خواتین کے خلاف جنسی گفتگو

نازیہ میمن

مجھے شک ہے کہ خواجہ آصف ماضی میں کوئی بلڈر رہ چکے ہیں اور اکثر ٹریکٹر ٹرالی اور ڈمپر کا استعمال کر چکے ہیں۔ لیکن وہ باب کی طرح کے بلڈر نہیں ہیں کیونکہ باب کا کام مسائل کا حل نکالنا ہے جب کہ خواجہ آصف کا کام مسائل پیدا کرنا ہے۔ خواجہ آصف کو ایسے جنسی حملے کرنے سے صرف یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی مخالف پارٹی پر تنقید کر رہے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو وہ مردوں کو ٹریکٹر ٹرالی اور ڈمپر جیسے الفاظ سے مخاطب کیوں نہیں کرتے؟

البتہ ا س سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست میں جنسی حملے کرنے کا کھیل کس قدر حماقت پر مبنی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اتنا سیاست پر توجہ نہیں دیتے جتنا وہ خواتین کے جسم پر توجہ دیتے ہیں۔ایسی کوئی خاتون سیاستدان نہیں ہے جسے جنسی حملوں کا شکار نہ بنایا گیا ہو اور شیریں مزاری کو سب سے زیادہ اس رویہ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

فیڈرل منسٹر خواجہ آصف نے پیپلز پارٹی اہلکاروں کے پی ٹی آئی جائن کرنے کے معاملے پر مذاق اڑایا ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے مرد سیاستدانوں کو اپنے مذاق کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ خواتین پر جملے کس دیے اور اس طرح ایک بار پھر خواتین کے خلاف نفرت انگیز سوچ کا اظہار کر دیا۔ خواجہ آصف کے شیریں مزاری اور فردوش عاشق اعوان کے خلاف کیے گئے ٹویٹ ناقابل معافی اقدام ہے۔

جب سیاست دان سیکسزم کی سب سے بری شکل کو بھی اپنانے سے باز نہیں آتے تو خواتین کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس کا جواب دیں لیکن سیاست کے میدان میں موجود خواتین یہ کہتی سنائی دیتی ہیں کہ اس طرح کے جنسی حملے سیاست کا حصہ ہیں اور اگر وہ اس پر جواب دیں گی تو انہیں مزید بدتمیزی اور حراست کا سامنا کرنا پڑے گا۔جو خواتین سیاست میں نہیں ہوتیں اور کسی اور وجہ سے شہرت حاصل کر لیتی ہیں ان کو بھی اکثر اس طرح کے سیکسسٹ رویہ سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔

IMG_3242

سیکسٹ رویہ سے مراد خواتین کے خلاف اختیار کیا جانے والا دہرا معیار ہے۔ خواتین کے سیاست میں داخلے کے بعد بھی اس طر ح کے رویہ کا سامنا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مرد عورتوں کے بڑھتے ہوئے رسوخ سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ ماضی کی طرح آج بھی مرد یہ دیکھنے کےلیے راضی نہیں ہیں کہ وہ خواتین کو اپنے برابر تسلیم کر لیں۔

تقریبا ایک سال قبل خواجہ آصف نے مزاری کے لیے یہی الفاظ استعمال کیے تھے ۔ پچھلے سال رمضان میں نیشنل اسمبلی میں ایک فیڈرل منسٹر نے تحریک انصاف کی سنئیر رہنما شیریں مزاری کو نا مناسب الفاظ سے مخاطب کیا تھا۔اپوزیشن نے اس پر بہت ہنگامہ کیا اور سپیکر کو مجبور کیا کہ وہ ان الفاظ کو اسمبلی اجلاس سے حذف کریں۔ عالمگیر جمہوری روایات اور اقدار کے بر عکس آن ڈیوٹی منسٹر کا یہ رویہ بہت افسوس ناک تھا لیکن وہ واحد شخص نہیں ہیں جو اسمبلی میں بیٹھ کر خواتین پر اس طرح کے جملے کسنے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے دوسرے افراد خصوصی طور پر خواجہ آصف خواتین پر اکثر اس طرح کے حملوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ سیکسسٹ رویہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔ خواتین کو جس طرح جنسی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس میں کہیں بھی کمی نظر نہیں آ رہی۔یہ حقیقت اس چیز کی علامت ہے کہ پاکستان میں عام گھروں اور اداروں میں خواتین کو کس طرح کا رویہ برداشت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جہاں تک خواتین کا تعلق ہے، انہوں نے پارلیمنٹ میں پہنچ کر اپنی آزادی اور تحفظ حقوق کی جنگ شروع کر رکھی ہے لیکن پارلیمنٹ میں بھی مرد انہیں گھٹیا اور بے شرمی پر مبنی کلام کے ذریعے ان کے آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی کے بارے میں جنسی بنیادوں پر مبنی بیانات جاری کرنا ، اسے تشدد کا نشانہ بنایا یا دھمکیاں دینا، یہ سب چیزیں اب برداشت نہیں کی جائیں گی۔

IMG_3218

ہم اس معاملے میں واقعی بہت پریشان ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ پارلیمان میں بیٹھے ہمارے نمائندے اس رویہ کو ترک کریں گے تا کہ ان کو رول ماڈل سمجھنے والے لوگ اسی راستہ پر نہ چل پڑیں۔ اگر پارلیمنٹ ممبران اپنے ساتھ بیٹھے افراد کی طرف سے گالی گلوچ کو برداشت کرتے رہیں گے تو عین ممکن ہے یہی رویہ عام آدمی بھی خواتین سے اپنانے میں آزادی محسوس کرنے لگے۔ ان پارلیمنٹ ممبران پر اپنے ملک کو انٹر نیشنل کمیونٹی میں بدنام کرنے پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ آج تک پاکستان نے خواتین کے حقوق کے معاملے میں بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کی ہے لیکن دوسری طرف پاکستان کے پارلیمنٹیرین ہی انسانی اقدار کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہیں۔

میل سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سیکسسٹ اور بے شرمی کا رویہ ترک کریں۔ اس طرح کا بے شرمی کا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم برابری کی سطح سے آئے روز دور ہوتے جا رہے ہیں اور انسانیت ہی بھولتے جا رہےہیں۔پارلیمنٹ کمیونٹی کو چاہیے کہ اس سیکس ازم اور ہراساں کیے جانے والے طرز عمل کے خلاف آواز اٹھائے اور یہ واضح کرے کہ اس طرح کا رویہ پارلیمنٹ کے اندر کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ آج بھی خواتین شکایات کر رہی ہیں اور مرد و عورت کی برابری کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ یہ جنگ ابھی جاری ہے۔


source:https://www.samaa.tv/blogs/2017/06/sexism-in-the-corridors-of-power/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *