خفیہ دستاویزات۔ جو اب اتنی خفیہ بھی نہیں رہیں

اسد مفتی asad

خفیہ امریکی دستاویزات کو منظر عام پر لانے والی ویب سائٹ وکی لیکس نے لگ بھگ پانچ لاکھ دستاویزات جاری کی ہیں جن میں عراق جنگ سے متعلق 4لاکھ خفیہ دستایزات بھی شامل ہیںوکی لیکس کے سربراہ، مالک اور بانی جولین اسانج نے خفیہ معلومات کو افشا ءکرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سچ کو منظر عام پر لایا گیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ یہ انکشافات جو افشاء ہوجانے والی رپورٹوں پر مشتمل ہیں حقیقت پر مبنی ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں وکی لیکس کی جانب سےافشاء کی جانے والی خفیہ دستاویزات سے اس کے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب یا مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ امریکی افواج کے سربراہ نے ایک حالیہ انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ ان ہزاروں دستاویزات کے افشاء نے نہ صرف مجھے خوف زدہ کردیا ہے بلکہ ہمارے فوجیوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑگئی ہیں، امریکی حکام میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ معلومات غلط ہیں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس سے قبل وکی لیکس نے عراق اور افغانستان پر بھی خفیہ امریکی دستاویزات جاری کی تھیں۔ حالیہ خفیہ دستاویزات میں جہاں دوسرے بے شمار انکشاف ہیں وہاں مختلف ممالک کے سربراہان کی بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں بھی معلومات ہیں جن ممالک کے سربراہوں کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں ان میں روس، افغانستان، پاکستان اور وسطی ایشیا کے ممالک شامل ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کو بہت پہلے سے معلوم ہے کہ وکی لیکس کے پاس یہ دستاویزات موجود ہیں لیکن ان دستاویزات کے منظر عام پر آنے سے امریکہ اور اتحادی ممالک کے روابط کس حد تک خراب ہونگے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ کسی کو یہ نہیں معلوم کہ وکی لیکس کونسی دستاویزات منظر عام پر لاتا ہے کیونکہ یہ دستاویزات وزارت خارجہ اور امریکی سفارت خانوں کے درمیان کیبل و ٹیلی پیغامات پر مبنی ہیں یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ امریکہ کی پوری قوت و طاقت کے باوجود اس ادارے کی امریکی پنٹاگان کی خفیہ دستاویزات تک رسائی کیسے ہوئی؟ گزشتہ جولائی میں پھر سے اس ادارے نے پنٹاگان اور سی آئی اے کی خفیہ دستاویزات کو شائع کیا تھا اور ساتھ ہی ادارے وکی لیکس نے اعلان کردیا تھا کہ ابھی بھی اس کے پاس لاکھوں دستاویزات موجود ہیںیا تو پینٹاگان نے ان دستاویزات کو اہمیت نہیں دی یا اشاعت روکنے کی کوشش نہیں کی یا وہ اس میں ناکام ہوگیا ۔
پانچ لاکھ سے زائد ’’جاسوسی کہانیوں‘‘ پر مشتمل خفیہ دستاویزات (جواب اتنی خفیہ بھی نہیں رہیں) کی یہ ایک نئی قسط منظر عام پر آئی ہے اور امریکی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ تھینکس گاڈ! روس اب سوویت یونین نہیں رہا ورنہ امریکہ مخالف حساس معلومات اس کیلئے ایک خزانے سے کم نہ ہوتیں۔وکی لیکس کے مالک اور بانی سویڈن کے شہری جولین اسانج کو دنیا کا سب سے بڑا ہیکر قرار دیا جاتا ہے لیکن اس نے اپنے طور پر یہ دستاویزات تیار نہیں کیں۔ سویڈن میں پیدا ہونے والے اور بعد میں آسڑیلوی شہریت حاصل کرنے والا یہ شخص ان دنوں اپنے آبائی وطن سویڈن میں موجود ہے حکومت نے اسے نہ تو مستقل قیام کی اجازت دی ہے اور نہ ہی ورک پرمٹ جاری کیا ہے۔ سویڈن امیگریشن بورڈ کے عہدیداروں نے ’’راز کے قوانین‘‘ کا عذر بتاکر مزید تفصیلات بتانے سے انکار کردیا ہے۔ جولین نے کچھ عرصہ قبل سویڈن کےحکام کو رہائش کیلئے درخواست دی تھی لیکن اس کےچند دنوں کے بعد معلوم ہوا کہ وہ عصمت دری کےجرم میں ملوث ہے،جولین خفیہ دستاویزات اور مسودوں کے افشا کے بعد سے خوف کے زیر سایہ زندگی گزارنے پر مجبور ہے، وہ ایک شہر سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے شہر کا سفر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ہوٹلوں میں قیام بھی فرضی ناموں سے کرتا ہے، بالوں کو نت نئے انداز سے رنگنے کے علاوہ بیڈ کے بجائے فرش یا صوفے پر سوتا ہے، کریڈٹ کارڈز کے بجائے دوستوں سے قرض پر لی گئی نقد رقوم استعمال کرتا ہے، ہالینڈ کی ایک نجی کمپنی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس نے بتایا ہے کہ امریکی حکومت میرے خلاف مقدمہ دائر کرسکتی ہے، انہوں نے مجھے صحافت کے ’’جیمز بانڈ‘‘ کے لقب سے نوازا ہے اس کے سبب میری شہرت اور مقبولیت کے علاوہ مداحوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے تاہم انہیں میں سے بعض افراد نے میرے لئے پریشانیاں کھڑی کردی ہیں اب تو مجھے جان کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ اس نے مزید کہا کہ ’’میں پرعزم ہوں اور اب اپنا راستہ بدل نہیں سکتا، میں نے جو راہ اختیار کی ہے اسی پر گامزن رہنے کی ٹھان لی ہے‘‘۔ جولین یہ سوچ کر سویڈن آیا تھا کہ یہاں آزادی اظہار و تقریر سے متعلق سخت قوانین موجود ہیں جس کے تحت لکھنے والے کو تحفظ فراہم ہوتا ہے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ یہاں سویڈن میں دو خواتین نے اس کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ بھی درج کرا رکھا ہے۔ اس الزام پر جولین نے کہا ہے کہ وہ اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ اس نے دونوں خواتین کی مرضی و منشا سے ہی تعلقات قائم کئے تھے۔ امریکہ نے جاسوسی کے الزام میں جولین پر مقدمہ قائم کردیا ہے انٹرپول نے ریڈ نوٹس (وارنٹ) جاری کرکے 188ملکوں کی پولیس کو مطلع کردیا ہے جبکہ جولین کی ماں نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنے بیٹے کو بے قصور بتاتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی پولیس انٹرپول نے اس کے بیٹے کے خلاف نوٹس جاری کرکے اسے صدمے سے دوچار کردیا ہے وہ نہیں چاہتیں کہ انکے بے قصور بیٹے کو جیل میں ڈال دیا جائے لیکن امریکہ ایک ماں کی فریاد کب سننے والا ہے امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ ان رازوں کے افشاء ہونے کی فوجداری ضابطوں کے تحت سنجیدگی سے چھان بین کی جارہی ہے۔ وائٹ ہائوس کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایسی کسی بھی دستاویز کے افشا ہونے کا سخت افسوس ہے اور وکی لیکس کی طرف سے سرکاری رازوں کے افشاء ہونے کا سخت نوٹس لیا گیا ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کے سدباب کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں وہ کیا اقدامات ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا فی الحال لیکس کے مالک جولین اسانچ نے کسی خفیہ مقام سے امریکی بنکوں کے راز سے پردہ اٹھانے کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ وکی لیکس کے ان انکشافات سے امریکہ کے دو تین بنک ڈوب سکتے ہیں اس نے امریکی حکومت کو کہا ہے کہ یہ ہزاروں نئی معلومات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ یہاں یہ بات بتانی بھی ضروری ہے کہ وکی لیکس کے پاس دنیا کے بہت سے بڑے کاروباری اداروں، حکومتوں اور کارپوریٹ سیکٹر کے راز موجود ہیں۔ ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اور امریکی احکام نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی بتایا ہے کہ ہم نے بھارتی حکام کے ساتھ متعدد بار رابطے کئے ہیں اور وکی لیکس کی رپورٹ (دستاویزات) منظر عام پر آنے سے پہلے ہی بھارت کو تمام صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کردیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں جانتے کہ وکی لیکس کے کیا مقاصد ہیں لیکن اسے چاہئے تھا کہ انہیں شائع نہ کرتا۔ وکی لیکس ایک غیرذمہ دار ادارہ ہے۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ کشور حسین شادباد کے بارے میں وکی لیکس نے کیا کیا انکشاف کئے ہیں پاکستان میں فیس بک پر پابندی لگانے والے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ پڑھ اور پرکھ لیں۔
’’ہم نیک و بدحضور کو سمجھائے دیتے ہیں‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *