مبارک ہو چیمپئنز! اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

mukhtar chaudhry

پوری پاکستانی قوم کو مبارک ہو ہمارے شاہینوں نے وہ تاریخ رقم کی جس کے رقم ہوتے ہوئے بھی بہت سے لوگوں کو یقین نہیں آرہا تھا،  ہمارے بہت سے ماہرین اور دانشور پاکستان کرکٹ ٹیم کی اس کامیابی پر اپنے اپنے انداز میں لکھیں گے ان میں وہ بھی ہوں گے جو واقعی کرکٹ کے رموز سے واقفیترکھنے والے ہیں ، وہ بھی جنہوں نے خود کرکٹ کھیلی ہوگی یا کسی نہ کسی طرح کرکٹ سے وابستگی رہی ہوگی اور وہ بھی جنہوں نے شاید کبھی ٹی وی پر بھی کرکٹ میچ نہیں دیکھا ہوگا۔ میرا انداز تھوڑا وکھری ٹائپ کا ہوگا اور میں اس بڑی کامیابی کو کئی مختلف زاویوں سے پیش کرنے کی کوشش کرونگا اور اس سے پاکستان کو کیا فائدے حاصل ہو سکتے ہیں اور کیسے، اس پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا ۔ میں اس سے پہلے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے،  اپنے آرٹیکلز کے توسط سے اور ایک ویب ٹی وی پر لائیو پروگرام میں شامل ہو کر بھی کچھ لکھ اور کہہ چکا ہوں۔ سب سے پہلے اپنے ان دوستوں کے لیے اور ان کرکٹ ماہرین کے لیے جو اس کامیابی کی توقع رکھتے تھے نہ ابھی تک ان کو اس کا یقین آرہا ہے۔ جناب اگر آپ کرکٹ کے کھیل سے واقفیت رکھتے ہیں اور تمام ٹیموں کی کاکردگی کا ٹورنامنٹ سے پہلے،  ٹورنامنٹ کے وارم آپ میچز اور ٹورنامنٹ کے شروع ہونے کے بعد ساری صورتحال کا بغور جائزہ لینے کی زحمت گوارا کرتے تو یہی ناقابل یقین فتح آپ کو قابل یقین لگنا تھی۔ لیکن ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے پھر 1970 سے لیکر 2017 تک اس قوم کے ساتھ جھوٹ بھی اتنا بولا گیا ہے کہ اب سب جھوٹ ہی لگتا ہے لفظ بھروسا کا جنازہ نکل چکا ہے پھر ہر کوئی اپنے ملک کو اپنی پیداوار کو، اپنے لوگوں کو اور اپنے ہی ہیروز کو تنقید کے نشانے پر رکھنے میں اور ہر کام کے پیچھے اغیار کی سازشوں کا کھوج لگانے میں ہی اپنی دانشوری کی بقا محسوس کرتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس سودے کی بازار میں مانگ زیادہ ہے اور قیمت بھی۔ اسی لیے آج بھی کچھ لوگ دور کی کوڑی لائے ہیں کہ لوگوں کی توجہ پاناما سے ہٹانے کے لیے انڈیا نے پاکستان کو جتوایا ہے اور کچھ اللہ والے اس کامیابی کی وجہ رمضان کو سمجھ رہے ہیم گویا کہ وہ اپنی ٹیم اور اپنے کھلاڑیوں کو اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں نہیں۔ میں دوبارہ کرکٹ ٹورنامنٹ کی طرف آتا ہوں میری دانست میں پاکستان ایک ایسا خط ہے، ایسا ملک ہے جس کی زمین بہت زرخیز اور لوگ قدرتی طور پر انتہائی باصلاحیت ہیں یہاں ہر شعبے میں باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں مسلہ ہے تو راہنمائی کا،  ایمانداری کا، مینجمنٹ کا، برابر مواقع ملنےکا، محنت سے دل لگانے کا، محنت کا صلہ ملنے کا، مثبت سوچ کا، کسی غائبی مدد پر یقین کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرنے کا، صبر و استقامت سے کام لینے کی بجائے شارٹ کٹ ڈھونڈنے سے گریز کا اور سب سے بڑھ کر ایماندار اور محب وطن قیادت کا جو اس باصلاحیت ہجوم کو ایک قوم کی شکل دے کر اس ملک کو نظام دے سکے۔ ہمارے بہت سے دانشور دوست اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ (Pakistan is a talented full Country) وہ سمجھتے ہیں کہ میرے ایسے کج فہم لوگ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر ایسے ہی اپنے ملک میں سب ہرا دیکھتے ہیں لیکن میں بالکل بھی اس انداز سے نہیں سوچتا بلکہ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر ثبوت کے ساتھ بات کرتا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے لوگ بہت ساری دوسری اقوام کے لوگوں سے زیادہ باصلاحیت ہیں مگر بات صرف اتنی ہے کہ پاکستان میں کسی حکومت نے تعلیم پر توجہ مرکوز کی نہ لوگوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا کام کیا۔ ورنہ سمجھنا چاہئے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ہمارے ہم وطنوں نے مختلف شعبوں میں اپنی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر ثابت کیا ہے کہ اگر ہمیں مواقع فراہم کیے جائیں تو ہم کسی سے کم نہیں۔

Image result for pakistan win trophy

دنیا کے بیشتر ممالک میں پاکستانی افرادی قوت نے ڈرائیور سے لیکر پائیلٹ تک، میکینک سے لیکر سائنسدانوں تک، دکان سے لیکر معاشی ماہرین تک انجینئرنگ کے شعبے سے میڈیکل کے شعبے تک اور سیاست سے لیکر کھیل کے میدان تک ہر جگہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اس وقت بھی دنیا کا بہترین لیگ اسپنر جنوبی افریقہ کی ٹیم میں کھیل رہا ہے عمران طاہر جسے پوری کوشش کے باوجود پاکستانی ٹیم میں جگہ نہ مل سکی۔ ایک بار اس کو قذافی اسٹیڈیم میں ٹرائل کے لیے مدعو کیا گیا اور یہ اپنے کسی دوست سے موٹر سائیکل پر لفٹ لیکر جب قذافی اسٹیڈیم پہنچا تو راستے میں بائیک کے سلنسر سے لگ کر اس کا پاوں جل کر زخمی ہو گیا جس وجہ سے اسے ٹرائیل سے الگ کر دیا گیا اور پھر کسی نے اسکی خبر نہ لی۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے کھلاڑی مختلف ممالک کی ٹیموں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں  کھیل کے علاوہ دوسرے شعبوں میں دیکھا جائے تو دنیا کے بڑے بڑے مالی اور معاشی اداروں میں پاکستانی معاشی ماہرین ٹاپ پوزیشنوں پر کام کرتے رہے ہیں۔ زیادہ دیر نہیں ہوئی جب پاکستان کی ائیر لائن سے 9 پائلٹوں کو جعلی ڈگریوں کی وجہ سے نکالا گیا اور ان تمام 9 کو دنیا کی نمبر ون قطر ائیر لائن نے اپنے ہاں نوکری دے دی اس کا مطلب یہ تھا کہ ڈگریاں جعلی تھیں لیکن پائلٹس اصلی اور باصلاحیت تھے۔ میں پہلے بھی اپنے ایک تبصرے میں پاکستان کے اندر کھیلوں کی سہولیات اور عمومی ملکی حالات کے بارے لکھ چکا ہوں دوبارہ یاد دلاتا چلوں کہ اس 24 کروڑ آبادی کے ملک کے 80% حصے میں کسی بھی کھیل کی کوئی خاص سہولت موجود نہیں ہے۔ پھر کرکٹ مہنگا کھیل ہے اور پاکستان میں 60 فیصد سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں پھر بھی اسی قوم سے فخر زمان،  حسن علی،  جنید خان،  محمد عامر،  شاداب اور بابر اعظم جیسے کھلاڑی دنیا کو حیران کر کے رکھ دیتے ہیں یاسر شاہ شرجیل اور کئی دوسرے کھلاڑی موجودہ حالات میں بھی اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ اب جو پاکستان کی ٹیم تسلسل کے ساتھ نہیں جیت رہی اس کی بڑی وجہ دوسرے اداروں کی طرح کرکٹ میں بھی سیاسی مداخلت کا ہونا،  میرٹ کا نظر انداز ہونا اور کھلاڑیوں کی ذہنی تربیت کا فقدان ہے۔ قوم کی بے صبری اور بے یقینی بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اب اگر چیمپئن ٹرافی کی بات کریں تو پاکستانی ٹیم پہلا میچ انذیا کے ساتھ کھیلی جب ٹاس ہو رہا تھا تو صاف دکھائی دے رہا تھا کہ سرفراز احمد نروس پن کا شکار تھا اس سے آرام سے کھڑا نہیں ہونے ہو رہا تھا اگر یقین نہ آئے تو دوبارہ وڈیو دیکھ لیں۔ اس کے مقابلے میں انڈین کپتان مکمل اعتماد کا مظاہرہ کر ریا تھا یاد رہے انڈیا پاکستان کے درمیان میچ مہارت سے زیادہ نرور کا کھیل ہے اور جو کپتان اور ٹیم اپنے نرور پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور پریشر میں نہ آئے وہی کامیابی حاصل کرتی ہے ۔ لیکن ہماری نوجوانوں پر مشتمل ٹیم نے پہلا میچ ہارنے کے بعد جس طرح مرحلہ وار کم بیک کیا اور ہر میچ کے بعد اگلے میچ میں بہتر کھیل پیش کیا اس سے صاف عیاں تھا کہ اب اس ٹیم کو شکست نہیں دی جا سکے گی۔ اسی بنا پر میں نے اپنے سب دوستوں سے کہا تھا کہ پاکستان ٹیم سیمی فائنل اور فائنل آرام سے جیت جائے گی لیکن جس طرح پاکستان ٹیم نے انگلینڈ اور انڈیا کو مکمل  ناک آوٹ کر کے چاروں شانے چت کیا اس کی امید تو مجھے بھی نہیں تھی۔ پاکستان ٹیم کو یقینا کسی کوچ یا آفیشل میں سے کسی نے ذہنی طور پر مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا ہے سیمی فائنل میں پاکستان ٹیم کی جسمانی زبان، اعتماد، باولروں کی نپی تلی باولنگ اور تمام فیلڈرز کی طرف سے اپنے باولروں کا بھر پور ساتھ دینا اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ دنیا کی نمبر ون ٹیم ہے پھر فائنل میں ایک تو اچھا ہوا کہ سرفراز احمد ٹاس ہار گیا اور پاکستان کو بیٹنگ پہلے مل گئی جو کہ انڈیا کے خلاف میچ میں بہت ضروری تھی۔ پھر میدان میں آتے ہی ظاہر ہونے لگا کہ انڈین ٹیم پوری طرح دباو میں ہے اور پاکستان کے بیٹسمین پورے اعتماد سے کھیل رہے تھے انڈین باولروں کو ہدایت تھی کہ وہ فخر زمان کو ٹارگٹ کڑیں اور اس کو ٹانگ پر کھلائیں جو کہ بائیں ہاتھ کے بیٹسمین کے لیے مشکل ہوتا ہے اسی کوشش میں انڈین بالرز اپنی لائن لینتھ بھول گئے اور وائیڈز بالیں کرتے رہے انڈین فیلڈرز کے بھی ہاتھ پاوں پھولے ہوئے تھے فخر زمان درمیانے درجے کا بیٹسمین ہے لیکن وہ نڈر ہو کر کھیلتا ہے اس نے انڈیا سے میچ چھین لیا اور اس چھینا جھپٹی میں اظہر علی نے اس کا بھر پور ساتھ دیا۔اور کمنٹری کے دوران جو لوگ فخر کو پھکڑ کہہ رہے تھے فخر نے ان کے منہ پر تمانچے مارے۔ پھر جب انڈیا کے سامنے 338 رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا گیا تو اس کے وہی بیٹسمین جن کی کارکردگی پر انڈیا والے پھولے نہیں سماتے تھے انہی کے ہاتھ پاؤں پھول چکے تھے اور کوہلی جیسے دنیا کے نمبر ون بیٹسمین کو محمد عامر نے 2 بالوں پر 2 بار آوٹ کیا درمیان میں سرفراز احمد نے میچ کو مذاق میں بھی لیا اور اپنے بالرز کو پریکٹس کا موقع دیا۔ انڈیا جیسی دنیا کی مضبوط بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ اب ہم چیمپئن تو بن گئے ہیں اور عید سے پہلے عید کی خوشیاں مل گئیں ان سے عید تک بھرپور لطف اندوز ہونا چاہئے لیکن اس کے بعد ہمارا اصل امتحان شروع ہوگا ۔ میرے محترم بھائی کہنہ مشق صحافی اور کالم نگار سید مجاہد علی صاحب نے اپنے تبصرے میں پاکستانی پلئیرز کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں ٹھیک کرنے کا صائب مشورہ دیا ہے اور بالکل درست فرمایا ہے کہ ہم چیمپئن بن کر اپنی خامیوں کو فراموش نہ کر بیٹھیں ۔ لیکن میں کھلاڑیوں کی خامیوں سے زیادہ اہمیت اس بات کو دونگا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان حکومت کو اپنی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آئی سی سی کو اس بات پر راضی کرنا چاہیے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ واپس آئے ہمارے لیے اب یہ بہترین موقع ہے کہ ہم دنیا کرکٹ کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں کہ پاکستان آئی سی سی کا ایک انتہائی اہم ملک ہے اور پاکستان میں کرکٹ نہ ہونے کے باوجود پاکستان ٹیم نے جو کاکردگی دکھائی ہے اور پاکستان دنیا میں کرکٹ کے فروغ کے لیے جو کردار ادا کر رہا ہے اس بنا پر پاکستان اپنے وطن میں انٹرنیشنل کرکٹ کا حقدار ہے اور ملک میں اب سیکورٹی کی صورتحال اتنی مخدوش نہیں ہے کہ ہم غیر ملکی ٹیموں کو تحفظ فراہم نہ کر سکیں۔ خصوصی طور پر پنجاب میں سیکورٹی کی صورتحال بہت بہتر ہے مجھے یقین ہے کہ اگر ایسی ہی صورتحال کسی دوسرے ملک کی ہوتی تو وہاں کرکٹ ہو رہی ہونا تھی تو پھر پاکستان میں کیوں نہیں؟  اس کے ساتھ ہی میں ہی اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اور حکومت سے بھی مطالبہ کروں گا کہ قانون کی عملداری کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں اور یہ صرف سزائیں دینے سے اور جنگ کرنے سے ہی ممکن نہیں ہوگا اس کے لیے قومی بیانیے کو بدلنا ہوگا لوگوں کی ہر سطح پر ذہنی تربیت کرنا بہت ضروری ہے مذہبی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت یے ۔ میں آپ کے سامنے ایک پاکستان سے بھی غربت ملک کی مثال پیش کرتا چلوں جس کے حالات پاکستان سے کہیں برے تھے اور خانہ جنگی اور انتہا پسندی کی بھینٹ لگ بھگ ایک ملین سے زیادہ لوگ چڑھ گئے تھے لیکن اس ملک نے صرف 20 سال کے عرصے میں خود کو دنیا کے 10 محفوظ ترین ممالک میں شامل کر لیا ہے اور آج اس ملک میں سالانہ ڈھیر ملین سیاح ہر سال آتے ہیں اور ہر سال ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ملک کا نام روانڈا ہے جو وسط مشرقی افریقہ کا ملک ہے اور اس کی سرحدیں ایسے ممالک سے ملتی ہیں جہاں آج بھی بے امنی ہے یعنی کانگو، تنزانیہ اور یوگنڈا وغیرہ میں اپنے اگلے کسی کالم میں روانڈا کے حوالے سے تفصیلات لکھوں گا ابھی کالم کی طوالت سے بچنے کے لیے اتنا بتانا ہی کافی ہے کہ روانڈا کا نمبر غریب ممالک میں 159 ہے اور آج سے صرف 23 سال پہلے وہاں بد امنی اور خانہ جنگی میں 10 لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے تھے اور آج یہ ملک تحفظ کے لحاظ سے دنیا کے 188 ممالک کی لسٹ میں نمبر 9 پر ہے جبکہ ناروے جیسا دنیا کا امیر ترین اور انتہائی مہذب ملک کا نمبر 7 ہے۔ تو ہمارے لیے یہ کیوں کر ممکن نہیں کہ ہم اپنے ملک میں امن قائم کر سکیں۔ چیمپئن ٹرافی جیتنے کے بعد جو ملکی فضا بنی ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے لیے بہترین موقع ہے کہ ہم ملک میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنائیں اور انٹرنیشنل کرکٹ ملک میں لائیں۔ اور ملک کے اندر ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام بہتر کریں اور اپنے بچوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع فراہم کرنے کا آغاز کریں۔ ملک میں یہ جو مخدوش سیاسی صورتحال ہے اس کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ تمام جماعتیں اور لیڈران ذاتیات سے اوپر اٹھ کر سوچ پیدا کریں۔ امید رکھنی چاہیے کہ ہمارے ارباب اختیار اس طرف توجہ دیں گے اور حالیہ کامیابی اور موجودہ ملکی فضا سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ۔ ہی اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اور حکومت سے بھی مطالبہ کروں گا کہ قانون کی عملداری کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں اور یہ صرف سزائیں دینے سے اور جنگ کرنے سے ہی ممکن نہیں ہوگا اس کے لیے قومی بیانیے کو بدلنا ہوگا لوگوں کی ہر سطح پر ذہنی تربیت کرنا بہت ضروری ہے مذہبی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت یے ۔ میں آپ کے سامنے ایک پاکستان سے بھی غربت ملک کی مثال پیش کرتا چلوں جس کے حالات پاکستان سے کہیں برے تھے اور خانہ جنگی اور انتہا پسندی کی بھینٹ لگ بھگ ایک ملین سے زیادہ لوگ چڑھ گئے تھے لیکن اس ملک نے صرف 20 سال کے عرصے میں خود کو دنیا کے 10 محفوظ ترین ممالک میں شامل کر لیا ہے اور آج اس ملک میں سالانہ ڈھیر ملین سیاح ہر سال آتے ہیں اور ہر سال ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ملک کا نام روانڈا ہے جو وسط مشرقی افریقہ کا ملک ہے اور اس کی سرحدیں ایسے ممالک سے ملتی ہیں جہاں آج بھی بے امنی ہے یعنی کانگو، تنزانیہ اور یوگنڈا وغیرہ میں اپنے اگلے کسی کالم میں روانڈا کے حوالے سے تفصیلات لکھوں گا ابھی کالم کی طوالت سے بچنے کے لیے اتنا بتانا ہی کافی ہے کہ روانڈا کا نمبر غریب ممالک میں 159 ہے اور آج سے صرف 23 سال پہلے وہاں بد امنی اور خانہ جنگی میں 10 لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے تھے اور آج یہ ملک تحفظ کے لحاظ سے دنیا کے 188 ممالک کی لسٹ میں نمبر 9 پر ہے جبکہ ناروے جیسا دنیا کا امیر ترین اور انتہائی مہذب ملک کا نمبر 7 ہے۔ تو ہمارے لیے یہ کیوں کر ممکن نہیں کہ ہم اپنے ملک میں امن قائم کر سکیں۔ چیمپئن ٹرافی جیتنے کے بعد جو ملکی فضا بنی ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے لیے بہترین موقع ہے کہ ہم ملک میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنائیں اور انٹرنیشنل کرکٹ ملک میں لائیں۔ اور ملک کے اندر ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام بہتر کریں اور اپنے بچوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع فراہم کرنے کا آغاز کریں۔ ملک میں یہ جو مخدوش سیاسی صورتحال ہے اس کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ تمام جماعتیں اور لیڈران ذاتیات سے اوپر اٹھ کر سوچ پیدا کریں۔ امید رکھنی چاہیے کہ ہمارے ارباب اختیار اس طرف توجہ دیں گے اور حالیہ کامیابی اور موجودہ ملکی فضا سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *