ہم ایک منتشرگروہ ہیں

Seemi Kiran

میں اپنی قوم کی جانب دیکھتی ہوں تو روز بروز ایک یقین بڑھتا چلا جاتا ہے کہ ہم بس ایک منتشر گروہ ہہیں ۔۔۔ ہم کنفیوژڈ لوگ ہیں !

اور یمارے راہبروں نے ہمیں بڑی محنت سے بہت اچھی طرح کنفیوز کیا ہے !

یہ انتشار داخلی و خارجی سطح پہ ایک پاگل پن پہ اختتام پذیر ہوتا ہے منطقی سطح پہ !

اور کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم مختلف قسم کے پاگل پن کا شکار ہیں ؟

ہم مذہبی سطح پہ ایک پاگل ، متشدد جنونی رویہ اپناتے ہیں !

ہم اپنی نام نہاد معاشرتی غیرت کے لیے بھی مذہب کی آڑ لیتے ہیں ۔۔۔۔ وہ ہمیں نہیں ملتی تو ہم مذہب سے منکر ہو جاتے ہیں !

ہم قوم پرستی ، وطن پرستی کے جنون میں مبتلا ہیں  مگر جب زد ہمارے کسی نام نہاد مفاد یا واہیات قسم کے خیال و نظریے پہ پڑتی ہے تو ہم اس نیشنلزم کو بھی ٹھوکر مار دیتے ہیں !

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم آخر چاہتے کیا ہیں ؟

ہماری آرزو کیا ہے ؟

ہمیں مقصود کیا ہے ؟

ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں مگر بڑی سختی سے رجعت پسندی کے پتھر کو چمٹے ہوئے ہیں !

ہم اخلاقی بہتری چاہتے ہیں مگر ہم نے اپنی تمام تر اخلاقی اقدار و روایات کو اظہار آزادی اور ترقی کے نام پہ ٹھوکر مار دی ہے !

آخر ہماری آرزو کیا ہے ؟

ہماری منزل کیا ہے ؟

اب یہ ملالہ یوسف زئی کا معاملہ ہی دیکھ لیجئے ہم نے اسے اتنا الجھا کر رکھ دیا ہے کہ اک اور مسئلہ کشمیر بنا کر رکھ دیا ہے !

آپکے وطن کی ۔۔۔۔ آپکی بیٹی ۔۔۔ جس پہ باقائدہ ناز کیا جا سکتا تھا ۔۔۔۔

مگر آپ نے اپنے اندرونی تعصب و جہالت کی بنا پر

اسے اتنا متنازعہ کر دیا ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتا ، سچ کیا ہے ، جھوٹ کیا ہے !

ایک ملالہ اور سارے دائیں بازو والے کیا صحافی ، کیا نام نہاد دانشور ۔۔۔۔۔ سب اپنی پرچون کی دوکان بڑھائے بیٹھے ہیں ؟!

مگر آخر انکو مسئلہ کیا ہے ؟؟

کیا جہالت و تعصب اتنی خطرناک بیماریاں ہیں کہ بیامر ذہنیت اک بچی کے مقابل اتر آئی ہے ؟!

اس سے خوف کیا ہے؟

کیا اندھیرا روشنی سے اتنا خوفزدہ ہوتا ہے؟؟

شاید جانتا ہے کہ روشنی کی ایک چھوٹی سی کرن اس کا پورا وجود نگل جائے گی !

لیکن ایک سوال ؟ کیا آپ نے ملالہ کو پڑھا ہے ؟؟؟

کیا آپ نے واقعی "I am Malala" کتاب کو پڑھا ہے ؟؟

آپ یقین کیجئے کہ جو الزامات ملالہ پہ اسکی کتاب کو لیکر لگائے جاتے ہیں اس سے دو نتائج تو بخوبی نکالے جا سکتے ہیں !

1 ۔ یا تو الزام تراشوں نے اپنی روایتی پاکستانی چابکدستی کا ثبوت دیا ہے اور ادھر ادھر سے سن سنا کر بغیر کتاب پڑھے ہاتھ و قلم کی صفائی دکھائی ہے

2 ۔ الزام تراش واقعی ذہین و فطین ہیں وہ بیان کو تڑوڑنا مڑوڑنا یا بیانیے کی ٹانگ توڑنا خوب جانتے ہیں اور یہ پراپیگنڈا جان بوجھ کر بد نیتی سے کیا گیا ہے !

کیا میں کتاب کے متن کا ترجمہ آپکے لیے پیش کروں ؟

اب سلمان رشدی کی ساتھی بنا دینے پہ سر پیٹنے کو ہی دل کرتا ہے جب آپ ملالہ کا درست موقف پڑھیں

ملالہ لکھتی ہے

"میرے ابا کے کالج میں بند کمرے میں اک گرما گرم بحث کا آغاز کیا گیا ۔ بہت سے طلباء نے اپنے دلائل دیے اور کہا کہ کتاب کو بین کر دینا چاہیے جلا دینا چاہیے اور اس پر فتوی عائد کر دینا چاہیے !"

"میرے ابا نے تسلیم کیا کہ کتاب اسلام کے خلاف ہے مگر وہ آزادی اظہار رائے کے سخت حامی ہیں اور کہتے ہیں " پہلے کتاب کو پڑھو اور پھر کیوں نہ اپنی کتاب سے اپنا ردعمل دکھاؤ" انہوں نے تجویز کیا !

اور بحث کو اپنی پرجوش آواز سے یہ کہکر ختم کر دیا کہ" میرے دادا کہا کرتے تھے اور ناز کرتے تھے کہ کیا اسلام اتنا کمزور دین ہے کہ وہ ایک کتاب برداشت نہ کر سکے جو اسکے خلاف لکھی جائے ؟ نہیں میرا اسلام اتنا کمزور نہیں "

اب آپ بتائیے کہ اسمیں سلمان رشدی ملعون کو کیا سہولت دی گئی ہے؟

Related image

بہت معذرت ، میں اس موقف کے ساتھ بالکل متفق ہوں یہ ہم لوگ ہیں جو سلمان رشدی جیسے ملعونوں کو شہرت کے گھوڑے پر بٹھا دیتے ہیں !

اور کیا خبر بٹھانے والے ، ردعمل دکھانے والے اندر ہی اندر موٹی رقمیں بھی وصول کرتے ہوں !

کیا میرا دین اتنا کمزور ہے کہ ایک کتاب اسے برباد کر دے !

ہم اسکا مقابلہ اپنے علم سے کیوں نہ کریں؟

اپنے طلباء کو اتنا مضبوط ایمان اور دلیل دیں کہ وہ ایسی کڑوی گولیوں کو مٹھائی سمجھ کر مگل جائیں !

یقین جانئیے سلمان رشدی پیدا ہونا بند ہو جائیں گے

آپ عمل سے بڑا ردعمل دکھا کر عمل بڑا کر دیتے ہیں یہ اصول فزکس کا ہے ۔۔۔۔۔ میرا نہیں !

اب حدود آردیننس اور چار گواہوں پہ بھی ملالہ کا موقف پڑھ لیجئے

ضیا کے دور حکومت کے دوران پاکستان میں عورت پہ زندگی مزید تنگ ہو گئی ، جناح نے کہا تھا " کوئی تحریک اسوقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک عورتیں مردوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی نہ ہوں "

دنیا میں دو طاقتیں ہیں ایک تلوار اور ایک قلم !

اور ایک تیسری طاقت جو ان دونوں سے بلند اور بڑی ہے وہ ہے عورت !مگر جنرل ضیاء نے ایسے اسلامی قوانین متعارف کروائے جنہوں نے عدالتوں میں عورت کی گواہی کو کم کر دیا اور مرد سے آدھا کر دیا ۔ جلد ہی ہماری جیلیں ایسے کیسز سے بھر گئیں جس میں ایک تیرہ سالہ بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا زیادتی کی گئی اور وہ حاملہ ہو گئی اور بجائے انصاف ملنے کے اسکو بدکاری کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا کیونکہ وہ چار مرد گواہ پیدا کرنے سے قاصر تھی جنرل مشرف کا دور اس لحاظ سے ضیا کے دور سے مختلف تھا اس نے ایسے بہت سے کام کیے جن کو کرنے کی ہمت جمہوری طاقتوں میں بھی نہ تھی حتیٰ کہ بے نظیر بھٹو بی ! اس نے اس قانون کو ختم کیا جسمیں ایک عورت کو یہ ثابت کرنا پڑتا کہ اسکے ساتھ زیادتی کی گئی اور وہ چار گواہ لانے پہ بھی مجبور ہے !"

ان الفاظ کی کوئی اندھا ، متعصب ہی مخالفت کر سکتا ہے میرے پاس اسکو رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے !

اسی طرح ایٹم بم پہ ملالہ کا بیان پڑھیے

" میرے بھائی اس بات پہ خوش تھے کہ اگر ہمیں نیو کلئیائی طاقت اور میزائلز کے ساتھ ایف سولہ مل جائیں گو کہ میرے والد نے کہا کہ اگر سیاست دان ایٹم بم بنانے پہ اتنی رقم ہمارے پاس تعلیم کے لیے کافی "ہو"

اب آپ ہی بتائیے کہ اسمیں مخالفت کا کیا پہلو ہے؟؟

یہ وہ رائے ہے جو میں نے بہت سے لکھاریوں اور دانشوروں کی پائی جو اس اسلحے کی دوڑ اور ایٹمی ہتھیاروں کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہی سرمایہ دنیا میں انسانوں کی فلاح کے لیے استعمال ہو !

آپ خود سوچئے گر انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن قائم ہو جائے تو دونوں ممالک اسلحے کی بجائے یہی رقم اپنے ملک کی غربت دور کرنے میں صرف کر سکتے ہیں !

آپ گر بات کی جائے ملالہ کی مغرب میں غیر معمولی پذیرائی کی تو ظاہر سی بات ہے اک ایسی بچی جو ایسے علاقے میں تعلیم ، امن اور ایسے امور پہ بات کر رہی ہے ۔۔۔۔ خواتین کے لیے آواز اٹھا رہی ہے ۔۔۔۔ یہ وہ تمام معاملات ہیں جو مغرب کی توجہ کھینچتے ہیں !

اک طرف یہ مہربان فرماتے ہیں کہ کرسٹینا لیمب نے ملالہ کے لیے کتاب لکھی ہے جو پاکستان میں بین ہے ، فوج مخالف ہے !

یعنی اس سے پھر دو نتیجے نکلتے ہیں

1 ۔ ملالہ کرسٹینا لیمب کی بھی ڈارلنگ ہے اور

2 ۔ آرمی کی

آپ خود ہی عقل کو استعمال کیجئے کیا یہ بیک وقت ممکن ہے؟

کہنے والے کہتے تھے ۔۔۔۔۔ گولی بھی ڈرامہ ہے ، آپریشن بھی ملالہ نے یقیناً خود ہی پلاسٹک سرجری کروا کر منہ ٹیڑھا کر لیا !

اب جبکہ فوج نے اسکے مجرموں کی گرفتاری و اعتراف کی تصدیق کر دی ۔۔۔۔

ان لوگوں کی حالت و نفسیات قرآن نے واضح کی تھی کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان پر فرشتے نازل کیے جائیں مگر جب فرشتے بھی آ جائیں گے تو یہ اعتراض کریں گے کہ یہ آدمیوں کی شکل میں ہیں !

دل کڑھتا صرف اس بات پہ ہے کہ جن باتو جن امور پہ ہمیں یکجا ہو کر ایک قوم بننا تھا اک منتشر گروہ سے ہم نے وہی متنازعہ بنا دیے !

اب رمضان میں پھلوں کی مہنگائی کے خلاف ہڑتال ایک ایسا فیصلہ تھا جو ہمیں ایک قوم بنا سکتا تھا مگر ایسے کام جلد بازی میں انجام دینے کے نہیں ہوتے ۔ ان کے لیے منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے ۔ جلد بازی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم پھر فرقوں میں بٹ گئے !

یہ سب دیکھتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ ہم واقعی ایک منتشر گروہ ہیں !

قوم نہیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *