قانون کی حکمرانی کی آزمائش

babar-sattar-2

گزشتہ سے پیوستہ)
وزیر ِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف چاہتے ہیں کہ صرف اُن کے خاندان کی بجائے سب کا بے لاگ احتساب ہو۔ ایسا مطالبہ کرنے والے حکمران اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے وہ پہلے شخص نہیں ہیں۔ جب این آر او کیس کا فیصلہ آنے کے بعد آصف زرداری کے خلاف سوئس کیس پر توجہ مرکوز ہوئی تو پی پی پی چاہتی تھی کہ احتساب کا آغاز آدم ؑ کے فرزندان، ہابیل اور قابیل سے کیا جائے۔ جب مشرف کو غداری کے مقدمے کاسامنا ہوا تو اُن کے حامی چاہتے تھے کہ آئین کی پامالی کا احتساب 1947 ء سے شروع ہو۔ ہماری حکمران اشرافیہ جانتی ہے کہ جب جال بہت کھلا ڈالا جائے تو کوئی بھی نہیں پکڑا جاتا۔
پاناما کیس کی وجہ سے کسی پر بھی ظلم نہیں ہونا چاہیے ۔ لیکن اگر کہیں سے تفتیش کا آغاز ہونا ہے تو پہلی فطری چوائس حکمران خاندان ہی ہے ۔ پی ایم ایل (ن) کی شکایت کے ساتھ دواصولی مشکلات جڑی ہوئی ہیں۔ پہلی یہ کہ تحقیقات اور قانونی کارروائی ایگزیکٹو کے اختیار میں ہے ، چنانچہ بے لاگ احتساب کرنابھی اسی کی ذمہ داری ہے جو پاکستانی عوام نے پی ایم ایل (ن) کو تفویض کررکھی ہے ۔ اگر ایسا نہیں ہورہا تو یہ پی ایم ایل (ن) کی ناکامی ہے ، یا پھر وہ ایسا کرنے سے انکاری ہے ۔ پی ایم ایل (ن) کے رہنمائوں کو بیانات دینے سے پہلے یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپوزیشن میں نہیں، حکومت میں ہیں۔
دوسری مشکل یہ کہ عدلیہ کا پاناما جے آئی ٹی کی نگرانی کرنا غیر معمولی بات ہے ۔ اسے ایسا اس لئے کرنا پڑا کیونکہ ہماراجانچ پڑتال کا نظام نہ تو جاندار ہے اور نہ ہی فعال ۔ ہماری حکمران اشرافیہ ہر گزپسند نہیں کرتی کہ سرکاری افسران آزاد ماحول میں کام کرسکیں۔ جے آئی ٹی کا کام کرنے کا انداز اور حسین نواز کی سامنے آنے والی تصویر کا ماحول نامناسب ہے اور اس کا رد ِعمل آسکتا ہے ۔ لیکن کیا ہم کسی ایسی جے آئی ٹی کے کام کرنے کا تصور کرسکتے ہیں جسے سپریم کورٹ کی پشت پناہی حاصل نہ ہو اور وہ وزیر ِاعظم کے بیٹو ں کو ایسے معاملات میں بلا کر آزادی سے پوچھ گچھ کرسکے جن کی وجہ سے اُن کا سیاسی کیریئر خطرے میں پڑ جائے ۔ تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سپریم کورٹ شریف خاندان کا ٹرائل کرے ۔ یہ اپنی ساخت کے اعتبار سے بذات ِ خود ٹرائل نہیں کرتی ، اس کا کردار پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم رکھنے والے غیر جانبدار ثالث کا ہے ۔ تو سپریم کورٹ کو بھی کچھ یقینی چیلنجز کا سامنا ہے ۔
پہلا چیلنج یہ ہے کہ تحلیل شدہ حقائق کے تالاب سے چھان کر ٹھوس حقائق کی تلاش آسان نہیں۔ ہمارے ہاں مروجہ روایتی اخلاقی اقدار میںوفاداری کا درجہ راست بازی سے کہیں بڑھ کر ہے ۔ سادہ الفاظ میں ، آپ جن سے محبت کرتے ہیں، یا جن کے ساتھ وفاداری کے عہد میںبندھے ہوئے ہیں، آپ بوقت ِ ضرورت اُن کے لئے جھوٹ بھی بولتے ہیں اور اصولوں سے سرتابی بھی کرتے ہیں، اور اس وفاداری پر فخر کیا جاتا ہے۔ ذاتی اخلاقیات کی ان اقدار نے ہمارے جسٹس سسٹم کو کمزور کردیا ہے ۔ جھوٹی گواہیاں ملزم کو سزا سے بچا لیتی ہیں۔ تو کیا عوام کی دروغ گوئی کو بے اثر کرنے اور جسٹس سسٹم کی فعالیت بہتر کرنے کے لئے عدالت اس کے تحفظ کو دائو پر لگا کر الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری کے اصول کو الٹ سکتی ہے ؟
دوسرا چیلنج یہ ہے کہ ہمارا اجتماعی ضمیر نعرہ بازی، جذبات، عزت ، مصلحت اور حقائق سے اغماض برتنے کا عجیب سا مزاج رکھتا ہے ۔ ہم اکثر اس بات کا کھوج لگانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کہ کوئی ایسا کیوں کررہا ہے ۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کیا کیا جارہا ہے ۔ اس رجحان نے ہمیں ’’حقائق سے پاک معاشرہ ‘‘ بننے کی راہ پر گامزن کردیا ہے ۔ تاہم ایک ملک، جہاں سول ملٹری تواز ن کو تاحال حتمی شکل نہیں دی جاسکی، اور جہاں سویلین کے پر کترنے کیلئے بدعنوانی کے الزامات ایک معمول ہوں، وہاں یہ دیکھنا بھی اتنا ہی اہم ہوجاتا ہے کہ حکومت کو کون ہٹانا چاہتا ہے اور کیوں، جتنا اس بات کا تعین کرنا کہ کیا حکومت نے وہ جرائم کیے جن کا اس پر الزام عائد کیا جارہا ہے ۔
تیسرا چیلنج یہ ہے کہ قانون کے ایوان اور سیاست کے اکھاڑے کے قوانین ایک جیسے نہیں ہوتے ۔ ایک ووٹر بے دھڑک اس بات کا فیصلہ (اپنے تئیں) کرسکتا ہے کہ نواز شریف قصور وار ہیں یا بے گناہ ۔ سامنے آنے والے انکشافات اُس کی رائے پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ تاہم عدالتیں طے شدہ طریق ِ کار کے مطابق کام کرتی ہیں۔ وہ داخلی جذبات کے مطابق کسی کے جرم کا تعین نہیں کرتیں۔ ایوان میں کسی وزیر ِاعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جاسکتی ہے، چاہے اس کے لئے کتنے ہی جوڑ توڑ یا غیر اخلاقی حربے اختیار کرنے پڑیں۔ وہاں سب چلتا ہے ۔ لیکن قانون کی عدالت میں فیصلے سے زیادہ یہ دیکھنا زیادہ اہم ہوجاتا ہے کہ فیصلہ کیسے کیا گیا۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہی شفافیت ہے ۔
پاناما اسکینڈل کے منظر ِ عام پر آنے کے بعد سے ہم نے کوئی معقول دلیل نہیں سنی کہ شریف خاندان نے کس طرح وسیع پیمانے پر دولت پاکستان سے باہر منتقل کی ۔ کیا پی ایم ایل (ن) سے وفاداری رکھنے والوں، جو غیر مشروط طور پر نواز شریف اور ان کے بیٹوں کا دفاع کرتے ہیں، کو اس پر حیرت نہیں ہوگی؟ پی ایم ایل (ن)بے دھڑک الزام لگارہی ہے کہ نواز شریف سے اُن کی دولت ، اس کے حصول ، یا اس کی بیرونی ممالک کی طرف ترسیل کی بابت چبھنے والے سوالات پوچھنے والے افراد پاکستان کے دشمن ہیںکیونکہ موجودہ وزیر ِاعظم ہی ملک کو آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ یہ ایک احمقانہ بات ہے ۔ تو پھر کیا ایک عدالتی فیصلہ ایسے جذباتی دلائل کا نتیجہ ہوسکتا ہے ؟
سپریم کورٹ کے سامنے چوتھا چیلنج یہ ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی ساکھ نہیں ۔ یہاںصحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرنے اور قصوروار کو سزا دینے کی بجائے قانون اور اس کے نفاذ کو طاقت کے دھڑوں کے درمیان کوئی ڈیل طے کرانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ ماضی میں جب عدالتیں سیاسی دلدل میں اترتیںتو یہ عمل اور اس کے نتائج قانون کی حکمرانی اور جوڈیشل طریق ِ کار کی غیر جانبداری پر عوام کے اعتماد کو مجروح کردیتے ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے افراد قانون کو انصاف فراہم کرنے والے بازو کی بجائے طاقت ور دھڑوں کے مہرے کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔
پی پی پی دور میں سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط لکھنے کا کیس یا بدعنوانی کے دیگر بہت سے کیس کو ہاتھ میں لیا لیکن اُن میں سے کوئی بھی منطقی انجام تک نہ پہنچ سکا اور نہ ہی کسی کے مجرم یا بے گناہ ہونے کا تعین ہوپایا۔ مشرف کیس کا تعلق سول ملٹری تعلقات سے ہے نہ کہ آئین کی پامالی کرنے سے ۔ ہم نے حکومت کا تختہ الٹنے کے جواز سنے ہیں، اور ہم نے بعد میں سپریم کورٹ کو یہ تسلیم کرتے بھی دیکھاہے کہ اُس وقت ایسا کرنااس کی غلطی تھی۔ تو کیا پاناما کیس بھی بدعنوانی کے مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچائے بغیر نواز شریف کے پر کترنے کا عمل قرار پائے گا؟ہماری تحقیقات ٹھوس حقائق کو بے نقاب کرنے اور ملزمان کے خلاف ثبوت حاصل کرنے پر مرکوز نہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ وہ توہین آمیز تحقیقات، سخت سوالات، ناروا انداز اور لیکس جیسا طرز عمل اختیارکرچکی ہیں۔ یہ سب کچھ میڈیا ٹرائل کی حد تک تو کافی ہے لیکن عدالت میں سزا دلانے کے لئے نہیں۔ ہائی پروفائل کیسز میں کسی ملزم سے کی گئی پوچھ گچھ کو فاش کرنا ایک معمول بنتا جارہا ہے ۔ کیاکوئی آئن اسٹائن آکر ہمیں سمجھائے کہ اس کا فائد ہ صرف ملزم کو ہی پہنچتا ہے ؟جنہوں نے حسین نواز کی تصویر لیک کی اور اپوزیشن جوش سے وارفتہ ہوکر اسے پھیلانے لگی، ان کا خیال تھا کہ اس سے نواز شریف کو زک پہنچے گی۔ درحقیقت اُنھوں نے ایسا کرتے ہوئے نواز شریف کی سیاسی اور قانونی طور پر مدد کی ہے ۔ نواز شریف یہی چاہتے تھے کہ عام شہریوں تک یہ بات پہنچ جائے کہ پاناما کیس دراصل اُنہیں پھانسے کے لئے کسی کا بچھایا ہوا جا ل ہے ۔ پی ایم ایل مندرجہ ذیل سوالات پر اپنا بیانیہ کھڑا کررہی ہے ۔ جب حکومت نے پہلے درخواست کی تھی کہ پاناما پیپرز کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تو اُس وقت انکار کیو ں کردیاگیا جب آخر میں معاملہ عدالت کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات کی طرف ہی آنا تھا؟رجسٹرار نے پہلے پی ٹی آئی کی درخواست کو بے معانی قرار دے کر کیوں مسترد کردیا ، نیز کیا وہ چیف جسٹس آف پاکستان کی منشا کے بغیر ایسا کرسکتے تھے ؟ جب سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے رجسٹرار کے اعتراضات کو منسوخ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی درخواست کو سماعت کے لئے منظور کیا تو کیا اس کی وجہ پی ٹی آئی کی اسلام آبادکو بند کردینے کی دھمکی تھی؟سپریم کو رٹ کو جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے نمائندے شامل کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی حالانکہ اس نے وزیر ِاعظم کے مبینہ وائٹ کالر کرائمز کی تحقیقات کرنی تھی؟دفاعی اداروں کے نمائندے اس ضمن میں کیا مہارت رکھتے ہیں؟جے آئی ٹی میں شامل سویلین ممبران کو کس نے چنا ، نیز رجسٹرار سپریم کورٹ کو SECP اور اسٹیٹ بنک سے مخصوص افراد کی نامزدگی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟
نوازشریف اینڈ کمپنی یہی چاہتے ہیں کہ ٹرائل کی ساکھ مجروح ہوجائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو چاہے جو بھی فیصلہ ہو، اس سے پاکستان میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے تصور کو نقصان پہنچے گا۔ اگر عدالت بدعنوانی کے الزامات پر ایک منتخب شدہ وزیر ِاعظم کو گھر بھیج دیتی ہے تو اس کیلئے 1990 ء کی دہائی جیسا طرز عمل اختیار کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ اسکا مطلب ہے کہ اس کیلئے ایسا شفاف طریق ِ کار اختیار کیا جائے کہ پاکستان کے باشعور شہریوں، جو کسی مخصوص پارٹی سے اندھی وابستگی نہیں رکھتے ، کو بھی انصاف ہوتا دکھائی دے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *