شب قدر اور جمعۃالوداع

khalid irshad sofi

بے شک ہم نے اسے (قرآن پاک)شب قدر میں اتارا
اور تم نے کیا جانا، شب قدر کیا ہے
شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے
اس رات میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں
اپنے رب کے حکم سے، ہر کام کے لئے،
سلامتی ہے یہ رات صبح چمکنے تک
یہ کلام الٰہی ہے‘ جس کے سچ ہونے کے بارے میں کوئی شبہ نہیں۔ یہ دراصل ایک دعوت ہے کہ کوئی ہے جو اللہ کی رحمتیں سمیٹنے کا خواہش مند ہو؟ دعوت عام۔ بلا تخصیص۔بے پایاں۔
کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم نے پچھلی جو رات گزاری‘ وہی شب قدر ہو؟ سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک شب ہے۔ گزشتہ شب بھی تو طاق رات ہی تھی اور آج جمعۃ الوداع ہے۔ ممکن ہے پروردگارِ عالم نے اس رات کو رمضان المبارک کے اس آخری جمعہ کے ساتھ ہی جوڑ دیا ہو۔ جمعۃالوداع کے ساتھ کہ جس کی اپنی اہمیت مسلّم ہے۔ ابن العربی اور احمد مرزوق وغیرہ کا فرمان یہ ہے کہ: ماہ رمضان کے آخر میں اگر جمعہ اکائی راتوں (طاق راتوں) مثلا 25‘ 27‘ 29 میںآرہا ہے تو جمعہ سے پہلی والی رات ہی شب قدر ہوا کرتی ہے۔ روایات کے مطابق شب قدر کی علامات یہ ہیں کہ وہ رات کھلی ہوئی اور چمک دار ہوتی ہے۔ صاف و شفاف۔ نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ معتدل ‘ گویا کہ اس میں (انوار کی کثرت کی وجہ سے ) چاند کھلا ہوتا ہے۔ نیز اس رات کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس رات کے بعد کی صبح کو آفتاب بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے۔ بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح جیسا کہ چودھویں کا چاند۔ تو ذرا گزشتہ رات کی کیفیت اور آج طلوع ہونے والے سورج کی حدت اور روشنی پر توجہ فرمائیے۔ اگر توبیان کردہ نشانیاں موجود تھیں اور ہیں تو گزشتہ شب یقیناً شب قدر تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس رات کو ہم نے پایا؟ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا ساری خیر سے محروم رہ گیا۔ ( ابنی ماجہ۔ مشکوٰۃ) لیکن سوال پھر وہی ہے کہ ہم نے اس شب کو پایا؟ اس کے فیوض و برکات سے مستفید ہوئے۔ اپنی دنیاوی زندگی احسن طریقے سے گزارنے اور آخرت کی تیاری کے لئے پروردگار عالم سے کوئی دعا کی؟ ساری کائیناتوں کے مالک کے سامنے دست طلب دراز کیا؟ اس رات میں عبادت کی بہت فضیلت اور تاکید آئی ہے‘ تو کیا ہم اس سلسلے میں آگے بڑھے۔ کوئی قدم اٹھایا؟ اپنے ساتھ اور اللہ کے ساتھ صراط مستقیم پر چلنے کو کوئی وعدہ‘ کوئی ارادہ کیا؟ اس رات کی برکتوں سے فائدہ اٹھایا؟ قرآن مجید میں اس رات کی عبادت کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اس حساب سے اس رات کی عبادت 83 سال اور 4 مہینے بنتی ہے۔ آج کل دنیا کے کسی بھی خطے میں اوسط عمر اتنی نہیں ہے۔ تو کیا ہم نے اپنی زندگی بھر کی عبادات سے زیادہ اجر و ثواب دینے والی اس رات سے فائدہ اٹھایا؟ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ’ ’ جس نے لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کیااس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔‘ ‘ بعض روایات کے مطابق اسی رات میں فرشتوں کی پیدائش ہو ئی‘ اسی رات جنت میں درخت لگائے گئے‘ اسی رات حضرت آدم کا مادہ جمع ہو نا شروع ہوا‘ اسی رات بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوئی۔ اسی رات حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے۔ اس رات میں بندوں کی توبہ قبول ہو تی ہے۔ اس رات میں آسمان کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ ان روایات سے بھی اس رات کی عظمت و اہمیت و افادیت واضح ہوتی ہے۔ تو کیا ہم نے اپنے پچھلے سارے گناہ معاف کرانے کے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ رحمت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں ڈبکی لگانے کی کوشش کی۔ اپنے اندر جھانکنے اوور راہ راست پر چلنے کا کوئی قصد کیا؟ کوئی پیمان باندھا؟ کوئی عزم کیا؟ رب کریم بہت بے نیاز ہے۔ جس کو جب چاہے عطا کر دے، جب چاہے اپنی محبت، اپنے قرب، سوچ و فکر کی بیش قیمت دولت سے مالا مال کر دے۔ اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ اپنے مقرب بندوں میں شامل کر لے۔ لیکن اس کے لئے تھوڑی تگ و دو ہمیں بھی تو کرنی چاہیے۔
خوش نصیب ہے وہ شخص جس کو اس رات کی عبادت نصیب ہوجائے اور اسے عبادت میں گزاردے۔ اس طرح گویا اس نے تراسی سال اور چار مہینے سے زیادہ کا عرصہ عبادت میں گزار دیا۔ لیکن جب ہمیں میں سے کچھ لوگ ذخیرہ اندوزی کرتے ہوں۔ ناجائز منافع خوری کے مرتکب ہوتے ہوں۔ سال کے بارہ مہینے سرخ مرچوں کے نام پر لکڑی کا برادہ‘ چائے کی پتی کے نام پر کالے چنوں کے چھلکے‘ دودھ کے نام پر مضر صحت کیمیکلز والا آمیزہ ‘ تیزاب سے دھلا ہوا ادرک‘ گدھے کا گوشت‘منرل واٹر کے نام پر سادہ فلٹر شدہ پانی‘ سیوریج کے گندے پانی سے اگائی ہوئی سبزیاں‘ جانوروں کی گندی چربی سے بنا ہوا گھی اور کوکنگ آئل اور پتا نہیں انسانی صحت خراب کرنے والی کون کون سے الا بلا چیزیں تیار کرتے اور فروخت کرکے دوسروں کا حق مارتے ہیں اور ان کی صحتوں کی بربادی کا باعث بنتے ہیں تو کیا انہیں آخرت میں نجات اور جنت کے ابدی مزے لینے کے خواہش مند ہونا چاہئے۔ وہ اپنے حقوق تو شاید معاف کر دے لیکن ہمارے ذمے دوسرے بندوں کے حقوق معاف نہیں کرے گا‘ تو کیا حقوق العباد غصب کرنے والوں کو نجات اور جنت کا خواہش مند ہونا چاہئے؟ یقین کریں ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔ ہر طرح کے عذاب سے نجات اور جنت کی راحتیں مل سکتی ہیں‘ لیکن اس کے لئے ہمیں سچے دل سے توبہ کرکے‘ آئندہ لوگوں کے لئے آزار کا باعث بننے والے یہ سارے قبیح دھندے چھوڑنے اور حق حلال کی روزی روٹی کمانے کا تہیہ کرنا ہو گا۔
آج جمعۃ الوداع ہے۔ آئیے ہاتھ اٹھائیں کہ اللہ ہماری تمام عبادات قبول فرمالے۔ ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمادے۔ ہماری تمام پریشانیاں ، بیماریاں دور فرما دے ۔ ہمارے رزق ، مال اور جان کی حفاظت فرمائے اور ان میں برکت عطا فرمائے۔ ہمیں تاحیات پنچ وقتہ نماز با جماعت پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ والدین کا فرمانبرداربنائے اور آئندہ بھی شب قدر کے فیوض سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *