رمضان سے رمادان تک!

فیصل بٹ

faisal butt

راقم کی زندگی میں جو انقلابات آئے ہیں ان میں سے ایک رمضان کا رمادان ہونا بھی ہے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ رمادان عربی تلفّظ کے قریب تر ہے لیکن جو سلوک ہم ’السلام علیکم‘ کے ساتھ کرتے ہیں (جس کا اردو میں اگر کو کوئی نعم البدل ہے تو راقم کو اس کا علم نہیں) اس کو دیکھتے ہوئے رمضان کے ساتھ اس امتیازی سلوک کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی ماسوائے اس کے کہ اہل عرب کے علاوہ انگریز بھی رمضان کو رامادان لکھتے اور پکارتے ہیں۔ بقول راقم کے ایک استاد کے ہم بحیثیت قوم ایمان اس پر لاتے ہیں جو عربی میں لکھا ہو اور پیروی اس کی کرتے ہیں جو انگریزی میں لکھا ہو۔ لیکن یہ صورتِ حال شائد بدل رہی ہے کہ وطنِ عزیز میں گاڑیوں پر اب ’ممبر اسمبلی‘، ’صحافی‘ وغیرہ وغیرہ کے ساتھ ساتھ ’الباکستان‘کی تختیاں بھی نظر آنا شروع ہو گئیں ہیں. اب یہ خدا جانتا ہے کہ اس کے پیچھے عربی سے محبّت کا جذبہ کارفرما ہے یا محض ’وکھرا‘ نظر آنے کی امنگ۔

راقم کی انگریزی کمزور اور عربی کمزور تر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند برس قبل جب راقم کو پہلی بار ’رمضان مبارک‘ کی جگہ ’رمضان کریم‘ کا پیغام موصول ہوا تو ایک لمحے کو پریشانی ہوئی کہ پیغام بھجنے والے کو راقم میں ایسی کونسی جِلدی بیماری نظر آئی ہے جس کے لئے رمضان نامی کریم تجویز کر دی ہے۔

حکومتی پابندیوں سے بظاہر آزاد مگر ریٹنگ کے غلام ٹی وی چینلوں پر جاری ’سب سے پہلے‘، ’سب سے بڑا‘، ’سب سے مقبول‘ وغیرہ کی دوڑ نے دیگر چیزوں کی طرح رمضان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ چنانچہ اب روزے کو بہلانے کے لیےرمضان شوز آ گئے ہیں۔ ان کے میزبانوں میں وہ اینکر حضرات بھی شامل ہیں جو عام دنوں میں سچ اور جھوٹ میں تمیز کا تردّد کئے بغیر مخصوص لابیوں کی کاسہ لیسی کرتے پائے جاتے ہیں اور ایسے اداکار و اداکارائیں بھی جن کی اصل پیشہ وارنہ سرگرمیاں تو روزہ ایک طرف ایمان میں خلل ڈال سکتی ہیں۔ ڈیزائنر ملبوسات زیب تن کئے یہ خواتین و حضرات قیمتی سیٹ سجا کر مجھے اور آپ کو رمضان کی اصل روح سے آگاہ کرتے ہیں۔ غلام میڈیا کے دور میں تو تفریحی پروگراموں میں زیادہ سے زیادہ بے کاروں کو کار مل جاتی تھی مگرآزاد میڈیا کے ان رمضان شوز کی توسط سے بے اولاد نعمتِ اولاد سے بھی نوازے گئے ہیں (جاہل اور بے عقل عوام کو علم و اْگہی تو اینکر حضرات ویسے ہی روزانہ کی بنیاد پر دیتے ہیں)۔

’یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے‘ والا قول راقم نے اگرچہ سن رکّھا ہے مگر دیگر اقوالِ زریں کی طرح اس پر بھی عمل نہیں کر پاتا کہ ’لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے‘۔

فلمی ستارے اور فلمی ستاروں جیسی کشش رکھنے والے کھلاڑی تو ہر دور میں رہے ہیں مگر اب ستاروں کی فہرست میں علماء بھی شامل ہو گئے ہیں۔ ایک ایسے ہی عالم سے راقم کو حورانِ جنّت کے خدوخال اور لباس کا بیان سننے کو ملا۔ دیگر تفاصیل کےعلاوہ مولانا نے حور کا قد آٹھ سو فٹ بیان کیا جس کو سن کر کم از کم راقم کی آتشِ شوق بھڑکنے کی بجائے بجھ سی گئی کہ راقم کا ذاتی قد چھ فٹ سے بھی اچھا خاصہ کم ہے۔

راقم کو ذاتی طور پر ان شوز سے مکمل طور پر فیض یاب نہ ہونے کا اعتراف ہے کیونکہ ایک تو ’تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے‘ والی صورتِ حال کا سامنا ہے اور دوسرا ان شوز کو دیکھنے لیے جو صبروتحمّل اور قوتِ برداشت درکار ہے راقم ان سے یکسر عاری ہے۔ درج بالا سطور کا بنیادی ماخذ ان شوز کے اشتہارات، یو ٹیوب پر موجود جھلکیاں اور ان پر کئے گئے تبصرے ہیں۔ اگر دانہ چکھ کر واقعی دیگ کا پتہ چلایا جا سکتا ہے تو یہ تحریر اسی زمرے میں آتی ہے۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے رمضان سے رمادان تک کے سفر میں کچھ چیزیں نہیں بھی بدلیں۔ مثلاً پھلوں کی قیمتوں کا پہلے سے ساتویں آسمان پر پہنچنا۔ سنا ہے امسال کچھ شہروں میں لوگوں نے بطور احتجاج تین دن تک پھل نہیں خریدا اور مبیّنہ طور پر اس کے نتیجے میں قیمتوں میں کچھ کمی بھی واقع ہوئی ہے۔ اصولاً تو ناجائز منافع خوری پر صارفین کی طرف سے حکومتوں پر انحصار کی بجائے اس قسم کے راست مگر سراسر قانونی اور پُرامن اقدامات کی تعریف کی جانی چاہئے مگر راقم کی نظر میں تو یہ بھی ’برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر‘ والا معاملہ ہے کہ اس مہم کے بنیادی متاثرین نسبتاً کم آمدنی والے وہ پھل فروش ہیں جن کے چولہے روزانہ کی آمدن پر جلتے ہیں۔

 ماہِ رمضان میں نوکری پیشہ افراد کی ایک بڑی تعداد معمول سے کم کام کرنے کے باوجود پوری تنخواہ وصول کرتی ہے اور کچھ خوش نصیبوں کو تو رمضان یا عید پر بونس بھی مل جاتا ہے۔ ٹھیلے یا ریڑھی پر پھل بیچنے والا اگر پھلوں کی طلب میں اضافے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی آمدنی میں اضافہ کرنا چاہے تو کیا یہ واقعی اتنی بڑی برائی ہے جس کے خلاف ایک منظّم مہم چلائی جائے؟

 ہم میں سے کون ہے جو اپنے معاشی حالات میں بہتری کے مواقع نہیں ڈھونڈتا؟ اوروں کو چھوڑئے، رمضان شوز کے ذریعے میری اور آپ کی دنیا و آخرت سنوارتے اینکر حضرات بھی بہتر پیکج کی تلاش میں ایک چینل سے دوسرے چینل پر پھدکتے پائے جاتے ہیں اور یہ آنیاں جانیاں اسلامی کیلنڈر کی قید سے یکسر آزاد ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *