مری میں سرمایہ کاری کیجئے

salar suleman

پہاڑی مقامات کسی بھی ملک میں سیاحوں کیلئے پر کشش مقامات تصور کئے جاتے ہیں ۔یہا ں کے محسور کُن نظارے، خوبصورت درخت، جھیلیں، جنگلی حیات اور دیگر عناصر مل کر اسکو قدرتی حسن اور دلفریبی کا امتزاج بنا دیتے ہیں۔ دنیا بھر کا ڈیٹا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ساحلو ں اور پہاڑوں پر سیاح ترجیحی بنیادوں پر جاتے ہیں۔ پاکستان کو بھی اللہ نے قدرتی حسن سے مالا مال کیا ہے ۔ یہاں پر خوبصورت ریگستان ہیں، ساحل ہیں، پہاڑی سلسلے بھی ہیں اور میدانوں میں تاریخ بکھری پڑی ہے ۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان سیاحت کیلئے ایک شاندار ملک ہے ۔ ایک خبرکے مطابق گزشتہ سال کے گرمیوں کے موسم میں 7سے 8لاکھ لوگ گرمیوں میں ناران ‘کاغان گئے تھے۔ کراچی کے ساحلوں پر رش تو اب روز کی بات ہے اور چولستان جیپ ریلی کی بھی اپنی ہی پہچا ن ہے ۔ سیاحت کے شوقین افراد کیلئے اندرون لاہور‘ پرانا ملتان ، بہاولپور وغیرہ میں بھی دلچسپی ہے لیکن ان سب سے زیادہ معروف مقام مری ہے جہاں پر سیاح کھچے چلے آتے ہیں۔
ملکہ کوہسار مری سے کون واقف نہیں ہے؟ ہر سال ہی لاکھوں سیاح اسلام آباد کے قرب میں واقع اس پُر فضا مقامات پر تعطیلات گزارنے جاتے ہیں۔ اسلام آباد سے یہاں رسائی بھی خاصی آسان ہے کہ فاصلہ محض 50کلومیٹر ہے۔ مری ایکسپریس وے کی وجہ سے مری تک رسائی میں مزید آسانی پیدا ہوئی ہے ۔ایک نیوز رپورٹ کے مطابق تقریباً 15ہزار لوگ روزانہ بنیادوں پر مری ، نتھیا گلی، ایوبیہ اور اطراف میں سیاحتی مقاصد کیلئے جاتے ہیں۔ اب چونکہ یہ ایک سیاحتی مقام ہے لہذا یہاں کی پراپرٹی کی اپنی اہمیت اور وقعت ہے۔گزشتہ سال نیو مری چیئر لفٹ کا آغاز ہوا جس نے ایک دم سے سیاحت کو بڑھا دیا تھا۔یہ چیئر لفٹ کوٹلی سٹیا سے پتریاٹہ اور بسٹل موڑ سے پنڈی پوائنٹ تک چلائی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سنے پیکس سینما کا پراجیکٹ بھی زیر غور ہے اور امید کی جارہی ہے کہ جلد ہی اس پر کام کا آغاز ہو جائے گا۔
سیاحوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرمایہ کار ولاز کو ڈیزائن اور تعمیر کرتے ہیں۔گرین ہل ریزارٹ بھی ایک ایسا ہی منصوبہ ہے جو کہ مری میں بنایا جا رہا ہے۔ یہ ایک خوبصورت منصوبہ ہے جس میں ہر کمرے میں اعلیٰ معیار کا فرنیچر، مائیکرو ویو، ایل ای ڈی، ہیٹر اور اس طرح کی دیگر چیزیں موجو د ہیں۔مین ایکسپریس وے پر ہونے کہ وجہ سے یہاں سے سوزو ایڈونچر پارک تک رسائی بھی آسان ہے ۔ مری میں ایک اور پراجیکٹ ویلی ویو ریزارٹ ہے۔یہاں بھی روزمرہ ضروریات کی تمام خصوصیات اور سہولیات موجود ہیں۔
مری میں دو بیڈ رومز سے لیکر 8بیڈ رومز تک کے گھر خریدے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں پر اپارٹمنٹس بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مال روڈ، بھوربن، نیو مری میں پلاٹس بھی دستیاب ہیں۔ زمین ڈاٹ کام کے اعداد و شما رکے مطابق مری میں فی مرلہ اوسطاً130,000روپے ہے۔
مری کی پراپرٹی ایک محفوظ سرمایہ کاری تصور کی جاتی ہے ۔ اب چونکہ ماضی کی نسبت سکیورٹی کی صورتحال بہت زیادہ بہتر ہوچکی ہے جس نے سیاحت پر مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔ ابھی رمضان المبارک ہیاور عید کے ساتھ ہی پاکستان میں سیاحت کے موسم کا آغاز ہو جائے گا۔ اگر ہم گزشتہ سال کے اعدا د و شمار کو مد نظر رکھیں تو یہ سمجھ میں آئے گا کہ اس سال سیاحت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان موجود ہے ۔اس کی وجہ سے علاقے میں رہائش اور ہوٹلز وغیرہ کی طلب میں خاصا اضافہ ہو جائے گا۔ ا ن تمام جملہ عوامل کا میزان ہمیں یہ بتاتا ہے مری کی پراپرٹی مارکیٹ گوکہ دیگر شہروں کی نسبت چھوٹی سی ہے لیکن یہاں پر سرمایہ کاری کے بے شمار فوائد موجود ہیں۔رمضان المبارک کے اختتام کے ساتھ ہی یہاں پر سیاحوں کی آمد شروع ہو جانی ہے بلکہ اب موجودہ دورکی ترقی نے اس شہر کو ’’فور سیزن ٹوزازم پلیس‘‘ بنا دیا ہے ۔یہاں سرمایہ کاری سے نہ صرف بڑھتی ہوئی سیاحتی طلب کو پورا کیا جا سکتا ہے بلکہ اپنی سرمایہ کاری پر منافع بھی کمایا جا سکتا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *