تارکینِ وطن اور ووٹ کاسٹنگ کا معاملہ

shakeel qamar

اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے معاملے کو بُری طرح اُلجھا کے رکھ دیا گیا ہے حالنکہ یہ معاملہ اِتنا زیادہ متضاد نہ تھا گذشتہ دو سال سے پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کی کمیٹی اور ذیلی کمیٹی درجنوں اجلاس منعقد کرنے کے باوجود بھی اس معاملہ پر کوئی پیش رفت نہیں دکھا سکیں اس ضمن میں ایک عجیب بات یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ قومی سطح کے رہنما بھی اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے بارے میں درست معلومات نہیں رکھتے ہیں بلکہ ہر شخص کوئی نہ کوئی ایسی بات کرتا ہے جس کا اصل صورتِ حال سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہوتا ،جیسا کہ اُوپرذکر کیا گیا ہے کہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی اور ذیلی کمیٹی بھی اس سلسلہ میں کوئی پیش رفت نہیں دکھا سکیں اس سلسلہ میں درست صورتِ حال یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق پہلے ہی حاصل ہے جو کہ کوئی ختم نہیں کر سکتا ،اصل معاملہ یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیووٹ کا حق کیسے استعمال کریں ؟ اس بات پر الیکشن کمیشن بار ہا اپنا موقف بیان کر چکا ہے اُن کا کہنا ہے کہ اوورسیزپاکستانیوں کیلئے ووٹ کاحق استعمال کرنے کے طریقہء کار کو آسان نہیں بنایا جاسکتا اور کسی بھی طرح ووٹ کا حق استعمال کرنے پر بہت زیادہ اخرجات ہوں گےجو کہ موجودہ حالات میں ملک اور قوم کے لئے مناسب نہیں ہے ،اس معاملہ کا سیدھا سادہ حل یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے متناسب نمائندگی کے تحت پارلیمنٹ میں کوٹہ مقرر کر دیا جائے اور بیس یا پچیس قومی اسمبلی کی نشستیں متناسب نمائندگی کے تحت تمام جیتنے والیسیاسی جماعتوں میں تقسیم کر دی جایں ایسا کرنے سے اوورسیز پاکستانیوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی بھی مل جائے گی اور ووٹ کا حق استعمال کرنے کا انتہائی مشکل ترین معاملہ بھی حل ہو جائے گا ،اس کے علاوہ وورسیزپاکستانیوں کو دیارِ غیر میں آپس کی سیاست بازی میں اُلجھنے سے بھی محفوظ رکھا جاسکے گا کیونکہ اس وقت اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے وطن سے زیادہ جہا ں جہاں وہ مقیم ہیں وہاں کی سیاست میں حصہ لے کر اپنے حقوق کی جنگ جیتنا ضروری ہے اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ اگر برطانیہ میں مقیم پندرہ لاکھ پاکستانی پوری طرح مقامی سیاست میں حصہ لیں تو مقامی پارلیمنٹ اور کونسلوں میں اُن کے نمائندوں کی تعداد دُگنی ہو سکتی ہے اور دوسری طرف پاکستانی سیاست میںحصہ لینے سے برطانیہ میں مقیم تارکین وطن کے درمیان آپس کی گرہ بندیاں اور اختلافات بڑھ جایں گے جو کہ کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے اس سلسلہ میں ایک اورتضاد جو سامنے آرہا ہے وہ یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو اگر ووٹ کا حق استعمال کرنا ہے توپھر اُنہیں انتخاباتمیں حصہ لینے کا حق بھی دینا ہو گا اور ایسا کرنا 1973ء کے آئین کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا کیو نکہ دہری شہریت والوں پر انتخابات میںحصہ لینے پر پابندی ہے یہ معاملہ ایک بہت بڑے پنڈورا بکس کو کھو ل سکتا ہے ، جو کہ موجودہ حالات میں مناسب نہیں ہے ،لبِ لباب یہ کہ 85 لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی ملنا ضروری ہے جو کہ متناسب نمائندگی کے تحت بیس یا پچیس نشستوں کا کوٹہ مقرر کر کے با آسانی دی جاسکتی ہے دوسری بات یہ ہے کہ دوسو سے زیادہ ممالک میں پھیلے ہوئے 85لاکھ تارکین وطن کو ووٹ کا حق دے کر اُن کےووٹ کاسٹ کرنے کے طریقے سے لیکر دوسو ممالک میں اُن کی سیاسی سرگرمیاں اور اُن کے اُمیدواروں کی سرگرمیاں ،یہ سب ایسے معاملات ہیں جن سے مسائل بڑھتے ہی جایں گے ،لہذا آسان طریقہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کا کوٹہ مقرر کر دیا جائے اور متناسب نمائندگی کے تحت تمام جیتنے والی سیاسی جماعتوں کے نامزد اُمیدواروں کو وہ نشستیں دے دی جایں اس طرح پارلیمٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کی نمائندگی بھی ہو جائے گی اور دوسو ممالک میں اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کاسٹ کرنے کے مشکل ترین طریقے کو بھی اختیار نہیں کرنا پڑے گا ۔

تارکینِ وطن اور ووٹ کاسٹنگ کا معاملہ” پر ایک تبصرہ

  • جون 12, 2017 at 4:36 AM
    Permalink

    ۸۰ لاکھ سے زیادہ تارکین وطن جو سالانہ اربوں روپے بھی ملک کو زرمبادلہ کی صورت میں بھیجتے ہیں ، یہ 80 لاکھ تارکین وطن جن میں سے لاکھوں ووٹ پاکستان کے انتخابات میں کاسٹ ہو سکتے ہیں اور ہونے بھی چاہیں ، کیونکہ پاکستان میں سرمایہ دارانہ نظام کی پر وردہ نام نہاد جمہوریت میں بڑی سیاسی جماعتوں کا کل حاصل کردہ ووٹ بھی اتنا ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔ چار کروڑ سے کم کاسٹ ہونے والے ووٹ 216 سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار لیتے ہیں ، اسی سے کسی ایک کی حیثیت کا بخوبی پتی چل جاتا ہے ،،، یہوں چائے کی ایک پیالی اور بریانی کی ایک پلیٹ پر ووٹ دے دیا جاتا ہے ،،،،،،،، اور معذرت کے ساتھ ووٹ ڈالنے والے زیادہ تر وہ ہیں جن کو نا ووٹ کی اہمیت کا علم ہے ، نہ انہیں امیدوار کی اہلیت سے غرض اور نا ہی سیاسی جماعتوں کی کارکدگی سے شکوہ ،،، اگر یہی جمہوریت چلانا ضروری ہے تو پھر تارکین وطن کے ووٹ ضرور کاسٹ ہونا چاہیں ، اتنا بڑا ووٹ بنک جو ملک سے بی روزگاری کا بوجھ بھی کم کر رہا ہے ، اربوں روپے کا زر مبادلہ بھی ملک کو بھیج رہا ہے ، یہ ووٹ ملک کی تقدیر کے فیصلے میں شامل ہونا چاہیے ۔۔۔۔ لیکن گزشتہ کئی سالوں سے عوام کو بے وقوف بنانے والے ، حکومت کرنے والوں کو اس کوئی غرض نہیں کیونکہ یہاں کاسٹ ہونے والے 43/44 پرسنٹ ووٹ سے انہیں اپنا حصہ مل جاتا ہے وہ کیوں رسک لیں گے اپنی تباہی کا ۔۔۔۔۔۔۔۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *