اک شخصِ بے قرار

mujeeb-ul-rehman
لاہور سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل وزیر آباد کے ایک معروف قصبے دلاور چیمہ کے ایک کم وسیلہ طبیب غلام اکبر کے گھر میں 21 جنوری 1926ء کو پیدا ہونے والا بچہ 13 جون 2017ء کو صبح کاذب سے پہلے، اس جہان رنگ و بو میں 91 سال گزار کر واپس راہیٔ ملکِ عدم ہوا تو اپنے وسیع حلقہء تعارف کو اُداس کر گیا۔ جنازہ لاہور کے وسط میں واقع خوش حال لوگوں کی بستی ''ٹیک سوسائٹی‘‘ کے ایک عالی شان بنگلے سے اُٹھا، جہاں مرحوم نے آخری سانس لئے تھے۔ چند ماہ پہلے اہلیہ اسی مقام سے اسی سفر پر روانہ ہو چکی تھیں۔ بیوی نے تو لمبی بیماری کاٹی، مگر میاں اُٹھ اُٹھ کر بیٹھتے اور بیٹھ بیٹھ کر اٹھتے رہے۔ کبھی گھر میں بستر پر گر گئے تو کبھی ہسپتال لے جائے گئے اور کبھی اس طرح اٹھے کہ چوکڑیاں بھرنے کے لئے دل مچلنے لگا۔ چند ہی ماہ اس کشمکش میں گزرے، عمر کا باقی حصہ انہوں نے کبھی تھک کر پیٹھ بستر سے نہیں لگائی۔
رانا نذرالرحمن ایک بے قرار شخص تھے۔ ابھی یہاں کسی کی سرزنش کر رہے ہیں تو ابھی وہاں... کبھی ایک کا احتساب کر رہے ہیں تو کبھی دوسرے سے چونچ لڑا رہے ہیں۔ مخالفوں کے ساتھ ساتھ دوستوں پر بھی کڑی نظر رکھتے اور ان کا حساب برابر کرتے رہتے۔ حملہ کرنا تو آتا ہی تھا جوابی وار بھی سہہ لیتے تھے۔ لڑکپن ہی میں قسمت آزمانے لاہور پہنچ گئے۔ تحریک پاکستان زوروں پر تھی لیکن ان کے ہاتھ خالی تھے۔ دل البتہ نعروں سے بھر گیا... ''لے کے رہیں گے پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان‘‘... انہی دنوں کا یہ نعرہ خوب اچھی طرح یاد کر لیا ''پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘... زندگی بھر اس کی لاج رکھی۔ بہت کچھ بدلا لیکن یہ نعرہ بدل کر نہیں دیا۔ بہت پاپڑ بیلے، چھوٹی موٹی ملازمتیں کیں، مزدوری کی، گائوں سے گھی بھی اکٹھا کرکے لاتے اور یہاں بیچ کر چند روپے کما لیتے۔ تعلیم حاصل کرنے کے لئے کمربستہ رہے۔ بی اے کیا، لاء کالج میں داخل ہو کر باقاعدہ ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ کئی بڑے بڑے قانون دان، ان کے کلاس فیلو تھے یا ہم عصر۔
قیام پاکستان کے بعد اسلامی انقلاب ہی کی آرزو انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کے تاسیسی اجلاس میں لے گئی۔ مولانا مودودی کی مجلسوں میں پہنچے۔ کاروبار شروع کیا تو دیکھتے ہی دیکھتے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ سیاست کا شوق اچھی طرح پالا۔ ساٹھ کی دہائی میں لاہور کے ممتاز ترین شہریوں میں شمار ہوتے تھے۔ رانا اللہ داد کے ساتھ مل کر انجمن شہریان کی بنیاد رکھی اور اپنے عصرانوں اور استقبالیوں سے دھوم مچا دی۔ نظام اسلام پارٹی میں شامل ہوئے تو چودھری محمد علی کے حلقہ قربت میں نمایاں ہو گئے۔ جیب بھاری ہو چکی تھی۔ اس دور کے اکثر کاروباری اپوزیشن کی سیاست کو حرام سمجھتے تھے۔ ان کی بڑی تعداد اپنے آپ میں مگن رہتی یا پھر اہل اقتدار کے دائیں بائیں جگہ پانے کو عزت سمجھتی۔ رانا صاحب اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے تو ہاتھوں ہاتھ لئے گئے کہ ان دنوں چند سو افراد کو کسی بڑے ہوٹل میں چائے پلانے کا دل گردہ رکھنے والے خال خال ہی نظر آتے تھے۔ پسند کا کوئی بھی قومی رہنما لاہور آتا تو اس کے لئے دید و دل فرش راہ کر دیتے۔ میں 69ء کے وسط میں یہاں پہنچا ہی تھا کہ مرکزی جمعیت علمائے اسلام کے رہنما تشریف لائے۔ جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد 1946ء میں مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا مفتی محمد شفیع اور ان کے رفقاء نے رکھی تھی۔ اس وقت علماء کی سب سے بڑی اور وقیع جماعت، جمعیت العلمائے ہند کہلاتی تھی۔ مولانا حسین احمد مدنی اس کے روح رواں تھے اور دارالعلوم دیو بند اس کا فکری صدر مقام۔ تحریک آزادی کے دوران مولانا مدنی اور ان کے رفقاء نے اپنا وزن کانگرس کے پلڑے میں ڈال دیا اور مسلمانوں کی الگ مملکت کے قیام میں تعاون سے انکاری ہو گئے تو علمائے دیوبند ہی کی ایک بڑی تعداد نے مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی قیادت میں اپنا راستہ الگ کر لیا۔ انہوں نے جمعیت العلمائے اسلام کی بنیاد رکھی اور تحریک پاکستان میں نئی روح پھونک دی۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستانی علاقوں میں مقیم جمعیت العلمائے ہند کے اکابرین نے جمعیت العلمائے اسلام کے سائے میں پناہ لے لی۔ مولانا عثمانی کے اکثر رفقاء مسجد و مدرسے میں ''معتکف ‘‘ رہتے تھے، سیاست ان کی مرغوب غذا نہیں تھی، سو وہ اپنے تدریسی و تعلیمی مشاغل میں لگ گئے۔ جمعیت العلمائے ہند میں سرگرم افراد کے مزاج عملی سیاست کے سانچوں میں ڈھلے ہوئے تھے۔ ان کا دل مدرسے اور محراب کے لئے مختص ہونے کو تیار نہ تھا۔ جمعیت العلمائے اسلام کی چھتری میسر آنے پر وہ شیر ہو گئے۔ اس جمعیت کے اصلی ''مالکان‘‘ کی جگہ انہوں نے لے لی اور اس پر اپنا قبضہ پکا کر لیا۔
بھٹو صاحب نے سوشلزم کا نعرہ لگایا تو جمعیت العلمائے اسلام کے مرکزی رہنما مولانا مفتی محمود اور مولانا غلام غوث ہزاروی تھے۔ ان کی چناں و چنیں سے علما میں اضطراب پیدا ہوا۔ مدرسہ نشین حضرات مرکزی جمعیت العلمائے اسلام کے نام سے میدان میں نکلے اور اشتراکی کوچہ گردوں کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ بھٹو صاحب کو سوشلزم کی جگہ اسلامی مساوات کی اصطلاح استعمال کرنے پر مجبور کر دیا... مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا مفتی محمد شفیع اور مولانا احتشام الحق تھانوی لاہور پہنچے تو یہاں کے پارک لگژری ہوٹل (جہاں آج کل اواری قائم ہے) میں انجمن شہریان لاہور نے ان کے اعزاز میں شاندار عصرانہ دیا‘ جس میں مقامی جید علماء کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ یہیں مولانا عبد الرحمن اشرفی مرحوم سے میری پہلی ملاقات ہوئی اور اس تقریب کے میزبان بھی نظروں میں سما گئے۔
نظام اسلام پارٹی نے نواب زادہ نصراللہ کی عوامی لیگ (آٹھ نکاتی) ایئرمارشل اصغر خان کی جسٹس پارٹی اور نورالامین (اور محمود علی) کے قومی جمہوری محاذ میں ضم ہو کر پاکستان جمہوری پارٹی کا روپ دھارا تو رانا صاحب نئی جماعت کو منتقل ہو گئے۔ عام خیال یہ تھا کہ نئی جماعت کی قیادت ایئرمارشل کو سونپی جائے گئی لیکن نوابزادہ نے انہیں پٹخنی دے دی۔ صدر تو کیا سیکرٹری جنرل بھی نہ بننے دیا۔ یہ منصب بھی نظام اسلام پارٹی کے لئے نسیم حسن کو سونپ دیا گیا جو عمر رسیدہ اور نیم متحرک شخصیت تھے۔ اس طرح نئی جماعت کا گلا پیدا ہوتے ہی گھونٹ ڈالا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کا مقابلہ ایئرمارشل اصغر خان کی مقناطیسیت سے کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ رانا صاحب سٹپائے لیکن کچھ نہ کر سکے۔ نوابزادہ نصراللہ ایک روایتی سیاستدان کے طور پر حلقہ جاتی سیاست کے ذریعے طاقت حاصل کرنے کا عزم رکھتے تھے لیکن انتخابی نتائج نے ان کا یہ منصوبہ چور چور کر دیا۔ بھٹو صاحب نے روایتی حلقہ جاتی لیڈروں (Electables) کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ اس سے پہلے ایئرمارشل اصغر خان جمہوری پارٹی سے نکل چکے تھے اور یوں میدان بھٹو مرحوم کے لئے ہموار تھا۔ رانا نذرالرحمن نوابزادہ نصراللہ کے ساتھ رہے۔ الجھتے، سلجھتے کئی سال گزار دیئے۔
پاکستانی سیاست کئی نشیب و فراز سے گزری مشرقی پاکستان میں فوجی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بھٹو صاحب نے نئے پاکستان پر جھنڈا لہرا لیا۔ ان کے دور میں سیاست اور سیاسی کارکنوں کی جو درگت بنائی گئی وہ ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ رانا صاحب کے قدم ڈگمگائے نہیں۔ جھوٹے مقدمے قائم ہوئے حوالہء زنداں ہوئے، بدسلوکی کا نشانہ بنے۔ لاہور کے ضمنی انتخاب جیت چکے تھے کہ گورنر کھر کے جھرلو نے نا کام بنا دیا۔ پاکستانی قومی اتحاد کی تحریک میں پورے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ نوابزادہ کی سیاست سے بددل ہو کر پیرپگاڑا سے جا ملے۔ پھر تحریک انصاف نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ جس جماعت میں بھی جاتے اس کے رہنما کا ناک میں دم کر دیتے۔ عمران خان کو زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ حتیٰ کہ خان کو اس طرح کی بات کہنا پڑی کہ جن لوگوں کو دوسری جماعتیں برداشت نہیں کرتیں وہ ان کے صبر کا امتحان لینے کے لئے ان کے ہاں آ جاتے ہیں۔ رانا صاحب نے تحریک انصاف کو چھوڑا تو نہیں لیکن ان کی آرزوئیں ادھوری رہیں۔ ان کے بیٹے زوہیرکا جوش بھی ماند پڑ گیا۔ بالآخر عملی سیاست سے تائب ہو گئے مسلم لیگ (ن) اور شریف برادران کے جارحانہ ناقد البتہ آخر دم تک رہے۔ روزانہ ان کے خلاف کالم لکھنے کی دھمکی دیتے اور کبھی کبھی لکھ بھی لاتے۔ اپنی ضخیم خود نوشت مرتب کر ڈالی جس میں بڑا حصہ ان کے تجربے اور مشاہدے کا ہے۔ ہماری قومی سیاست پر اسے بلاخوف تردید حوالے کی کتاب کہا جا سکتا ہے۔
1974ء میں جب مجھے اپنے ہفت روزہ کا آغاز کرنا پڑا تو دفتر کے لئے کرایے پر جگہ نہیں مل رہی تھی۔ انہوں نے اپنے رانا چیمبرز کے دروازے کھول دیئے اور رعایتی کرائے پر دفتر فراہم کر دیا۔ سائنسی آلات کے بڑے تاجر تھے، لیکن پراپرٹی کی خرید و فروخت بھی جاری رکھتے تھے۔ تھوڑا سا منافع بھی ملتا تو سودا بیچ دیتے۔ ان کی بدولت میں بھی اس لذت سے آشنا ہوا۔ مشکل حالات میں اس جزوقتی مشغلے کی وجہ سے چولہا گرم رہا۔ ان کے ساتھ جڑے واقعات سنانے بیٹھوں تو کتاب مرتب ہو جائے۔ مختصر الفاظ میں یوں کہیے کہ وہ ایک بے خوف شخص تھے۔ کسی سے مرعوب نہ ہوتے۔ کھری کھری سنانے کا تو مرض لاحق تھا، بعض اوقات تجاوز کر گزرتے۔ آغا شورش کاشمیری اور مجید نظامی تک کو ان سے کنی کتراتے دیکھا کہ ان کو بھی وہ ترکی بہ ترکی جواب دیتے تھے۔ اپنے علاوہ کم ہی کسی کو ایماندار سمجھتے تھے۔ دستر خوان وسیع تھا لیکن اپنی ذات پر خرچ کرنا ان کے نزدیک فضول خرچی تھی۔ بھوک لگتی تو اکثر تھوڑی سے مچھلی یا پکوڑے منگوا کر روٹی کھا لیتے۔ آخری سالوں میں تو روزنامہ ''پاکستان‘‘ کا دفتر ہی اپنا دفتر بنا لیا تھا چودھری قدرت اللہ، خالد ہمایوں، چودھری خادم حسین، رانا شفیق پسروری اور دوسرے رفقاء سے خوب صحبت رہتی۔ ان کے لئے طرح طرح کے پکوان بنوا کر لاتے۔ رمضان میں کئی بار افطار کا اہتمام کرتے۔ جب مناسب سمجھتے میرے کمرے میں چبھتے ہوئے سوالات لے کر پہنچ جاتے۔ کبھی دامن پکڑتے تو کبھی گریبان۔ سننے والے ہماری نوک جھونک سے محظوظ ہوتے۔ ان جیسا کوئی دوسرا شہر تو کیا ملک میں بھی موجود نہیں ہے۔ ان کی یاد اس وقت تک جان نہیں چھوڑے گی جب تک ہم ان کے پاس نہیں پہنچ جاتے۔ لگتا ہے جگر نے انہی کے بارے میں کہا تھا ؎
جان دے ہی دی جگر نے آج پائے یار پر
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *