وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے !

ghulam mustafa mirrani
جنوبی پنجاب کے بیشتر حصے اِن دنوں آبی بُحران کی زٙد میں ہیں جس سے کھڑی فٙصلوں اور نئی کاشتوں کا عمل بُری طرح متاثر ہو رہا ہے. دیہات مُضطرب اور کسان مُذٙبذٙب ہیں. سُوکھتے کھیت اور اُجاڑ کِھلیان, متاثرہ خِطے میں خزاں کا منظر پیش کرنے لگے ہیں. پنجاب کے حصہ میں پانی فراہم کرنے والی چشمہ رائٹ بنک کینال کے خشک ہونے اور پانی بند کر دینے سے مُرتب ہونے والے تباہ کن اثرات اور المناک عٙواقب پر بعد میں بحث کرتے ہیں, پہلے جمشید دستی کی گرفتاری اور پس منظر کے بارے میں معروضات کا اظہار مناسب لگ رہا ہے.
جمشید دستی مظفر گڑھ سے منتخب ممبر قومی اسمبلی ہیں. عوامی قُرب اور مٙساعی مزاجی کے بدولت اپنے حلقہء انتخاب میں مقبول ہیں. پہلو دار شخصیت  ہونے کے باعث, اُن پر تنقید کرنے اور اُنہیں مجموعہء اضداد قرار دینے والوں کی بھی کمی نہیں تاہم مٙحاسِن و مٙعایِب کی مِیزان سے قطعِ نظر, ہمیں اُنکی مٙنصبی استعدادِ کار اور بار بار منتخب ہونے کی مُستحکم اٙساس کو تسلیم کرنا پڑے گا. مقبولیت کا سبب علاقہ میں موروثی سیاست سے بغاوت بٙھرا ردِعمل بھی ہو سکتا ہے  مگر اصل وٙصف عوام سے اِشتراکِ دُکھ سُکھ ہے. اس کا اندازہ زیر بحث حالیہ واقعہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔
نہر بند تھی اور حلقہ کے عوام سٙراپا احتجاج کیونکہ دیہات دہقان کی بُود و ماند کا واحد سہارا بٙروقت کاشت اور کاشت کی بالِیدگی کا انحصار بٙروقت آبپاشی پر ہوتا ہے. پانی کے بغیر کھیت کِھلیان سُنسان اور کسان ویران ہو جاتا ہے. اس نزاکت کو کاشت کے پیشہ سے وابستہ لوگ بخوبی سمجھتے ہیں. محکموں اور مٙنصبداروں سے جمشید دستی کے رابطے نقش بر آب ثابت ہوئے کیونکہ اُنکی شخصیت حکمرانوں میں پسندیدہ ہے نہ مخالف محاذ حٙلقوں میں مُستحسن ! موصوف اِنفرادیت اور اٙنا کے ذوق میں مُخاصمت کے طوق کو زندگی کا زیور سمجھتے ہیں. جب کسی نے بھی نہ سُنی تو فصلات اور موسمی مُضمِرات کے منطقی اثرات سے متاثر عوامی کارواں کی قیادت کرتے ہوئے نہر کے دٙہانے پر جا پہنچے. طاق اٹھا دیئے اور موجیں مارتی آبجُو چل پڑی. شاداں وفرحاں کسان تو کِھلکِھلا اٹھے مگر مواقع کے منتظر قٙہرمانوں کو قیمت جمشید دستی نے ادا کی. اس جرم کی پاداش میں, وہ اُس وقت دٙھر لئے گئے جب قومی اسمبلی میں فراض منصبی کی بجاآوری کے بعد مقامِ مالُوف,  یعنی اپنے  انتخابی حلقے میں قدم رٙنجہ ہوئے. تعزیراتِ پاکستان سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر جتنی دفعات راس آ سکتی تھیں, لاگُو کر دی گئیں. اس طرح اِنصاف کا بول بالا ہوا مگر تہذیب کا منہ کتنا کالا ہوا؟ اِس سے کسی کو سروکار نہیں! پہلی یاترا مظفر گڑھ کی حوالات اور اگلا پٙڑاؤ سنٹرل جیل ملتان پڑا. مظفر گڑھ سے منتقلی کا فیصلہ شاید عوامی رد عمل کا خوف تھا.  جُرم اتنا " گمبھیر" اور مجرم اس قدر " دھشتناک" کہ دو روز بعد جب سابق وزیرِ خارجہ, حاضر ممبر قومی اسمبلی اور ملک کی اس وقت دوسری بڑی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی صاحب ملاقات کیلئے گئے تو جیل حُکام نے معذرت کرتے ہوئے ملاقات حکومتِ پنجاب کی اجازت سے مشروط کر دی. ایک قاتل قیدی یا ڈاکہ زنی کے جرم میں مقید مجرم سے, کوئی عام شہری جب چاہے, ملاقات کر سکتا ہے مگر یہاں چونکہ ' یُونکہ اور اگرمگر ' کی فٙصیل کھڑی کر دی گئی. شام گئے تک قریشی صاحب کوششوں میں لگے رہے مگر ناکام ہوئے.  سُنا ہے سِنئر سیاستدان اور ملتان کی مُعتبر شخصیت جاوید ہاشمی سے بھی کچھ اِس طرح کا سلوک روا رکھا گیا.  اپنی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں پر جمہوریت کو ڈھال بنانے والو ! خدا خوفی کرو, جمشید دستی, شاہ محمود اور جاوید ہاشمی بھی تو جٙمہُور کی آواز ہیں !! کل ہی کی بات ہے. بٙبلو کی تصویر کیا چٙھپی, تعبیر کے مفسرین نے آسمان سر پر اٹھا لیا. چٙہار سٙمت غلغلہ بلند ہوا اور طوفانِ طٙیش و تٙمازت افلاک کو چُھو رہا تھا! لگتا تھا کہ نام نہاد جمہوریت لٙرزہ بر اندام ہے اور احتساب کٹہرے کا قیام گویا ملکی مفاد پر مُہلک ضرب لگانے کے مترادف ہے حالانکہ بات کچھ بھی نہ تھی مگر مٙنقٙبت شعار حکمرانوں کو چُبھن محسوس ہوئی تو  بٙتنگڑ  بنا دیا. پٙر سے پورا کوا بنا اور رائی کے رُوپ میں پہاڑ دکھائی دینے لگا !! کیا جمشید دستی کے ساتھ رٙوا رکھے جانے والے سلوک, جاوید ہاشمی اور شاہ محمود کی اِہانت سے جمہوری نظام کی آبیاری ہو رہی ہے یا اِنہٙدام و مِسماری !!!
خلقِ خدا کی دستگیری کیلئے جمشید دستی کا اقدامِ نہر کُشائی کوئی نیا یا انوکھا عمل نہیں تھا, ایسا ہونا روز کا معمول ہے. کسی ممبر, معزز یا گُروگھنٹال کامتحرک اور مرتکب ہونا تو بہت دُور کی بات ہے, عموما" یہ کام عام کاشتکار ہی کر آتے ہیں. کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ اُنہیں تٙعزیر و تازیانے کی بِھینٹ چڑھا دیا جائے.  بے قابو اور افروختہ عنانِ سلطنت کے شہسواروں نے بڑے بھونڈے پٙن کا مظاہرہ کیا. سٙتر کی دھائی میں مرحوم ظہور الہی پر بھینسوں کے سٙرقے کا مقدمہ تھونپ دیا گیا تھا. بلوچستان کے سرداروں کی حقوق طلبی پر تلخ نوائی کا انجام, مُدتوں تک زِندانوں میں پڑے رہنا ٹھہرتا تھا. اپوزیشن کو دٙبانا اور ٹھکانے لگانا مرغوب ترین مشغلہ بن چکا تھا. طلبہ کے معمولی احتجاج کو بغاوت سے مٙعنُون کر دینا اور پٙکڑ دٙھکڑ کے بعد اذیتناک عٙواقب سے گزارنا آئے روز کا معمول تھا. امن برباد اور جیلیں آباد تھیں. انصاف پر عِناد اور اصولوں پر انتقام کا غلبہ بالآخر عبرتناک انجام پر مُنتٙج ہوا.  لگتا ہے, آج بھی کٙروٙٹیں بدلتی جمہوریت کے کئی چہرے ہیں. بٙبلو, نہال اور طلال چودھری جیسے اٙقربا کیلئے پیمانے اور ہیں, جمشید دستی جیسی مظلوم مخلوق کیلئے مِقیاسِ عدل مختلف ! شاید سٙتر کا زمانہ لٙوٹ رہا ہے اور تاریخ پھر کسی اٙنہونے انجام کے عملی ظہور کو جنم دینے پر مجبور کھڑی نظر آتی ہے. مُخمٙصوں میں محصور اور اندیشوں میں اُلجھے حکمرانوں کو اُمنڈتے خدشات پر چشم کُشا رہنا چاہئے۔ اقتدار کا پِنڈولم مٙدھم ہوتا جا رہا ہے اور ابدیت کے خواب چکنا چُور ہونے کو ہیں. دانا کہتے ہیں کہ چُھری اور خربوز کی مُضارٙبٙت میں نقصان ہمیشہ خربوزہ اٹھاتا ہے. کسی بھی شکل میں سیاسی کشمکش کا منطقی ماحصل, بالآخر حکمرانوں کو لے ڈوبتا ہے. تاریخ کا سبق کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ آمریت کا انجام ہمیشہ اذیتناک ہوتا ہے. جمشید دستی نے اپنی گرفتاری پر دل آزاری تو محسوس کی ہو گی مگر نادان حکمرانوں کو کیا خبر کہ اُنکے احمقانہ اقدام کی بدولت حکومت کتنی بدنام ہوئی اور جمشید دستی کا اگلا انتخاب جیتنا کیسے اٙمٙر ہو گیا !! رہا جنوبی پنجاب کے بیشتر حصوں میں پانی کا فقدان اور عوام کا مٙلال تو ممکنہ ردِعمل پر سِیخ پا ہونا بصیرت مندی نہیں, حماقت ہے. جی ہاں ننگی حماقت !  حکومت کو تادیبی تصورات سے باہر نکل کر تعمیری اقدامات کرنے چاہئیں۔ مسائل کے بوجھ تلے تڑپتا کسان پہلے ہی لٙرزِیدہ اور کٙمر خٙمیدہ ہے۔ کسان کمیونٹی میں بغاوت پُھوٹ پڑی تو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ کاشتکاروں کے شاہراؤں پر دٙھرنے اور دٙھرنوں سے اُٹھتا نفرت کا دُھواں, اشتعال اور وٙبال کے اِنزال کا بٙیٙن مٙظہر ہے, پھر ایک مقام پر نہیں, قدم قدم پر جمشید دستی دکھائی دیں گے.
کالم کے آغاز میں چشمہ رائٹ بنک کینال کے زِوال کا ذکر ہوا. بدحالی کے باعث، پنجاب کے فُغاں بٙلٙب کسان اشکبار ہیں. سٙر پر قیامت بِیت رہی ہے اور کوئی پُرسانِ حال نہیں. حالات کا عینی شاہد ہونے کے ناتے, وہاں زراعت کے مستقبل اور کسان کی قسمت پر غور کرتا ہوں تو رُونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اِستحقاق کے مطابق 1800 کیوسک پانی فراہم کرتے رہنے کا واحد مذکورہ مٙنبع مٙفلوج کر دیا گیا. کسی روز پانی پہنچ پاتا ہٙے بھی تو محض منہ چِڑانے کیلئے، ورنہ سُوکھی نہر بےسُکھی بیوہ کی مانند ویران ویران سی لگ رہی ہے۔ نہایت معذرت مگر دل گرفتگی کے ساتھ توجہ دلاوءں گا کہ اس سلسلہ میں صوبہ کے پی کے, پنجاب کا بُری طرح استحصال کر رہا ہے. اتنی بڑی حق تلفی پر محترم خادم اعلی' پنجاب کی چشم پوشی اور منتخب قیادت کی مٙدہوشی پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ گھوڑے بیچ کر سو رہی ہے. لمحہءفکریہ ہے کہ لاکھوں لوگوں میں پائی جانے والی بےچینی اور حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت سے صوبے کے وزیراعلی' کو کیوں بے خبر رکھا جا رہا ہے؟ سرگرم اور سِیمابی صفت کے حامل وزیراعلی' اگر پنجاب سے ہونے والی اس زیادتی سے باخبر ہوتے تو یقینا" اس ھلاکت خیز  بے انصافی کا نوٹس لیتے. اتنے بڑے بحران پر مقامی نُون لیگئے جسطرح خوابِ خرگوش کی طرح ساکِت صامِت نظر آتے ہیں, آئندہ انتخابات میں اُنہیں اس کا خمیازہ بُھگتنا پڑے گا. کہیں ایسا تو نہیں کہ لٙب کُشائی کے احساس پر مصلحت کوشی کے مُمکنات مسلط ہیں کہ حلقہ کی بے چینی پر مٹی پاوء پالیسی ہی زیادہ موزوں ہے. ہر طرف ھُو اور حواس باختگی کا عالٙم طاری ہے۔ کیا قائدین اور کیا مُقلِدین، سب دم بخود ہیں. در پیش صورتحال سب کیلئے شرمناک ہے۔ صوبہ کے پی کے سے پنجاب میں نہر کی آمد کے وقت پہلی زیادتی ڈیزائن میں تخفیف کر دینے کی ہوئی تھی. تحصیل تونسہ شریف میں, کوہِ سلیمان کے پہلو بہ پہلو, ہزاروں ایکڑ رقبہ پر مشتمل غربی علاقہ کو اس نعمت سے محروم کر دیا گیا. تحصیل بھر کے لاکھوں کسانوں کے ساتھ دوسرا ظلم, حکومتِ کے پی کے کی زیادتی کے علاوہ, پنجاب کی مقامی اور صوبائی قیادت کا اِرتکابِ غفلت اور اندازِ لاپروائی بھی شامل ہے جس کے نتیجہ میں پنجاب کو لِفٹ کینال کی توسیع سے محروم کر دیا گیا. اس سہولت سے تونسہ کا نظرانداز شدہ وسیع و عریض صحرا, سرسبز و شاداب ہو سکتا تھا اور ہزاروں خاندانوں کی مانگِ حیات مسرتوں کے سٙیندُور سے سٙج جاتی مگر زہے نصیب، ایسا نہ ہو سکا۔ یاد رہے کہ اس غیر منصفانہ منصوبے کے فیصلہ کا اعلان گزشتہ برس وزیراعظم نوازشریف نے مولانا فضل الرحمن کی دعوت پر ڈیرہ اسماعیل میں، عنایات کی برسات کے دوران کیا تھا. اس کارستانی میں مولانا بھی برابر کے شریک ہیں حالانکہ ڈیرہ غازی خان سے جانے والے کئی وفود نے مولانا محترم کی بہت منت سماجت  کی تھی مگر وہ ٹال گئے! تحصیل تونسہ شریف تک لِفٹ کینال کی توسیع کا مطالبہ وزیراعظم نواز شریف کے سامنے ہی نہیں رکھا گیا ورنہ اس معقول مطالبہ کو وہ ہرگز رٙد نہ کرتے. شاید میاں شہباز شریف, پنجاب کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کی تلافی کیلئے کسی دن کمربستہ ہو جائیں. تونسہ والوں نے ابھی تک آس نہیں توڑی. شہباز شریف دانش سکول کا سنگِ بنیاد رکھنے جائیں تو لینڈ کرنے سے پہلے, شمالا" جنوبا" پانی کیلئے ترستی طویل بٙیلٹ کا فضائی معائنہ فرما لیں تاکہ اُنہیں معلوم ہو سکے کہ وہوا سے شادن لُنڈ تک تقریبا"  100*20 کلومیٹر پر پٙھیلا ہوا, بےآب وگیاہ مُردہ میدان، کتنی صدیوں سے کسی مٙسیحا کے کرمِ گُستری اور حیات بخش جھونکوں کا منتظر ہے۔ پٙچاھد کی پیاسی دھرتی پانی مانگ رہی ہے. اٙلعٙطٙش ! العطش !! اٙلعٙطٙش !!! بہتر ہو گا کہ تقریبِ سکول میں,  لِفٹ کینال کی منظوری کا اعلان کر کے رخصت ہوں. بخدا ! بُوند بُوند پانی کی منتظر, لاکھوں نٙفوس آبادی کیلئے یہ ایک عظیم تحفہ ہو گا اور خود خادم اعلی' کیلئے اٙبدُالآباد تک صدقہء جاریہ بھی......کاش کہ کوئی اُنہیں سمجھا سکے !  اے کاش کہ وہ اس مٙسلہ کی اہمیت اور افادیت پر غور کر سکیں. آگے بڑھتے ہیں. ہم CRBC  تونسہ پورشن کی پٙراگٙندگی, وہاں کی زٙبُوں حال زراعت اور کُشتہ قِسمت کِسان کی حالتِ قٙلبِیٙہ اور قالبِیٙہ پر بحث کر رہے تھے.  پنجاب کے شمال مغرب میں واقع اس پورے علاقہ کے ساتھ تیسرا تجاوز پانی کی مقدار کے تعین پر ہوا. سی آر بی سی کے ذریعے پنجاب کو صرف اٹھارہ سو کیوسک پانی دینا منظور ہوا جو نہر کے زیرِ کمان رقبہ کے تناسب سے کہیں کم ہے. تقسیمِ پانی اور وارے بندی کے تنازعات پر علاقہ میدانِ جنگ بنا رھتا ہے. ایسی کدورتیں اور قٙضِیے, پتہ نہیں, اب تک کتنی جانیں لے چکے ہیں! چوتھا سِتم, بلکہ سِتم بالائے سِتم کہ منظور شدہ اٹھارہ سو کِیوسک کی مقدار کے مقابلہ میں, پچھلے سال تک  سات آٹھ سو کیوسک سے زیادہ پانی کبھی چھوڑا ہی نہیں گیا. چوری اور سینہ زوری کے اس اٙلمیہ کے خلاف مقامی کسانوں کی چیخ و پکار اور دھاڑ فریاد ہمیشہ صدا بٙصحرا ثابت ہوتی رہی. کسی کے کان پر جُوں رینگی نہ کوئی ولی وارث نظر آیا. پانچوی "کرم فرمائی" سال رواں, فصلِ خریف کاشت نہیں ہو سکی کیونکہ گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل نہر میں پانی نہیں ہے. کسان کاسہء گدائی لئے دٙربٙدر انصاف اور ازالہ کی صدائیں لگا رہے ہیں. ضلعی انتظامیہ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور اُوپر لاہور, اسلام آباد پر جے آئی ٹی کے سائے چھائے ہوئے ہیں ! خدا خیر کرے !! خشک نہر اور بنجر و بیابان زمینیں, یہاں بھی " تنگ آمد بجنگ آمد"  مصداق, شاید کسی جمشید دستی کی راہ تک رہی ہیں !!!
                             *****
اٙیامِ سِتمگری کے دٙوران, فیض احمد فیض کی شاہکار تخلیق, آج جناب جمشید دستی کی اٙسیری اور تونسہ شریف کے بٙن باسیوں کو دٙرپیش کٙرب و بٙلا کے حٙسبِ حال لگ رہی ہے۔ گٙر قبول اُفتٙد زٙھِے عِز و شٙرف !
                            *****
تیرے ہُونٹوں کے پھولوں کی چاھت میں ہم
دار کی خُشک ٹٙہنی پہ وارے گئے !
تیرے ھاتُوں کی شٙمعوں کی حٙسرت میں ہم
نِیم تاریک راہوں میں مارے گئے !
سُولیوں پر ہمارے لٙبوں سے پٙرے
تیرے ہُونٹوں کی لالی ٹٙپٙکتی رہی
تیری زُلفوں کی مٙستی بٙرٙستی رہی
تیرے ہاتھوں کی چاندی دٙمکتی رہی
جب گُھلی تیری راہوں میں شامِ سِتم
ہم چلے آئے، لائے جہاں تک قدم
اپنا غم تھا گواہی تیرے حُسن کی
دیکھ قائم رہے اِس گواہی پِہ ہم
ہم  جو تارِیک راہوں میں مارے گئے
نارٙسائی اگر اپنی تٙقدیر تھی
تیری اُلفت تو اپنی ہی تٙدبیر تھی
کس کو شِکوٙہ ہے گٙر شوق کے سِلسلے
ہِجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے
قتل گاہوں سےچُن کر ہمارے اٙلٙم
اور نکلیں گے عُشاق کے قافلے
جن کی راہِ طٙلب سے ہمارے قٙدم
مُختصر کر چلے دٙرد کے فاصلے
کر چٙلے جِن کی خاطر جٙہاں گِیر ہم
جاں گٙنوا کر تِری دِلبٙری کا بٙھرم
ہم جو تارِیک راہوں میں مارے گئے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *