو ایک گھر تومیسرہوتاہے۔چنانچہ جیسے کیسے وہ گھر پہنچ گیااورجاتے ہی بستر پر ڈھیر ہوگیا۔ اس سے پہلے کہ اس کی بیگم محنت کی تھکن سے چور بدن والے ، بھوک سے نڈھال اپنے میاں کے سامنے کہیں سے مہیاکرکے کچھ کھانا رکھتیں ۔ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر سو چکا تھا۔ بیگم نے انھیں جگانے کی ایک محبت بھری کوشش ضرور ہی کی ہوگی تاکہ ان کے شوہر کچھ تو کھا کے سو سکیں ۔ جنھیں نصیب ہوسکیں،دراصل ایسے ہی خاوند وں کو پتا ہوتاہے کہ وفادار اور خدمت شعار بیویاں خاوندوں کے دماغ تک پڑھ لیتی ہیں اور ان کی ہرذہنی و جسمانی الجھن اور تھکن کو اپنے ذہن اور بدن میں محسوس کرلیتی ہیں ۔تھکے بدن میں اتر چکی نیند مگر ایسی تھی کہ محبت اور خدمت بھرے ہاتھوں کا ریشمی لمس بھی جسے جگا نہ سکا۔زمیں کی کوکھ میں اپنی محنت بونے والا وہ کسان سو چکا تھا توپھر سویاہی رہا۔
بات اگر یہی تک ہوتی تو شاید یہیں ختم بھی ہو جاتی ۔وہ صبح تازہ دم ہو کے اٹھتااور جو مقدر میں ہوتا کھالیتا۔ یہ مگر رمضان کا مہینہ تھا اور یہ وہ رمضان نہ تھا جوہمیں نصیب ہواہے ۔یہ اور طرح کا رمضان تھا۔ جس میں کئی آسانیاں اترناابھی باقی تھیں۔ا س رمضان میں طریقہ یہ تھا کہ رات سونے سے پہلے آپ نے جو کھالیاسو کھالیا۔ ایک بار اگرآپ سوگئے تو پھر اس کے بعد اٹھ کے کچھ کھااورپی نہیں سکتے تھے۔جونہی آپ سوئے ، تبھی سے آپ کا روزہ شروع ہو جاتاتھا اور پھر اگلے دن غروبِ آفتاب کی افطاری میں ہی آپ کچھ کھاپی سکتے تھے۔چنانچہ اب یہ بے چارہ بھوک سے نڈھال اور محنت سے چور کسان اگلے دن کا سورج ڈوبنے سے پہلے کچھ کھا نہ سکتاتھا۔پھر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس کسان کا پورا دن کیسے گزرا ہوگا؟ شاید وہ لوگ اندازہ کرسکیں شوگر کا مرض جن کی جان نکال رہا ہوتاہے اورایک قطرہ بھی جنھیں مٹھاس کا میسر نہ ہو ، یا وہ مچھلی کہ جسے پانی سے جدا کر دیا گیا ہو اور ریت پر تڑپتے اس کے جسم میں کچھ جان مگرابھی باقی ہو۔خیراس پر جو گزری سو گزری مگر اس کے بعد آسمان سے ہم سب کے لیے بڑی آسانی اترآئی ۔یہ کسان عہدِ رسول کے مدینے کے صحابی قیس بن صرمہ انصاریؓ تھے ؂
جو ہم پر گزری سو گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوا رچلے
اب ہمیں اجازت مل گئی کہ رات جب تک چاہو جو چاہو سوکھاؤ پیو۔ اب رمضان کی پوری رات کھانے پینے ہی کے لئے نہیں، ان کاموں کے لئے بھی جائز کر دی گئی تھی کہ رمضان کے دن میں جو کام ایک روزہ دار کے لیے ممنوع تھے۔جو لوگ اس آسان رمضان کو بھی اپنے لئے مشکل سمجھتے ہیں انھیں وہ اولیں رمضان یاد کرلینا چاہئے جو قیس صرمہ انصاری جیسے صحابہ کو گزارنا پڑا تھا ۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ صرف رمضان ہی میں مصطفےٰؐ کی اس امت کے لیے آسانیاں نہیں اتریں ۔ اگر ہم غور کریں توخود رمضان کی پابندیاں بھی دراصل ہمارے لئے آسانیاں ہی ہیں۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ انسان فی الاصل جنت سے دنیا کی سیر کو نکلااک مسافر ہے، مشیت الٰہی کے تحت جو چند دن زمین پر گزارنے آیاہے۔ جنت سے یہاں رہنے آنے کے دو مقاصد ہیں ۔ ایک تو یہ کہ جنت اتنی بیش قیمت اوراتنی بیش قیمت ہے کہ ایسی چیز کبھی مفت میں نہیں مل سکتی ۔یہ اللہ تعالیٰ نے جو جنت نامی اک ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی ہے ، یہ کسی بھی سوئٹزر لینڈ ،نیویارک ، لندن ، ڈیفنس ، گلبرگ ،بحریہ ٹاؤن سے کہیں زیادہ مہنگی اور اعلیٰ ترین ہے ، اتنی اعلیٰ ترین کہ پوری دنیا کی ایک جگہ جمع کرلی گئی خوبصورتی اور سہولیات بھی اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ اگرچہ ہماری زندگی بھر کی نیکیاں بھی اس بیش قیمت جنت کی صرف ایک نعمت کی قیمت بھی نہیں ہو سکتیں ، لیکن پھر بھی اللہ کی مہربانی نے ہماری ایک توبہ ، ایک آنسو ،ایک آہ ، ایک مخلصانہ تڑپ و طلب اورزندگی کے چندقبول ہو جانے والے اعمال کو جنت کی قیمت مان لیا ہے ۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسان بڑا ناشکرا ہے ، یہ براہِ راست جنت ہی میں رہتاتو اسے ایسی نایاب و نادر چیز کی بھی قدربھی بالکل نہ ہو سکتی تھی ، یہ تو ایسا نا شکرا اور قدر نا شناس ہے کہ آسمان سے اترے من و سلویٰ کے مقابلے میں لہسن پیاز او رسبزیاں مانگ بیٹھتاہے ،چنانچہ جب تک یہ دنیا نہ دیکھ لیتاتو کچھ تعجب نہ ہوتاکہ اگر یہ ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن کو جنت سے بہترخیال کرتارہتا۔ سوان دونوں مقاصد کے لئے لازم تھا کہ یہ دنیا بھگتا لیتا۔ تاکہ اس پر جنت کا حقیقی معنوں میں جنت ہونا واضح ہوجاتا۔تو بہرحال انسان کی منزل جنت ہے اور اس قیمتی ترین جنت کی ایک قیمت ہے ۔ انسان اپنی زندگی خرچ کرکے جنت کی یہ قیمت کمانے ہی کیلئے زمیں پر آیاہے،یہ مزدوری میں لگا رہتا ہے اور کبھی سست بھی پڑجاتاہے ۔کبھی یہ اپنی زمیں پر آمد کا مقصد بھول بھی جاتاہے ۔پھر یہ بھی ہے کہ اسے اس کا مقصد بھلانے اوراسے راہِ راست سے بھٹکانے والااور اس کی متاعِ جنت لوٹ لے جانے والا ایک لٹیرا بھی ہمہ وقت اس کے سرپر سوار رہتا ہے ۔اگر انسان یونہی چھوڑ دیا جاتاتو یہ اپنے اصلی گھرکبھی واپس نہ پہنچ سکتا۔یہ اللہ کوقطعاً گوارہ نہیں تھا۔ کہ اسے تو اپنے بندے پیار ہی بہت ہے اور اس کی ہار سے نفرت ہی بہت ہے ۔ اس لیے وہ چاہتاہے کہ کسی نہ کسی طرح ا س کا بندہ ا س کی بنائی اور سجائی حیران کن جنت حاصل کر ہی لے۔ بندے کی اسی محبت میں ا س نے ہر دن ، ہر ہفتے اورہر سال کئی آفریں دے رکھی ہیں ۔ رمضان ان میں سے سرِ فہرست ایک گرینڈ آفر ہے ۔ اس میں اللہ جنت کی راہ کو اتنا آسان فرما دیتاہے کہ سوائے بالکل ہی محروم القسمت لوگوں کے کوئی محروم نہیں رہ سکتا۔سب سے پہلے تواللہ انسان کی راہ کھوٹی کرتے بڑے بڑے لٹیروں ، اس کی دنیا لوٹ لیتے ٹھگوں کواٹھا کے قید میں ڈلوا دیتاہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی رضا و رحمت ، مغفرت و مہربانی اور جنت و میزبانی کے سارے دروازے کھول دیتاہے۔ پھر وہ جنت کی ایسی لوٹ سیل لگاتا اور اپنی مہربانی کی ایسی بارش برساتاہے کہ جو کمروں میں سوئے ہوؤں پر بھی آآکے برس برس جاتی ہے۔قدم قدم پر مغفرت کی بشارتیں اور عمل عمل پر فردوس کے وہ پروانے بانٹنے لگتاہے ۔ سوئے ہوؤں کو جگا جگا کے اور غافلوں کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کے وہ جنت دکھاتا،مسجد مسجد میں جنت کی تشہیر کے سنٹر کھول کر ان کے دل لبھاتااوردن رات پکار پکار کے وہ انھیں انگیخت دلاتاہے ۔ ا س کے ہرکارے اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ اے جنت کے طلبگاروں اٹھو اور آگے بڑھو،یہ دیکھو جنت کی بادشاہی کا تاج تمھارے قدموں میں پڑاہے۔ اٹھو اور ہاتھ بڑھا کے اٹھا لو۔تم بس اتنا کرلو کہ طلبِ جنت میں مومنانہ رات کا کچھ قیام کر لو ، پچھلی ساری زندگی کے گناہوں پر قلم پھیر دوں گا۔ تم بس دن کا روزہ رکھ لو اورپھر یہ جان لو کہ اس پرمیں تمھیں جو عطا کروں گا، وہ ساری کائنات کے لئے اک سرپرائز ہے ۔شبِ قدر کو جاگ کے مجھے پکار لو صرف ایک رات کے بدلے صدیوں کی عبادتیں تمھارے کھاتے میں لکھوا دوں گا۔
چنانچہ یہ رمضان آسانی بھری رب کی اک رحمت ہے ، رمضان اک دیالو مہمان ہے ، یہ جنت لے جاتا وہ ٹائی ٹینک ہے جس میں بیٹھنے والا کبھی ڈوب نہیں سکتاہے۔ یہ وہ شب بیداری ہے جس میں جاگنے والے کا مقدر کبھی سو نہیں سکتا۔یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کے چند دنوں کی بھوک کاٹ لینے والا جنت کی دائمی زندگی میں کبھی کسی چیز سے محروم اور تشنہ نہیں رہے گا۔بس یوں سمجھوکہ رحمت کی بارش برس رہی ہے اوریہ اب تم پر ہے کہ اس میں کتنا بھیگ سکتے ہو، اپنا من کتنا بھگو سکتے ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *